مولانا صغیر احمد رشادیؒ اور ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ ملت کے محسن تھے:مولانا انیس الرحمن قاسمی
بنگلور (نمائندہ خصوصی)
آل انڈیا ملی کونسل کے زیرِ اہتمام بنگلور میں منعقدہ تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مفکرِ ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی، کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل، نے امیرِ شریعت کرناٹک و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور حضرت مولانا صغیر احمد رشادیؒ اور جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل جناب ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی وفات کو ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا۔اپنے صدارتی خطاب میں مولانا قاسمی نے کہا کہ موت زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے، مگر بعض شخصیات کی جدائی پوری ملت کو غمگین کر دیتی ہے۔ مولانا صغیر احمد رشادیؒ اور ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کا شمار انہی اکابر میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین و ملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا حوالہ دیا کہ مرحومین کی خوبیوں کو یاد رکھا جائے، اور کہا کہ اکابر کی حیات و خدمات کا تذکرہ محض تعزیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے۔مولانا قاسمی نے حضرت مولانا صغیر احمد رشادیؒ کی سادگی، انکساری، اخلاص اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلور، کے لیے وقف کر دی۔ یہیں سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، تدریسی خدمات انجام دیں اور ہزاروں طلبہ کو علمِ دین سے آراستہ کیا۔ آج ان کے شاگرد ملک اور بیرونِ ملک دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت امیرِ شریعت کرناٹک، حضرت مولانا رشادیؒ نے جس بصیرت، تحمل اور حسنِ تدبیر کے ساتھ دینی و ملی قیادت کی، وہ قابلِ تقلید ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور آل انڈیا ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ ان کی وفات سے بالخصوص جنوبی ہند میں جو علمی و دینی خلا پیدا ہوا ہے، وہ طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کو ملک کے ممتاز مفکر، دانشور اور ملی قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے علمی، فقہی اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر منظور عالمؒ نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (I.O.S) کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کی سماجی صورتِ حال، اسلامی ورثے اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر منظم تحقیقی کام کا آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں منعقد ہونے والے سینکڑوں سیمینارز اور مذاکروں کے ذریعے ڈاکٹر منظور عالمؒ نے علماء، دانشوروں، قانون دانوں، صحافیوں اور عصری تعلیم یافتہ طبقے کو ایک مشترکہ فکری پلیٹ فارم فراہم کیا۔ I.O.S کے متعدد سیمیناروں میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، جہاں میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب ہر موضوع پر نہایت فکر انگیز اور بصیرت افروز گفتگو کرتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے صحت کی کمزوری کے باعث ان کی شرکت کم ہو گئی تھی۔
مولانا قاسمی نے بتایا کہ پٹنہ میں ایک سیمینار ’’اجتہاد‘‘ کے عنوان سے اور دوسرا مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی حیات و افکار پر منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدلتے ہوئے حالات اور درپیش چیلنجز کا مقابلہ اجتماعی اجتہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اسلامی فقہ کو ایک زندہ و متحرک قانون کے طور پر پیش کرکے ہی دینِ اسلام کی ہمہ گیر رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ اسی فکر نے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کو مشترکہ فکر و عمل پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کا قیام عمل میں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے مقاصد میں یہ بات شامل تھی کہ جدید پیش آمدہ مسائل کا حل فقہی اصولوں کی روشنی میں اجتماعی تحقیق کے ذریعے تلاش کیا جائے، ملک و بیرونِ ملک کے مستند دینی اداروں اور محقق علماء کی تحقیقات و فتاویٰ کو جمع کرکے عوام تک پہنچایا جائے، مختلف مسالک کے علمی ذخیرے سے استفادے کا رجحان پیدا کیا جائے، اور معیشت، معاشرت، عرف و رواج اور عمرانیات جیسے میدانوں میں پیدا ہونے والے نئے مسائل سے لوگوں کو آگاہ کرکے ان کا حل پیش کیا جائے۔مولانا قاسمی نے کہا کہ جدید مسائل کے حل کے لیے اجتماعی اجتہاد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور عالمؒ نے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے ساتھ مل کر اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ادارے نے فقہی تحقیق، علمی مکالمے اور امت کی رہنمائی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے علمی و سماجی معاشرے پر جن شخصیات نے اپنے علمی ورثے اور اکیڈمک کاموں کے ذریعے گہرے اثرات مرتب کیے، ان میں ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی شخصیت نمایاں ہے۔ ان سے پہلی ملاقات غالباً 1987ء میں امارتِ شرعیہ میں ہوئی، بعد ازاں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ ،بانی آل انڈیا ملی کونسل واسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے ساتھ دہلی میں بھی ملاقاتیں ہوئیں۔مولانا قاسمی نے بتایا کہ 1981ء میں حضرت قاضی صاحبؒ نے پھلواری شریف، پٹنہ میں ایتھینیزیا جیسے جدید مسائل پر ملک کے ممتاز اصحابِ افتاء کے ساتھ ایک علمی مذاکرہ منعقد کیا تھا، جس میں انہیں بھی شرکت کا موقع ملا۔ اس دور میں نئے پیش آمدہ مسائل پر اجتماعی غور و فکر کا عمومی رجحان کم تھا، حالاں کہ اکابر علماء اس بات پر متفق تھے کہ فقہِ اسلامی میں ہر دور کے مسائل کا حل موجود ہے۔ اسی فکر کو عام کرنے کے لیے 1987ء میں سہ ماہی رسالہ ’’بحث و نظر‘‘ کا اجرا عمل میں آیا، جس میں ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ بھی سرگرم معاونین میں شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ 1989ء میں ڈاکٹر منظور عالمؒ کے مشورے اور تعاون سے دہلی میں مرکز البحث العلمی کے تحت جامعہ ہمدرد میں برتھ کنٹرول، اعضا کی پیوندکاری اور پگڑی جیسے موضوعات پر ملک گیر سیمینار منعقد ہوا، جس میں ملک کی اہم ترین دینی و علمی شخصیات شریک ہوئیں۔حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور ملت کو درپیش خطرات کے پیش نظر ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے ملک گیر سطح پر علماء اور دانشوروں سے رابطے کیے، جس کے نتیجے میں 1992ء میں آل انڈیا ملی کونسل کی تشکیل عمل میں آئی۔ بعد ازاں ڈاکٹر منظور عالمؒ نے طویل عرصے تک بطور جنرل سکریٹری کونسل کی قیادت کی۔ ان کے دور میں ملی کونسل نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے تحفظ، دینی مدارس کے مسائل، ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے، دستورِ ہند کے تحفظ اور مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
صدارتی خطاب کے اختتام پر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا صغیر احمد رشادیؒ اور ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبور کو نور سے بھر دے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ملتِ اسلامیہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Comments are closed.