مدارس کے ذمہ داران سے ایک مخلصانہ گزارش

از:- جاوید اختر حلیمی قاسمی
مدارسِ اسلامیہ کے ذمہ داران حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ چندہ کی اپیلوں اور اشتہارات میں
“یتیم، نادار، غریب” جیسے الفاظ کے بے جا اور کثرتِ استعمال سے احتراز کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عوام بار بار یہی الفاظ پڑھتے اور سنتے ہیں تو لاشعوری طور پر ان کے ذہن میں یہ تاثر بیٹھ جاتا ہے کہ، مدارس کے طلبہ اور علما محض مالی کمزوری کی علامت ہیں، جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ انہیں نیچی نظر سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ یہ منفی تاثر صرف یہاں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ علمائے کرام سے طے کرنے میں تردد محسوس کرنے لگتے ہیں، یہ سوچ کر کہ علما کے گھروں میں شاید خوش حالی، سکون اور عزت کا ماحول نہیں ہوگا۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ علمائے کرام عموماً اپنی بیوی اور بچوں کو جس قدر عزت، وقار، محبت اور دینی ماحول فراہم کرتے ہیں، وہ بہت سے صاحبِ ثروت گھرانوں میں بھی کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سادگی کو غربت اور قناعت کو محرومی سمجھ لینا ہماری اجتماعی فکری کوتاہی ہے، نہ کہ علما کی کمزوری۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ چندہ کی اپیلیں وقار، خودداری اور مثبت تعارف کے ساتھ کی جائیں، تاکہ مدارس، طلبہ اور علما کا سماجی مقام بھی محفوظ رہے اور ملت کا اعتماد بھی مضبوط ہو۔۔

Comments are closed.