حفظِ قرآن ہی قرآنِ کریم کی حفاظت کا سب سے مضبوط ذریعہ،مدرسہ فیض ابرار پاکٹولہ میں تکمیلِ حفظ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے موقر علماء کا خطاب، 5 بچوں نے حفظ مکمل کیا
جالے (محمد رفیع ساگر)
قرآنِ کریم کی حفاظت اور اس کی بقا کا سب سے محفوظ اور مضبوط ذریعہ حفظِ قرآن ہے، کیونکہ اگر دنیا سے قرآنِ کریم کے تمام مکتوب نسخے بھی مٹ جائیں تب بھی اس کے الفاظ، معانی، اعراب اور حروف میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، کیوں کہ قرآن کا ایک ایک لفظ کروڑوں حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہے۔ ان خیالات کا اظہار مدرسہ فیض ابرار، صدیق نگر پاکٹولہ، پوسٹ راڑھی، وایا جالے، ضلع سیتامڑھی میں تکمیلِ حفظِ قرآن کریم کے پُرمسرت موقع پر منعقدہ روح پرور پروگرام میں علماء کرام نے اپنے خطابات کے دوران کیا۔
مدرسہ میں 5 طلبہ کی تکمیلِ حفظِ قرآن کے موقع پر منعقدہ اس بابرکت تقریب کی صدارت ناظمِ مدرسہ مولانا حکیم محمد شمیم عالم نے کی، جبکہ پروگرام کی کامیاب نظامت کے فرائض حافظ محمد اذکار نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے۔ اس موقع پر قرب و جوار سے بڑی تعداد میں عوام، علماء، سرکردہ شخصیات اور طلبہ نے شرکت کر کے محفل کو یادگار بنا دیا۔
مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ارشاد عالم قاسمی نے والدین کو اپنے بچوں کو حافظِ قرآن بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں فتنوں کے سیلاب کے درمیان حفظِ قرآن ہی دین کی مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ربِّ کائنات نے لی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس کا ایک ایک لفظ بغیر کسی تبدیلی کے محفوظ ہے۔
مولانا عمران قاسمی، امام جامع مسجد پاکٹولہ نے اپنے پُراثر خطاب میں قرآنِ کریم کی عظمت، اس کی برکات اور حافظِ قرآن کی فضیلت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حفاظ کی دستار بندی اور اعزاز کیا جاتا ہے، اسی طرح ان کے والدین بھی عزت و احترام کے مستحق ہیں، کیونکہ بچوں کو حافظ بنانے میں والدین کا کردار نہایت اہم اور بنیادی ہوتا ہے۔
صدرِ اجلاس مولانا حکیم محمد شمیم عالم نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مدرسہ کی تعلیمی و دینی ترقی کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد اور تعاون کا نتیجہ ہے کہ قلیل مدت، یعنی چودہ برس کے اندر مدرسہ فیض ابرار سے سینکڑوں طلبہ نے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی، جو سراسر اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے۔
پروگرام کے دوران طلبہ کی دلنشیں تلاوتِ قرآن، نعتیہ کلام اور پُرجوش تقاریر نے سامعین کے دلوں کو مسخر کر لیا۔ محفل کے اختتام پر مولانا عمران قاسمی کی رقت آمیز دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا، جس میں دین و ملت، مدرسہ کی ترقی اور حفاظِ قرآن کے روشن مستقبل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
تقریب میں شرکت کرنے والوں میں محمد عثمان، تنویر بابو عرف وِکی، ببلو پیارے وارڈ ممبر،ڈاکٹر منتظر پیارے، آفتاب عالم منٹو سابق نائب پرمکھ بوکھڑا، محمد اکرام، محمد صدر عالم، محمد مشتاق، اختر بابو، محمد تنویر، جہانگیر سمیت دیگر معزز شخصیات کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
Comments are closed.