اذان میں لاؤڈ اسپیکر کی تیز آواز-مذہبی شعائر اور سماجی ہم آہنگی،بہار کے رکن اسمبلی اختر الایمان کا بیان اور اس کی اصلاحی اہمیت
محمد عارف انصاری
رابط:9572908382
رکن اسمبلی بہاراختر الایمان نے حال ہی میں زور دیا ہے کہ مذہبی شعائر کا احترام ضروری ہے، مگر لائوڈ اسپیکر کی بلند آواز سے شہری سکون متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، اذان عبادت ہے مگر لائوڈ اسپیکر دین کا لازمی حصہ نہیں۔ عہد نبویؐ میں اذان بغیر کسی آلے کے دی جاتی تھی اور اسلام کسی کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے اگر بلند آواز سے بیماروں، بزرگوں، طلبہ یا دیگر مذاہب کے لوگوں کو اذیت پہنچے تو اسے کم کرنا عین اسلامی تعلیم ہے۔ مکہ و مدینہ میں بھی اذان معتدل اور باوقارانداز میں دی جاتی ہے۔
اذان کی اہمیت اور تاریخی پس منظر:
اذان اسلامی شعائر میں ایک نمایاں اور مقدس اعلان ہے جس کے ذریعے نماز کے وقت کا باقاعدہ اظہار کیا جاتا ہے۔اذان مسلمانوں کو نماز کی طرف بلانے اور توحید، رسالت، فلاح کا پیغام عام کرنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت بلالؓ سب سے پہلے اذان دینے کے شرف یافتہ ہوئے۔ اذان نہ صرف نماز کی یاد دہانی بلکہ اسلامی شناخت، روحانی بیداری اور معاشرتی نظم و ضبط کی علامت ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق عبادت کا مقصد سکون اور روحانیت ہے، شور پیدا کرنا نہیں۔
لائوڈ اسپیکر کی تاریخ اور ابتدائی مخالفت:
مساجد میں لائوڈ اسپیکر کا استعمال بیسویں صدی میں شروع ہوا۔ 1970 کی دہائی میں لائوڈ اسپیکر تجارتی طور پر منظر عام پر آیا، جسے ابتدائی طور پر اکثر مذہبی رہنماؤں نے ’’شیطان کی آواز‘‘ قرار دے کر مسترد کیا۔ بعد میں آبادی کے بڑھنے، شہری ترقی اور عوامی تقاضوں کی وجہ سے اسے اذان کے لیے موزوں سمجھا جانے لگا، مگر آج بھی مذہبی روایت اور صوتی آلودگی کے درمیان توازن بحث کا موضوع ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ایمرجنسی کے بعد ہمارے گاؤں کے چند نوجوان مسجد کے لیے لائوڈ اسپیکر لے آئے تھے، مگر بزرگوں نے برسوں تک یہ کہہ کر مسجد میں لگانے کی اجازت نہیں دی کہ اس سے اذان جائز نہیں ہوتی۔ ان کا موقف یہ تھا کہ اذان کی اصل روح سادگی اور اعتدال میں ہے، نہ کہ شور و غل میں۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جلسوں یا میلاد کی محفلوں میں ایک جگہ سے چاروں سمت کی جانب ہارن یا اسپیکر لگائے جاتے ہیں، علاوہ ازیں دیگر محلوں یا گلیوں میں بھی ہارن کے کنکشن جوڑ دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد آواز غیر ضروری حد تک تیز رکھی جاتی ہے۔ بعض مقرر یا نعت خواں تیز آواز میں بولنا یا پڑھنا اپنی چرب زبانی اور تقریری کامیابی سمجھتے ہیں، خواہ شور کے باعث لوگوں کے پلے کچھ پڑے یا نہ پڑے۔آج بھی ایک خاص مکتبہ فکر کے یہاں میلاد اور جلسوں میں بلند آوازوں کا عام استعمال دیکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات حدِ اعتدال بھی پار ہو جاتی ہے، لیکن اسی مکتبہ فکر کے درمیان نماز کے لیے مائک کا استعمال ناپسند کیا جاتا ہے۔
مختلف مکاتب فکر کے فتاویٰ اور اسلامی اصول:
عموماً تمام مکاتب فکر میں لائوڈ اسپیکر کا استعمال اذان کے لیے جائز ہے کیونکہ یہ اذان کی آواز کو دور تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے، لیکن اگر یہ دوسروں کو تکلیف پہنچائے تو اسے محدود یا بند کر دینا چاہیے۔ یہ حکم ’’لا ضرر ولا ضرار‘‘ (کوئی نقصان نہ پہنچاؤ اور نہ پہنچنے دو) کے اسلامی اصول پر مبنی ہے۔حنفی مکتب فکر کے فقہائ کے نزدیک لائوڈ اسپیکر سے اذان دینا جائز ہے، مگر دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ نمبر 1395/1395/M=1430 کے مطابق، اگر لائوڈ اسپیکر سے تکلیف ہو تو اسے بند کر دینا چاہیے اور صرف اذان کے لیے استعمال کیا جائے۔ بریلوی فقہ میں بھی لائوڈ اسپیکر استعمال ہوتا ہے اور اذان سے پہلے یا بعد میں درود پڑھا جاتا ہے، تاہم لائوڈ اسپیکر پر درود پڑھناعموماً درست نہیں سمجھا جاتا۔
مالکی مکتب فکر کے فقہائ کے نزدیک بھی کم حجم میںلائوڈ اسپیکر سے اذان جائز ہے۔شافعی مکتب فکر میں لائوڈ اسپیکر صرف اذان کے لیے جائز ہے اور نماز کے لیے بیرونی لائوڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ یہ تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔ شیخ ابن عثیمین کے مطابق، بیرونی لائوڈ اسپیکر نماز کے لیے نہیںبلکہ صرف اذان کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دار الافتائ مصر نے بھی فتویٰ دیا ہے کہ لائوڈ اسپیکر مسجد میں دنیوی کاموں کے لیے حرام ہے، لیکن اذان کے لیے جائز ہے۔ حنبلی مکتب فکر کے فقہائ کے نزدیک لائوڈ اسپیکر صرف اذان کے لیے جائز ہے اور اس کا استعمال صرف اسی وقت محدود رکھا جائے۔ شیعہ مکتب فکر کے علما کے نزدیک ابتدائی طور پرلائوڈ اسپیکر حرام سمجھا جاتا تھا، تاہم آہستہ آہستہ اسے قبول کر لیا گیا۔ اب استعمال جائز ہے، لیکن اگر تکلیف ہو تو محدود کرنا ضروری ہے۔
سلفی یا وہابی علما کے نزدیک لائوڈ اسپیکر صرف اذان اور اقامت کے لیے جائز ہے اور حجم ایک تہائی تک محدود رہنا چاہیے۔ سعودی عرب میں بھی یہ قانون کے تحت نافذ ہے۔عبدالعزیز بن باز نے فتویٰ دیا کہ صرف اذان کو لائوڈ اسپیکر پر نشر کیا جائے جبکہ خطبہ اندرونی ساؤنڈ سسٹم پر پڑھا جائے اور سعودی وزیر اسلامی امور نے شکایات کے بعد حجم محدود کر دیا۔ مختلف مکاتب فکر ان مسائل کا الگ الگ جواب دیتے ہیں، لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ اذان کا انداز نرم، متوازن اور روحانی ہونا چاہیے۔ شور سے متعلق شکایات کو صرف تنازع کے طور پر نہیں بلکہ دینی اور سماجی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
واقعات اور تنازعات، زمینی حقائق:
اختر الایمان کے بیان اس تناظر میں ہے کہ جس حد تک آج کل لائوڈ اسپیکر کی آواز تیز رکھی جاتی ہے وہ نہ صرف غیر ضروری بلکہ غلط بھی ہے۔ ہماری آبادیوں میں برادرانِ وطن بھی ساتھ رہتے ہیں، جنہیں ان بلند آوازوں سے بلا وجہ اذیت پہنچتی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر قائم ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدھم اور متوازن آواز بھی دور تک پہنچ جاتی ہے، اس لیے اعتدال اور سماجی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ مذہبی اعمال میں آواز کے استعمال کو حکمت اور حساسیت کے ساتھ محدود رکھا جائے، تاکہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ مل سکے۔
ایک قابل ذکر واقعہ ایک فوجی چھاؤنی کا ہے۔ راقم الحروف کو 1989 میں کچھ عرصہ کے لیے ایک فوجی چھاؤنی میں قیام کا موقع ملا۔ چھاؤنی کے مشرقی کنارے پر ایک مسجد واقع تھی جہاں گاؤں کے لوگ بھی نماز ادا کرتے تھے۔ دراصل چھاؤنی کے قیام کے وقت مقامی آبادی منتقل کر دی گئی تھی، مگر مسجد چھاؤنی کے آخری حد پر ہونے کے باعث گاؤں والوں کو نماز کی اجازت دی گئی اور امام کا تقرر گاؤں والوں کی جانب سے ہوتا تھا۔ مسجد کی نگرانی کے لیے ہشیم الدین نامی ایک فوجی جوان مقرر تھا۔
فجر کی نماز کے بعد امام اور بعض فوجی مصلی باری باری مائک پر صلاۃ و سلام پڑھتے تھے، جبکہ ایک دیہاتی شخص (قدرے مسخرہ) مائک پر دینی گفتگو کرتا تھا۔ ایک صبح ہشیم الدین حیران و پریشان ملا اور اس نے بتایا کہ چھاؤنی کے جنرل نے، جن کی سرکاری رہائش مسجد سے تھوڑی ہی دوری پر تھی، سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جنرل نے مسجد میں مائک کے استعمال پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے فوراً لائوڈ اسپیکر اتارنے کا حکم دے دیا۔ حکم کی تعمیل میں لائوڈ اسپیکر ہٹا دیا گیا اور اذان زبانی دی جانے لگی۔ حیرت انگیز طور پر اس کے بعد صلاۃ و سلام بھی ترک کر دیا گیا، حالانکہ اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ بعد ازاں بعض مسلم افسران کی مداخلت سے مدھم آواز میں لائوڈ اسپیکر سے اذان کی اجازت مل گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اعتدال ہی بہتر راستہ ہے۔
ایک اور تنازع حمیدیہ کالج، بھوپال کا ہے۔ ہندُستان کے تاریخی حمیدیہ کالج میں مسجد کے لائوڈ اسپیکر کی بلند آواز کے باعث ایک تنازع پیدا ہوا ۔دلیل دی گئی کہ تیز آواز سے طلبہ کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے ۔ کالج کے قریب واقع مسجد اور درگاہ کی آواز نے کلاسوں میں خلل پیدا کیا، خاص طور پر امتحانی اوقات میں۔ کالج انتظامیہ نے آواز کی شدت کم کرنے اور طلبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول یقینی بنانے کی درخواست کی۔ سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا، بی جے پی رکن اسمبلی نے سپریم کورٹ اور Noise Pollution Rule کے حوالہ سے آواز محدود کرنے کی تجویز پیش کی۔
مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کی بلند آواز پر بال مکند آچاریہ کا اعتراض:
راجستھان کے ہوا محل اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی بال مکند آچاریہ نے 30 جنوری 2026 کو وقفہ ¿ صفر میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کی بلند آواز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صبح چار بجے کے قریب شروع ہونے والی تیز اذان اور اعلانات بچوں، طلبہ، بزرگوں اور بیماروں کے لیے تکلیف دہ ہیں اور شہری سکون کی خلاف ورزی بنتے ہیں۔ انہوں نے آواز کے حجم کو قانون کے تحت محدود کرنے اور پولیس نگرانی کا مطالبہ کیا اور اس مسئلے کو عوامی صحت اور تعلیم سے جوڑا۔ تاہم ان کے بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ شور کی آلودگی جیسے ہمہ گیر شہری مسئلے کو صرف مساجد تک محدود کر دیا گیا، جس سے بحث کا دائرہ وسیع ہونے کے بجائے متنازع رخ اختیار کر لیتا ہے۔
دوہرا معیار õہندو تہواروں میں لائوڈ اسپیکر کا استعمال:
لائوڈ اسپیکر کا بیجا استعمال اور صوتی آلودگی محض کسی ایک مذہب یا عبادت گاہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر سماجی مسئلہ ہے۔ہندو مذہبی تقریبات اور تہواروں کے دوران لائوڈ اسپیکر کے استعمال کا رجحان عام پایا جاتا ہے۔ مندروں میں اکثر تہواروں اور پوجاؤں کے دوران بھجن، کیرتن، گھنٹا، دھرما رقص، منتر، دھارمک گانے کو بلند آواز میں لائوڈ اسپیکر پرکئی کئی دنوں تک نشر کیا جاتا ہے ۔جگ راترا، ایکادشی، درگا پوجا، چھٹ پوجا، سرسوتی پوجا، رام نومی، بسنت پنچمی، مہاشیو راتری، گنگا سناسن، کرشنا جنم اشٹمی، ہولی، دیوالی، نوراتری، انتراستی، بھگتی سمائیک، دھیان کی محفلیں اور یادگیری پروگرام وغیرہ۔انہیںمذہبی روایت کے نام پر نظرانداز کیا جاتا ہے، جبکہ صرف مساجد کو نشانہ بنانا دوہرے معیار کی علامت ہے۔ اگر اعتراض واقعی عوامی صحت اور شہری سکون کے لیے ہے تو شور کے قوانین کا اطلاق تمام مذاہب اور عبادت گاہوں پر بلا تفریق ہونا چاہیے، ورنہ یہ مسئلہ سماجی ہم آہنگی کے بجائے سیاسی تاثر پیدا کرتا ہے۔
عالمی اور ملکی قوانین، عدالتی موقف اور صحت کے اثرات:
بین الاقوامی مثالوں میں، اسرائیل اور سوئٹزرلینڈ میں پابندی، سعودی عرب میں حجم کم اور صرف اذان و اقامت تک محدودیت، مصر میں مرکزی نظام، یو اے ای میں 85 ڈیس بل کی حد، بحرین میں ریڈیو پر نشر، امریکہ میں صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک نشر، اور ترکی میں اذان و جمعہ خطبے تک مقررہ حجم شامل ہے۔ 2005 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عبادت دوسروں کے امن میں خلل ڈال کر نہیں کی جا سکتی اور 10PM سے 6AM تک لائوڈ اسپیکر پر پابندی عائد کی۔ الہ آباد ہائی کورٹ (2020) نے کہا کہ اذان کے لیے لائوڈ اسپیکر ضروری نہیں اور وقف بورڈ (17 مارچ 2021) نے تمام مساجد کو سپریم کورٹ کے اصول پر عمل کرنے کی ہدایت دی۔ سوال یہ ہے کہ مذہبی آزادی کے نام پر تیز لائوڈ اسپیکر کی تیز آواز غیر مسلموں پر مسلط کرنا IPC دفعات (153A، 295A، 501C، 505) کے تحت فرقہ وارانہ حساسیت پیدا کرنے کا سبب نہیں بن سکتی ہے؟
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق شور ایسی ناپسندیدہ اور نقصان دہ آواز ہے جو انسانی صحت، نیند، ذہنی سکون اور سماجی زندگی میں خلل ڈالتی ہے عالمی ادارہ صحت زور دیتا ہے کہ مذہبی یا سماجی سرگرمیاں دوسروں کی صحت، نیند اور سکون کو متاثر نہ کریں اور عبادت اعتدال، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دی جائے۔سماجی ماہرین کے مطابق لائوڈ اسپیکر کا بے جا استعمال مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے درمیان توازن کو متاثر کرتا ہے۔ سماجی دانشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عبادت کا مقصد سکون ہے، اس لیے اعتدال، احترام اور آواز کی حد بندی اخلاقی اور سماجی ضرورت ہے۔ 2017 میں گلوکار سونو نگم کے ٹویٹس کے بعد اذان اور شور آلودگی پر عوامی بحث شروع ہوئی، مگر اس تنازع میں اذان کی اصل معنویت اور مذہبی پس منظر کو نظرانداز کر دیا گیا۔
اعتدال اور ہم آہنگی کی ضرورت:
اختر الایمان کے بیان کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ لائوڈ اسپیکر کا بیجا استعمال نہ صرف صوتی آلودگی کا سبب ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ مذہبی شعائر کا احترام ضروری ہے، مگر یہ دوسروں کے سکون اور صحت کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ تمام مذاہب اور تہواروں پر یکساں قوانین کا اطلاق، اعتدال کی پالیسی اور سماجی شعور کی تربیت سے ہی اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ ایک کثیر المذاہب معاشرے کی ضرورت بھی ہے۔
Comments are closed.