ہندو دھرم کی مقدس کتابیں (الہامی کتابیں)

 

محمد نفیس خان ندوی

 

ہندوستان میں مختلف مذاہب رائج ہیں، مگر ان میں ہندو دھرم کو سب سے قدیم، وسیع اور متنوع مذہب ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ اس کی خاص پہچان اس کے مذہبی متون کی کثرت، فکری تنوع اور روحانی گہرائی ہے۔

 

ہندو دھرم محض چند عقائد یا مخصوص رسومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہزاروں برس پر پھیلے ہوئے تہذیبی تجربوں، فکری تلاشوں اور روحانی مشاہدوں کا نچوڑ ہے۔

 

ہندو دھرم کی اخلاقی، قانونی اور روحانی بنیادیں اس کی مقدس کتابوں پر قائم ہیں۔

ان کتابوں کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1- الہامی کتابیں – جنھیں شُروتی (Shruti) کہا جاتا ہے.

2- روایتی کتابیں – جنھیں سِمرتی (Smriti) کہا جاتا ہے.

 

یہ دونوں مجموعے مل کر ہندو فلسفے، اخلاقیات، تہذیب اور مذہبی طرزحیات کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔

 

الہامی کتابیں:

الہامی کتابوں (شروتی) سے مراد وہ تعلیمات ہیں جنہیں ہندو عقیدے کے مطابق براہِ راست الہام (سنواد) کے ذریعے رِشیوں کو عطا کیا گیا۔ اسی وجہ سے ان کتابوں کو ہندو دھرم میں سب سے اعلیٰ، مقدس اور ناقابل تبدیل مانا جاتا ہے۔

 

شروتی میں سب سے اولین اور بنیادی مقام چار ویدوں کو حاصل ہے:

1-رِگ وید

2-یجُر وید

3-سام وید

4-اتھروا وید

 

یہ وید ہندو عبادات، دعاؤں، منتر، بھجن، مختلف دیوتاؤں کی صفات اور مذہبی قوانین کا بنیادی ماخذ ہیں۔ ان میں کائنات کی تخلیق، خدا و انسان کا تعلق، عبادتی طرز، اور مذہبی اصولوں کے ابتدائی تصورات ملتے ہیں۔

 

ان چاروں وید کے علاوہ الہامی (شروتی) زمرہ میں چند اہم کتابیں اور بھی شامل ہیں، جو ہندو مذہبی فلسفے اور رسومات کی زیادہ تفصیلی وضاحت کرتی ہیں:

1-برہمن

یہ کتابیں ویدی رسومات، یگیہ (قربانیوں) اور پوجا کے طریقہ کار کی عملی تشریح کرتی ہیں۔

 

2. آرانیکا

ان کا تعلق جنگل میں رہنے والے رشیوں کی روحانی تعلیمات سے ہے۔ یہ بیرونی عبادات سے باطنی توجہ اور اصلاح باطن کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔

 

3. اپنشد

یعنی ہندو فلسفے کی روح۔

ان میں برہم (کائناتی حقیقت)، آتما (روح)، موکش (نجات)، مراقبہ، یوگ اور فلسفیانہ سوالات کی گہرائی ملتی ہے۔

 

ہندو دھرم میں یہ دعویٰ بڑے زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادی مذہبی کتابیں خصوصاً وید، الہامی حیثیت رکھتی ہیں اور رشیوں نے انھیں براہِ راست الہام سن کر مرتب کیا ہے.

مذہبی نقطۂ نظر سے یہ تصور نہایت مقدس اور ناقابلِ تنقید سمجھا جاتا ہے۔ اس عقیدہ کا ایک مثبت پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ وید دنیا کی دیگر الہامی کتابوں (جیسے تورات، زبور اور انجیل) کی طرح مسلسل تحریفات اور تدوینی تبدیلیوں کا کم شکار ہوئیں،

کیونکہ جب ان کو الہامی اور مقدس ہونے کی حیثیت دے دی گئی تو ان تک عوامی رسائی بھی محدود ہوگئی۔

کیونکہ یہ ہندو دھرم میں صرف مخصوص اعلیٰ طبقات—بالخصوص برہمن—کو ہی ان کے مطالعے اور تلاوت کا حق حاصل تھا۔

چونکہ یہی طبقات مذہبی اتھارٹی کے مالک سمجھے جاتے تھے، اس لیے ان کے اندر بھی تحریف یا تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ یوں الہام کے اس نظریے نے ایک طرف ان کتابوں کو تاریخی طور پر محفوظ رکھا، تو دوسری طرف انہیں عوامی فہم و نظر سے دور کر کے ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں مرکوز بھی کر دیا۔

 

 

البتہ ان کتابوں کو الہامی کہنا محض ایک مذہبی دعوی ہے جبکہ یہ دعویٰ نہ تو سائنسی معیارِ تحقیق پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی تاریخی شواہد اسے ثابت کرتے ہیں۔

جدید لسانی، نصابی اور تاریخی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وید ایک طویل دور میں رفتہ رفتہ وجود میں آئیں، مختلف رشیوں، خاندانوں اور ادوار کی فکری چھاپ ان میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کتابوں کی زبان میں ارتقائی مراحل، اسلوب بیان میں نمایاں تفاوت، اور تعلیمات میں اندرونی تضادات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ متن یکبارگی الہام کی صورت میں نازل نہیں ہوئے بلکہ نسل در نسل زبانی روایت کے تحت مرتب و مدون ہوتے رہے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ہندو فلسفوں میں بھی ان کتابوں کے "الہامی” ہونے پر یکسانیت نہیں؛ بعض مکاتب فکر انہیں محض ازلی معلومات کا خزانہ مانتے ہیں جبکہ دیگر انہیں رشیوں کے روحانی تجربات اور فکری کاوشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یوں الہامی دعویٰ مذہبی اعتبار سے چاہے مقدّس تصور رکھتا ہو، مگر علمی و تاریخی نقطۂ نظر سے اسے قطعی اور ثابت شدہ دعویٰ نہیں کہا جا سکتا۔

Comments are closed.