مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کی این ایس ایس اکائی کی جانب سے تقسیم انعامات تقریب منعقد

 

علی گڑھ، 6 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) اکائی نے اسٹوڈنٹس پولیس لرننگ پروگرام اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے شرکاء کی اعزازی تقریب کا اہتمام کیا جس میں طلبہ اور رضاکاروں کو سماجی خدمت و ذمہ داری کے تئیں ان کی وابستگی کو سراہا گیا۔

 

تقریب کے مہمانوں نے سماجی بہبود کی سرگرمیوں میں طلبہ کی پرجوش شرکت کی تعریف کی اور نوجوان رضاکاروں کو ڈسپلن، خدمت اور سماجی ہم آہنگی کی قدروں پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔

 

پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد محسن خان اور پروگرام آفیسر ڈاکٹر عبدالجبار نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کیے۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر فوزیہ فریدی نے کی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے بزنس مینجمنٹ میں انٹرڈسپلینری نقطہ ہائے نظر پر خصوصی نشست کا اہتمام

 

علی گڑھ، 6 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ”کاروباری آپریشنز و مینجمنٹ کے تناظر میں لچک، مطابقت اور انٹرڈسپلینری نقطہ ہائے نظر“ کے موضوع پر ایک خصوصی نشست منعقد کی، جس کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کو عصری کاروباری ماحول میں درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے آگاہ کرنا تھا۔

 

اے ایم یو کے ایم بی اے بیچ (1986–88) کے طالب علم اور مالیاتی شعبے کے کنسلٹنٹ (فراڈ اور نقصان کی روک تھام) اور ٹرینر مسٹر اعجاز ہزاریکا نے کلیدی مقرر کے طور پر طلبہ سے خطاب کیا۔انھوں نے ریڈیو کے دور سے لے کر اینڈرائیڈ پر مبنی ڈیجیٹل نظام تک ٹکنالوجی اور کاروباری طریقوں کے ارتقا کا جائزہ لیا اور حالات کے مطابق توازن اور تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ مختلف شعبوں میں اپنے پیشہ ورانہ تجربے کی روشنی میں انہوں نے ثابت قدمی اور انٹرڈسپلینری سوچ کو غیر یقینی حالات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے عالمی رِسک میپ کے ذریعے رِسک اسٹریٹیفکیشن کی وضاحت بھی کی، جس سے یہ واضح ہوا کہ ادارے کس طرح علاقائی سطح پر ممکنہ خطرات کا جائزہ لے کر آپریشنل کارکردگی اور نقصان کی روک تھام کی حکمت عملیوں کو مضبوط بناتے ہیں۔

 

فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈین پروفیسر محمد نوید خان، شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد اور پروفیسر ولید احمد انصاری نے مہمان مقرر کی عزت افزائی کی۔ پروفیسر محمد نوید خان نے مطابقت اور رِسک اسیسمنٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صنعت اور تعلیمی اداروں کے اشتراک و تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر سلمیٰ احمد نے انٹرڈسپلینری طریق ہائے عمل اور قیادت کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ پروفیسر ولید احمد انصاری نے مؤثر فیصلہ سازی میں حالات کے اعتبار سے مطابقت کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

 

پروگرام کی نظامت منال تحسین نے کی اور شکریہ کے کلمات بھی ادا کئے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں عالمی یومِ کینسر پر بیداری مہمات، تعلیمی سرگرمیوں اور کینسر سے صحت یاب افراد سے ملاقات کا اہتمام

 

علی گڑھ، 6 فروری:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ریڈیوتھیریپی نے یوپی اے آر او آئی سوسائٹی کے تحت عالمی یومِ کینسر کے موقع پر تین روزہ بیداری سرگرمیوں اور مہمات کا اہتمام کیا۔

 

تخلیقی و معلوماتی مقابلوں میں تقریباً 130 شرکاء نے حصہ لیا۔کینسر سے متعلق بیداری سرگرمیوں میں پوسٹر سازی، سلوگن نویسی، ریل میکنگ، امیج ری امیجینیشن اور کہانی نویسی شامل تھے، جو شعبہ ریڈیوتھیریپی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محسن خان کی نگرانی میں منعقد ہوئے۔ اس کے بعد کینسر کوئز مقابلہ اور سائنسی ای-پوسٹر پرزنٹیشنز کا اہتمام کیا گیا جس کے رابطہ کار شعبہ ریڈیوتھیریپی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد شاداب عالم تھے۔

 

اس موقع پر کینسر سے صحت یاب افراد کے ساتھ ایک نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں حاضرین، حوصلے اور صحت یابی کے حقیقی تجربات سے براہِ راست روشناس ہوئے۔ اختتامی تقریب میں مختلف مقابلوں کے فاتحین کو انعامات سے نوازا گیا۔

 

مہمانِ اعزازی پروفیسر محمد خالد، ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیماریاں، چیلنجز اور غیر متوقع رکاوٹیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں، اور افراد و اداروں کو مشکلات کے مقابلے میں ثابت قدم اور مضبوط رہنا چاہیے۔

 

دوسرے مہمان اعزازی پروفیسر نیر آصف، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، جے این ایم سی نے شعبہ ریڈیوتھیریپی کو ایک بامعنی اور فکر انگیز پروگرام کے انعقاد پر سراہا جو بیداری کے ساتھ ہمدردی کے جذبہ کو بھی فروغ دیتا ہے۔

 

مہمانوں اور دیگر حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر محمد اکرم، آرگنائزنگ چیئرمین نے کینسر سے صحت یاب افراد کے لیے مسلسل تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کینسر سے صحت یاب افراد اور ان کے تیمارداروں کو ڈین فیکلٹی آف میڈیسن اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے اعزاز سے نوازا۔

 

ڈاکٹر سمرین ظہیر نے پروگرام کی نظامت کی۔ اختتامی نشست کے دوران تمام شرکاء کو ڈین، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ججوں کی جانب سے یادگاری نشان پیش کیے گئے۔آخر میں شعبہ ریڈیوتھیریپی کے اسسٹنٹ پروفیسر اوریوپی اے آر او آئی سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر محمد شاداب عالم نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، ریاض نے اے ایم یو کو تعلیمی و بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑا تعاون پیش کیا

 

علی گڑھ، 6 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور اس کے سابق طلبہ کے عالمی نیٹ ورک کے مابین مستحکم اور دیرینہ تعلق کو مزید مستحکم کرتے ہوئے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، ریاض، سعوی عرب نے وظائف، عطیات اور اہم تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے ذریعہ یونیورسٹی کو تعلیمی و بنیادی ڈھانچے کے محاذ پر قیمتی تعاون فراہم کیا۔

 

ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر انعام اللہ بیگ نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے ملاقات کی اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے 10 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ انہوں نے تمام فیکلٹیز کے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے 100 اسکالرشپ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا، جن میں بڑی تعداد طالبات کے لیے مخصوص ہوگی۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، فنانس آفیسر مسٹر نورالسلام اور جوائنٹ رجسٹرار مسٹر سرور اطہر بھی موجود تھے۔

 

اظہارِ تشکر کرتے ہوئے پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ اے ایم یو کے سابق طلبہ نے ہمیشہ اپنی مادرِ علمی کے تئیں گہری محبت اور وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مالی اور ادارہ جاتی معاونت تعلیمی رسائی اور ترقی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انھوں نے دنیا بھر میں موجود سابق طلبہ سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کی ترقی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھیں۔

 

ڈاکٹر بیگ نے یقین دہانی کرائی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، ریاض مستقبل کے منصوبوں میں بھی یونیورسٹی کی بھرپور معاونت کرتی رہے گی۔ اسکالرشپ کے علاوہ، ایسوسی ایشن نے ایس ٹی ایس اسکول کے لیے کلاس روم فرنیچر بھی فراہم کیا ہے۔

 

سابق طلبہ کے تعاون سے شروع کی گئی سرگرمیوں کے تحت، اے ایم یو کے احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں ٹچ سینس بریل لیب کا افتتاح ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس سہولت کا افتتاح وائس چانسلر نے کیا، جو جامع اور ٹکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیم کے تئیں یونیورسٹی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، ریاض کی جانب سے آربِٹ ریڈر 20 کے عطیہ نے لیب کو مزید مستحکم کیا ہے۔

 

اس موقع پر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ معاون ٹکنالوجیز کا انضمام خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کے لیے وقار، خودمختاری اور مساوی تعلیمی مواقع کو یقینی بنانے کی خاطر نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات روایتی تعلیمی طریقوں کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے جوڑتے ہیں۔

 

تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن پروفیسر قدسیہ تحسین، ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر محمد اعظم خان، فنانس آفیسرمسٹر نورالسلام، پروفیسر سرتاج تبسم، جوائنٹ رجسٹرار مسٹر سرور اطہر، ڈاکٹر مصباح العارفین اور پروفیسر عفت اصغر شریک تھے۔ پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد نے کہا کہ یہ لیب بصارت سے محروم طلبہ میں ڈیجیٹل مواد تک آزادانہ رسائی اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گی۔ پروگرام کی نظامت محترمہ ثناء شمشاد، ٹی جی ٹی (کمپیوٹر) نے کی۔

 

طلبہ کی معاون خدمات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے، یونیورسٹی کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) میں پانچ کمپیوٹر سسٹمز سے لیس ایک کمپیوٹر لیب کا بھی افتتاح کیا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، ریاض کی جانب سے عطیہ کردہ یہ سہولت طلبہ کے لیے کریئر گائیڈنس اور روزگار سے متعلق معاونت کو بہتر بنائے گی۔

 

افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر انعام اللہ بیگ، پروفیسر سرتاج تبسم اور جوائنٹ رجسٹرار مسٹر سرور اطہر موجود تھے۔ طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بیگ نے انہیں کریئر کی تیاری اور مہارتوں کے فروغ کے لیے اس سہولت سے بھرپور استفادہ کی ترغیب دی۔ پروگرام کی میزبانی ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) سعد حمید کے ساتھ اسسٹنٹ ٹی پی او ڈاکٹر مزمل مشتاق اور ڈاکٹر سہلیہ پروین نے کی۔

 

یہ تمام اقدامات جوائنٹ رجسٹرار مسٹر سرور اطہر کی کوششوں سے ممکن ہوئے، جن کی رابطہ کاری نے پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

Comments are closed.