لجنہ علمیہ ریاض سعودی عرب کے زیراہتمام عید ملن تقریب

 

ریاض سعودی عرب سے محمد شاہد قاسمی کی خاص رپورٹ

لجنہ علمیہ[تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند] ، ریاض، سعودی عرب

عید سے ایک ہفتہ پہلے مولانا ہارون صاحب قاسمی نے خوشی و شادمانی اور فرحت و انبساط سے بھرے لہجے میں اعلان کیا کہ سنیچر ( 21 مئی ) کو تمام قاسمی حضرات کی دعوت ہے ۔ آپ تمام حضرات ملز بنگلے پر تشریف لائیں –

21 مئی عید کا دوسرا دن تھا۔ میں نے عشاء کی نماز مولانا کے گھر کے پاس والی مسجد میں اداکی۔ نماز کے بعد مولانا اپنے گھر کے باہر ہی مل گئے۔ ان سے سلام دعا اور عید کی مبارکباد کا تبادلہ ہوا۔ انہوں اندر تشریف لے جانے کےلئے کہا ۔ میں اندر چلا گیا ۔ آنگن میں مولانا صادق صاحب ملے۔ ان سے سلام و دعا ہوئی۔ پھر اندر روم میں دیکھا کہ چار پانچ لوگ تشریف فرما ہیں۔ ان سے سلام و دعا اور معانقہ ہوا پھر صوفے پر بیٹھ گئے۔

آپس میں لوگ حال و احوال پوچھتے رہے اور حالات کے تعلق سے گفتگو کرتے رہے اور لوگ یکے بعد دیگرے تشریف لاتے رہے۔ جب صوفے پر بیٹھنے کی جگہ باقی نہ رہی تو مولانا ہارون صاحب نے آنگن میں بیٹھنے کے لئے کہا۔ ہم لوگ آنگن میں چلے گئے اور دیوار سے لگے صوفے سے لگ کر بیٹھ گئے۔ پاس میں مولانا ارشد ، مولانا نور محمد و غیرہ موجود تھے۔ آہستہ آہستہ قاسمی حضرات آتے رہے ۔ سرپرست لجنہ علمیہ مولانا عبد الباری صاص، مولانا جمیل الرحمن صاحب اور صدر لجنہ مولانا انعام الحق صاحب بھی اتنے میں پہنچ گئے۔ ان کے علاوہ دو مہمان خصوصی بھی تشریف لائے تھے۔ مولانا قاری امین صاحب جامعی کانپوری اور مولانا شفیع صاحب مظاہری کانپوری ۔

نظامت کی ذمہ داری مولانا اشرف صاحب نے سنبھالی ۔ انہوں نے اپنے تمہیدی کلمات میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور مولانا ہارون صاحب کو خاص طور سے یاد کیا کہ وہی اس تقریب کے روح رواں اور محرک تھے۔ مولانا نے سب کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ اور مجلس کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مولانا قاری عبد القدوس صاحب مظاہری فرزند مولانا امین صاحب جامعی کو قرآن کی تلاوت کے لئے دعوت دی۔ قاری صاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں سورہ الذاریات کی چند آیات تلاوت فرمائیں: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ الآیۃ ۔ تلاوت کے بعد قاری خورشید صاحب کو نعت پاک کے لئے بلایا گیا۔ انہوں سب سے پہلے قاسمی حضرات کا ایک مختصر تعارفی تذکرہ پڑھا ۔ مولانا جمیل الرحمن صاحب کا نام رہ گیا تھا تو یاد دلانے پر ان کا بھی تعارف کرایا ۔ پھر انہوں نے اپنی خوبصرت آواز میں چند اشعار پڑھے:

کسی کی دعا کا اثر دیکھ آئے

مدینے کی شام و سحر دیکھ آئے

یہ انعام باری ہوا تجھ پہ ثاقب

حبیب خدا کا جو گھر دیکھ آئے

ان پیارے اشعار کو سن کر تمام حاضرین محو ہو گئے ۔ تقریب کو آگے بڑھاتے ہوئے ، مولانا اشرف صاحب نے مہمان خصوصی مولانا امین صاحب مظاہری کانپوری کو مدعو کیا کہ وہ اپنے نصیحتی کلمات پیش فرمائیں۔

مولانا نے سب کو عید کی مبارکبا پیش کی اور پھر مولانا ہارون صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مبارک مجلس کا انعقاد کیا ، علماء کو جوڑا تاکہ وہ آپس ملیں ۔ دل سے ملیں ۔ دل پاک صاف ہو۔ مولانا نے فرمایا کہ ابھی میں نے دو صاحب کو دیکھا کہ آپس میں گلے مل رہے تھے۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ آؤ گلے مل لو چاہے دل ملے یا نا ملے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے دل نہیں ملیں گے تو عوام الناس کا کیا حال ہوگا؟ ہم یہاں رہیں مل جل کر رہیں۔ اختلاف کو ختم کرکے اور اتحاد قائم کرکے رہیں ۔ ورنہ نفاق ہماری نیکیوں کو ایسے ہی ختم کردے گا جیسے استرا بال کو۔ اور جب انڈیا جائیں تو وہاں بھی اتحاد کے ساتھ رہیں۔

اس کے بعد مولانا اشرف صاحب نے مفتی منصور صاحب کو نعت خوانی کے لئے بلایا کہ مجلس میں گرمی اور جوش پیدا ہو۔ مفتی منصور صاحب نے اپنی سریلی آواز میں بہترین نظم و غزل پیش کی۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ

اب غزل غزل نہیں ہے۔ اب غزل لب و رخسار اور گھر کی چہار دیواری سے نکل کر سماج اور سوسائٹی کی باتیں ہوتی ہیں۔ مولانا عبد الباری صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ ہی کی خدمت میں یہ غزل پیش ہے۔ مولانا ہنسنے لگے تو فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں ؛ لیکن یہ غزل اس لائق ہے کہ آپ کی خدمت میں پیش کر سکوں:

دروغ گوئی ہی کیجئے نہ لن ترانی آپ

وگر نہ ہوں گے کسی روز پانی پانی آپ

لباس جہل پہن کر نہ آئیں محفل میں

دکھائی دیتے ہیں چہرے سے خاندانی آپ

مزاج ، لہجہ، رویہ بدلئے ورنہ جناب

دلوں پر کر نہیں پائیں گے حکمرانی آپ

ہمارے حق گواہی بھلا وہ کیا دے گا

جو کر سکا نہ کبھی اپنی ترجمُانی آپ

انا کا شیش محل آپ توڑ لیتے خود

کبھی سمجھتے اگر میری لا مکانی آپ

جو آپ چاہیں معانی نکالیں لفظوں کے

کریں نہ میری محبت پہ بدگمانی آپ

شگفتہ پھول بھی مرجھا رہے ہیں دہشت سے

خدا کے واسطے اب چھوڑیں باغبانی آپ

دیوانے سب ہیں ابھی آپ کے مگر منصور

جہان فانی میں ہوجائیں گے کہانی آپ

دروغ گوئی ہی کیجئے نہ لن ترانی آپ

وگر نہ ہوں گے کسی روز پانی پانی آپ

 

اس کے بعد مفتی منصور صاحب نے مولانا ہارون صاحب کی گذارش پر ایک اور نظم پڑی جو رمضان کے تعلق سے تھی:

ہمیں کرنے تروتازہ مہ رمضان آیا ہے

دلوں میں نور بھرنے کو مہ قرآن آیا ہے

بچھا رکھی تھی پلکیں راہ میں جس کے لئے ہم نے

مسرت کے تحائف لے کے وہ مہمان آیا ہے

صیام ماہ رمضان فرض ہے تقویٰ بھی لازم ہے

کتاب اللہ میں رب کا یہی فرمان آیا ہے

جزا روزے کی خود دے گا یا خود ہی جزا ہوگا

زبان احمد مختار سے اعلان آیا ہے

تلاوت ذکر ترویحہ سحر افطار اور صدقہ

ہمارے ہی لئے فرحت کا یہ سامان آیا ہے

سحر گاہی میں بھی جن کی آنکھیں نہیں برستی ہیں

تو ان کے حصے میں سب سے بڑا نقصان آیا ہے

وہ عاصی ہے وہ خاطی ہے جسے منصور کہتے ہیں

خدا یا در پہ تیرے پھر بھی وہ نادان آیا ہے

ہمیں کرنے تروتاہ مہ رمضان آیا ہے

دلوں میں نور بھرنے کو مہ رمضان آیا ہے

پوری مجلس پر سکون اور وقار کے ساتھ مفتی صاحب کی طرف متوجہ تھی اور زبان سے بلا تکلف ماشاء الله سبحان اللہ کی آوازیں نکل رہی تھیں۔

لوگوں میں نشاط اور سرور پیدا ہو گیا تھا۔ مولانا اشرف صاحب نے مجلس کو آگے بڑھاتے ہوئے دوسے مہمان خصوصی مولان شفیع صاحب کانپوری کو دعوت دی ۔ مولانا نے سب کو عید کی مبارکباد پیش کی اور پھر فرمایا کہ سب سے پہلے بات کہ میں شیخ الحدیث نہیں ہوں ۔ یہ کسی کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ میں جس مدرسہ میں پڑھاتا ہوں اس میں بخاری کی تعلیم ہے ہی نہیں ۔ اس میں جلالین تک تعلیم ہوتی ہے اور میں جلالین پڑھاتا ہوں۔ اور بھی دوسری کتابیں جیسے قطبی و وغیرہ، میں نے یہ کتابیں بار بار پڑھائی ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے پڑھوا رہا ہے۔ شکریہ سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ 1397 ھ کی میری فراغت ہے اور اس وقت سے اب تک کل میری ایک سو بیس دن کی غیر حاضری ہے ۔ میں کبھی بھی ناغہ نہیں کرتا ۔ کبھی سخت بیمار ہوگیا تو چھٹی لے لیتا ہوں ورنہ نہیں ۔ طلبہ بھی مجھ سے غصہ کرتے ہیں کبھی آپ ناغہ نہیں کرتے۔ جب وہ کبھی چھٹی کی درخواست کرتے ہیں اس دن ضرور پڑھاتا ہوں۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ مجھ سے پڑھوا رہا ہے ۔ پھر فرمایا کہ ہم لوگ کانپور میں ہر مہینہ علما کو جوڑتے ہیں ۔ کبھی ائمہ علما کو جوڑتے ہیں ۔ کبھی علما اور وکلا کو جوڑتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سنیں اور کوئی حل نکلے ۔ میری درخواست ہے کہ آپ لوگ بھی اسی طرح سب کو جوڑتے رہیں چاہے کسی علاقہ کا ہو ، ندوی ہو قاسمی ہو ۔

اس کے بعد ، قاری خورشید صاحب کو مدعو کیا گیا کہ وہ نعت شریف سنائیں ۔ قاری صاحب نے قاری صدیق صاحب کی ایک نعت پڑھی:

میں درود مصطفی سے جو یہ دل سجا رہا ہوں

اسی ذکر سے مسلسل انہیں پاس پاس پارہا ہوں

مجھے گردشوں نہ چھیڑو میری راہ گذر میں آکر

میں غلام مصطفی ہوں میں مدینے جارہا ہوں

 

ذکر خدا میں ہردم رہنا سب کے بس کی بات نہیں

خواہش نفس سے بچتے رہنا سب کے بس کی بات نہیں

انگلی سے اشارہ چاند کی جانب سارے انسان کرتے ہیں

اور انگلی سے چاند کے ٹکڑے کرنا سب کے بس کی بات نہیں

دین کی خاطر گھر گھر جانا طائف جاکر پتھر کھانا

اور پھر بھی دعائیں دیتے رہنا سب کے بس کی بات نہیں

اصحاب رسول سب کے سب مخلوق میں سب سے افضل ہیں

اور صدیق کے جیسا عاشق ہونا سب کسے بس کی بات نہیں

ذکر خدا میں ہروقت رہنا سب کے بس کی بات نہیں

سارا مجمع ایک دم خاموش پورے شوق سے ان اشعار کو سن رہا تھا۔

اس کے بعد مولانا محمد انعام الحق قاسمی صاحب کو مدعو کیاگیا تو انہوں نے سب کو عید کی مبارکبا پیش کی۔ اور مہمانان خصوصی کی جانکاری کے لئے مختصرا لجنہ کی تاسیس کب اور کیسے ہوئی بیان فرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ لجنہ 1993 میں مولانا وحید الزمان صاحب کی آمد کے موقع پر ان کی رای پر قائم کی گئی تھی۔ مولانا نے فرمایا تھا کہ مہینہ میں صرف ایک بار جمع ہوجاؤ ۔ اپنے اپنے گھر سے گھانا ساتھ لاؤ ۔ اس کا نام اس وقت ٹفن پارٹی تھا۔ پھر یہ سلسلہ منقطع ہو گیا تو 2011 میں ڈاکٹر مولانا محمد نجیب قاسمی صاحب سے میں نے عرض کیا کہ جس طرح ندوی ، جامعی اور علیگیرین جمع ہوتے ہیں ، ہم کیوں نہیں ہو سکتے؟ چنانچہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا۔ ہم لوگوں نے فون اور ایمیل سے رابطہ کیا اور خرج وغیرہ بھی گئے اور120 علما کی فہرست تیار کرلی۔ اب تک ہم لوگوں نے آٹھ پروگرام کئے جس میں ایک پروگرام “ من المہد إلی اللحد” بہت کامیاب رہا ۔ اس کے بعد اور کرونا سے پہلے ( جولائی 2019 میں) ایک پروگرام رکھا گیا جو حج کے موضوع پر تھا ۔ یہ بھی کامیاب رہا ۔

اس کے بعد مولانا نے موجودہ صورت حال کے حوالے سے گفتگو فرمائی اور تمام ممبران سے درخواست کی کہ اس کے تعلق سے کوئی بھی بات گروپ میں ہرگز نہ پوسٹ کریں ، اس سے شیئر کرنے والا اور اور ایڈمن مصیبت میں پڑسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی بات پوسٹ کریں تو اس کو اچھی طرح پڑھ لیں سن لیں ، پھر شیئر کریں۔

ان کے بعد مولانا جنید صاحب کو دعوت سخن دی گئی ۔ انہوں نے مختصر بات کی۔ فرمایا کہ مشائخ ، اصلاح نفس کے لئے جہاں اور بہت ساری باتیں بتاتے ہیں وہیں ایک بات ہے راضی برضا ہے یعنی اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا ۔ اس میں ہمارے لئے خیر مقدر ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے اپنے مدینے کے سفر کا واقعہ سنایا کہ گاڑی کا حرارہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ، راستے میں کوئی ورکشاپ نہ ملی تو آہستہ آہستہ چلتے رہے۔ کبھی رک کر گاڑی میں پانی ڈال لیا کبھی چل پڑے ۔ اس طرح چار گھنٹے کی تاخیر سے ہم لوگ مدینہ پہنچے ۔ اس تاخیر کی وجہ سے جو روم بک کیا تھا وہ کسی اور کو ہوٹل والوں نے دے دیا جس کا کرایہ 600 روپیہ تھا۔ پھر بات کرنے پر انہوں نے ہم کو اسی قیمت پر دو کمرہ دے دیا ۔

اس کے بعد سرپرست لجنہ علمیہ مولانا عبد الباری صاحب کھڑے ہوئے اور موجودہ صورت حال کے تعلق سے سب کو نصیحت فرمائی کی ہم اس کو شیعہ سنی کی نظر سے نہ دیکھیں ، بل کہ کفر بہ مقابلہ اسلام کی نظر سے دیکھیں اور اللہ تعالیٰ سے خوب دعا کریں ۔ یہ وقت بہت دعا کرنے کا ہے۔

مولانا کے بیان کے بعد ، دستر خوان چنا گیا ۔ قورمہ بریانی اور کھیر ، بہت ذائقے دار اور لذیذ کھانا تھا۔ اللہ تعالیٰ مولانا ہارون صاحب، مولانا نثار صاحب اور تمام منتظمین کو جزائے خیر دے، ان سب کا تہ دل سے بہت بہت شکریہ.

Comments are closed.