علماء کرام اور کسب معاش کا مسئلہ !

 

 

مولانا محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

 

علماء کرام اور فکرِ معاش ایک نہایت اہم، حساس، ہمہ جہت اور عصری تقاضوں سے جڑا ہوا علمی و فکری موضوع ہے، جس پر سنجیدہ، متوازن اور حقیقت پسندانہ گفتگو کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں معاشی شکلیں اور ڈھانچے پیچیدہ ہو چکے ہیں، منہگائی آسمان چھو رہی ہے، وہیں دینی خدمات انجام دینے والے طبقات کو بھی نئی نوعیت کے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ علماء کرام کے لئے فکرِ معاش کی کیا حیثیت ہونی چاہیے، اس کا حل کیا ہونا چاہیے، اور اس میں اعتدال کی راہ کیا ہے، تاکہ دین و شریعت کا نقصان بھی نہ ہو اور ان کی کفالت کا مسئلہ بھی نکل آئے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو اسلامی معاشرے میں علماء کرام کی ایک نمایاں خصوصیت استغنا ، زہد، قناعت اور دین کے لئے ان کی بے لوث خدمت رہی ہے۔ ایسے افراد کی کمی نہیں تھی جو ہر طرح کے حالات میں دین کی اشاعت و خدمت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھتے تھے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ ایک مختلف معاشرتی اور معاشی نظام تھا، جہاں بیت المال کا منظم اور مضبوط ادارہ موجود تھا، اور اہلِ علم کی بنیادی ضروریات کسی نہ کسی درجے میں پوری ہو جایا کرتی تھیں۔ آج کے دور میں نہ وہ نظام موجود ہے اور نہ ہی وہ اجتماعی کفالت کا ڈھانچہ، اس لیے حالات کا تقابل کرتے ہوئے یکساں توقعات قائم کرنا درست نہیں۔

اس موضوع میں عام طور پر دو انتہائیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ علماء کو مکمل طور پر دینی خدمات میں مصروف رہنا چاہیے اور دنیاوی معاش کے معاملات سے حتی الامکان کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے نزدیک اسلاف کا نمونہ یہی ہے کہ جو کچھ مل جائے، اسی پر صبر کیا جائے اور توکل کو اختیار کیا جائے۔ یہ نقطہ نظر اپنی جگہ ایک روحانی اپیل رکھتا ہے، مگر عملی دنیا میں اس کی مطلق تطبیق کئی مسائل کو جنم دیتی ہے، خصوصاً جب علماء کو اپنے اہل و عیال کی کفالت بھی کرنی ہو۔

دوسری طرف ایک رائے یہ ہے کہ ہر عالم دین کو دینی خدمات کے ساتھ کسی نہ کسی معاشی سرگرمی، مثلاً تجارت یا ملازمت، سے ضرور وابستہ ہونا چاہیے تاکہ وہ مالی طور پر مستحکم رہیں اور سماج میں عزت و خود داری اور خودی و خود اعتمادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اس سوچ میں بھی وزن ہے، کیونکہ مالی خود کفالت انسان کے وقار کو بڑھاتی ہے اور اسے بہت سی مجبوریوں سے بچاتی ہے۔ تاہم اس رائے کو ہر فرد پر لازم قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ موقف نہیں، کیونکہ ہر شخص کے حالات، صلاحیتیں اور مواقع یکساں نہیں ہوتے۔

درحقیقت اس مسئلے کا حل افراط و تفریط کے درمیان ایک متوازن اور لچکدار راستہ اختیار کرنے میں ہے۔ وہ علماء جو علمی و تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی حد تک معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں ،چاہے وہ پارٹ ٹائم تجارت ہو، شراکت داری ہو یا کوئی ہنر،ان کے لیے یہ ایک مثبت اور قابلِ قدر قدم ہے۔

اس سے نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے بلکہ وہ زیادہ اعتماد اور آزادی کے ساتھ دینی خدمات بھی انجام دے سکتے ہیں۔

تاہم وہ علماء جو اپنے حالات، ذمہ داریوں یا مزاج کے اعتبار سے مکمل طور پر دینی میدان میں ہی مصروف رہتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں، اور معاشرہ ان کی کفالت کی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ یہاں پر خوشحال طبقے، تاجر برادری اور صاحبِ حیثیت افراد کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ایک منظم اور باشعور طبقہ ایسے علماء کی سرپرستی کو اپنا دینی و سماجی فریضہ سمجھ لے، تو نہ صرف علمی و دینی خدمات کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے بلکہ ایک صحت مند توازن بھی قائم ہو سکتا ہے۔

اسی طرح معاشرے میں مخصوص علماء کرام کا ایک ایسا فعال طبقہ بھی ہونا چاہیے جو خود معاشی میدان میں مضبوط ہو، تجارت، صنعت، سیاست اور سماجی خدمات میں حصہ لے، اور ساتھ ہی دینی طبقے کی معاونت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے۔ یہ باہمی تعاون ہی ایک متوازن اسلامی معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے، جہاں ہر فرد اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرے۔

خلاصہ یہ کہ علماء کرام کے لیے فکرِ معاش ایک حقیقی اور اہم مسئلہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تو سب کو زہد و فقر کی ایک ہی سطح پر مجبور کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی سب کے لیے تجارت یا معاشی سرگرمی کو لازم قرار دیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات، صلاحیتوں اور مواقع کو سامنے رکھتے ہوئے ایک معتدل اور حقیقت پسندانہ طرزِ فکر اپنایا جائے، اور اجتماعی سطح پر ایسے نظام کی تشکیل کی جائے جو دینی خدمات انجام دینے والوں کو باوقار اور بااستحکام زندگی فراہم کر سکے۔ یہی اعتدال اور توازن اس مسئلے کا اصل حل ہے۔

مشہور عالم دین مولانا محمد یحییٰ نعمانی اس بارے میں جو لکھتے ہیں ، انہیں بھی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا محترم لکھتے ہیں:

"ایک صاحب علم دوست نے اطلاع دی کہ اہل علم ودانش کی ایک مجلس (WatsApp Group) میں چند ایام سے یہ بات زیر بحث ہے کہ علم اور کسب معاش کی مصروفیات یا تدریس اور تجارت کا اجتماع مفید ہے یا نہیں۔

یہ صاحب علم دوست اس سلسلے میں میری رائے جاننا چاہتے تھے۔

موجودہ حالات میں، جب کہ عموما علماء ،خادمان دین اور خصوصا مدارس کے مدرسین کے مالی حالات تنگ ہیں، یہ گفتگو بار بار چھڑتی ہے۔ اور بارہا محسوس ہوتا ہے کہ اعتدال اور حقیقت پسندی سے بات آگے نکل جاتی ہے یا پیچھے رہ جاتی ہے۔

اس سلسلے میں اصل بات یہ ہے کہ وارثین انبیاء علماء کے لئے اصل مقصد زندگی خدمت دین اور نصرت اسلام ہونا چاہیے۔ خصوصاً غربت اسلام کے اس دور میں ان کو اپنے آپ کو حزب اللہ اور انصار الرسول کے قرآنی منصب کا حامل سمجھنا چاہیے۔ ایک عالم کو اپنے نفس اور اپنے خدا دونوں سے یہی عہد کرنا چاہیے کہ اس کا اصل میدان عمل یہی رہے گا اور نصرت دین کو ہی وہ اپنا اصل مطمح نظر بنائے گا۔ اس کی زبان حال پر ہمہ دم ’’محیاي ومماتي للہ رب العالمین‘‘ کا ورد رہنا چاہیے۔

خدمت دین خصوصا تعلیم ودعوت اور اصلاح امت کے مشن کو مقصد زندگی بنانے کے ساتھ اگر کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کسبِ مال کے مواقع عطا فرمائیں اور اس کے لئے مال داری اور خوش حالی کی راہیں کھولیں ،تو نور علیٰ نور ہے۔ اور ہر اعتبار سے لائق شکر بھی ہے اور لائق رشک بھی۔

لیکن اگر کبھی ایسا امتحان پیش آئے کہ دین کے کسی داعی اور احیاء دین و فکرِ امت کےکسی حامل کو دو میں سے کسی ایک راہ کا انتخاب کرنا پڑے، یعنی اس کے حالات ایسے ہوں کہ مالی وسعت و فراخی کے حصول اور معاشی مصروفیت کی وجہ سے اس کو اپنے مشن اور کام کی قربانی دینی پڑے یا نصرتِ دین کی مشغولیتوں میں ان مصروفیتوں سے خاطر خواہ کمزوری پیدا ہونے کا اندیشہ ہو (جیسا کہ بہت سے لوگوں کا حال ہوتا ہے) تو اس کے لئے افضل واعلیٰ بہر حال یہی ہے کہ وہ صبر وقناعت سے کام لے اور (قابل تحمل حد تک) مشکلات اور تنگی برداشت کرے۔

اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کے ساتھ معاملات جدا جدا ہوتے ہیں۔ بعض علماء کو اللہ تعالیٰ فراخی کے اسباب عطا فرماتا ہے، ان میں سے بعض کے لئےایسے امکانات پیدا فرما دیتے ہیں کہ وہ اپنی خدمات اور دینی مشغولیات کے ساتھ کچھ معاشی سرگرمیاں بھی اختیار کرلیتے ہیں اور یہ اُن کے اصل مقصد اور دینی جد وجہد میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ جب کہ اللہ کے دوسرے بندوں کو یہ سہولت اور یہ امکانات نہیں حاصل ہوتے۔

ہم صحابۂ کرام اور سلف کی زندگی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں دونوں نمونے ملتے ہیں۔ جن علماء وائمہ کو تموُّل اور ثروت مندی کی نعمت ملی یا تجارت وغیرہ سے ان کی دینی خدمات میں رخنہ نہیں پڑا، انہوں نے اس راہ کو اختیار کیا۔ اور جن کا حال یہ تھا کہ ان کو اپنی دینی خدمات اور علمی مشغولیات کے ساتھ تجارت اور معاشی مشاغل کا موقعہ نہیں مل پاتا تھا، انہوں نے بکمال ہمت وحوصلہ آخرت کے اجر اور رضائے مولیٰ کی نیت سے تنگ حالی کو برداشت کیا۔

اصل بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے نصرت دین اور میراث نبوت پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دی۔ دیکھئے صحابہ میں حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبد الرحمان بن عوف جیسے سرمایہ دار تاجر بھی تھے، لیکن انہوں نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی نصرت اور خدمت دین کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر نہیں اختیار کیا تھا۔ اسی طرح معروف ہے کہ حضرت عبد اللہ بن المبارک بہت بڑے تاجر اور امام لیث بن سعدؒ بڑے متمول زمیں دار تھے۔ دوسری طرف امام مالکؒ کا فقر وناداری کا حال معروف ہے۔ یہاں تک کہ ایسا بھی موقع آیا کہ ان کو اپنے گھر کی چھت کی کڑیاں فروخت کرنی پڑیں۔

بہر حال ہم سب کو اللہ تعالیٰ سے توفیق وتیسیر کی دعا کرنی چاہیے۔ اور اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ جب کوئی اللہ کا بندہ ضروری حد تک اخلاص اور کسی قدر تقویٰ کے ساتھ دینی خدمت اور راہ خدا میں جد وجہد کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل ضرور فرماتا ہے۔ اہل اللہ نے اس کا خوب تجربہ کیا ہے اور اس کو خوب دیکھا ہے۔ پھر انہوں نے خدا کے دیے ہوئے نور یقین کی بنیاد پر (بسا اوقات قسمیں کھا کھا کر)بتلایا ہے کہ ایسے بندوں پراللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنا فضل ضرور فرمائےگا۔ اس گنہ گار نے بھی براہ راست مشاہدہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ اللہ کے جو بندے اس راہ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر خصوصا اللہ تعالیٰ سے دعا وسوال کے ذریعہ فضل کے طالب ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ دروازے کھولتے ہیں، جن کا انہوں نے’’ویرزقہ من حیث لایحتسب‘‘ فرما کر وعدہ کیاہے۔ ہم لوگوں میں اصل میں انہی چیزوں کی کمی ہے۔

یعنی معاصی و کبائر سے بچنے کی کوشش اور اگر نفس کی شرارت سے ہو جائیں تو توبہ واستغفار کا اہتمام”۔

 

نوٹ / اس سلسلہ میں مزید تفصیلات ہم دوسری مجلس میں پیش کریں گے ۔

Comments are closed.