مغل عہد کی بازیافت: تعصب سے حقیقت تک

 

(بابر کی وصیت کے آئینے میں)

عادل فراز

adilfarazlko@gmail.com

مغلوں کو غیر مسلموں کا دشمن اور متعصب قراردے کر پیش کرناسادہ اور ایک رخی بیانیہ ہے ۔جب کہ تاریخی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے ۔مغلوں کے متعلق اس تصور کےکئی اسباب بیان کئے جاسکتے ہیں مگر اہم سبب برطانوی دور میں لکھی گئی تاریخیں ہیں جن میں ہندواور مسلمانوں کے درمیان واضح تقسیم پیداکی گئی ۔مغل عہد کو ’ہندو مخالف عہد‘ اور قدیم ہندوستان کو ’ہندوئوں کا سنہری دور‘ کہہ کر پیش کیاگیا۔چونکہ برطانوی حکومت کے تسلط کےبعد جتنی تاریخی لکھی گئیں ان پر انگریزی اثر صاف نظر آتاہے اس لئے ان تاریخوں میں جانب داری ،یک طرفہ بیانیہ اور تاریخی حقائق میں تلبیس و تدلیس موجود ہے ۔موجودہ عہد میں انہیں تاریخوں پر زیادہ توجہ ہے تاکہ فاشسٹ طاقتیں اپنے مقصد تک پہنچ سکیں ۔جس طرح برطانوی نظام نے ہندوئوں اورمسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی اسی طرح فاشسٹ طاقتیںاُنہیں بانٹنے میں مصروف ہیں۔

بابر جس نے 1526ء میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی ،سیکولر روایت کا پابند تھا۔اس کا ذاتی عقیدہ کچھ بھی رہاہو مگرحکومتی نظریہ مذہبی رواداری پر مبنی تھا۔اس نے ہندوستان کی فتح اور مغلیہ سلطنت قائم کرنے کے بعد اپنے فرزند ہمایوں کو جو وصیتیں کی ہیں وہ انتہائی اہم اور قابل مطالعہ ہیں ۔یہ وصیت نامہ فاشسٹ طاقتوں کے خودساختہ نفرتی بیانیہ کو بھی شکست دیتاہے اور مغلوں کے سیکولر کردار کو بھی منعکس کرتاہے ۔بابر نے اپنے بیٹے کو غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک ،ان کی عبادت گاہوں اور مذہبی جذبات کے احترام کی نصیحت کی جس سے معلوم ہوتاہے کہ مغل متعصب اور ہندو دشمن نہیں تھے ۔آئیے پہلے بابر کے وصیت نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں ۔بابر اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہتاہے :فرزند من !ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عنایت ہے کہ اس نے تمہیں اس ملک کا بادشاہ بنایاہے ،اپنی بادشاہی میں تمہیں کچھ اہم باتوں کا خیال رکھناچاہیے:

۱۔تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دواور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے رورعایت کے بغیر سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرو۔۲۔گائےکشی سے بالخصوص پرہیز کرناتاکہ اس سے تمہیں لوگوں کے دل میں جگہ مل جائے اور اس طرح وہ احسان اور شکر کی زنجیر سے تمہارے مطیع ہوجائیں ۔۳۔تمہیں کسی قوم کی عبادت گاہ مسمار نہیں کرنی چاہیے تاکہ بادشاہ اور رعیت کے تعلقات دوستانہ ہوں اور ملک میں امن وامان رہے ۔۴۔اسلام کی اشاعت ظلم وستم کی تلوار کے مقابلے میں لطف واحسان کی تلوار سے بہتر ہوسکے گی ۔۵۔شیعہ سنّی اختلافات کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہوکیونکہ ان سے اسلام کمزور ہوجائے گا۔۶۔اپنی رعیت کے مختلف خصوصیات کو سال کے مختلف موسم سمجھوتاکہ حکومت بیماری اور ضعف سے محفوظ رہ سکے ۔(المیۂ تاریخ از ڈاکٹر مبارک علی ص۲۰ ۔)

اس وصیت نامے کے متن سے اندازہ ہوتاہے کہ بابر نے ہندوستان کی فتح کے موقع پر یہ باور کرلیاتھاکہ مذہبی رواداری اور سیکولر پالیسی پر عمل کئے بغیر ہندوستان میں حکومت کرنا ممکن نہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان کی فتح پر بابر اللہ کا شکر اداکررہاہے، اور شکر کے جذبے کی بنا ہندوستان کا مختلف مذاہب کا گہوارہ ہوناہے۔ اس نے اس امر پر تشویش کا اظہار نہیں کیا کہ ہندوستان مختلف قوموں اور مذاہب کا ملک ہے، لہٰذا یہاں حکومت کرنا کیسے ممکن ہوگا، بلکہ وہ اس ملک کے کثیر المذاہب ہونے پر اللہ کا شکر بجا لارہاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے وصیت نامے کی پہلی شق میں اپنے بیٹے کو مذہبی تعصب سے دور رہنے کی نصیحت کی، کیونکہ جس ملک میں لاتعداد مذاہب اور بے شمار قومیں اپنے اپنے عقائد و رسومات کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں، وہاں مذہبی عصبیت کے ساتھ حکومت نہیں کی جاسکتی تھی۔چونکہ ہندوستان میں گائے کو مذہبی تقدس حاصل ہے، اس لئے بابر نے ہمایوں کو گائےکشی سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی، ورنہ دین اسلام میں گائے کے ذبیحے پر پابندی نہیں ہے۔ اس کے باوجود بابر نے ہندوستانی مذاہب اور یہاں کے مذہبی فلسفے کے احترام میں گائے کشی سے پرہیز کرنے کی نصیحت کی، اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ ایک دوررس اور رعایاپرور بادشاہ تھا۔

چونکہ تمام حکومتوں کی طرح مغل بھی ظاہری طور پر خود کو مذہب اسلام کا سچا رہنما اور حاکم تصور کرتے تھے، جب کہ ان کا مذاق بھی دنیا کے دوسرے سلاطین سے مختلف نہیں تھا۔ مغل شراب پیتے تھے، جو اسلام میں حرام اور ناپاک تصور کی جاتی ہے۔ بھنگ نوشی عام تھی۔ حرم مفتوحہ عورتوں سے بھرے ہوئے تھے۔ جو اکھیلتے تھے۔ مختصر یہ کہ مغل حکمرانوں میں وہ تمام معائب موجود تھے جو عام طور پر حکمرانوں کے مذاق کا حصہ رہے ہیں۔اس کے باوجود وہ اپنا ظاہر بگاڑتے نہیں تھے، ورنہ مغلوں کا مقصد کبھی اشاعت اسلام نہیں رہا اور نہ ان کی حکومتوں میں اشاعت اسلام کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عرفان حبیب جیسے مورخ نے ہندوستان میں جبری تبدیلیٔ مذہب کے شواہد سے انکار کیا ہے۔اگر مغلوں کا مقصد بہر صورت اشاعت اسلام ہوتا تو وہ تلوار کے زور پر لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرتے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام صوفیاء و مشائخ کے ذریعہ پھیلا۔ علماء کے مزاج میں یقیناً تشدد تھا اور وہ غیر مسلموں کو برداشت کرنے کے قائل نہیں تھے، لیکن مسلمان بادشاہوں نے کبھی علماء کے ورغلانے میں غیر مسلموں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا۔ اکثر مسلم بادشاہ تو ہندوؤں کے تیوہاروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھےجن میں محمد بن تغلق بھی شامل ہے جسے ہندوسخت گیر حکمران قراردیتے ہیں۔(فتوح السلاطین از عصامی ص۵۱۵)اکبر تو ماتھے پر قشقہ لگاتا،گلے میں زنّار کی مالا پہنتااور ہندوئوں کے دیوی دیوتائوں کا بے حد احترام کرتاتھا۔جہاں گیر بھی باپ کی روش سے نہیں ہٹا۔حتیٰ کہ اسے مذہب اسلام سے زیادہ عیسائی مذہب کی معلومات تھیں اور وہ مذہب عیسوی کے بعض مراسم پرعمل بھی کرتاتھا۔اورنگ زیب کے مزاج میں مذہبی سختی تھی مگر یہ سختی بھی متعصب اور متشدد علماء کو زیر کرنے کے لئے تھی ۔ورنہ جسے شیعہ اپنا دشمن قراردیتے ہیں اس کے دربار میں سب سے زیادہ شیعی امراء،مورخ اور علماء موجود تھے جس کا اعتراف مولاناشبلی نعمانی نے بھی کیاہے ۔(اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر ،ص۸۴)رواداری کایہ سلسلہ بہادر شاہ ظفر تک جاری رہاجس نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں عیدالاضحی کے موقع پر گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد کردی تھی تا کہ ہندو مسلم اتحادکو گزند نہ پہنچے۔

بابر غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے مسمار کرنے کے خلاف تھا۔ اس کے باوجود یہ دعویٰ کہ اس کے سپہ سالار میر باقی نے ایودھیا میں مندر کو منہدم کرکے اس کی جگہ بابری مسجد تعمیر کی، غیر منطقی بیانیہ ہے۔ انگریزوں نے اس بیانیہ کو تقویت پہنچائی اور نوابین اودھ کے دور میں یہ تنازع شباب پر پہنچ گیا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد زعفرانی طاقتوں نے بابری مسجد اور رام مندر کو اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنالیا اور انہیں کامیابی ملی۔ مسلمان، جو حالات سے بے خبر عدالتی فیصلے پر تکیہ کئے ہوئے تھے، وہاں سے بھی انہیں مایوسی ہاتھ لگی۔ عدالت عظمیٰ نے تاریخی شواہد کو پس پشت ڈال کر ’ہندوئوں کی عقیدت‘ کی بنا پر بابری مسجد کو رام مندر تعمیر کے لئے دے دیا، جب کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ اس کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ بابری مسجد مندر توڑ کر تعمیر کی گئی تھی۔ اس فیصلے نے فاشسٹ طاقتوں کے حوصلوں کو مہمیز کیا اور آج پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی عبادت گاہیں خطرے میں ہیں۔ اس سیکولر اور جمہوری ریاست سے بہتر تو بابر کا نظریۂ حکومت تھا، جس میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے احترام کو فرض قرار دیا گیا تھا۔

بابر کی وصیت کا آخری نکتہ شیعہ اور سنّی اختلافات سے جڑا ہوا ہے۔ اس نے شیعہ و سنّی اختلاف کو اسلام کی تضعیف کا ذریعہ قرار دیا۔ افسوس یہ ہے کہ بابر، جو بہت زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا مگر ایک فاتح اور زبردست فرماںروا تھا، اس نے صدیوں پہلے اس حقیقت کو باور کر لیا تھا، مگر موجودہ زمانے کے مسلم حکمران اور خاص طور پر ہمارے علماء اس حقیقت کو اب تک نہیں سمجھ سکے۔بابر کے بعد جب ہمایوں تخت نشین ہوا تو اس نے اپنے باپ کی تمام وصیتوں پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ اگر مغل متعصب ہوتے تو ان کے درباروں میں مسلمانوں کے تمام فرقے موجود نہ ہوتے، ہندو ئوں کواعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں کیاجاتا۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں بادشاہت کے زوال تک جاری رہا۔ اس کے باوجود مسلم حکمرانوں کے خلاف فاشسٹ طاقتوں نے ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس میں انہیں ہندوستان کا لٹیرا اور ہندوؤں کا دشمن قرار دیا گیا۔ مسلمانوں نے اس بیانیے کی تکذیب اور تردید کے لئے کوئی مناسب اقدام نہیں کیا، کیونکہ ان کے علماء کی بڑی تعداد فاشسٹ طاقتوں کے زیر اثر اور یرقانی تنظیموں کی رکن ہے۔ لہٰذا ہندوستان کے روشن خیال اور سیکولر طبقے کو آگے ہونا ہوگا تاکہ فاشسٹ طاقتوں کے خودساختہ بیانیے کو شکست دی جا سکے۔دانشور طبقہ جب تک میدان عمل میں نہیں آئے گا اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ البتہ ہم ایسے دانشوروں کی بات نہیں کر رہے ہیں جو خود فاشسٹ طاقتوں کے بیانیےکو ’داراشکوہ ‘ ،مسلمانوں کی سیاست سے علاحدگی اور یرقانی تنظیموں کی بیعت کی دعوت کے ذریعے تقویت پہنچارہے ہیں ۔ اب بھی آزاد اور خودمختار سنجیدہ افراد کی کمی نہیں ہےلیکن انہیں خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری اداکرنی ہوگی۔

Comments are closed.