آسام اور بنگال میں بی جے پی ہندو اکثریت کو متحد کرنے میں کامیاب رہی

 

از: محمد برہان الدین قاسمی

ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی

 

کچھ لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ آسام اور بنگال میں کانگریس، اے آئی یو ڈی ایف اور ٹی ایم سی کے اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی کی جیت ہوئی ہے۔ میرے نزدیک ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگر کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوتا تو بی جے پی کی جیت کے نتیجے میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا، بس کچھ جگہوں پر بی جے پی کی جیت کا مارجن کم ہوتا اور مجموعی طور پر پانچ سے سات سیٹوں کا ہی فرق آتا۔ اتحاد کا مقصد صرف مسلم ووٹوں کی تقسیم کو روکنا ہوتا ہے، جبکہ دونوں صوبوں میں مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہوئے۔ بلکہ مسلمان زیادہ متحد ہوئے اور اتحاد کا کھلے عام اظہار بھی کیا، جس کے نتیجے میں ریورس اتحاد سامنے آیا۔ جہاں اکثریت متحد ہو، وہاں اقلیت کے اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہی آسام، بہار، یو پی وغیرہ میں پہلے سے ہوتا آرہا ہے اور اب پہلی مرتبہ بنگال میں بھی ہوا۔

 

بی جے پی کے لیے ہمیشہ یہ فائدہ مند ہوتا ہے کہ مسلمان صرف مسلمانوں کو ووٹ دیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہو، مسلمان شدت سے کمپین کریں، اور ان کا لیڈر صرف مسلمانوں کی بات کرے۔ اس کے ردعمل میں بی جے پی اپنی سیاسی بساط کو مزید بہتر طریقے سے بچھا لیتی ہے اور عوام کو ڈرانے میں کامیاب ہوپاتی ہے. کیرالہ میں مسلم لیگ شور شرابہ نہیں کرتی اور ہمیشہ حکومت سازی میں شمولیت کا اختیار رکھتی ہے، چاہے وہ یو ڈی ایف کے ساتھ ہو یا ایل ڈی ایف کے ساتھ۔ لیکن جس دن بی جے پی کیرالہ میں بھی کانگریس کے ووٹوں کو مذہبی بنیاد پر اپنی طرف کرنے میں کامیاب ہو جائے اور اسے ششی تھرور جیسے کسی بڑے لیڈر کا ساتھ مل جائے، اس دن سے کیرالہ میں مسلم لیگ بھی پھنس جائے گی۔

 

آسام میں کانگریس کے صرف 19 یا 20 ایم ایل اے جیتے رہے ہیں، جن میں سے 18 یا 19 وہی مسلمان ہیں جہاں پہلے اے آئی یو ڈی ایف کامیاب ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ کانگریس نے اپر آسام (زیادہ تر آسامی زبان بولنے والا علاقہ) کی تمام سیٹیں ہار دیں، بشمول پارٹی صدر، نائب صدر اور وزیر اعلیٰ کے امیدوار۔ مغربی بنگال میں بھی ٹی ایم سی اور کانگریس کی دو سیٹیں ملا کر منتخب ایم ایل ایز کی بڑی تعداد مسلمانوں کی ہی ہیں، جو حزبِ مخالف کی صفوں میں بیٹھیں گے۔ مسلمانوں کا اتحاد انہیں حزبِ مخالف کی کرسی دلا سکتا ہے، لیکن ہندوؤں کا اتحاد بی جے پی کو مضبوط حکومت دلا سکتا ہے، جیسا کہ آسام اور بنگال میں ابھی ہوا۔

 

واضح رہے ہومایوں کبیر جیسے سیاسی شعبدہ باز، جو اپنی دونوں سیٹیں جیت گئے، تاریخ کے ہر دور میں رہے ہیں، حالیہ انتخابات میں بھی تھے اور آئندہ بھی رہیں گے. اس سے نقصان تو ہوتا ہے لیکن اتنا نہیں کہ سو سو سیٹوں کا فرق ہو جائے. بہر حال کسی اہم جیت اور ہار میں کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی ہے بلکہ متعدد وجوہات جو وقت کے ساتھ یکے با دیگرے پیدا ہوتے ہیں. آج کے مغربی بنگال کے نتیجے میں بھی ایس آئی آر، انتخاب کے طریقہ کار سے لیکر بہت سارے چھوٹے بڑے وجوہات رہے ہیں.

 

اب آسام، بنگال بلکہ پورے نارتھ ایسٹ کو بی جے پی سے دوبارہ واپس لانا بہت مشکل ہوگا۔ غیر مسلم ووٹروں نے سیکولر پارٹیوں کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، اور ہندوستان میں کوئی بھی پارٹی صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے کشمیر کے علاوہ کہیں بھی حکومت سازی نہیں کر سکتی ہے، جو ایک حقیقت ہے لیکن بہت سارے مسلمان اس حقیقت پر غور ہی کرنا گوارا نہیں کرتے ہیں. ممتا بنرجی نے حکومت چلانے میں کوئی بڑی غلطی نہیں کی، لیکن بی جے پی کے چوطرفہ حملوں کے مقابلے میں وہ طاقت کے لحاظ سے کمزور پڑ گئیں۔ ٹی ایم سی کا سب سے مضبوط سیاسی ہتھیار ہندو–مسلم اتحاد تھا، جسے بی جے پی نے مختلف ذرائع سے ناکارہ بنا دیا۔ مسلمان تو ٹی ایم سی کے ساتھ تھے، لیکن ہندوؤں نے کسی نہ کسی وجہ سے بی جے پی کا ساتھ دیا۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کو ملائم سنگھ یادو، لالو پرساد یادو اور راہول گاندھی کی طرح مسلمانوں کا ہمدرد ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی، اور یہی اب تک اس کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہے۔

—————————-

Comments are closed.