صبر و شکر اور ذاتی محاسبہ کامیابی کی شاہ کلید

 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

 

یہ حقیقت ہے کہ آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہا ہے، سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر رہا ہے، آسمان پر کمندیں لگا رہا ہے، مگر باطن کی دنیا میں ایک عجیب خلا، بے چینی اور اضطراب اس کا مقدر بنتا جا رہا ہے۔ آسائشوں کی فراوانی کے باوجود دل مطمئن نہیں، چہرے مسکراہٹ سے خالی ہیں اور زندگی کی رونقیں بھی دلوں کو سکون عطا نہیں کر پا رہی ہیں۔ ہر طرف ذہنی تناؤ، ڈپریشن، بے صبری مایوسی ، احساس کمتری اور احساسِ محرومی کی ایک خاموش وبا پھیلی ہوئی ہے۔ انسان کے پاس بہت کچھ ہے، مگر وہ اس پر نظر ڈالنے کے بجائے اُس چیز کا ماتم کر رہا ہے، جو اسے حاصل نہیں ہو سکی۔ یہی ناشکری اور بے صبری رفتہ رفتہ انسان کے قلب و ذہن کو پژمردہ کر دے رہی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ آج انسان اپنی ترقی سے زیادہ دوسروں کی کامیابیوں کو دیکھ کر کڑھتا ہے۔ سوشل میڈیا اور مادّی دوڑ نے زندگی کو مقابلے کی ایسی فضا میں بدل دیا ہے، جہاں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سکون چھن گیا، قناعت ختم ہوگئی اور صبر و شکر گزاری کا جذبہ ماند پڑ گیا۔ حالانکہ اگر انسان صرف ایک لمحہ توقف کرکے اپنی زندگی پر نگاہ ڈالے تو اسے احساس ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ صحت، ایمان، اہلِ خانہ، اولاد و احفاد ،عزت، رزق اور زندگی کی ان گنت آسانیاں وہ نعمتیں ہیں، جن کا شمار ممکن نہیں۔ مگر انسان کی نگاہ اکثر ان نعمتوں پر نہیں جاتی، بلکہ وہ صرف اپنی محرومیوں کا حساب رکھتا ہے، کہ یہ نہیں ملا ،وہ نہیں ملا ، دوسرے ہم سے آگے ہیں ، ان کے پاس یہ ہے ان کے پاس وہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور پُرسکون زندگی کا راز “صبر و شکر” میں پوشیدہ ہے۔ جو نعمتیں حاصل ہیں ان پر دل سے شکر ادا کیا جائے اور جو چیزیں میسر نہیں، ان پر صبر و وناعت اختیار کیا جائے، کیونکہ نہ ملنے میں بھی یقیناً اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بندۂ مومن کا حسن یہی ہے کہ وہ حالات کے تھپیڑوں میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور نعمتوں کی فراوانی میں غرور کے بجائے شکر گزاری اختیار کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دوسروں کی زندگیوں کا حساب رکھنے کے بجائے اپنا محاسبہ کرے۔ وہ یہ سوچے کہ اسے جو کچھ ملا ہے، وہ اس کے استحقاق سے کہیں زیادہ ہے۔ جب انسان اپنی نعمتوں کا ادراک کر لیتا ہے تو دل میں قناعت پیدا ہوتی ہے، حسد و محرومی کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور زندگی ایک نئے سکون، اعتماد اور روحانی سرور سے آشنا ہو جاتی ہے۔

زیرِ نظر مضمون “صبر و شکر اور اپنا محاسبہ: کامیابی کی شاہ کلید” اسی اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے کہ حقیقی کامیابی دولت، شہرت یا ظاہری برتری میں نہیں، بلکہ مطمئن دل، شاکر مزاج اور صابر فکر میں پوشیدہ ہے۔ اگر انسان اپنے اندر شکر کا چراغ روشن کرلے، صبر کو اپنا شعار بنالے اور اپنی زندگی کا دیانت دارانہ محاسبہ کرے تو بے سکونی کی راتیں ختم ہو سکتی ہیں اور زندگی حقیقی معنوں میں کامیابی و مسرت کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

ایک صاحب دانا و بینا نے بہت صحیح لکھا ہے اور بہت مناسب تجزیہ کیا ہے کہ

"انسانی زندگی کو اگر ایک گہرے شعور اور دینی بصیرت کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ محض راحت و آسائش کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں کی ایک مسلسل کڑی ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ انسان کو کبھی خوشحالی، کبھی تنگی، کبھی کامیابی اور کبھی ناکامی کے ذریعے آزمایا جاتا ہے تاکہ اس کے ایمان، صبر اور شکر کا امتحان لیا جا سکے۔ یہی آزمائش دراصل انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کرتی ہے۔

آزمائش کا پہلا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انسان اس موقع پر اپنے رب کے ساتھ کیسا تعلق قائم رکھتا ہے۔ جب انسان پر نعمتوں کی بارش ہوتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے یا غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے؟ اور جب وہ مشکلات میں گھرتا ہے تو صبر کا دامن تھامتا ہے یا مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے؟ ایک سچا مومن وہ ہے جو ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے، خوشی میں شکر ادا کرتا ہے اور غم میں صبر اختیار کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ “بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”، اور یہی صبر انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی تک لے جاتا ہے۔

مایوسی دراصل انسان کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ جب انسان اللہ کی رحمت سے ناامید ہو جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے مقصد کو بھول بیٹھتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں مایوسی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اسے کفر کے قریب قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ ایک مومن کبھی مکمل مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی ضرور آئے گی۔

جدید دور میں مایوسی اور ڈپریشن ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ مادی ترقی کے باوجود انسان کے اندرونی سکون میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب انسان اپنی مشکلات کو صرف دنیاوی زاویے سے دیکھتا ہے اور روحانی تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو وہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے، نماز، دعا اور ذکر و شکر اور صبر و استقامت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے تو وہ اس ذہنی دباؤ سے نکل سکتا ہے۔

تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شکر اور مثبت سوچ انسان کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات بھی اس بات پر متفق ہیں کہ جو لوگ شکر گزاری کی عادت اپناتے ہیں وہ نسبتاً کم ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اس حقیقت کو بیان کر دیا تھا کہ شکر انسان کے دل کو سکون دیتا ہے اور اسے اللہ کے قریب کرتا ہے۔ اسی طرح صبر انسان کو مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی زندگی کی آزمائشیں دراصل انسان کی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ ایک مومن ان آزمائشوں کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتا ہے، شکر اور صبر کے ذریعے اپنے ایمان کو مضبوط بناتا ہے، اور مایوسی سے بچ کر امید کا چراغ روشن رکھتا ہے۔ اگر انسان مایوسی کے اندھیروں میں کھو جائے تو وہ نہ صرف اپنی دنیا بلکہ اپنی آخرت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم آزمائش کو سزا نہیں بلکہ ایک موقع سمجھیں، اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، اور ہر حال میں شکر و صبر کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی راستہ انسان کو حقیقی کامیابی اور قلبی سکون کی طرف لے جاتا ہے”۔ (جناب محمد ہارون صاحب کی تحریر سے ماخوذ و مستفاد)

دوستو!

ضرورت اس بات کی ہے کہ کہ ہم صبر و شکر اور ذاتی محاسبہ کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں، جو ملا ہے اور جتنا ملا ہے ،اس پر ہزار ہزار شکر ادا کریں، ان نعمتوں کا احساس کرتے رہیں اور جو نہیں ملا ہے اس پر صبر کریں اور یہ سمجھیں کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص حکمت و مصلحت پوشیدہ ہے ۔

پر سکون اور اطمینان بخش زندگی گزارے گا نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم)نسخہ یہ ہے کہ اسباب دنیا میں ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں اس سے شکر گزاری کا جذبہ اور شوق پیدا ہوگا اور عبادت و ریاضت، ذکر و تسبیح اذکار و تلاوت اور تقویٰ و طہارت نیز انابت و رجوع الی اللہ میں اپنے سے اوپر والے نیک اور صالح لوگوں کو دیکھیں، ان کی زندگی کو نمونہ اور مثال بنائیں، اس وقت احساس ہوگا کہ یہ اللہ والے خدا کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لئے اور رب چاہی زندگی گزارنے کے لیے کیا کیا کر رہے ہیں اور کتنا مجاہدہ کر رہیں ہیں اور ہم کس قدر خواب خرگوش میں مست ہوکر لا یعنی زندگی گزار رہے ہیں ، اس وقت احساس ہوگا کہ ہم کو بھی نیکی اور تقویٰ و طہارت اور انابت و رجوع الی اللہ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ، اسی میں زندگی اور اخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ ان حقائق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بھرپور توفیق مرحمت فرمائے آمین یا رب العالمین

Comments are closed.