حضرت مولانا محمد بشارت کریمؒ : میرا مطالعہ
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
مولانا محمد نوشاد عالم ساقی (ولادت 1968ء) بن محمود عالم (م اگست 2007ء) بن محمد سعید بن مہتاب علی بن عمر علی ساکن بیل پکونہ، ڈاکخانہ بند پورا، تھانہ کٹرا، ضلع مظفر پور درس و تدریس سے وابستہ ہیں، "دائرہ علم و ادب” کے چیئرمین ہیں، "ہمارے آنسو” ان کی اب تک کی اکلوتی مطبوعہ کتاب ہے، دوسری کتاب سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے ایک عظیم المرتبت بزرگ حضرت مولانا محمد بشارت کریم گڑھولویؒ پر انہوں نے مرتب کی ہے، جو اب پریس جانے کو تیار ہے۔
حضرت مولانا بشارت کریمؒ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے گلِ سرسبد اور بڑے صاحبِ فیض بزرگ تھے، اخفاءِ حال ہمارے بزرگوں کا طرہ امتیاز رہا ہے، اس لیے حضرت کے احوال و آثار، سوانحی حالات و واقعات زیادہ تر پردہ خفاء میں رہے، ان کے مشہور خلفاء میں پنڈت جی نور اللہ کا نام آتا ہے، وہ پاکستان چلے گئے تھے، ان کا فیض وہاں جاری ہوا، لیکن وہاں بھی جو کتابیں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ پر چھپی ہیں، ان میں حضرت مولانا بشارت کریمؒ اور ان سے متعلق بزرگوں کے تذکرے ان میں موجود نہیں ہیں، کسی میں ہے تو بہت سرسری سا ہے، ہندوستان والوں نے اس طرف توجہ نہیں دی، اس لیے تحقیقی انداز میں ان کی شخصیت کے حوالہ سے کتابی شکل میں کوئی چیز دستیاب نہیں تھی، بعد کے دنوں میں حضرت کے صاحب زادہ مولانا محمد ادریس ذکا گڑھولویؒ نے "جنۃ الانوار” مرتب کر کے شائع کی، یہ پیر و مرشد کے درمیان مکاتبت، ملفوظات، کشف و کرامت اور حضرت کے مریدین کے تاثرات اور احوال پر مشتمل ہے، لیکن باخبر حضرات کا کہنا ہے اس میں بہت ساری اغلاط موجود ہیں، جن کی تحقیق ضروری ہے، اس کتاب کے تین ایڈیشن آچکے ہیں، لیکن صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ علمی انداز میں تحقیق کر کے اسے اب تک شائع نہیں کیا جا سکا ہے، خانوادے کے افراد جن میں حضرت گڑھولویؒ کے پوتا مولانا مظہر کریمی استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، اپنی مخصوص افتادِ طبع اور تدریسی مصروفیات کی وجہ سے اس کام کے لیے وقت نہیں نکال سکے، مولانا باقی باللہ کریمی کی توجہ بھی اس طرف نہیں ہوئی، نعمان بابو بھی کسی سے یہ کام کروا سکتے تھے، لیکن پتہ ماری کا کام ہے، اس لیے اس میں کوئی ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں ہوا، ایک بڑا نام سلسلہ کے نامور عالمِ دین اور بڑے محقق مولانا اختر امام عادل کا ہے، انہوں نے سلسلے کے کئی بزرگوں پر تحقیقی کام کیا ہے، ہم لوگ ان سے بھی امید کر سکتے ہیں، یہ ان کے ذوق کا کام ہے، اگر وہ کر دیں تو سلسلہ کے فرض و قرض کی ادائیگی بھی ہو جائے گی۔
"جنۃ الانوار” کے بعد جو دوسری کتاب علمی دنیا کو ملی وہ "حیات مولانا بشارت کریم گڑھولوی” ہے، جس کو مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی نے مرتب کیا ہے، سوانحی انداز میں یہ پہلی باضابطہ کتاب ہے، اس کتاب نے حضرت کے احوال و آثار اور سلسلہ کی معلومات کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے، اس کے علاوہ مختلف کتابوں میں حضرت گڑھولویؒ کے احوال و آثار بکھرے پڑے ہیں، ان میں "درسِ حیات” قاری فخر الدین احمد گیاوی، سلسلہ کے نامور بزرگ اور میرے مربی، "مغتنمات زمانہ” حضرت مولانا شمس الہدیٰ راجوی مدظلہ کی "الاکلیل” یعنی "تذکرہ مشائخ”، مولانا اختر امام عادل کی "حیات قطب الہند” اور "تذکرہ مولانا عبد الشکور آہ ” خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں، مولانا اختر امام عادل نے "حیات قطب الہند” میں ایک باب سلسلہ گڑھول شریف پر لکھا ہے، جس کے ذریعہ بیش قیمتی معلومات اہلِ علم تک پہونچ سکے، لیکن اب بھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔
مستقل حیات پر لکھی جانے والی کتابوں میں ایک قابلِ قدر اضافہ مولانا محمد نوشاد عالم ساقی قاسمی نے کیا ہے، بعض جگہ انہوں نے "جنۃ الانوار” کے اغلاط کی بھی نشاندہی کی ہے، کتاب کا آغاز، ہند میں نقشِ بندیت – منظر، پس منظر سے کیا ہے، یہ ایک طویل مقالہ ہے جس کا مواد حوالہ کے ساتھ تاریخی کتابوں سے لیا گیا ہے، اس کے بعد حضرت مولانا بشارت کریم گڑھولویؒ سے متعلق اکابر کی آراء کے ساتھ اصل کتاب شروع ہوتی ہے، شجرہ عالیہ کے ذکر کے بعد، مسکن، تعلیمی سفر، تلاشِ مرشد، بیعت و خلافت، گڑھول شریف میں پیر و مرشد کی آمد، رتبہ بلند، استغناء و توکل، دعوت و ارشاد، صحبت یافتگان، حدیثِ مرد مؤمن، معمولاتِ یومیہ اور سفرِ آخرت جیسے اہم ذیلی عناوین کے ذیل میں حضرت گڑھولویؒ کے احوال و آثار، فیوض و برکات کا احاطہ کیا ہے اور اپنی حد تک کامیاب کوشش کی ہے۔
"جنۃ الانوار” کے اغلاط کے حوالے سے مولانا نے شروع میں ہی لکھا ہے کہ حضرت مولانا محمد ادریس ذکا گڑھولویؒ کا جو مضمون اس کتاب میں ہے، ان میں کئی ایک باتیں غلطیوں سے مملو ہیں، مثال کے طور پر انہوں نے مختلف حوالوں سے یہ بات ثابت کی ہے کہ "مدرسہ فیض عام” میں مولانا احمد حسن کانپوریؒ سے آپ کے تعلیم حاصل کرنے کی بات جو "جنۃ الانوار” میں درج ہے، حقیقی صورتِ حال معلوم کیے بغیر لکھ دی گئی ہے یعنی مبنی برحقیقت نہیں ہے، اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مولانا نوشاد لکھتے ہیں: "مولانا (محمد ادریس) حضرت گڑھولویؒ کے بیان کو من و عن اپنے ذہن میں محفوظ نہیں رکھ سکے، جس بنا پر مذکورہ روایت میں مولانا کی طرف سے "مدرسہ فیض عام” جیسی عبارتوں کا اضافہ ہو گیا، جو نا قابلِ تسلیم ہے۔
ایک اور غلطی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "جنۃ الانوار” کے صفحہ نمبر 387 پر ایک تاثراتی مضمون "کلامِ محمود” میں یہ لکھنا کہ آپ نے مکمل پچیس سال تک مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں رہ کر درسیات کی تکمیل کی، تو یہ بات حقیقت واقعہ کے بالکل خلاف ہے، اس لیے کہ قرائن و شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے کم و بیش آٹھ سال حج سے پہلے اور دو سال بعد از حج مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں رہ کر شرف تلمذ حاصل کیا۔
احقر ان اغلاط کے سلسلے میں کچھ لکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، لیکن اتنی بات تو پکی ہے کہ مولانا نوشاد صاحب نے قرائن و شواہد کی مدد سے جو باتیں کہی ہیں، ان کی مزید تحقیق کر کے بات کو مزید مدلل کی جا سکتی ہے، مولانا نے ایک کوشش کی ہے، تحقیق کے میدان میں آخری بات کوئی نہیں ہوتی، تحقیق کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو کچھ نئی باتیں بھی نکل کر سامنے آتی ہیں۔
ایک اور بات جو حضرت گڑھولویؒ کے حوالے سے بہت مشہور تھی کہ انہوں نے کسی کو خلافت نہیں دی تھی، یہ بات بھی غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا سجادہ نشیں کسی کو نہیں بنایا تھا، خلافت انہوں نے عطا فرمائی تھی، اس کا واضح ثبوت حضرت نور اللہ صاحب پنڈت جی کا وہ وصیت نامہ ہے، جس کے آغاز میں ہی انہوں نے اپنا تعارف حضرت گڑھولویؒ کے خلیفہ کی حیثیت سے کیا ہے، میں نے بذاتِ خود وہ وصیت نامہ دیکھا ہے، اس لیے بڑے اعتماد سے یہ بات لکھ رہا ہوں، اس کے علاوہ ہندوستان میں حضرت گڑھولویؒ کا جو سلسلہ پھیلا اور نامور شخصیتیں سلسلے سے وابستہ رہیں، ان کو کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے، حاجی منظور احمد مصرولیا، مولانا احمد حسین منوروا شریف، مولانا محفوظ الرحمن صاحب منوروا شریف، مولانا شمس الہدیٰ صاحب راجوی اسی سلسلے سے وابستہ رہے اور امت کی علمی و روحانی اصلاح کے لیے بڑا کام کیا ہے، یہ اور ان حضرات کے بعد دوسری صف مولانا سعید احمد صاحب سنگھاچوڑی ، ماسٹر سعید صاحب کھرما، مولانا قمر الزماں صاحب اور مولانا اختر امام عادل دامت برکاتہم کی شکل میں موجود ہیں اور جن کا فیضان عام ہونے لگا ہے، یہ حضرات سلسلے کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ حضرت کی حیات مبارکہ کے سارے ابعاد اس کتاب میں آگئے ہیں، البتہ جو کچھ درج کیا گیا ہے وہ حوالوں سے مزین ہے، تحقیقی تقاضوں کو مندرجات میں برتنے کی کوشش کی گئی ہے، میں اس اہم کتاب کی تالیف پر مولانا نوشاد عالم ساقی کو مبارکباد دیتا ہوں، حضرت کے احوال و کوائف پر مشتمل اس نئی کتاب کا استقبال کرتا ہوں اور مولانا کی صحت و عافیت کے ساتھ درازیِ عمر اور علم و تحقیق کے میدان میں مزید سرگرم ہونے کی دعا پر اپنی بات ختم کرتا ہوں، آمین یا رب العلمین، وصلی اللہ علی النبی الکریم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
Comments are closed.