اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کے بعد اقلیتی تعلیم کا نیا ڈھانچہ: مدارس، نصاب اور ریاستی کنٹرول

 

غالب شمس

اتراکھنڈ میں مدارس اور اقلیتی تعلیمی اداروں کا مستقبل اب ایک ایسی قانونی شاہراہ پر کھڑا ہے جہاں ‘اصلاحات’ اور ‘شناخت’ کے مابین تصادم ناگزیر نظر آتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے 19 اپریل 2026 کو ہری دوار میں مدرسہ بورڈ کی منسوخی اور جولائی 2026 سے ریاستی نصاب کے لازمی نفاذ کا جو اعلان کیا، وہ اقلیتی نظامِ تعلیم کی بساط پلٹنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ حکومت اگرچہ اسے نظام کی ‘جدت’ اور طلبہ کو ‘قومی دھارے’ میں شامل کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہے، لیکن مسلم دانشوروں اور اہلِ مدارس کے نزدیک یہ تعلیمی خودمختاری کو سلب کر کے ریاست کے مکمل کنٹرول کا آغاز ہے۔

ہری دوار کے اسٹیج سے وزیر اعلیٰ نے واضح کر دیا کہ جولائی 2026 کے بعد ریاست کے تعلیمی بورڈ سے انحراف کرنے والے اداروں کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

اس اعلان کو وہاں موجود ہندوتوا مذہبی رہنماؤں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی، جنہوں نے اسے مدارس کو "قومی دھارے” میں لانے کا راستہ قرار دیا۔

 

برابری’ کا دعویٰ یا کچھ اور ؟

حکومتی دعووں کے برعکس، مدارس کے ذمہ داران اس پورے عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اتراکھنڈ میں مدارس کے ذمہ دار اور سماجی کارکن توفیق الٰہی قاسمی اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے ایک "سیاسی دھوکہ” قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: "یہ دعویٰ کہ ہم مسلمانوں کو برابری کی سطح پر لانا چاہتے ہیں، ایک سیاسی دھوکہ ہے۔ اس میں قانونی پیچیدگی یہ ہے کہ جو مدرسہ نئی اتھارٹی سے منظوری لے گا، اس کے لیے لازم ہے کہ پہلے وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ‘مانیتہ’ (منظوری) حاصل کرے، پھر اتھارٹی کے پاس رجسٹر ہو۔ لیکن تضاد دیکھیے کہ ایکٹ کی دفعہ 1 (ذیلی دفعہ 4) کے مطابق، مدرسے سے جاری ہونے والا سرٹیفکیٹ ایک عام اسکول کے سرٹیفکیٹ کے متوازی یا برابر نہیں مانا جائے گا۔ اگر آپ واقعی ترقی اور برابری چاہتے ہیں، تو مدارس کی اسناد کو اسکولوں کے برابر درجہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟”

 

قانونی تضادات اور RTE ایکٹ کا معاملہ

ایک اور اہم نکتہ جو مدارس کے حلقوں میں تشویش کا باعث ہے، وہ تعلیم کے حق (RTE) کے قانون کا نفاذ ہے۔ توفیق الٰہی قاسمی کے مطابق: "حکومت مدارس کو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے الحاق کے لیے مجبور کر رہی ہے، جبکہ RTE ایکٹ 2012 کی ترمیم صاف کہتی ہے کہ مدارس اور ویدک پاٹھ شالاؤں پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ جب قانون ہی لاگو نہیں ہوتا تو اس کے تحت چلنے والا ادارہ ہمیں منظوری کا پابند کیسے بنا سکتا ہے؟”

 

نئی اتھارٹی: دینی ماہرین سے محروم ڈھانچہ

ریاستی حکومت نے ‘اقلیتی تعلیم ایکٹ 2025’ کے تحت ‘اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائناریٹی ایجوکیشن’ قائم کی ہے، جسے تمام انتظامی اور نصابی اختیارات منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اس اتھارٹی کی ترکیب پر نظر ڈالی جائے تو چیئرمین ڈاکٹر سرجیت سنگھ گاندھی سمیت نفسیات، قانون، معاشیات اور ادب کے ماہرین تو شامل ہیں، لیکن دینی علوم کے کسی عالم یا مدرسے کے تجربہ کار استاد کو جگہ نہیں دی گئی۔

مدارس کا نصاب فقہ، حدیث، تفسیر اور عربی زبان کی ایک قدیم علمی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ اس تاریخی تسلسل کو سمجھے بغیر نصاب سازی کا عمل نہ صرف ادھورا ہے بلکہ اسے مدارس کی مخصوص شناخت ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اقلیتی بہبود کے سکریٹری پراگ مادھوکر دھکاتے کا دعویٰ ہے کہ نصاب سازی میں تمام برادریوں کے ماہرین شامل ہیں، لیکن عملی طور پر مدارس کے نمائندوں کی عدم موجودگی اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔

 

مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن

یہ نیا قانونی فریم ورک ایک ایسے پس منظر میں لایا گیا ہے جب ریاست میں مدارس کے خلاف پہلے ہی سخت کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ 217 مدارس کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے "روایت rewaayat” کی رپورٹ میں ہے۔” آر ٹی آئی (RTI) کے ذریعے حاصل کردہ معلومات سے پتہ چلا کہ ان مدارس کو کسی ٹھوس قانون کے بغیر ہی بند کر دیا گیا تھا۔ اب نیا قانون لا کر ان پچھلی کارروائیوں کو قانونی چھتری فراہم کرنے اور بقیہ اداروں پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”

 

کڑی نگرانی اور تصدیقی مہم:

حکومت نے چار اضلاع (دہرادون، ہری دوار، ادھم سنگھ نگر اور نینی تال) کے میدانی علاقوں میں مدارس کے طلبہ کی "بڑے پیمانے پر تصدیق” (Verification) کا حکم دیا ہے۔ اس مہم کو حکومت ایک بڑے کریک ڈاؤن کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن مقامی مدارس کے منتظمین اسے سیاسی اسٹنٹ قرار دیتے ہیں۔ ایک مقامی عالم کے مطابق: "حکومت ان چیزوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ مسلمانوں کو ‘ٹائٹ’ کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدارس ہر سال تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ کے نام، پتے، آدھار نمبر اور موبائل نمبر کی فہرست مقامی انتظامیہ کو فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے جسے اب ایک نمائشی مہم کا ہوا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔”

اسی انتظامی و قانونی کشمکش کے درمیان، 27 اپریل 2026 کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت ملک کی مقتدر ملی تنظیموں نے اتراکھنڈ حکومت کی ‘اقلیتی تعلیمی اتھارٹی’ اور مدارس کے لازمی الحاق کو آئین ہند کی دفعہ 30 کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی اور سید سعادت اللہ حسینی جیسے قائدین نے ایک مشترکہ اعلامیے میں مدارس کے منتظمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال اس اتھارٹی سے الحاق نہ کریں، کیونکہ نصاب اور مذہبی تعلیمات پر سرکاری گرفت مدارس کی شناخت کے لیے خطرہ ہے۔ توفیق الٰہی قاسمی کے بقول، حالیہ قانون سازی مدارس کو انتظامی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب، ریاستی حکام اسے ‘شفافیت’ اور ‘جدید کاری’ کا نام دے رہے ہیں، جبکہ ملی قیادت اسے آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دے کر ہائی کورٹ اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا عزم ظاہر کر چکی ہے۔

اتراکھنڈ میں جاری یہ تبدیلیاں اس بات کی غماز ہیں کہ ریاست اب اقلیتی تعلیمی اداروں پر مکمل ریاستی کنٹرول حاصل کرنے کے درپے ہے۔ یکم جولائی 2026 سے ‘مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2016’ کا خاتمہ اس سمت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ حکومت اسے "جدت” اور "معیار” کا نام دے رہی ہے، جبکہ اقلیتی حلقے اسے اپنی تعلیمی خودمختاری اور مذہبی شناخت پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا یہ تبدیلیاں واقعی طلبہ کی ترقی کا باعث بنتی ہیں یا یہ کسی ایک خاص سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ تھیں۔

Comments are closed.