تہذیب کے علمبردار اور امن کے عالمی ٹھیکیدار کے لئے آئینہ

 

ثمامہ بن اثالؓ کی کایا پلٹ دینے والی داستان

 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

 

آج جب لوگ یہ بولتے اور لکھتے ہیں کہ آج کی مہذب دنیا میں ایسا ہے ویسا ہے، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ، فراڈ اور حقیقت کو چڑھانے والی کوئی اور بات نہیں ہے، کہاں کی تہذیب اور کہاں کی آج کی مہذب دنیا ؟ اس وقت جتنا اور جس قدر رشوت، فراڈ، دھوکہ، کرپشن، جھوٹ، مکر و فریب ، دجل، چالبازیاں،ظلم، اتیا چار، بداخلاقی ،بے رحمی اور بد تہذیبی ہے ، پہلے سے یہ چیزیں کسی طرح کم نہیں ہیں، بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ ہیں ، ہاں اس کی شکلیں اور صورتیں بدل گئی ہیں، اور اس ظلم و اتیا چار کو اچھا سا اور خوبصورت سا نام دے دیا گیا ہے،اکثر لوگ، حکومتیں اور خاص طور پر آمرانہ ذہنیت کے لوگ اور حکومتیں و کارندے اپنے جرم اور اپنی بد اخلاقی و بے رحمی کو چھپانے کے لئے اس خوبصورت جملے کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے کو مہذب دنیا کا باشی اور اپنے سے ماقبل اور پیش رو کو غیر مہذب دنیا کا رہنے والا باشی قرار دیتے ہیں اور یہ کہہ کر ہر طرح کی بد تہذیبی، بے رحمی اور غیر انسانی افعال و کردار کا مظاہرہ اور ہر طرح کے ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔

چاہیے وہ دنیا کی کوئی حکومت ہو اور کیسے حکمراں ہوں، زیادہ تر نفسانیت، آمریت ، ڈکٹیٹر، ظلم و تعدی کے شکار ہیں، مفاد پرستی اور بے رحمی ان کی زندگی کا وطیرہ اور ہر طرح کی زیادتی اور غیر اخلاقی حرکتیں وہاں موجود، اور ظلم و استہزاء اور غیر مہذب کردار و کارنامے اس قدر کہ اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

صرف ایک مثال کافی ہے کہ آج کی مہذب دنیا کہلانے والی حکومتیں اور اس کے قوانینِ کو دیکھئیے ، لکھا کچھ ہوتا ہے ، دستور میں قیدیوں کے حقوق بتائے کچھ جاتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ سلوک کچھ اور ہوتا ہے، اگر آپ سن لیں اور دیکھ لیں تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں ۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تہذیب کے علمبرداروں اور امن کے عالمی ٹھکیداروں نے قانون کی دھجیاں بکھیر رکھی ہیں،اور انسانی حقوق کو اس طرح پامال کیا ہے کہ شاید پاگل ہاتھی بھی کسی کو اس طرح نہ روندتا ہو،

امریکہ نے افغانستان اور عراق میں اور اسرائیل نے اہل فلسطین کے ساتھ جو کچھ کیا اور کر رہے ہیں اور گوانتانامو نیز ابو غریب جیلوں میں جو وحشیانہ سلوک روا رکھا گیا ، اس نے شاید درندوں کو بھی شرمندہ کر دیا ہو۔

اس کے باوجود اپنے کو مہذب قوم کہلانے کا شوق اور اسلام کو بدنام کرنے کی ایسی کوشش کہ الامان و الحفیظ

اسلام کی تصویر ایک شدت پسند اور مسلمانوں کا چہرہ ایک خون خوار کے چہرے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اور اسلام کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور انہیں اپنی حرکتوں پر افسوس بھی نہیں ہوتا۔

لیکن قربان جائیے آقا مکی و مدنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور انسانیت کا برتاؤ اور بہتر و مہذب سلوک کرکے اور اس کی تعلیم دے کر اور قانون بنا کر اور عمل کراکے دنیا کو یہ بتایا تھا کہ اس کو کہتے ہیں انسانیت، اس کہتے ہیں اخلاق کریمانہ، اس کو کہتے ہیں حسن سلوک ،اس کو کہتے ہیں تہذیب، اس کو کہتے ہیں رحم دلی، اس کو کہتے ہیں شرافت و مروت ، اس کو کہتے ہیں مہذب اور تہذیب یافتہ قوم اور امت، ۔

اسلام میں مجرموں اور بعض اوقات میں زیر تحقیق ملزموں کو قید کئے جانے کا تصور اور مثال موجود ہے ، حضرت عمر فاروق رض نے قیدیوں کے لئے جیل بنائی تھی ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کو وسعت دی، تاکہ اس کو کوئی دقت نہ ہو وہ گھر سے اور سماج کاٹ دیا گیا ہے، لیکن یہ سب اصلاح کی مہلت کے لئے اور جرم کی تحقیق کے لیے تھا ، لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام نے قیدیوں کے تمام انسانی حقوق کا پاس و لحاظ رکھا اور ان کے ساتھ تشدد ظلم و جور ناانصافی اور اپنی صفائی اور رفع الزام کے حق سے محروم رہنے کی اجازت ہرگز نہیں دی ۔

سیرت النبی اور اسوئہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی

صرف ایک مثال کافی ہے، اور وہ ہے بنو حنیفہ کے سردار حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ:

ایک ایسا قیدی جس نے بیڑیاں کھلنے کے بعد بھی

فرار ہونے سے انکار کر دیا، ایک ایسا سردار جس کی

نفرت چند لمحوں میں عشقِ رسول ﷺ میں بدل گئی

تاریخِ عالم میں ایسے واقعات کم ہی ملتے ہیں جہاں کسی جنگجو سردار کو قید کیا گیا ہو اور وہ قید خانے کی دیواروں کے پیچھے سے آزادی کا پروانہ نہیں، بلکہ ابدی زندگی کا نور لے کر نکلے۔ یہ داستان ہے یمامہ کے بے تاج بادشاہ ثمامہ بن اثال الحنفی کی، جن کا تذکرہ اسلامی تاریخ میں غیرت، خودداری اور سچی محبت کی ایک لازوال مثال ہے۔

ثمامہ بن اثال بن نعمان، بنو حنیفہ کے سربراہ اور یمامہ کے ایک بااثر حاکم تھے۔ وہ اپنے رعب و دبدبے اور اپنی قوم میں غیر معمولی مقبولیت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اسلام سے ان کی دشمنی اس قدر شدید تھی کہ انہوں نے (ایک روایت کے مطابق) نبی کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ بھی کیا تھا۔

سن 6 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے نجد کی طرف ایک مختصر فوجی دستہ (سریہ) روانہ فرمایا جس کے امیر محمد بن مسلمہؓ تھے۔ اس دستے کا مقصد علاقے کی نگرانی کرنا تھا۔ اسی دوران ان کا سامنا ثمامہ بن اثال سے ہوا، جو بھیس بدل کر سفر کر رہے تھے۔ صحابہ کرامؓ انہیں پہچان نہ سکے لیکن شک کی بنیاد پر انہیں حراست میں لے لیا اور مدینہ منورہ لے آئے۔ مدینہ پہنچ کر انہیں مسجدِ نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔

جب رحمتِ عالم ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور ستون سے بندھے قیدی کو دیکھا تو فوراً پہچان لیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: "تم جانتے ہو یہ کون ہے؟ یہ بنو حنیفہ کا سردار ثمامہ بن اثال ہے۔ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔”

ثمامہ تین دن تک مسجد نبوی میں قید رہے۔ یہ قید کوئی عام قید نہ تھی، بلکہ یہ ایک "تربیتی مشاہدہ” تھا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا:

کیسے ایک عظیم لیڈر (نبی ﷺ) اپنے غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔

کیسے صفوں میں بادشاہ اور گدا ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

قرآن کی تلاوت کی وہ آواز جس نے مسجد کی فضاؤں میں سحر طاری کر رکھا تھا۔

نبی کریم ﷺ روزانہ ثمامہ کے پاس آتے اور دریافت فرماتے

"ثمامہ! تمہارے پاس کیا (خبر) ہے

ثمامہ اپنی سردارانہ آن بان کے ساتھ جواب دیتے: "اے محمد (ﷺ)! میرے پاس خیر ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا (یعنی بدلہ لیا جائے گا)۔ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے۔ اور اگر آپ کو مال چاہیے تو جو مانگیں گے وہی ملے گا۔”

تین دن تک یہی مکالمہ دہرایا گیا۔ چوتھے دن نبی کریم ﷺ نے بغیر کسی مطالبے، بغیر کسی فدیے اور بغیر کسی شرط کے حکم دیا ثمامہ کو آزاد کر دو۔

آزادی ملتے ہی ثمامہ مسجد سے نکلے، قریب ہی ایک نخلستان میں گئے، غسل کیا اور سب کو حیران کرتے ہوئے دوبارہ مسجدِ نبوی میں داخل ہو گئے۔ اب وہ قیدی بن کر نہیں، بلکہ ایک "سائل” بن کر آئے تھے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور وہ جملے کہے جو تاریخ کا حصہ بن گئے:

"یا رسول اللہ! خدا کی قسم، پہلے آپ کا چہرہ مجھے دنیا میں سب سے برا لگتا تھا، اب سب سے پیارا لگتا ہے۔ آپ کا دین سب سے ناپسندیدہ تھا، اب سب سے محبوب ہے۔ آپ کا شہر سب سے برا لگتا تھا، اب سب سے عزیز ہے۔”

ثمامہ بن اثالؓ قبولِ اسلام کے وقت عمرے کے ارادے سے نکلے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے اور بلند آواز سے "لبیک” پکاری، تو قریش کے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے کہا: "ثمامہ! کیا تم بھی بے دین ہو گئے ہو؟”

ثمامہؓ نے گرج کر جواب دیا: "نہیں! بلکہ میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا ہوں۔ اور سنو! یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی مکہ نہیں آئے گا جب تک اللہ کے رسول ﷺ اجازت نہ دے دیں۔”

یمامہ اس وقت عرب کا "انبار” (Granary) کہلاتا تھا۔ ثمامہؓ نے مکہ کی معاشی سپلائی لائن کاٹ دی، یہاں تک کہ قریش فاقوں پر آ گئے اور انہوں نے حضور ﷺ کو واسطہ دے کر سفارش کروائی کہ سپلائی بحال کی جائے۔ یہ ثمامہؓ کی اپنے محبوب ﷺ سے وفاداری کا پہلا عملی ثبوت تھا۔

ثمامہ بن اثالؓ کی زندگی کا روشن پہلو یہ ہے کہ جب حضور ﷺ کی وفات کے بعد فتنہ ارتداد اٹھا اور خود ان کے قبیلے کے مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، تو ثمامہؓ پہاڑ کی طرح ڈٹ گئے۔ انہوں نے اپنی قوم کو جھنجھوڑا اور کہا: "لوگو! دو نبی ایک وقت میں نہیں ہو سکتے۔ محمد ﷺ سچے ہیں اور یہ (مسیلمہ) جھوٹا ہے۔” وہ مرتے دم تک اسلام پر ثابت قدم رہے اور مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ مل کر فتنوں کا مقابلہ کیا۔

ثمامہ بن اثالؓ کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ

1. اخلاق کی طاقت: جو کام تلوار نہیں کر سکتی، وہ حسنِ سلوک اور عفو و درگز سے ممکن ہے۔

2. انسانی وقار کا احترام: نبی ﷺ نے دشمن کے سردار کو اس کے مقام کے مطابق عزت دی، جس نے اس کے دل کے بند دروازے کھول دیے۔

3 تبدیلی کا عمل: اسلام محض زبان سے

اقرار نہیں، بلکہ دل کی کایا پلٹ اور عمل کی تبدیلی کا نام ہے۔

4/ اس واقعہ سے یہ سبق ملا کہ کوئی شخص جرم کا ارتکاب کرے تب بھی اس کے انسان ہونے کی حیثیت اس کی حیثیت باقی رہتی ہے ، اس کو جرم کی سزا ملے، اگر مجرم ہے تو ، لیکن وہ انسانی توقیر و احترام کے حق سے محروم نہیں ہو جاتا ۔

5/ قیدیوں کو مناسب غذا صاف پانی اور موسم کے لحاظ سے کپڑے نیز دوا و علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ان کے حفظان صحت کے لیے اسباب و وسائل فراہم کئے جائیں گے ۔

7/ بلا تفریق مذہب جملہ قیدیوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کی اجازت دی جائے ۔

ان کے اندر بہتر اخلاق و کردار پیدا کرنے کے لئے وقفہ وقفہ سے وعظ و نصیحت اور بیان کی محفل و مجلس قائم کی جائے گی، اس کے لئے مناسب لوگوں کا انتخاب کیا جائے، تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو اور آئندہ جرم و فساد سے وہ توبہ کر لے ۔ وغیرہ

( ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ صحیح بخاری کتاب: المغازی، صحیح مسلم کتاب: الجهاد والسیر سے ماخوذ ہے)

Comments are closed.