مسلمانانِ ہند اس وقت اپنی ذمے داریاں سمجھیں!
مولانا محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
دگھی،گڈا (جھارکھنڈ)
ہندوستان عام ملک کی طرح صرف ایک ملک نہیں ہے، بلکہ اس کی جغرافیائی، ثقافتی اور سماجی و تہذیبی حیثیت دوسروں سے کچھ الگ ہے۔
یہ ملک صدیوں سے مختلف تہذیبوں، زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کے حسین امتزاج کا وہ گلشن ہے، جہاں گوناگوں رنگ مل کر ایک خوبصورت تصویر بناتے ہیں۔ اس ملک کی اصل طاقت اس کی تکثیریت، رواداری، باہمی احترام اور بھائی چارہ ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ہمارے بزرگوں نے آزادی کی عمارت تعمیر کی اور جن اصولوں کو سامنے رکھ کر دستورِ ہند مرتب کیا گیا۔ آج جب معاشرے میں بے اعتمادی، نفرت، غلط فہمیوں اور تقسیم کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، تو ہر باشعور اور محبِ وطن شہری کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے، خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کی، کہ وہ اپنے کردار، حکمت، اخلاق اور مثبت طرزِ عمل کے ذریعے ملک میں محبت، امن، شانتی، پریم، اور ہم آہنگی کی فضا کو مضبوط کریں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ قومیں صرف نعروں اور ظاہری ٹیپ ٹاپ سے نہیں بنتیں، بلکہ اخلاق، کردار، خدمت اور اجتماعی ذمے داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان شور و ہنگامے کے بجائے شعور، حکمت اور تدبر کا راستہ اختیار کریں۔ حالات خواہ جیسے بھی ہوں، ایک ذمہ دار شہری کا رویہ ہمیشہ تعمیر و اصلاح کا ہوتا ہے، تخریب و انتشار کا نہیں۔ ہندوستانی مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، اس سر زمین کی تعمیر و ترقی میں ان کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے، اور مستقبل میں بھی ان کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کی سالمیت، بھائی چارے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور کرتے رہیں۔
آج سب سے زیادہ ضرورت دلوں کے فاصلے کم کرنے کی ہے۔ نفرتیں دیواریں کھڑی کرتی ہیں جبکہ محبت راستے بناتی ہے۔ مسلمانانِ ہند کو چاہیے کہ وہ اپنے بردارانِ وطن سے تعلقات کو مزید خوشگوار بنائیں، شریعت کے دائرے اور دین کے حدود میں رہ کر سماجی روابط کو اور زیادہ مضبوط کریں، اور اپنے حسنِ اخلاق سے لوگوں کے دل جیتیں۔ اسلام نے ہمیشہ عدل، رواداری، خیر خواہی اور انسانیت کا درس دیا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اگر مسلمان اپنے عمل سے سچائی، دیانت، محبت، خدمت اور شرافت کا نمونہ پیش کریں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔
آج معاشرے اور سوسائٹی میں سب سے خطرناک چیز منفی پروپیگنڈا اور نفرت انگیز ماحول ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ نے بہت سی ایسی فضا پیدا کردی ہے ،جہاں افواہیں حقیقت سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ صبر، تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کریں۔ ہر اشتعال کا جواب اشتعال سے نہیں بلکہ حکمت اور مثبت طرزِ عمل سے دیا جائے۔ اگر ہم اپنے رویے میں اعتدال پیدا کریں، دوسروں کے جذبات کا احترام کریں، اور ہر حال میں قانون اور دستور کے دائرے میں رہ کر اپنی بات کہیں تو یقیناً سماج میں اعتماد کی فضا پیدا ہوگی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک کی اکثریت انصاف پسند اور امن پسند لوگوں پر مشتمل ہے۔ عام ہندوستانی آج بھی بھائی چارہ، محبت اور امن کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے غیر مسلم بھائیوں سے ملک و ملت کی بقا اور تعمیر و ترقی کے لئے باہم گفت و شنید کریں اور ڈائلاگ اور مکالمہ کریں اور سنجیدگی سے امن و شانتی کی فضا ملک میں کیسے پیدا ہو اس کے لئے منتھن کریں، ساتھ انسانی روا داری اور بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، سماجی اور رفاہی کاموں میں مل جل کر حصہ لیں، اور یہ پیغام دیں کہ ہم سب اس ملک کے مشترکہ وارث ہیں۔ جب مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، تبھی نفرت کی دیواریں کمزور ہوں گی دوریاں نزدیکیوں میں بدلیں گی، اور آپس کی خلیج دور ہوگی۔
مسلمانوں کے لیے یہ وقت باہمی اتحاد اور داخلی اصلاح کا بھی ہے۔ مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ قومی اور سماجی مسائل پر متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم، اخلاقی تربیت، سماجی خدمت، نوجوانوں کی رہنمائی اور خواتین کی بہتر تعلیم و تربیت جیسے میدانوں میں سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ قوموں کی عزت محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، کردار اور خدمت سے بنتی ہے۔ اگر مسلمان تعلیم، تجارت، سائنس، سماجی خدمت اور قومی ترقی کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کریں گے تو ان کے بارے میں پھیلی ہوئی منفی سوچ خود بخود ختم ہوتی چلی جائے گی۔
ہندوستان کا دستور ہر شہری کو مساوی حقوق دیتا ہے۔ یہ دستور صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ہمارے قومی اتحاد کا عہد ہے۔ اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمے داری ہے۔ مسلمانانِ ہند کو چاہیے کہ وہ جمہوری قدروں پر مضبوطی سے قائم رہیں، قانون پر اعتماد رکھیں، اور ہر معاملے میں آئینی و پرامن راستہ اختیار کریں۔ یہی راستہ ملک کو مضبوط کرے گا اور یہی راستہ قوموں کو عزت دیتا ہے۔
آج ملک کو نفرت کے بجائے محبت کی ضرورت ہے، تقسیم کے بجائے اتحاد کی ضرورت ہے، اور شور کے بجائے شعور کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہندوستان سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اگر اس گھر میں محبت ہوگی تو سب محفوظ رہیں گے، اور اگر نفرت بڑھے گی تو نقصان سب کو ہوگا۔ اس لیے ہر ذمہ دار شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرے میں محبت بانٹے، لوگوں کو قریب لائے، اور نئی نسل کو انسانیت، رواداری اور قومی یکجہتی کا سبق دے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمانانِ ہند مایوسی کے بجائے امید کا چراغ جلائیں، شکایت کے بجائے خدمت کا راستہ اپنائیں، اور نفرت کے جواب میں محبت اور حسنِ اخلاق پیش کریں۔ یہی اس ملک کی خوبصورتی ہے، یہی اس کی طاقت ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو ہندوستان کو دنیا میں ممتاز بناتا ہے۔
اگر ہم سب مل کر اخلاص، حکمت اور مثبت فکر کے ساتھ آگے بڑھیں تو یقیناً ہندوستان ایک بار پھر محبت، بھائی چارے، امن اور ترقی کا روشن نمونہ بن سکتا ہے۔ یہی ہماری قومی ذمے داری ہے، یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑی خدمت ہے۔
اس وقت یقینا ہمارے اوپر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور کم ہمت اور کبیدہ خاطر نہیں رہنا چاہیے بلکہ حوصلہ اور ہمت کے ساتھ جینا چاہیے اور حالات کا مقابلہ حکمت و دانائی کے ساتھ کرتے رہنا چاہیے ، جب خطرات کے بادل منڈلا رہے ہوں تو سمجھ دار انسان سویا نہیں کرتا ، ہندوستان کے مسلمان اس وقت انہیں حالات سے دو چار ہیں ، اس لئے ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں، شعور سے کام لیں اور حکمت و دانائی سے صورت حال کا مقابلہ کریں اور کسی حال میں بھی مایوس اور کبیدہ خاطر نہ ہوں۔
یاد رکھیں کہ مسلمانوں کی کامیابی کا انحصار مشترکہ کوشش اور مشترکہ جد و جہد ، خاموش خدمت ،شرعی احکام سے واقفیت اور قوانین شرعی پر مسلسل عمل اور اس کی پیروی میں مضمر ہے ، اس لئے کامیابی کے اس راز اور کامیابی کے اس انحصار کو ہم ہمیشہ مستحضر رکھیں ۔
Comments are closed.