مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
پریس ریلیز
اے ایم یو فیکلٹی رکن پروفیسر شاد عبقری نے ایمس نئی دہلی میں آئی ایس ایچ آر کی سالانہ میٹنگ میں شرکت کی
علی گڑھ، 18 مئی: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ امراض اطفال کے پیڈیاٹرک کارڈیالوجی ڈویژن کے انچارج پروفیسر شاد عبقری نے ایمس، نئی دہلی میں گزشتہ دنوں منعقدہ انٹرنیشنل سوسائٹی فار ہارٹ ریسرچ (آئی ایس ایچ آر) کی سالانہ میٹنگ میں بطور فیکلٹی ممبر شرکت کی۔
انھوں نے ”اے ایس ڈی کلوزر“کے موضوع پر لیکچر دیا اور”ٹرانس کیتھیٹر پلمونری والو امپلانٹیشن“کے عنوان پر منعقدہ سائنسی اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ”ہندوستان میں کارڈیالوجی کا نصاب اور امتحانی طریقہ کار: تبدیلی کی سمت میں پیش رفت“ کے موضوع پر منعقدہ پینل مباحثے میں بطور پینلسٹ شرکت کی۔
کانفرنس میں ایمس اور آئی آئی ٹی جیسے ملک کے ممتاز اداروں کے سرکردہ ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر قلبی تحقیق اور مداخلتی علاج میں جدید ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی رکن کو ’ینگ اسکالر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 18 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی دینیات فیکلٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحان اختر کو تعلیم اور علمی تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ’ینگ اسکالر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ تاریخی کلا مسجد، جامعہ اسلامیہ اشاعت الاسلام، حضرت نظام الدین، نئی دہلی میں ”ترقی یافتہ ہندوستان میں مدارس کا کردار“ موضوع پر منعقدہ ایک مذاکرے اور استقبالیہ پروگرام میں پیش کیا گیا۔ تقریب میں قومی اقلیتی کمیشن کی رکن محترمہ منوری بیگم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر اختر نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کو صرف معاشی ترقی ہی نہیں بلکہ اخلاقیات، انسانی اقدار اور سماجی حساسیت کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کردار سازی اور اخلاقی تعلیم کے اہم مراکز ہیں، جہاں اب جدید مضامین، کمپیوٹر ٹریننگ اور تکنیکی تعلیم بھی شامل کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ کو سول سروسز، عدلیہ، صحافت اور تحقیق جیسے شعبوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک اور زبان، ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ میں مدارس اور علما کا تاریخی کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس کو جدید وسائل سے جوڑنے سے ان کا قومی تعمیر میں کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ پروگرام میں ملک بھر سے طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنان اور دانشوروں نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ معالجات نے عالمی یومِ ہائیپرٹنشن پر صحت کیمپ منعقد کیا
علی گڑھ، 18 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ معالجات نے عالمی یومِ ہائیپر ٹنشن کے موقع پر مفت طبی معائنہ اور ادویات کی تقسیم کا کیمپ منعقد کیا۔ یہ پروگرام میڈیکل سروس سوسائٹی، نئی دہلی کے اشتراک سے منعقد ہوا جس کا مقصد ہائی بلڈ پریشر کے بارے میں آگہی پیدا کرنا، اس کی روک تھام، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔
کیمپ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور تقریباً 100 مریضوں نے بلڈ پریشر کی جانچ، طبی مشورے اور مفت ادویات سے استفادہ کیا۔ پروگرام میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے، غذائی عادات میں بہتری لانے، باقاعدگی سے بلڈ پریشر کی نگرانی کرنے اور علاج کی پابندی پر زور دیا گیا تاکہ ہائی بلڈ پریشر سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
شعبہ معالجات کے ڈاکٹر ایس جاوید علی، ایم ڈی کے طلبہ ڈاکٹر محمد مشفق، ڈاکٹر نوید احمد، ڈاکٹر شاذیہ اسحاق اور ڈاکٹر اسرا صدیقی نے کیمپ میں خدمات انجام دیں۔ بی یو ایم ایس انٹرنز فیض عادل اور محمد فہد نے بھی مریضوں کے رجسٹریشن، جانچ اور ادویات کی تقسیم میں فعال کردار ادا کیا۔
پروفیسر بدرالدّجیٰ خان، چیئرمین شعبہ معالجات نے فیکلٹی اراکین، ایم ڈی کے طلبہ اور بی یو ایم ایس انٹرنز کی کوششوں کو سراہا اور کیمپ کی کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے میڈیکل سروس سوسائٹی کے تعاون کو بھی سراہا۔
٭٭٭٭٭٭
سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول، اے ایم یو میں ادبی ہفتہ 2026 کا اہتمام
علی گڑھ، 18 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول نے 11 تا 16 مئی ،”ادبی ہفتہ 2026“کا اہتمام کیا جس کا مقصد طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں، ابلاغی مہارت، اعتماد اور فکری نشوونما کو مختلف ادبی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے فروغ دینا تھا۔
ہفتہ بھر جاری رہنے والے اس پروگرام کا آغاز مضمون نویسی کے مقابلے سے ہوا جس کا موضوع ”طلبہ میں ذہنی صحت کا بحران“ تھا، ساتھ ہی ”جسٹ اے منٹ“ سرگرمی بھی منعقد کی گئی۔ اسکول آڈیٹوریم میں انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں تقریری مقابلے بھی ہوئے جس کا موضوع ”مثبت سوچ کی طاقت“ تھا۔ طلبہ نے ”ڈیجیٹل انڈیا: نعمت یا زحمت“ کے عنوان پر مباحثے میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، جبکہ لسانی مہارت کو بہتر بنانے کے لیے لینگویج پروفیشنسی مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔ ادبی ہفتہ کا اختتام کہانی نویسی کی سرگرمی پر ہوا۔
اختتامی تقریب میں قائم مقام پرنسپل مسٹر صباح الدین نے استقبالیہ کلمات پیش کئے۔ پروفیسر سید نوشاد احمد، سابق چیئرمین شعبہ جغرافیہ، اے ایم یو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ پروفیسر محمد اعظم خان، ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو مہمانِ اعزازی تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
مسز سعدیہ نسرین نے ادبی ہفتہ کی رپورٹ پیش کی۔ مختلف مقابلوں کے فاتحین اور رنرز اپ کو انعامات اور اسناد سے نوازا گیا، جبکہ تنظیمی کمیٹی کے اراکین کو بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں سرٹیفکیٹس دیے گئے۔ اس پروگرام کے کامیاب انعقاد کی ذمہ داری ڈاکٹر غزالہ رشید کے ساتھ مسز سعدیہ نسرین، ڈاکٹر شہزاد احمد صدیقی، مسٹر سمر اقبال، مسٹر محمد عبداللہ عثمان خان، ڈاکٹر محمد عبیرالدین، ڈاکٹر محمد معروف، کیپٹن نجف علی خان، مس ایمن فہیم، مس عظمیٰ ہاشمی اور ریان نعمت نے انجام دی۔ مسٹر سمر اقبال نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ قائم مقام نائب پرنسپل مسٹر اشہد جمال نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔ ڈاکٹر شہزاد احمد صدیقی اور دیگر اساتذہ اس موقع پر موجود تھے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی رکن نے آئی سی ایس ایس آر سے اعانت یافتہ پروگرام میں حیاتیاتی تنوع کے قانون پر خطبہ پیش کیا
علی گڑھ، 18 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لا کے شعبہ قانون کے چیئرمین پروفیسر ایم زیڈ ایم نعمانی نے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نیشنل لا یونیورسٹی، لکھنؤ میں آئی سی ایس ایس آر سے اعانت یافتہ دو ہفتہ طویل استعدادِ کار بڑھانے کے پروگرام بعنوان ”ہندوستان میں روایتی علمی نظام اور ثقافتی اظہار“کے دوران ”بایو ڈائیورسٹی قانون کے تحت رسائی اور فوائد کی تقسیم: تقابلی تناظر“ کے موضوع پر لیکچر دیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر نعمانی نے رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) کے قانونی ڈھانچے کا تقابلی اور قانونی جائزہ لیا اور ہندوستان میں حیاتیاتی تنوع پر مبنی مضبوط فکری املاک کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
پروگرام میں حیاتیاتی تنوع کے منتظمین، ماحولیاتی ماہرین، فیکلٹی اراکین اور محققین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ اردو میں کوکب قدر سجاد علی میرزا کی کتاب’واجد علی شاہ کی ادبی و ثقافتی خدمات‘ کے انگریزی ترجمے کی رسم اجرا
علی گڑھ، 18مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایک پروقار تقریب میں شعبہ کے سابق استاد ڈاکٹر کوکب قدر سجاد علی میرزا کی کتاب ”واجد علی شاہ کی ادبی و ثقافتی خدمات“ کے انگریزی ترجمہ ”واجد علی شاہ: اے لٹریری اینڈ کلچرل لیگیسی“ کا اجراء عمل میں آیا۔ پروفیسر آذرمیدخت صفوی، صدر شعبہ پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی، پروفیسر محمد علی جوہر، ڈاکٹر طلعت فاطمہ، عرفان علی میرزا، شکیل حسن شمسی، پروفیسر محمد علی جوہر، ڈاکٹر کے کے گپتا و دیگر نے کتاب کا اجراء کیا۔ مترجمہ ڈاکٹر طلعت فاطمہ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ”واجد علی شاہ کی ہشت پہلو شخصیت نے اودھ کی تہذیب و ثقافت کو جو عروج بخشا اس کی گونج آج تک سنی جا رہی ہے، انہوں نے ادبی و ثقافتی سطح پر اودھ کو زرخیز بنایا، البتہ ان کی شخصیت کو انگریزوں نے مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن میرے والد محترم ڈاکٹر کوکب قدر سجاد میرزا نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ حقائق دنیا کے سامنے رکھے اور ان کی اصل شخصیت کو پیش کیا“۔
مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو پروفیسر قمر الہدی فریدی نے کہا کہ ڈاکٹر کوکب قدر سجاد علی میرزا ایک اچھے استاد اور اسکالر تھے۔انہوں نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ واجد علی شاہ کی ادبی و ثقافتی خدمات کا احاطہ کیا ہے اورتحقیق سے ثابت کیا ہے کہ اودھ کو جو شناخت ملی ہے اس میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
مہمان خصوصی پروفیسر آذر میدخت صفوی نے کہا کہ اس ترجمے کی سخت ضرورت تھی۔ یہ کتاب جو اب انگریزی میں آگئی ہے، اس سے ہندستان اور بیرون ملک واجد علی شاہ کی شبیہ بہتر ہوگی کیونکہ انگریزی کی رسائی زیادہ ہے۔ بلا شبہ واجد علی شاہ نے ہندستانی کلچر کو فروغ دیا۔
مہمان اعزازی مسٹر ظفر عالم نے کتاب کے ترجمہ اور اس کے اجراء پر خوشی کا اظہار کیا، انہوں نے اس موقع پر کوکب قدر مرحوم کے ساتھ گزارے ایام یاد کرتے ہوئے متعدد واقعات سنائے۔
ڈاکٹر کے کے گپتا نے کہا کہ ڈاکٹر طلعت فاطمہ نے جس طرح سے یہ ترجمہ کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ واجد علی شاہ کے پڑپوتے نے یہ کتاب لکھی تھی اور اس کا ترجمہ ان کی بیٹی نے کیا ہے جس کی وجہ سے تہذیب و ثقافت پوری طرح سے ترجمے میں اتر آئی ہے۔
کوکب قدر سجاد علی میرزا کی بیٹی نزہت زہرا نے کہا کہ علی گڑھ سے ہمارے خانوادے کا تعلق بہت قدیم ہے۔والد محترم نے اس شعبے میں برسوں تک خدمات انجام دی ہیں، آج یہاں پہنچ کر جو خوشی محسوس کر رہی ہوں وہ ناقابل بیان ہے۔ عرفان علی میرزا نے بھی ڈاکٹر کوکب قدر سجاد میرزا سے متعلق متعدد واقعات کے ذریعہ ان کی شخصیت کے متعدد پہلوؤں کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہان اودھ نے ہر دور میں فنون لطیفہ کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔
معروف صحافی شکیل حسن شمسی نے کہا کہ واجد علی شاہ کو بدنام کرنے کی ایک مہم چلائی گئی۔اس وقت کے لکھنؤ کے بارہ ایسے اخبار تھے جو واجد علی شاہ کے خلاف خبریں اور مضامین چھاپتے تھے۔ڈاکٹر کوکب قدر سجاد علی میرزا نے اپنی اس کتاب میں تحقیق کے ذریعہ سچائیاں پیش کی ہیں۔
پروفیسر طارق چھتاری نے کہاکہ کوکب صاحب ہمیں عروض پڑھاتے تھے۔ انہوں نے ہمیں تقطیع سکھائی۔ ان کے ذہن و دماغ میں لکھنؤ اور اس کی صناعی رچی بسی تھی۔
دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ کوکب قدر مرزا مرحوم کی بیٹی طلعت فاطمہ نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، جس سے پوری دنیا کے قارئین اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ واجد علی شاہ ہندستانی تہذیب و ثقافت کی علامت تھے۔ اس کتاب کے ذریعہ ہندستانیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
پروفیسر محمد علی جوہر نے نظامت کرتے ہوئے کوکب قدر سجاد علی میرزا اور ان کی کتاب پر اجمالی گفتگو کی۔پروگرام کا اختتام پروفیسر سید سراج الدین اجملی کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا۔
تقریب رسم اجرا میں کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات اور شعبہ اردو کے علاوہ انگریزی، ہندی، سنسکرت، فلاسفی، لائبریری سائنس، سوشل ورک، عربی، فارسی، اقتصادیات، فزیکل ایجوکیشن وغیرہ دیگر شعبوں کے اساتذہ شریک ہوئے۔
Comments are closed.