بہار سرکار کے نوٹیفکیشن کے ذریعہ وندے ماترم کو لازمی قرار دینے پر آل انڈیا ملی کونسل، بہار کا اظہارِ تشویش
وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور سکریٹری محکمۂ عمومی انتظامیہ کو مکتوب ارسال، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے احترام کا مطالبہ
پٹنہ(پریس ریلیز)آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری محمد نافع عارفی نے بہار حکومت کے نام ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے حکومتِ بہار کے محکمۂ عمومی انتظامیہ کی جانب سے مورخہ 27 اپریل 2026 کو جاری کردہ مکتوب پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ مکتوب میں سرکاری پروگراموں اور تعلیمی اداروں میں ’’وندے ماترم‘‘، ’’جن گن من‘‘ اور بہار کے ریاستی گیت کے گائے جانے سے متعلق ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
محمد نافع عارفی نے اپنے مکتوب میں وزیر اعلیٰ بہار جناب سمراٹ چودھری ، وزیر تعلیم حکومتِ بہار اور سکریٹری محکمۂ عمومی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ ہدایات سے ’’ وندے ماترم‘‘ کے تمام چھ بند کے گائے جانے کے لازمی ہونے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے، جب کہ وزارتِ داخلہ حکومتِ ہند (MHA) کی جانب سے جاری کردہ رہنما ہدایات میں اسے لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے۔
مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی گائیڈ لائنز میں “May” اور “Desirable” جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ترغیبی اور اختیاری نوعیت کی ہدایات ہیں، نہ کہ کوئی لازمی یا تعزیری حکم۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے Mohammad Sayeed Noori Vs Union of India (Writ Petition Civil No. 341/2026) مقدمہ میں 28 مارچ 2026 کو عرضی کو قبل از وقت اور محض اندیشہ پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے بھی اپنے مشاہدہ میں کہا تھا کہ وندے ماترم کے تمام چھ بند کا گانا لازمی نہیں بل کہ اختیاری ہے کیوں کہ MHA کی گائیڈ لائنز میں ’’وندے ماترم‘‘ نہ گانے والوں کے لیے کسی سزا یا تادیبی کارروائی کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
آل انڈیا ملی کونسل بہار نے اپنے مکتوب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے الفاظ میں ’’وطن کی بندگی‘‘، ’’آرادھنا‘‘ اور ’’پوجا‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے، نیز اس کے بعض اشعار میں وطن کو درگا، لکشمی اور سرسوتی جیسی دیویوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی شرکیہ مفہوم شامل ہے۔ کونسل نے کہا کہ ملک کی تقریباً تمام معتبر مسلم دینی و سماجی تنظیموں اور عام مسلمانوں کا اس سلسلہ میں متفقہ موقف یہی ہے کہ عقیدۂ توحید اسلام کی اساس اور بنیاد ہے ، اسلام اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت، بندگی یا پرستش کی اجازت نہیں دیتا۔
محمد نافع عارفی نے کہا کہ مسلمان اپنے وطن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ملک کی خدمت اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں، لیکن مذہبی اعتبار سے بندگی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، آئینی اقدار اور مذہبی آزادی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شہری کو اس کی مذہبی وابستگی اور عقیدہ کے خلاف کسی عمل پر مجبور نہ کیا جائے۔
مکتوب میں آئینِ ہند کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی مذہبی آزادی کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے، لہٰذا حکومت کو ایسے تمام اقدامات سے احتراز کرنا چاہیے جن سے کسی طبقہ میں مذہبی دباؤ یا امتیاز کا احساس پیدا ہو۔
آل انڈیا ملی کونسل، بہار نے اپنے خطوط میں یہ بھی یاد دلایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے حکومت نے گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران بہار میں سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور سیکولر اقدار کی ایک مثبت روایت قائم رکھی ہے۔ مختلف طبقات کے درمیان باہمی اعتماد اور احترام کے فروغ میں حکومت کا کردار قابلِ قدر رہا ہے اور موجودہ وزیر اعلیٰ نے بھی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ این ڈی اے حکومت ان روایات کو آگے بھی برقرار رکھے گی۔ کونسل نے امید ظاہر کی کہ موجودہ معاملہ میں بھی حکومت تمام طبقات کے آئینی اور مذہبی حقوق کا مکمل احترام کرے گی۔
آخر میں آل انڈیا ملی کونسل، بہار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ سرکاری ہدایات میں ایسی وضاحت جاری کی جائے جس سے یہ تاثر ختم ہو کہ ’’وندے ماترم‘‘ کا گانا تمام شہریوں کے لیے لازمی ہے، اور یہ بھی صاف طور پر اعلان کیا جائے کہ صرف ’’وندے ماترم‘‘ نہ گانے کی بنیاد پر کسی طالب علم، استاد، ملازم یا شہری کے خلاف کوئی تادیبی یا امتیازی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
Comments are closed.