مدارس کے دینی علوم حاصل کرنےوالے طلبہ اور زکوٰۃ

مفتی احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نئی دہلی

اکثر مدارس اوردینی اداروں پرزکوۃ کی رقم خرچ کرنےکی بابت لوگ مختلف طرح کے سوالات اٹھاتے رہتےہیں۔اس مضمون میں ائمہ اربعہ کے نقاط نظر اورکتاب وسنت کی روشنی میں اسی کاجائزہ لینےکی کوشش کی گئی ہے۔تاکہ اسکی صحیح صورت حال سامنے آئے اورجوغلط فہمیاں پیداکرنےکی کوشش کی جاتی ہے اس کابھی ازالہ ہوسکے۔یہ بات ہرشخص جانتاہےکہ زکوۃ کے آٹھ مصارف قران نے بیان کئےہیں۔جن پرنہ تواضافہ کیاجاسکتاہے۔اورنہ ہی ان میں کسی کے لئے کمی کردینےکی گنجائش ہے۔ان میں فقراء اورمساکین کومقدم رکھاگیاہے۔لہذاجوبھی فقراء اورمساکین میں سے ہوگا۔خواہ کسی بھی وجہ سے ہو ان پراصولی طورسے زکوۃ خرچ کی جائےگی اوروہ مستحق زکوۃ ہوگا۔

اس تمہیدکےبعد آئے اس کاجائزہ لیتےہیں۔حنفیہ۔شافعیہ۔اورحنابلہ کاموقف یہ ہےکہ جب کوئی دینی علم حاصل کرنےوالاطالب علم اگرچہ کمائی کرنےپرقادرہواگراس نے طلب علم کےلئے خودفارغ کرلیاہے۔اگرچہ وہ کمائی پرقدرت کی وجہ سے مالدارہو۔اس پرزکوۃ کی رقم خرچ کی جائےگی۔کیونکہ وہ اس صورت میں مستحق زکوۃ بھی ہے۔اوراس پرزکوۃ خرچ کرنے سے زکوۃ ادابھی ہوگی۔کیونکہ وہ کمائی سے خودکوروک لینے کی وجہ سے فقیرکےدرجےمیں ہے۔

چنانچہ فقہ حنفی کی مشہورکتاب ”درمختار“میں ہے: طالب علم کےلئےزکوۃ لیناجائزہے۔اگرچہ وہ غنی ہو۔جبکہ اس نے اپنے آپ کوطلب علم کےلئے فارغ کررکھاہو۔اسلئےکہ وہ طلب علم کی مشغولیت کی وجہ سے کمائی سےعاجزہے۔اورضرورتیں اس کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔(درمختارجلد2صفحہ 340۔نہایۃ المحتاج للرملی شافعی ج۔6۔ص۔151)۔

نیز علامہ ابن عابدین نے مبسوط اورجامع الفتاوی کےحوالے سے لکھاہے:ایسے شخص کوزکوۃ دیناجائزنہیں جومالک نصاب ہو۔سوائے طالب علم ۔غازی اور سفرحج کےلئے نکلنے والےپیچھے رہ جانے والے حاجی کے۔اس لئےکہ حدیث میں ارشادرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:طالب علم کوزکوۃ دیناجائزہے۔گرچہ اس کےپاس چالیس سال کاخرچہ ہو۔یہ اس طالب علم کےلئےہے۔جوفقیرہو اگرچہ بالفعل کسب معاش پرقادرہو۔مگراس کو کسب معاش سے فارغ رکھاجائےگا۔تاکہ یکسوئی کےساتھ علم حاصل کرسکے۔(حوالہ مذکور)۔بعض اہل علم نے یہ قیدلگائی ہے کہ اس سے مراد ایسے طلبہ ہیں جن سے مسلمانوں کو دینی نفع کی امیدہو۔اسلام کی ان ضروری تعلیمات کوحاصل کرنےکاالتزام کیاہو۔جن کےذریعہ وہ فرائض اسلام کوقائم کرسکے۔(دیکھئے المفصل فی احکام المراۃ والبیت المسلم فی الشریعۃ السلامیہ ۔داکٹرعبدالکریم زیدان ج1 ۔ص۔426۔فقرہ 884)

میرے خیال میں اس استحقاق میں ایسے طلبہ نہیں آئیں گے۔جوشروع سے مدرسے کی تعلیم کےبعد عصری تعلیمی اداروں سے وابستہ ہونے۔اور معاشرے میں خالص دینی خدمات انجام دینے سے الگ تھلگ رہنے کاارادہ رکھتےہوں۔کیونکہ ان کے پیش نظر دین کی خدمت نہیں ۔بلکہ عمدہ لائف اسٹائل تک پہونچناان کےمطمح نظرہے۔اس لئے ان کو مکمل طورپر دینی طلب علم کےلئے خودکوفارغ کرنےوالانہیں کہاجائےگا۔اوراس وقت یہ رجحان بڑھ رہاہے۔۔لہذاوہ محض اس وجہ سے مستحق زکوۃ نہیں ہوگا۔ایسے طلبہ کوخود اپنے ارادے کو اہل مدارس کےسامنے واضح کرناچاہئے۔تاکہ وہ عوام کی زکوۃ صحیح مصرف متعین کرسکیں۔ فقراورمحتاجی الگ شیئی ہے۔ یہی حکم ان طالبات کے لئےہے۔ جوخود کو مدرسۃ البنات سے وابستہ ہوکر اپنے آپ کودینی علوم کے حصول کےلئے فارغ کرلیں۔ان کےلئے بھی بھی زکوۃ لینا۔اوران پر زکوۃ رقم صرف کرنا جائزودرست ہوگا۔اس لئےکہ مسلمانوں میں ایسی مسلم فقیہہ بچیوں کاوجود ضروری ہے جومسلم خواتین کے درمیان اسلامی احکامات کی نشرواشاعت کرسکیں۔خاص کر خواتین کے مخصوص مسائل سے متعلق۔اسی طرح اسلام کی طرف دعوت دینے والی داعیہ ہوں۔انھیں زکوۃ کی رقم دی جائے تاکہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنےکےلئے کسی کی محتاج نہ رہیں۔۔اسی طرح بعض عصری علوم کے طلبہ کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو فرض کفایہ کے درجے کے علوم ہیں۔جیسے خواتین کا طب یاولادت یعنی گیانوں کلوجسٹ جیسے ڈاکٹری کی تعلیم وغیرہ کےلئے خودکوفارغ کرنا۔تاکہ عام خواتین اپنےپوشیدہ امورسےمتعلق امور میں مرد ڈاکٹروں کی محتاج نہ ہوں۔ اس کی ضرورت ہے۔ اوربطورخاص مسلمانوں کوایسے میڈیکل کالج کھولنے چاہئیں اوران پر زکوۃ کی رقم صرف کرنی چاہئیے۔ اللہ تعالی صراط مستقیم اوردین کی صحیح سمجھ عطافرمائے۔ آمین

Comments are closed.