سڑکوں پر بکھرتی انسانیت، جب ہجوم عدالت بن جائے

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

09422724040

┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

 

انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب معاشروں میں قانون کی حکمرانی کمزور پڑنے لگتی ہے اور جذبات، تعصب اور افواہیں انصاف کی جگہ لینے لگتی ہیں، تو پھر سڑکیں عدالت بن جاتی ہیں، ہجوم منصف بن جاتا ہے اور انسانیت اپنے ہی وجود پر نوحہ کناں دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ دنوں بھوپال کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ بھی اسی اجتماعی زوال کی ایک دردناک تصویر ہے، جس نے نہ صرف ملک کے سنجیدہ حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ ملکی سماج کے اندر موجود خطرناک ذہنی تقسیم کو بھی بے نقاب کر دیا۔

 

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہجوم کبھی انصاف نہیں کرتا، ہجوم صرف ردِّعمل دیتا ہے۔ انصاف ہمیشہ دلیل، تحقیق اور قانون کا محتاج ہوتا ہے، جب کہ ہجوم جذبات، افواہوں اور تعصبات کے زیرِ اثر چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر مہذب ریاست میں قانون کو افراد اور گروہوں کے جذبات پر فوقیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ جب جذبات عدالت بن جائیں تو پھر سچائی سب سے پہلے قتل ہوتی ہے۔ ایک مسلم نوجوان کو چند شرپسند عناصر نے محض شبہے، تعصب اور نفرت کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ اس کے کپڑے پھاڑے گئے، اس کے چہرے پر گوبر اور سیاہی ملی گئی، اسے سڑک پر آدھا برہنہ کر کے تشدّد کا نشانہ بنایا گیا، اور اس تمام ظلم کے دوران مذہبی اشتعال انگیزی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے گئے۔ یہ منظر صرف ایک فرد پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ انسانی وقار، مذہبی آزادی اور آئینی اقدار پر براہِ راست حملہ تھا۔

 

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پورے واقعے کو سوشل میڈیا کے شور و غوغا میں دانستہ طور پر جھوٹا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ افواہوں، یکطرفہ بیانیوں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکایا گیا۔ لیکن حقیقت اس وقت سامنے آئی جب خود متاثرہ لڑکی نے پولیس کے سامنے واضح بیان دیا کہ وہ دونوں گزشتہ پانچ برسوں سے باہمی رضامندی کے ساتھ تعلق میں ہیں۔ اس اعتراف نے ان تمام جھوٹے نعروں اور پروپیگنڈوں کو زمین بوس کر دیا جن کی بنیاد پر ایک بے گناہ انسان کو ذلیل و رسوا کیا گیا تھا۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ رائے سازی، نفرت انگیزی اور ہجوم سازی کا سب سے تیز ہتھیار بن چکا ہے۔ چند سیکنڈ کی ایک جھوٹی پوسٹ ہزاروں لوگوں کے ذہنوں میں زہر گھول دیتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج تحقیق سے زیادہ "فارورڈ” پر یقین کیا جاتا ہے، اور دلیل سے زیادہ اشتعال کو پذیرائی ملتی ہے۔

 

یہ واقعہ ہمارے سماج کے ایک انتہائی خطرناک دوغلے معیار کو بھی آشکار کرتا ہے۔ اگر کوئی مسلم لڑکی کسی غیر مسلم نوجوان کو اپنا شریکِ حیات منتخب کرے تو اسے "محبت کی آزادی”، "پرسنل چوائس” اور "انفرادی حق” کا نام دے کر قانونی تحفّظ فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی غیر مسلم لڑکی کسی مسلم نوجوان سے تعلق قائم کرے تو فوراً "لو جہاد” جیسے اشتعال انگیز نعروں کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا محبت کا حق صرف ایک مخصوص طبقے کے لیے محفوظ ہے؟ کیا آئین کی روشنی سب کے لیے یکساں نہیں ہونی چاہیے؟ اور کیا گلے میں مذہبی پٹکا ڈال لینے سے کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا لائسنس مل جاتا ہے؟

 

ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، شخصی آزادی اور قانون کے مساوی تحفّظ کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 14 تمام شہریوں کے لیے برابری کی ضمانت دیتا ہے، آرٹیکل 21 عزت و وقار کے ساتھ جینے کے حق کی حفاظت کرتا ہے، جب کہ آرٹیکل 25 مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ ایسے میں کسی شخص کو اس کی مذہبی شناخت یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہجوم کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ آئینی روح کے بھی خلاف ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ جب ہجوم کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے، تو پھر سماج میں جنگل کا قانون نافذ ہونے لگتا ہے۔ آج اگر ایک نوجوان کو محض اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو کل یہی آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ نفرت کی سیاست ہمیشہ وقتی فائدہ دیتی ہے مگر اس کے اثرات نسلوں تک سماج کو تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا بھی متعدد مواقع پر ہجومی تشدّد (Mob Lynching) کو جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ قرار دے چکی ہے۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ "ہجوم کی ذہنیت قانون کی حکمرانی کے لیے ناسور ہے”۔ کیونکہ جب ریاست خاموش ہو جائے اور ہجوم طاقت بن جائے تو پھر شہری آزادی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

 

تاہم اس تمام اندھیرے میں ایک امید افزا پہلو بھی سامنے آیا۔ بھوپال کے مسلمانوں نے جذباتی ردّعمل، تشدّد یا قانون شکنی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے نہایت دانشمندی، صبر اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ علماء، سماجی کارکنان اور مقامی رہنماؤں کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے کمشنر آفس کے سامنے پُرامن احتجاج کیا۔ یہ احتجاج محض ایک مظاہرہ نہیں تھا بلکہ ایک شعوری اعلان تھا کہ مسلمان اب ظلم کے سامنے خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان تمام عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے جنہوں نے نہ صرف ایک نوجوان کی عزّت پامال کی بلکہ مذہبی منافرت پھیلا کر پورے ماحول کو آلودہ کرنے کی کوشش کی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان محض سوشل میڈیا کے وقتی غصّے تک محدود نہ رہیں بلکہ اجتماعی شعور، قانونی آگاہی اور سماجی اتحاد کو اپنی طاقت بنائیں۔ جہاں کہیں بھی ظلم، ناانصافی یا مذہبی تعصب نظر آئے، وہاں ایک باشعور شہری کی حیثیت سے آواز بلند کی جائے۔ کیونکہ خاموشی اکثر ظالم کو مزید بے خوف بنا دیتی ہے۔

 

کوئی ہجوم، کوئی تنظیم اور کوئی جذباتی نعرہ تکریم انسانیت سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ اگر آج ہم نے قانون کی بالادستی کے لیے اجتماعی طور پر آواز نہ اٹھائی تو کل انصاف صرف کتابوں میں باقی رہ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ نوجوان نسل کو نفرت کے بیانیے سے بچایا جائے۔ محبت، رواداری، مکالمہ اور آئینی شعور ہی وہ راستے ہیں جو معاشرے کو خانہ جنگی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ مذہب کبھی ظلم، تذلیل اور ہجومی تشدّد کی تعلیم نہیں دیتا۔ جو لوگ مذہب کے نام پر نفرت پھیلاتے ہیں، درحقیقت وہ مذہب کے نہیں بلکہ سیاستِ نفرت کے نمائندے ہوتے ہیں۔

 

اسلام کسی بھی انسان کی تذلیل، بہتان، یا ہجومی انتقام کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن کریم کا واضح حکم ہے: "کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف چھوڑ دینے پر آمادہ نہ کرے، انصاف کرو یہی تقویٰ سے قریب تر ہے”۔ (سورۂ المائدہ: 8)۔ یہی وہ اصول ہے جو ایک مہذب سماج اور مشتعل ہجوم کے درمیان فرق قائم کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر وہ کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔ سلطنتیں نفرت کی بنیاد پر زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں، معاشرے خوف کے سہارے مستحکم نہیں ہوتے، اور قومیں انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ آخرکار وہی آواز باقی رہتی ہے جو انسانیت، عدل اور سچائی کے حق میں بلند کی گئی ہو۔

 

آج ہمارے سامنے اصل سوال یہی ہے کہ ہم کس نوعیت کا سماج تعمیر کرنا چاہتے ہیں؛ ایک ایسا مہذب اور انصاف پسند معاشرہ جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، یا ایسا جنگل جہاں مشتعل ہجوم کمزور انسانوں کی عزّت، آزادی اور وقار کو روندتا پھرے۔ تاریخ کا اصول ہے کہ جب ظلم اپنی حدوں سے تجاوز کرتا ہے تو پھر وقت کروٹ لیتا ہے، اور مظلوموں کی آہیں ایک دن اجتماعی بیداری اور انقلاب کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ نفرت کی دیواریں بظاہر کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں، وہ آخرکار گر جاتی ہیں، جب کہ انصاف، حق اور انسانیت کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ ایسے ہی پُرآشوب حالات کی تصویر کشی کرتے ہوئے فیض احمد فیض نے کہا تھا:

 

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

Comments are closed.