کیا مسلمانوں کی عبادت ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟

 

(حافظ)افتخاراحمدقادری

ہندوستان اپنی تہذیبی گونا گونی، مذہبی رواداری اور مشترکہ ثقافت کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہندوستان کی یہی خوبصورتی اس کی اصل طاقت بھی رہی ہے کہ یہاں مسجد کی اذان اور مندر کی گھنٹی دونوں ایک ساتھ سنائی دیتی ہیں۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں گنگا جمنی تہذیب نے جنم لیا، جہاں مذہب کو نفرت کا ذریعہ بنانے کے بجائے انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کی سیاست میں ایک ایسا رجحان تیزی سے بڑھا ہے جس میں مذہبی جذبات کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے تعلق سے ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جن سے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ گویا اس ملک کے ایک بڑے طبقے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کی سیاست ہمیشہ سے قومی سیاست کا محور رہی ہے۔ جو ماحول یوپی میں بنتا ہے اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اسمبلی انتخابات قریب آتے ہیں تو یہاں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ اب جبکہ آئندہ برس یوپی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں تو ایک بار پھر مذہب اور فرقہ واریت کے سہارے سیاسی زمین تیار کرنے کی کوششیں شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حکمراں جماعت کے بعض بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انتخابی سیاست کو دو بارہ ہندو مسلم رخ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جائیں اور عوام مذہبی بحثوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا حالیہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے نماز کو سڑکوں پر ادا کرنے کے مسئلے کو جس انداز میں پیش کیا اس سے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں عوام کیلئے ہوتی ہیں اور وہاں نماز کی اجازت نہیں دی جا سکتی اگر زیادہ لوگ ہوں تو نماز شفٹوں میں ادا کی جائے۔ بظاہر یہ بات انتظامی نوعیت کی محسوس ہوتی ہے مگر کیا یہی اصول ہر مذہبی سرگرمی پر یکساں طور پر نافذ کیا جاتا ہے؟ کیا صرف نماز ہی سڑکوں پر ہوتی ہے؟ کیا کانوڑ یاترا، مذہبی جلوس، جاگرن، رام نومی کے جلوس، بھنڈارے، سیاسی ریلیاں اور دیگر تقریبات میں سڑکیں بند نہیں ہوتیں؟ اگر عوامی آمد و رفت ہی اصل مسئلہ ہے تو پھر صرف نماز کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ایسے بیانات میں توازن نظر نہیں آتا۔ حکومت اگر قانون کی بات کرے تو اسے سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ اگر سڑکوں کے استعمال کا ضابطہ بنایا جائے تو وہ ہر مذہب، ہر جماعت اور ہر تنظیم پر برابر لاگو ہونا چاہیے۔ مگر جب صرف مسلمانوں کی عبادت کو نمایاں کرکے بیان دیا جاتا ہے تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ حکومت ایک مخصوص طبقے کو عوام کے سامنے مسئلہ بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے بیان میں استعمال ہونے والا سخت لہجہ بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جب ایک منتخب وزیر اعلیٰ یہ کہے کہ اگر پیار سے مانیں گے تو ٹھیک، ورنہ حکومت دوسرا طریقہ بھی جانتی ہے تو اس سے طاقت کے استعمال کا اشارہ ملتا ہے۔ حکومت کا کام خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔ ایک جمہوری ریاست میں اختلافات کو بات چیت، افہام و تفہیم اور قانون کے منصفانہ استعمال سے حل کیا جاتا ہے دھمکی آمیز انداز سے نہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ مذہبی عبادات سے متعلق ہو تو زبان میں مزید احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ مذہبی جذبات نہایت حساس ہوتے ہیں۔ اسی طرح کابینی وزیر جئے ویر سنگھ کی جانب سے اذان کے تعلق سے دیا گیا بیان بھی غیر ضروری تنازع کا سبب بن گیا۔ اذان اسلام کا ایک بنیادی مذہبی شعار ہے۔ مسلمان صدیوں سے اذان سنتے آئے ہیں اور یہ صرف نماز کی اطلاع نہیں بلکہ روحانی دعوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی وزیر یہ کہے کہ اذان کی وجہ سے نیند متاثر ہوتی ہے ت کیا ملک میں صرف اذان ہی بلند آواز میں ہوتی ہے؟ مندروں میں ہونے والے بھجن، جاگرن، لاؤڈ اسپیکر، مذہبی تقریبات اور جلوس بھی تو رات بھر جاری رہتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی صوتی آلودگی کے مسئلے پر سنجیدہ ہے تو پھر ایک جامع پالیسی بنائے اور سب کیلئے یکساں اصول نافذ کرے۔ مگر جب صرف اذان کو موضوع بنایا جاتا ہے تو مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہونا فطری ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ان بیانات پر اعتراض سامنے آیا۔ متعدد علماء اور مذہبی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی شعائر کے تعلق سے ذمہ دارانہ زبان استعمال کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام ہمیشہ دوسرے مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے اور اسی جذبے کی توقع حکمرانوں سے بھی کی جاتی ہے۔ کئی رہنماؤں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہندوستان کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ یہاں مختلف مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اس لیے کسی بھی مذہبی علامت کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔

آخر یوگی حکومت بار بار مسلمانوں، نماز اور اذان جیسے موضوعات کو کیوں چھیڑتی ہے؟ اس سوال کا جواب سیاسی حکمت عملی میں پوشیدہ دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستان کی موجودہ سیاست میں پولرائزیشن ایک مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ جب حکومتیں معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت اور ترقی کے سوالوں میں گھرتی ہیں تو توجہ ہٹانے کیلئے مذہبی جذبات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یوپی میں بھی یہی منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ ریاست میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، نوجوان پریشان ہیں، کسان مشکلات کا شکار ہیں، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، مگر ان مسائل پر سنجیدہ بحث کم اور مذہبی تنازعات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ہندو مسلم تقسیم پیدا کرکے ووٹوں کا دھرویکرن آسان ہو جاتا ہے۔ جب اکثریتی طبقے میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ان کا مذہب خطرے میں ہے یا حکومت ان کی مذہبی شناخت کی محافظ ہے تو انتخابی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے کبھی لو جہاد، کبھی گھر واپسی، کبھی مدرسے، کبھی مساجد اور کبھی اذان جیسے موضوعات اچانک سیاسی بحث کا مرکز بن جاتے ہیں۔ مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ عوام جذباتی مسائل میں الجھ جائیں اور حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست کی بنیاد ہی سخت ہندوتوا امیج پر قائم رہی ہے۔ وہ خود ایک مذہبی مٹھ کے مہنت ہیں اور ان کی سیاسی شناخت بھی اسی نظریے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیانات اکثر ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کیلئے دیئے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک وزیر اعلیٰ کی حیثیت صرف ایک طبقے کی نمائندگی تک محدود ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ وزیر اعلیٰ پورے صوبے کا نمائندہ ہوتا ہے چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان، سکھ ہوں یا عیسائی۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ سب کو برابر کا شہری سمجھے اور سب کے مذہبی حقوق کا احترام کرے۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس حق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے نہ کہ اس پر سوال اٹھانا۔ اگر کسی جگہ انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ان کا حل قانون کے دائرے میں نکالا جا سکتا ہے، مگر اس کیلئے ایسے بیانات دینا جو ایک طبقے کو نشانہ بناتے محسوس ہوں، مناسب نہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے یہ رویہ صرف یوپی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ کبھی حجاب کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے، کبھی مساجد کے سروے کا، کبھی مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کبھی اذان پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ ان سب کے درمیان ایک عام مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگا ہے۔ اسے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس کی مذہبی شناخت ہی اس کا جرم بنا دی گئی ہے۔ یہ احساس کسی بھی جمہوری معاشرے کیلئے خطرناک ہے کیونکہ جب کسی طبقے میں محرومی اور عدم تحفظ بڑھتا ہے تو سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے اس ملک کی آزادی، ترقی، تہذیب، ادب، فن، سیاست اور معیشت میں عظیم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا یا انہیں بار بار مشکوک بنانا ناانصافی ہے۔ مسلمان اس ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور آئین نے انہیں اس کا حق دیا ہے۔ اگر وہ نماز ادا کرتے ہیں، اذان دیتے ہیں یا مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں تو یہ ان کا آئینی حق ہے بالکل اسی طرح جیسے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی اعمال کی آزادی حاصل ہے۔ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نفرت کی سیاست وقتی فایدہ تو دے سکتی ہے مگر اس کے طویل مدتی نتائج نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ جب سماج میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم پیدا کی جاتی ہے تو اس کا اثر نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ عوام کے دلوں میں بداعتمادی بڑھتی ہے، بھائی چارہ کمزور ہوتا ہے اور معاشرہ نفسیاتی طور پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں اس طرح کی سیاست آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ نوجوانوں کو روزگار ملے، کسانوں کی مشکلات دور ہوں، تعلیمی نظام بہتر ہو، صحت کی سہولیات میں اضافہ ہو اور مہنگائی پر قابو پایا جائے۔ یہی وہ مسائل ہیں جن سے عوام کی زندگی جڑی ہوئی ہے۔ مگر افسوس کہ انتخابی موسم قریب آتے ہی اصل مسائل غائب اور مذہبی بحثیں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ آج ہندوستان کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو نفرت نہیں بلکہ محبت کی زبان بولیں، جو مذہب کو سیاست کا ہتھیار نہ بنائیں بلکہ اتحاد اور بھائی چارے کا ذریعہ بنائیں۔ اگر وزیر اعلیٰ واقعی سب کے لیڈر ہیں تو انہیں اپنے بیانات میں ایسا توازن پیدا کرنا ہوگا جس سے ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔ انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ حکومت کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ سب کی ہے۔ اسی طرح کابینی وزراء کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ان کے الفاظ صرف ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ حکومت کا تاثر بن جاتے ہیں، اس لیے مذہبی معاملات میں احتیاط اور حساسیت ناگزیر ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نماز، اذان اور مسلمانوں کو بار بار سیاسی بحث کا موضوع بنانا دراصل ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ مگر ہندوستان کی اصل روح نفرت نہیں بلکہ اتحاد میں ہے۔ یہاں مسجد کی اذان اور مندر کی گھنٹی دونوں اس سرزمین کی خوبصورتی ہیں۔ اگر سیاست ان آوازوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے لگے تو نقصان پورے ملک کا ہوگا۔ ہندوستان کو نفرت نہیں بلکہ محبت، انصاف، رواداری اور آئینی برابری کی ضرورت ہے۔

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.