رسولِ رحمت ﷺ نے قیدیوں کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی کی تعلیم دی ہے اور ناقابلِ برداشت سزاؤں سے روکا ہے: غیاث احمد رشادیؔ
حیدرآباد(پریس ریلیز) مختلف مذاہب اور متعدد تہذیبوں نے قیدیوں کے ساتھ مختلف قسم کی سزائیں رائج کی ہیں اور ان بے بس قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ و جابرانہ سلوک بھی کیا ہے جو سلوک انسانیت سے عاری اور خالی ہوتا ہے، مگردرود و سلام ہو رسولِ رحمتﷺ پر کہ آپ علیہ السلام کو رب ذوالجلال نے عالموں کیلئےرحمت بنا کر بھیجا، اگر عہد ِنبوت اور مدنی معاشرہ کا گہرا مطالعہ کیا جائے توآپ کو یہ علم و احساس ہو گا کہ رسولِ رحمت ﷺ جہاں یتیموں،بیواؤں ،غلاموں ، باندیوں، بوڑ ھوں ،مسافروں، بیماروں اور مظلوموں کے حق میں رحمت تھے وہیں آپ علیہ السلام قیدیوں کے لئے بھی رحمت تھے ۔ ان خیالات کا اظہارمولانا غیاث احمد رشادیؔ نے اپنے صحافتی بیان میں اظہار کیا اور ملکی سطح پر یا عالمی سطح پر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی اور غیر اسلامی بد ترین سلوک پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے بنی قریظہ کے قیدیوں کے بارے میں اپنے صحابہٴ کرام کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:انھیں خوش اسلوبی سے اور حسنِ سلوک سے قیدکرو،انہیں آرام کا موقع دو اور انہیں کھلاؤ اور پلاؤ ۔ جن دنوں بنو قریظہ کے قیدیوں کو قید کیا گیا تھا، وہ گرمی کے ایام تھے، تپش زیادہ تھی؛ اس لیے آپ ﷺ نے بہ طور خاص دن کی گرمی اور دھوپ میں قیلولہ کے لیے مواقع فراہم کر نے کی صحابہ ٔکرام ضی اللہ عنہم کو تاکید فرمائی؛ کیوں کہ گرمی کے ایام میں قیدیوں کی گرمی کا خیال نہ رکھنا، انھیں دھوپ میں چھوڑ دینا؛ بلکہ آرام کا موقع نہ دینا بھی غیر انسانی حرکت ہے اور قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی حرکت جائز نہیں ،اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیدیوں کوا لکٹرک شاٹ لگانا، قیدیوں پر کتے چھوڑنا، قیدیوں کو سخت ٹھنڈک میں برف کی سلوں پر ڈال دینا، حدسے زیادہ مار پیٹ کرنا یا ان کی جائے رہائش میں تیز روشنی یا تیز آواز کا انتظام کر نا، شرعا درست نہیں ہے ۔یہ انسانیت کےبھی خلاف ہے اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے ،چوری، قتل وغارت گری، زنا کاری، شراب نوشی، ظلم و زیادتی اور اس طرح کے دیگر جرائم یقینا اسلام کی نظر میں بھی انتہائی برے اور قابلِ مذمت ہیں، ان کے مرتکبین سخت سے سخت سزا کے مستحق ہیں؛ لیکن شریعت نے ان کی سزاکیلئے بھی حدود متعین کیے ہیں اور ان میں اہم چیز انسانیت کا احترام ہے، ہر وہ سزا جس سے آدمیت کی توہین ہوتی ہو جائز نہیں ہے ۔مولانا رشادی ؔنے قیدیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک سے متعلق قوانین پر ازسرِنو جائزہ لینے کی اپیل کی اور کہا کہ دنیا اب کافی ترقی کرچکی ہے اور انسان قدیم زمانہ کی طرح طاقتور نہیں رہا ،اسکی قوت میں اضمحلال آچکا ہے ،ایسی صورت میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کا جائزہ لینا چاہیئے اور برداشت کی حد تک والے سلوک کو رواج دینا چاہیئے ۔
Comments are closed.