کاکروچ، نوجوان اور خوف زدہ نظام
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ — نئی نسل کا طنزیہ احتجاج یا خاموش انقلاب کی تمہید؟
از: عبدالحلیم منصور
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
ہندوستان کی موجودہ سیاسی فضا میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ محض ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ یا وقتی میم نہیں رہی، بلکہ یہ تیزی کے ساتھ ایک ایسے عوامی اور نفسیاتی احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جس نے اقتدار، عدلیہ، میڈیا اور ریاستی اداروں کے تعلق سے نوجوان نسل کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس لفظ کو تحقیر، تمسخر اور بے توقیری کے لیے استعمال کیا گیا تھا، آج وہی لفظ ایک علامت، ایک شناخت اور ایک اجتماعی مزاحمت میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے متنازعہ ریمارکس کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک اب صرف بے روزگار نوجوانوں کے ردعمل تک محدود نہیں رہی۔ اس کے دائرے میں تعلیمی بحران، امتحانی بدعنوانیاں، پیپر لیک، ادارہ جاتی عدم اعتماد، میڈیا کی غیرجانبداری، فرقہ وارانہ سیاست، عدالتی وقار، انتخابی شفافیت اور ریاستی طاقت کے استعمال جیسے کئی اہم سوالات شامل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کو محض ’’آن لائن شرارت‘‘ قرار دینا اب ممکن نہیں رہا۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکمران جماعت اور اس سے وابستہ حلقے اب اس تحریک کو ہندو مسلم زاویے سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض بیانات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس مہم کے پیچھے ’’غیر ملکی طاقتیں‘‘، ’’دشمن ممالک‘‘ یا ’’منظم سازش‘‘ کارفرما ہے۔ کچھ حلقوں نے اسے اپوزیشن جماعتوں کی خفیہ مہم قرار دیا، جبکہ کچھ نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس تحریک کو بیرونی فنڈنگ حاصل ہو رہی ہے۔
لیکن دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان الزامات کے باوجود اب تک کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ دوسری طرف یہ تحریک جن سوالات کو اٹھا رہی ہے، وہ براہِ راست عوامی زندگی سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ بے روزگاری، امتحانی دھاندلی، مہنگائی، ادارہ جاتی جانبداری، میڈیا پر کارپوریٹ اثر، نفرت انگیز سیاست، اقلیتوں کے تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے موضوعات وہ مسائل ہیں جن سے ملک کا عام آدمی روزانہ دوچار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو غیر معمولی عوامی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
اس تحریک کی مقبولیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ہی دنوں میں اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فالوورز کی تعداد حیرت انگیز رفتار سے بڑھی۔ انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد نے کئی مرحلوں پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے آفیشل اکاؤنٹس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ سیاسی مبصرین اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جس مقبولیت کے لیے روایتی سیاسی جماعتیں برسوں کی انتخابی مہم، کروڑوں روپے کے اشتہارات اور منظم آئی ٹی سیل استعمال کرتی ہیں، وہ مقبولیت اس تحریک نے محض چند دنوں میں حاصل کر لی۔
یہ محض ڈیجیٹل اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک نفسیاتی تبدیلی کا اظہار ہے۔ نوجوان نسل اب روایتی سیاسی بیانیوں سے مطمئن نہیں۔ وہ طنز، میمز، آن لائن مہمات اور علامتی احتجاج کے ذریعے اپنی بے چینی ظاہر کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ عمر رسیدہ افراد بھی سوشل میڈیا پر خود کو طنزیہ انداز میں ’’کاکروچ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگ یہ لکھتے ہوئے نظر آئے کہ ’’اگر سوال پوچھنا جرم ہے تو ہم سب کاکروچ ہیں‘‘۔
یہ دراصل ایک علامتی اعلان ہے کہ عوام اب خود کو طاقتور سیاسی و ادارہ جاتی ڈھانچوں کے مقابل ایک کمزور مگر زندہ قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کاکروچ کی علامت کو اسی لیے اپنایا جا رہا ہے کہ وہ ہر دباؤ، ہر زہر اور ہر تباہی کے باوجود زندہ رہنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نئی نسل اس استعارے کے ذریعے یہ پیغام دے رہی ہے کہ خوف، نفرت، دھمکی اور پروپیگنڈے کے باوجود سوال پوچھنے والے ختم نہیں ہوں گے۔
اس تحریک نے مختلف ریاستی اداروں اور ایجنسیوں پر حکمران جماعت کی مبینہ اجارہ داری کے سوال کو بھی شدت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ نوجوانوں کے درمیان یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ اہم ادارے اپنی غیرجانبداری کھو رہے ہیں اور سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب عدالتوں، تحقیقاتی ایجنسیوں، میڈیا اداروں اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کے فقدان کی بحث کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی جمہوری نظام میں اداروں پر اعتماد سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ جب نوجوان نسل اداروں کی غیرجانبداری پر سوال اٹھانا شروع کر دے تو یہ صرف سیاسی بحران نہیں رہتا بلکہ جمہوری ساکھ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ دراصل اسی بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا علامتی اظہار بنتی جا رہی ہے۔
تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں اور آن لائن ہراسانی نے بھی اس بحث کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق انہیں شدید ٹرولنگ، گالیوں، دھمکیوں اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود تحریک سے وابستہ نوجوان مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا مقصد صرف عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور خوف کے ماحول میں سوال پوچھنے کے حق کا دفاع کرنا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ تحریک صرف احتجاج نہیں کر رہی بلکہ مختلف عوامی مسائل پر منظم مہمات بھی چلا رہی ہے۔ نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ ہو، یا تعلیمی بدعنوانیوں اور بے روزگاری کے خلاف آن لائن مہم — ہر جگہ نوجوان پہلے سے زیادہ منظم اور نڈر دکھائی دے رہے ہیں۔
اس تحریک کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا غیر فرقہ وارانہ اور وسیع سماجی کردار ہے۔ اس کے پلیٹ فارمز پر مذہبی نفرت اور پولرائزیشن کی کھلی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اقلیتی مسلم نوجوانوں سمیت مختلف طبقات کے لوگ اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ وہ اسے صرف سیاسی احتجاج نہیں بلکہ سماجی انصاف، جمہوری آزادی اور آئینی حقوق کی آواز سمجھ رہے ہیں۔
جمہوریت میں اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔ نوجوان سوال پوچھیں، حکومت سے جواب مانگیں، عدلیہ پر تنقید کریں یا نظام کی ناکامیوں کی نشاندہی کریں، یہ سب جمہوری معاشرے کا حصہ ہے۔ اگر ہر سوال اٹھانے والے کو ’’پیراسائٹ‘‘ یا ’’کاکروچ‘‘ سمجھا جائے تو مسئلہ سوال پوچھنے والوں میں نہیں بلکہ اس ذہنیت میں ہوگا جو اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی عدالتیں، حکومت اور سیاسی قیادت نوجوانوں کے غصّے کو محض شور سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ مستقبل میں واقعی ایک منظم سیاسی جماعت بنے گی یا نہیں، مگر ایک حقیقت اب بالکل واضح ہو چکی ہے: ہندوستان کی نئی نسل اب صرف خاموش تماشائی بن کر رہنے کو تیار نہیں۔ وہ سوال پوچھ رہی ہے، احتجاج کر رہی ہے، طنز کو ہتھیار بنا رہی ہے، اور خوف کے ماحول میں بھی اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اقتدار کے لیے اصل چیلنج یہی ہے۔ کیونکہ جب عوام ایک تحقیر آمیز لفظ کو مزاحمت کی علامت میں تبدیل کر دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک بیان یا ایک جماعت کا نہیں رہا، بلکہ سماج کے اندر کوئی گہری بے چینی جنم لے چکی ہے۔
تاہم اس پورے معاملے کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا کی سیاست ہمیشہ پائیدار نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل جذبات اکثر تیزی سے ابھرتے اور اتنی ہی تیزی سے ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ چند ہفتوں بعد محض ایک انٹرنیٹ میم بن کر رہ جائے۔ لیکن اس امکان کے باوجود اس تحریک کو معمولی سمجھنا غلط ہوگا، کیونکہ اس نے ایک بڑی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے: ہندوستان کا نوجوان اب صرف خاموش تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ تحریک اس حقیقت کا اعلان ہے کہ نئی نسل اب روایتی سیاسی زبان سے مطمئن نہیں۔ وہ طنز کو ہتھیار بنا رہی ہے، میمز کو منشور میں بدل رہی ہے، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو احتجاج کی سڑک بنا رہی ہے۔ اقتدار کے لیے اصل خطرہ شاید یہی ہے، کیونکہ ایسی تحریکیں روایتی قیادت کے بغیر بھی پھیلتی ہیں اور ان کا مرکز کسی دفتر یا اسٹیج کے بجائے نوجوانوں کی اجتماعی نفسیات ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، عدلیہ اور سیاسی جماعتیں اس ابھرتی ہوئی بے چینی کو سنجیدگی سے لیں۔ نوجوانوں کے سوالات کو محض ’’ملک دشمنی‘‘، ’’سازش‘‘ یا ’’آن لائن شرارت‘‘ قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان طنز کیوں کر رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس قدر مایوس کیوں ہیں؟
اگر ایک تعلیم یافتہ نوجوان اپنے مستقبل سے ناامید ہو جائے، اگر اسے نظام پر اعتماد نہ رہے، اگر وہ خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگے، تو پھر احتجاج لازمی ہے۔ کبھی وہ سڑکوں پر ہوتا ہے، کبھی شاعری میں، کبھی نعرے میں، اور کبھی ’’جیرلے‘‘ کی علامت میں۔
یہی وجہ ہے کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو صرف ایک میم سمجھ کر نظرانداز کرنا شاید سیاسی طور پر بڑی غلطی ہوگی۔ کیونکہ کئی بار تاریخ میں مذاق کے طور پر شروع ہونے والی آوازیں ہی بعد میں سنجیدہ سیاسی حقیقتوں میں تبدیل ہوئی ہیں۔
haleemmansoor@gmail.com
Comments are closed.