بین المذاھب اتحاد کا نعرہ اور ایمانی شعور کا بحران
محمد اسجد ربانی قاسمی میواتی
ھمارے عھد کی فکری لغزشوں میں ایک یہ بھی ھے کہ بعض الفاظ اپنے مدلول سے زیادہ اپنی خوش نمائی کے باعث مقبول ھو جاتے ھیں۔ ’’اتحاد‘‘ انہی الفاظ میں سے ھے۔ لفظ ادا ھوا اور وسعت نظر رواداری روشن خیالی سب اس کے لوازم قرار پائے مگر اتحاد کی ماھیت کیا ھے۔ اس کا متعلق کیا ھے اس کی غایت کیا ھے اور اس کی حد کہاں ختم ہوتی ھے ان سوالات کو عموما اس لیے نظر انداز کیا جاتا ھے کہ اصطلاح کی دل آویزی معنی کی تنقیح پر غالب آجاتی ھے۔ حالانکہ کسی قضیہ کا حسن تعبیر اس کے حسن تصحیح کی دلیل نہیں۔ اسلام نے معاشرتی تعلقات میں عدل و احسان۔ رعایت حقوق اور حسن سلوک کی بنیاد رکھی ھے لیکن باب اعتقاد میں حق و باطل کے امتیاز کو ساقط نہیں کیا۔ معاشرت کی وحدت اور اعتقاد کی وحدت ایک نوع نہیں۔ ان دونوں کو ایک ھی مفہوم میں داخل کرنا خلط مبحث ھے۔
اسلام نے معاشرتی زندگی کیلئے ایک وسیع میدان رکھا ھے۔ عدل قسط احسان صلہ رحمی رعایت حقوق حفظِ جوار اور دفع ظلم سب اسی میدان کے اجزائے معتبر ھیں۔ مختلف مذاھب کے پیروکار ایک شھر کے باشندے ھو سکتے ھیں۔ ایک ریاست کے شھری ھو سکتے ھیں ایک اجتماعی مصیبت میں باہم دست تعاون دراز کر سکتے ھیں ایک مظلوم کیلئے صدائے احتجاج بلند کر سکتے ھیں اس تمام اشتراک سے کوئی اعتقادی تطابق لازم نہیں آتا۔ معاشرت کا جامع اعتقاد کا جامع نہیں ہوتا۔ یہاں دو دائروں کا اتصال ہے انطباق نہیں۔ قدر مشترک ھے حقیقت مشترک نہیں۔ جب جزوی اشتراک سے کلی اتحاد کا حکم اخذ کیا جائے تو مناطقہ کی زبان میں یہ تعدیہ حکم از قدر مشترک بہ ماورائے قدر مشترک ھے اور فلاسفہ کی زبان میں عرض کو جوھر کا قائم مقام بنانے کی کوشش۔ مسلمان اور غیر مسلم کا انسان ہونا ایک حقیقت ھے ان کا ایک ھی عقیدے پر ہونا دوسری حقیقت۔ پہلی کو ثابت کرکے دوسری پر استدلال کرنا ایسا ھے جیسے سایے کے وجود سے صاحب سایہ کی ماھیت متعین کی جائے۔
بین المذاھب اتحاد کی موجودہ تعبیر میں اصل خلل شاید یہاں پیدا ہوتا ھے کہ ’’اختلاف‘‘ کو بہ ذات خود منفی قدر سمجھ لیا گیا ھے۔ حالانکہ ھر اختلاف قابل رفع نہیں ہوتا اور ھر وحدت مطلوب نہیں ہوتی۔ حقائق متباینہ کو اجتماعی مصلحت کے اقتضا پر ایک ھی حقیقت قرار دینا وحدت موھوم پیدا کرتا ھے ایسی وحدت جس کا وجود الفاظ میں ھو اور جس کی ماھیت تحلیل کی میز پر پہنچتے ھی منتشر ہو جائے۔ دو مذاھب ایک سیاسی مصلحت میں متفق ھو سکتے ھیں اس سے ان کے تصورات خدا۔ رسالت وحی اور آخرت ایک نہیں ھو جاتے۔ دو قومیں ایک ظلم کے خلاف جمع ہو سکتی ھیں اس سے ان کے مابین فلسفہ حیات کی یکسانی لازم نہیں آتی۔ اتفاق غایت اتحاد مبدا نہیں ہوتا۔ اجتماع مساعی اجتماع حقائق نہیں ھوتا۔ یہ فرق جس قدر معمولی سمجھا جائے گا فکری مغالطہ اسی قدر مہذب لباس میں گردش کرتا رھے گا۔
قریب کے دھرنوں مظاھروں اور احتجاجی اجتماعات نے اس نظری خلط کو تجربہ کی زمین بھی فراہم کردی ھے۔ اجتماع اپنی نفسیات رکھتا ھے۔ مجمع فرد کے تحفظات کو تحلیل کرتا شعار کو نسبت بناتا اور نسبت کو بسا اوقات اعتقاد کا رنگ دے دیتا ھے۔ ابتدا میں مقصد مشترک ہوتا ھے پھر نعرہ مشترک ہوتا ھے پھر مظاھر اجتماع مشترک ہوتے ہیں اور دیکھتے ھی دیکھتے اشتراک موقف اشتراک تشخص کا وھم پیدا کرنے لگتا ھے۔ یہی وہ باریک درز ھے جہاں سے فکری مداھنت داخل ہوتی ھے۔ احتجاج کی حرارت اپنی جگہ مظلوم کی اعانت اپنی جگہ اجتماعی مصلحت اپنی جگہ لیکن کسی غایت کی اھمیت اس کے تمام لوازم کو مقدس نہیں بنا دیتی۔ شرف غایت صحت وسیلہ کی علت نہیں۔ اگر مقصد کی عظمت سے وسیلے کی ھر صورت مستحسن قرار پانے لگے تو پھر اصول مصلحت کے تابع اور مصلحت اصول کی شارح بن جاتی ھے۔ یہی ترتیب الٹ جائے تو چند وقتی مصلحتیں رفتہ رفتہ مستقل ذھنی مسلمات کی صورت اختیار کر لیتی ھیں۔
ایمانی غیرت کا اصل جوھر اشتعال نہیں قوت تمییز ھے۔ یہ وہ باطنی میزان ھے جو ایک ھی منظر میں اخلاقی قدر اور اعتقادی قدر کا فرق دکھاتی ھے۔ مظلوم کی دست گیری اخلاقی حقیقت ھے اس کے عقیدے کی تصدیق اعتقادی دعوی۔ ھم وطن سے حسن سلوک معاشرتی شرافت ھے اس کے مذھبی تصور کو حق کا درجہ دینا الگ قضیہ۔ اجتماعی تعاون مصلحت مشترکہ کا نتیجہ ھو سکتا ھے مذھبی موافقت کیلئے اس سے استدلال کرنا لزوم ما لا یلزم ھے۔ یہاں اصل ضرورت یہی ھے کہ مختلف ابواب کو ان کے اپنے محال میں رکھا جائے۔ اخلاق کو عقیدے کا قائم مقام سیاست کو مذھب کا ترجمان اور معاشرت کو اعتقاد کا میزان بنا دیا جائے تو پھر دینی تشخص کا باقی رھنا محض لفظی دعوی رہ جاتا ھے۔ ایمان کی حفاظت صرف یہ نہیں کہ آدمی اپنے عقائد کے نام یاد رکھے ایمان یہ بھی چاھتا ھے کہ مراتب حقائق اس کی نگاہ میں مرات الفاظ کی طرح واضح رھیں۔
فکری انحراف کی رفتار بھی عجیب ہوتی ھے وہ اپنے آخری نتائج کے ساتھ دروازے پر دستک نہیں دیتا۔ پہلے اصطلاح آتی ھے پھر اس کے مدلول میں معمولی سی کشادگی پیدا ہوتی ھے پھر اس کشادگی کو حسن نیت کی سند ملتی ھے بعدہ مصلحت اس کی پشت پناہ بنتی ھے آخرکار وھی چیز جس پر ابتدا میں سوال اٹھتا تھا نئی ذھنیت میں مسلمات کا لباس پہن لیتی ھے۔ فکر کی سرحدیں ایک دم منہدم نہیں ہوتیں پہلے ان پر دروازے بنائے جاتے ھیں۔ آج اعتقادی امتیاز اجتماعی اتحاد کی راہ میں غیر ضروری دیوار معلوم ہوگا کل مذھبی تشخص خود تقسیم کی علت قرار پائے گا اور پرسوں حق و باطل کا امتیاز انسانی وحدت کے خلاف ایک قدیم تعصب دکھائی دے گا۔ یہ سب احتمالی قیاس نہیں ھیں افکار کی تاریخ میں تصورات اسی تدریجی استحالہ سے اپنی پہلی صورت کھو کر دوسری صورت اختیار کرتے رھے ھیں ۔ اس لیے اھل بصیرت کی نگاہ صرف انجام پر نہیں ہوتی وہ مقدمات کے مزاج کو بھی پڑھتی ھے۔
اصل ضرورت ’’اتحاد‘‘ کے لفظ کو بلند کرنے کی نہیں ھے۔ اس کے مناط مدلول اور حدود انطباق متعین کرنے کی ھے۔ مسلمانوں کے باھمی اختلافات سمٹیں۔ ان کی اجتماعی قوت مجتمع ھو مظلوم کی اعانت میں ان کے قدم آگے بڑھیں غیر مسلموں کے ساتھ عدل و احسان کا معاملہ ھو مشترک انسانی مصالح میں تعاون ھو یہ سب اپنے اپنے محل میں قابل قدر حقائق ھیں۔ لیکن ان حقائق کی عمارت کیلئے وحدت ادیان کا کوئی مصنوعی ستون کیوں نصب کیا جائے۔ اشتراک عمل کیلئے اشتراک اعتقاد کی علت تراشنا تحصیل حاصل بھی ھے خلط مقامات بھی۔ اسلام انسان کو خیر خواھی دیتا ہے مگر اس کے ساتھ حق شناسی اور رواداری بھی دیتا ھے اسی طرح تمییز حق و باطل بھی۔ معاشرت کا سلیقہ دیتا ھے ساتھ میں اعتقاد کی نگہبانی بھی۔ فلھذا اتحاد اگر تالیف قلوب ھے تو اسے اھل اسلام کے درمیان مضبوط کیجیے۔ تعاون مصالح ھے تو اسے اس کے دائرے میں رکھئے۔ بقائے باھمی ھے تو اسے معاشرت کا عنوان دیجیے اسے اس مقام تک نہ پہنچائیے جہاں وحدت کے اثبات کیلئے اختلاف حقائق ھی کو معدوم فرض کرنا پڑے۔ ایسی وحدت اجتماع انسانوں کا پیکر ضرور بنا سکتی ھے اجتماع حقائق کا وجود اس سے برآمد نہیں ہوتا۔
(دوسری قسط)
پہلی قسط میں یہ واضح کیا جاچکا کہ معاشرتی اشتراک اور اعتقادی اتحاد دو متباین ابواب ھیں۔ اب سوال یہ ھے کہ جب دونوں کا محل جدا ھے تو ان کے اختلاط کا موجب کیا ھے۔ غور کیا جائے تو اس کا منبع عموما ایک ذھنی تسامح ھوتا ھے: انسان اپنے کسی جزوی وصف کو کلی حیثیت دے دیتا ھے اور پھر اس کلیت سے ایسے لوازم اخذ کرتا ھے جو اس کے مقدمہ میں سرے سے موجود ھی نہیں ھوتے۔ انسانیت مشترک ھوئی تو تصور حیات بھی مشترک مان لیا گیا۔ ایک ملک کی شہریت مشترک ھوئی تو تھذیبی و اعتقادی میزان بھی مشترک سمجھ لیا گیا اور کسی اجتماعی مقصد میں تعاون واقع ھوا تو اس تعاون کو نظری ھم آھنگی کا مظھر قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ اشتراک وصف اشتراک حقیقت کی علت نہیں۔
یہاں ’’انسانی وحدت‘‘ کی تعبیر بھی اسی تنقیح کی محتاج ھے۔ اگر اس سے مراد نوع انسانی کی وحدت انسانی حرمت اور بنیادی حقوق کی رعایت ھے تو یہ ایک معقول اور متین معنی ھے لیکن اگر اسی لفظ کو اس معنی میں برتا جائے کہ تمام مذھبی تصورات حقیقت کے اعتبار سے یکساں اور متساوی ھیں تو یہاں مقدمہ بدل گیا۔ ایک ھی لفظ نے دو مختلف قضیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ پہلی وحدت اخلاقی و معاشرتی ھے دوسری اعتقادی و مابعد الطبیعی۔ اول سے ثانی کا اثبات منطقی انتقال نہیں۔ بلکہ انتقال محل ھے۔ یہی وہ مقام ھے جہاں حسن تعبیر صحت استدلال کا قائم مقام بن جاتا ھے۔
اسی طرح ’’مذاھب میں مشترک قدریں‘‘ کا قضیہ بھی اپنی تحدید چاہتا ھے۔ عدل رحم صدق انسانی خیر خواھی اور ظلم سے نفرت جیسی قدریں متعدد مذاھب میں کسی نہ کسی صورت موجود ھو سکتی ھیں لیکن قدر مشترک کا وجود اس امر کی دلیل نہیں کہ ان اقدار کا منبع۔ مفہوم اور غایت بھی یکساں ھے۔ ایک ھی لفظ مختلف نظام ھائے فکر میں مختلف مقدمات سے پیدا ھوسکتا ھے۔ چنانچہ قدر مشترک کو علت مشترک قرار دینا قیاس کی وہ صورت ھے جس میں اشتراک محمول سے اشتراک موضوع کا وھم پیدا ھوتا ھے۔ لفظ ایک۔ مفہوم جدا۔ حکم مشترک مبادی مختلف۔ اس فرق کو نظر انداز کرنا فلسفیانہ سہل انگاری ھے۔
یہاں سے ایک نہایت باریک مسئلہ پیدا ہوتا ھے: کیا کسی شخص کے مذھبی عقیدے کو حق سمجھنا لازما اس کے ساتھ معاشرتی سختی کا موجب ھے۔ ہرگز نہیں۔ یہ خلط بھی اسی سلسلے کی دوسری انتہا ھے۔ حق و باطل میں امتیاز۔ انسانوں کے درمیان عدل کے سقوط کو مستلزم نہیں۔ بلکہ اگر حق کا شعور عدل سے محروم کردے تو وہ شعور اپنی اخلاقی تکمیل سے محروم ھے۔ اسلام نے اعتقادی امتیاز کو معاشرتی ظلم کا جواز نہیں بنایا۔ لھذا دو امور کو جمع رکھنا ھوگا: عقیدے میں وضوح اور معاملے میں عدل۔ جو شخص ان دونوں کو متناقض سمجھتا ھے وہ دراصل اپنے ھی مقدمات میں تناقض پیدا کرتا ھے۔
اس کے برعکس دوسری جانب یہ مغالطہ پیدا ھوا کہ چونکہ عدل سب کیلئے ھے اس لیے حق بھی سب کیلئے یکساں قرار پانا چاھیے۔ یہاں پھر حکم کے متعلق کو بدل دیا گیا۔ عدل کا متعلق معاملہ ھے اور حق کا متعلق اعتقاد معاملہ اور اعتقاد ایک ھی مقولہ نہیں۔ ایک کے باب میں مساوات مطلوب ھوسکتی ھے اور دوسرے میں تمییز عین مطلوب۔ چنانچہ غیر مسلم کے شھری حق کی حفاظت اور اس کے مذھبی تصور سے اختلاف بیک وقت ممکن ھے یہی فکری توازن ھے کہ شخص کے حق کو اس کے عقیدے کے ساتھ خلط نہ کیا جائے اور عقیدے کی صحت کو شخصی احترام کے ساتھ خلط نہ کیا جائے۔
سیاسی میدان میں اس خلط کے نتائج اور بھی نمایاں ھوتے ھیں۔ سیاست کا مزاج اجتماع پر قائم ھے اور اجتماع کیلئے کسی قدر مشترک کی ضرورت ہوتی ھے لیکن قدر مشترک جتنی محدود اور متعین ھو اتنا ھی اجتماع صحت مند رھتا ھے۔ اگر ایک انتخابی مصلحت کیلئے اتحاد ھوا تو اس اتحاد کی علت وھی انتخابی مصلحت ھے اگر کسی ظلم کے خلاف اشتراک ھوا تو علت دفع ظلم ھے اسی طرح کسی انسانی ضرورت کیلئے تعاون ھوا تو علت وہ ضرورت ھے۔ اس علت کو بڑھا کر مذھبی ھم آھنگی کا نتیجہ اخذ کرنا منطقی زیادتی ھے۔ اشتراک عمل کی وسعت کو اشتراک فکر کی وسعت سمجھ لینا سیاسی مصلحت کو فلسفیانہ حقیقت بنانے کے مترادف ھے۔
اور یہی وہ مقام ھے جہاں ’’بین المذاھب اتحاد‘‘ ایک سیاسی شعار سے بڑھ کر فکری اصطلاح بننے لگتا ھے۔ شعار کی حیثیت میں اس کا مفھوم ھر شخص اپنے قرینے سے لیتا ھے مگر جب اسی شعار سے اعتقادی نتائج اخذ ھونے لگیں تو تعریف۔ تحدید اور لوازم کا سوال ناگزیر ھوجاتا ھے۔ اصطلاح کا حکم اس کے لوازم سے پہچانا جاتا ھے صرف اس کے حسن صوت سے نہیں۔ اگر اتحاد سے مراد باھمی امن۔ عدل اور تعاون ھے تو اس کیلئے کسی مذھبی تطابق کا تصور غیر ضروری ھے اور اگر اس سے مراد اعتقادی تقارب یا مذاھب کی حقیقتا یکسانی ھے تو پھر اسے محض انسانی خیر خواھی کے الفاظ میں چھپانا علمی دیانت کے خلاف ھے۔ ابہام کبھی کبھی حسن نیت کا لباس پہن لیتا ھے مگر لباس حقیقت نہیں بدلتا۔
فکری انحراف کی ایک خاصیت یہ بھی ھے کہ وہ اپنے مقدمات کو کبھی آخری نتائج کی صورت میں پیش نہیں کرتا۔ ابتدا میں صرف اتنا کہا جاتا ھے کہ سب انسان برابر ھیں پھر کہا جاتا ھے کہ تمام مذاھب کا احترام ضروری ھے پھر احترام سے مساوات لازم کی جاتی ھے پھر مساوات سے حقانیت کا تصور اخذ ہوتا ھے اور آخرکار حق و باطل کا امتیاز خود تعصب کا عنوان بن جاتا ھے۔ ھر منزل سابقہ منزل سے بہ ظاھر معمولی فرق رکھتی ھے مگر مجموعی حرکت ایک بڑے فکری انتقال کی صورت اختیار کرلیتی ھے۔ اھل بصیرت اسی لیے فقط الفاظ نہیں سنتے ان کے لوازم بھی دیکھتے ھیں۔ مقدمہ اگر اپنے اندر کسی نتیجے کا بیج رکھتا ھے تو اس نتیجے کے ظاہر ھونے سے پہلے ھی اس بیج کی شناخت ضروری ھے۔
یہاں مسلمانوں کیلئے سب سے اھم چیز جذباتی دفاع نہیں۔ اصولی وضوح ھے۔ اپنے عقیدے کو حق سمجھنا کسی دوسرے کے ساتھ ظلم کی اجازت نہیں دیتا اور دوسرے کے ساتھ عدل کرنا اپنے عقیدے سے دست برداری نہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد اس وقت بنتی ھیں جب ذھن میں حق اور عدل کے مراتب خلط ھوجائیں۔ ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ مسلمان ھر اختلاف کو دشمنی بنائے۔ ایمان کا تقاضا یہ ھے کہ اختلاف کو اختلاف کی حیثیت سے پہچانے اور تعلق کو تعلق کی حیثیت سے۔ جس معاشرے میں یہ تمییز باقی رھتی ھے وھاں اختلاف فساد نہیں بنتا اور اتحاد مداھنت نہیں بنتا۔
فلھذا آج اصل ضرورت بین المذاھب اتحاد کے نعروں میں اضافہ نہیں بلکہ مفاھیم کی تنقیح ھے۔ مسلمانوں کو اپنے باھمی نزاعات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی قوت پیدا کرنی چاھیے۔ غیر مسلموں کے ساتھ عدل و احسان اور حسن معاشرت کو قائم رکھنا چاھئے۔ مشترک انسانی مصالح میں تعاون کرنا چاھئے مگر اس سب کیلئے اعتقادی حدود کو مبھم کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ حقیقت کی وحدت، مصلحت کے اشتراک سے پیدا نہیں ھوتی اور اعتقاد کی حفاظت معاشرتی۔ حسن سلوک کی نفی نہیں کرتی۔ فکری بلوغ یہی ھے کہ جہاں اشتراک ھے وھاں اشتراک کا اقرار ھو اور جہاں امتیاز ھے وھاں امتیاز کا تحفظ۔ نہ ھر اختلاف دیوار ھے نہ ھر اتحاد فضیلت۔ اصل فضیلت یہ ھے کہ ھر چیز کو اس کے محل میں رکھا جائے یہی عدل کا فکری مفہوم اور یہی ایمانی شعور کی پہلی علامت ھے۔
Comments are closed.