محدث،فقیہ،مربی و صاحبِ قلم حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ — ایک علمی و دینی عہد کا اختتام

 

 

(یومِ وفات: یکم ستمبر 2020ء13 محرم الحرام 1442ھ)

 

عبدالخالق قاسمی

مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور

 

ملک ہندوستان کی علمی و دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی کسی ایک ادارے،کسی ایک منصب یا کسی ایک میدان تک محدود نہیں رہتی،بلکہ وہ اپنی علمی بصیرت،دینی خدمات،تدریسی جدوجہد،فقہی رہنمائی اور اصلاحی فکر کے ذریعے ایک پورے خطے کو متاثر کرتی ہیں۔حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری رحمۃ اللہ علیہ بھی ایسی ہی بافیض اور ہمہ جہت شخصیت تھے،جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم دین کی خدمت،تدریس و تربیت،فقہ و شریعت کی رہنمائی اور ملت کی اصلاح میں صرف کردی۔

 

(ولادت اور ابتدائی تعلیم)

 

حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ کی ولادت 1937ء میں مادھوپور، ڈاکخانہ انگواں، وایا ججوارہ، ضلع مظفرپور، بہار میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد جناب معین الحق بن محمد ابراہیم بن فخرالدین بن لعل محمد تھے۔ ایک دینی گھرانے میں پرورش پانے والے مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن سے متصل مدرسہ تعلیم القرآن انگواں میں حاصل کی، جہاں آپ کے ابتدائی اساتذہ میں مولانا وارث صاحبؒ اور مولانا ایوب صاحبؒ شامل تھے۔

 

ابتدائی تعلیم کے بعد علمی تشنگی بجھانے کے لیے آپ نے مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ، دربھنگہ کا رخ کیا۔ یہاں آپ نے حضرت مولانا عبدالجبار صاحب مونگیریؒ اور حضرت مولانا مقبول احمد خان صاحب جیسے اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد مدرسہ امدادیہ لہیریا سرائے، دربھنگہ میں تعلیم حاصل کی، جہاں حضرت مولانا ریاض احمد صاحب چمپارنیؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحبؒ، حضرت مولانا محی الدین صاحبؒ اور حضرت مفتی عبدالحفیظ صاحب سیدھولیؒ جیسے جید اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔

 

(دارالعلوم دیوبند سے علمی نسبت)

 

آپ کی علمی زندگی کا ایک روشن باب دارالعلوم دیوبند میں گزرا، جہاں آپ نے اکابر علماء سے علمی استفادہ کیا اور 1957ء میں عالمیت و فضیلت سے فراغت حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ کو حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ،حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ،حضرت مولانا اعزاز علیؒ اور حضرت مولانا شیخ فخرالدین مرادآبادیؒ جیسے بلند پایہ اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا۔ان اکابر کی علمی و فکری تربیت نے مولانا کی شخصیت کو گہرائی اور وسعت عطا کی،جس کے اثرات ان کی پوری زندگی اور علمی خدمات میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

 

(تدریس و تعلیم کا طویل سفر)

 

فراغت کے بعد مولانا نے عملی میدان میں قدم رکھا اور تدریس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ابتدا میں مدرسہ امدادیہ لہیریا سرائے،دربھنگہ میں ایک سال تدریسی خدمات انجام دیں، اس کے بعد تقریباً 46 سال تک مدرسہ رحمانیہ سوپول بیرول دربھنگہ سے وابستہ رہے۔

تقریباً نصف صدی پر محیط تدریسی زندگی میں بے شمار طلبہ نے آپ سے علم حاصل کیا اور آپ کی علمی و تربیتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔ آپ محض کتاب پڑھانے والے استاد نہیں تھے بلکہ طلبہ کی علمی،اخلاقی اور عملی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ کی مجلس میں علم کے ساتھ اخلاص، تقویٰ، سادگی اور عمل کی تلقین بھی ہوتی تھی۔

 

(ملی و فقہی خدمات)

 

حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ کو اللہ تعالیٰ نے فقہ و شریعت کے مسائل میں خاص بصیرت عطا فرمائی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اہم دینی و ملی اداروں نے آپ کی علمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔

آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن رہے۔ اسی طرح امارت شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ کی مجلس عاملہ و شوریٰ کے رکن اور قاضی شریعت کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔آپ اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی کے بھی رکن رہے۔ ان ذمہ داریوں کے ذریعے آپ نے مسلمانوں کے عائلی، معاشرتی اور شرعی مسائل کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔

 

اپنے علاقے میں آپ مدرسہ طیبہ منت نگر، مادھوپور، انگواں، ججوارہ، مظفرپور کے بانی و ناظم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔اس کے علاوہ متعدد دینی اداروں کی سرپرستی آپ کے سپرد تھی،جن میں جامعہ اصلاحیہ نسیم آباد پاکٹولہ،سیتامڑھی، معھد الطیبات للبنات کرم گنج دربھنگہ، ادارہ سبیل الشریعہ آواپور سیتامڑھی، مدرسہ طیبہ قاسم العلوم بردی پور دربھنگہ اور مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ دربھنگہ قابل ذکر ہیں۔

 

(غیر مسلموں کی نظر میں بھی ایک مقبول شخصیت)

 

حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ کی شخصیت کا دائرۂ اثر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپ اپنے علاقے کے غیر مسلم برادران میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔آپ کی شرافت، ملنساری، نرم مزاجی،خوش اخلاقی، سادگی اور انسان دوستی نے ہر طبقے کے لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے جگہ بنائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ چھوٹا ہو یا بڑا،غریب ہو یا صاحبِ حیثیت،مسلمان ہو یا غیر مسلم، ہر شخص آپ کا احترام کرتا تھا۔آپ نے اپنی پوری زندگی نفرت اور تفریق سے دور رہ کر انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور خیرخواہی کا معاملہ کیا۔ آپ کا اخلاق، گفتگو کا انداز اور لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ برتاؤ ایسی خوبیاں تھیں جنہوں نے آپ کو ہر دل عزیز بنا دیا تھا۔ علاقے کے غیر مسلم بھائی بھی آپ کو ایک باوقار، مخلص اور شریف انسان کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے انتقال کی خبر نے جہاں علماء، طلبہ،متعلقین اور عام مسلمانوں کو غمزدہ کردیا، وہیں غیر مسلم برادران بھی آپ کی جدائی پر نڈھال تھے۔ انہیں اس بات کا شدید صدمہ تھا کہ جس شخصیت سے وہ برسوں سے محبت، احترام اور حسنِ سلوک پاتے رہے، وہ اب ان کے درمیان موجود نہیں رہی۔یہ کسی بھی عالمِ دین کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے کہ اس کے کردار اور اخلاق کا اثر صرف اپنے مذہب کے ماننے والوں تک محدود نہ رہے، بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اس کے حسنِ اخلاق کے معترف اور اس کی جدائی پر غمگین ہوں۔ حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ کی زندگی اس حقیقت کی خوب صورت مثال تھی کہ اچھا اخلاق دلوں کو فتح کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت ہر دل میں محبت پیدا کرتی ہے۔

 

(قلمی و تصنیفی خدمات)

 

حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ نے تدریس و دعوت کے ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی مطبوعہ تصانیف میں:

 

1. رشتہ داروں کا احترام کیجیے اور یتیموں کا اکرام کیجیے

2. بینک سے متعلق چند مسائل

3. مسجد کے آداب اور اس کے احکام

4. مکاتیب رحمانی

5. کیا کثرتِ عبادت بدعت ہے؟

6. رہنمائے قاضی

7. معلم و مربی

8. ادلۂ حنفیہ — دو جلدوں میں، برادرزادہ مولانا رحمت اللہ ندوی مدنی کی تحشیہ کے ساتھ، دارالقلم دمشق سے شائع ہوئی

9. قرآنی سورتوں کا تعارف

 

شامل ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کی متعدد علمی و تحقیقی کاوشیں زیرِ طبع تھیں،جن میں رہنمائے مفتی، مجموعہ مقالات،زندگی کا سفر اور چند اہم خطوط شامل ہیں۔ ان تصانیف سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کا قلم محض علمی مسائل تک محدود نہیں تھا بلکہ معاشرتی اصلاح،فقہی رہنمائی، تربیت اور دینی شعور بیدار کرنے کے لیے بھی سرگرم تھا۔

 

(حج و عمرہ کی سعادت)

 

اللہ تعالیٰ نے مولانا کو بارہا اپنے مقدس گھر کی حاضری کی سعادت بھی عطا فرمائی۔ آپ نے 1417ھ مطابق 1997ء میں پہلی مرتبہ حج ادا کیا۔ اسی سال منیٰ میں زبردست آتش زدگی کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ اس کے بعد 2009ء میں دوسری مرتبہ حج کی سعادت حاصل ہوئی، جبکہ 1434ھ مطابق 2013ء میں رابطہ عالم اسلامی کی دعوت پر تیسری مرتبہ فریضۂ حج ادا کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے دو سے زائد مرتبہ عمرہ بھی کیا۔

 

(زندگی کے آخری ایام)

 

زندگی کے آخری مرحلے میں حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ تقریبا چھ ماہ سے صاحبِ فراش تھے۔اس دوران سر اور کان میں کافی تکلیف رہتی تھی۔بعد ازاں فالج کا حملہ ہوا اور سانس کی تکلیف کے ساتھ پھیپھڑوں میں بلغم جم جانے کی وجہ سے طبیعت مزید ناساز ہوگئی۔علاج کے لیے آپ کو اوشا نرسنگ ہوم، جورن چھپرہ، مظفرپور میں داخل کرایا گیا، مگر خاطر خواہ افاقہ نہ ہوسکا۔ بہتر علاج کی غرض سے 23 اگست کو مظفرپور کے معروف گلیکسی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا، جہاں تقریباً ایک ہفتہ زیرِ علاج رہے۔

 

(آپ کی وفات)

مورخہ 29 اگست 2020ء مطابق 10 محرم الحرام 1442ھ کو طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی اور آپ اپنے رہائشی مقام زکریا کالونی واپس تشریف لائے۔ 29، 30 اور 31 اگست 2020ء مطابق 10۔11۔12۔محرم الحرام 1442ھ کو طبیعت نسبتا بہتر رہی۔ان ایام میں بھی حضرت نے نماز،ذکر و اذکار کا اہتمام جاری رکھا۔پھر مورخہ 31اگست 2020ء مطابق 12 محرم الحرام 1442ھ بعد نماز مغرب طبیعت میں سستی محسوس ہوئی۔ عشاء کے بعد جسم کے نصف حصے پر فالج کا اثر ہوا اور بالآخر مورخہ 1 ستمبر 2020ء مطابق 13محرم الحرام 1442ھ بروز منگل رات کے آخری پہر،تقریبا 3 بج کر 15 منٹ پر حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔إنا لله وإنا إليه راجعون۔

 

(علمی وراثت اور پسماندگان)

 

حضرت مولانا اپنے پیچھے اہلیہ صغرہ خاتون،صاحبزادے عبداللہ مبارک ندوی، صاحبزادیوں زرینہ خاتون اور شکیلہ خاتون،داماد مولانا عبیدالرحمن اور محمد اشرف علی اور بھائی حافظ ناظم رحمانی سمیت متعلقین،تلامذہ اور عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ چھوڑ گئے۔مولانا کی اصل میراث ان کی علمی خدمات، ان کے شاگرد، ان کی تربیت، تصانیف اور ان دینی اداروں کی شکل میں موجود ہے جن سے وہ وابستہ رہے۔ ایسے اہلِ علم کا دنیا سے رخصت ہونا محض ایک خاندان یا ادارے کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ پورے علمی و دینی حلقے کے لیے ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے۔

 

(ایک روشن علمی سفر کا اختتام)

 

حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ کی زندگی علم،تدریس،فقہ،تصنیف، تربیت،دعوت اور خدمتِ دین کا ایک طویل اور تابندہ سفر تھی۔انہوں نے اپنے زمانے کے اکابر سے علم حاصل کیا،اسے نئی نسل تک منتقل کیا،فقہی مسائل میں رہنمائی کی، دینی اداروں کی سرپرستی کی اور قلم کے ذریعے بھی اپنے علمی افکار کو محفوظ کیا۔

یکم ستمبر 2020ء کو اس مردِ علم و عمل کے دنیا سے رخصت ہونے سے بلاشبہ ایک علمی باب بند ہوگیا،لیکن اہلِ علم کی زندگی ان کے انتقال کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ان کی کتابیں،ان کے شاگرد،ان کی تربیت،ان کی دینی خدمات اور ان کی علمی یادیں آنے والی نسلوں کے لیے ان کے زندہ نقوش ہیں۔

 

ہر دور میں ہر حال میں تابندہ رہوں گا

 

میں زندہء جاوید ہوں پائندہ رہوں گا

 

تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی

 

تاریخ کے اوراق میں آئندہ رہوں گا

 

اللہ رب العزت حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوریؒ کی جملہ دینی، علمی اور ملی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان، تلامذہ، متعلقین اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔(آمین)

Comments are closed.