امام بخاری علیہ الرحمہ وہ عظیم ہستی جس پر امت کو ناز ہے
محمد عادل ارریاوی
______________________________
اللہ ربّ العزت نے قرآن کریم نازل فرمایا تو اس پر عمل کرنے کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ و نمونہ بنایا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے زبانی ارشادات جس کو ہم اقوال رسول کہتے ہیں اپنے عمل مبارک جس کو ہم افعال رسول کہتے ہیں اور اپنی تصدیق مبارک جس کو ہم تقریر رسول کہتے ہیں۔ حیات کے ذریعے امت کی رہنمائی فرمائی اور حقیقی بات یہ ہے کہ صفحات قرآن لمحات حب تھے صحابہ کرام کی مقدس جماعت نے حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اقوال افعال اعمال اور تقریر کو نہ صرف اپنی عملی زندگی میں اتارا بلکہ اپنے ذہن میں یاد رکھا سینوں میں محفوظ رکھا اور عالم کے دور دراز علاقوں میں جا کر بعد میں آنے والی امت کو یہ عظیم دینی و علمی امانت کو پہنچائی اور بلغوا عني ولواٰية کے صحیح مصداق ثابت ہوئے۔
اللہ ربّ العزت کی قدرت دیکھیے قرآن کا نزول مکہ المکرمہ مدینہ المنورہ اور اس کے اطراف میں ہو رہا ہے احادیث رسول مکہ مدینہ اور اطراف میں وجود میں آرہی ہے اور صحابہ نے اس کی اشاعت عالم کے دور دور گوشوں میں کر دی۔
حضرات صحابہ کرام کی صحبت کی برکت سے حضرات تابعین کرام کی ایک عظیم جماعت تیار ہوئی جنھوں نے قرآن و حدیث کے علوم کو اپنی عملی زندگی میں اتارا اور اپنے سینوں اور ذہن میں محفوظ رکھ کر بعد والی امت تک پہنچایا یہ مبارک سلسلہ امت میں نقل در نقل آج تک چلا آرہا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک چلتا رہے گا۔
اللہ ربّ العزت کے جن خوش نصیب بندوں نے حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث مبارکہ کو جمع کر کے امت تک پہنچانے کی سعادت حاصل کی ان میں ایک بہت بڑا نام حضرت امام ابوعبد الله محمد ابن اسماعیل البخاری کا ہے آپ عجمی النسل ہیں لیکن اللہ ربّ العزت اپنے جس بندے سے اپنے دین کا جو کام لینا چاہتے ہیں اس کو اس کام کی توفیق و تائید سے نوازتے ہیں۔
چنانچہ حضرت امام بخاری سے اللہ ربّ العزت احادیث نبویہ کا عظیم کام لینا چاہتے تھے تو اس کے لیے امام بخاری کو ظاہری روحانی جسمانی ذہنی ہر طرح کی قوت اسباب تائید اور توفیق سے اللہ ربّ العزت نے ان کو مالا مال فرمایا اور امام بخاری نے اللہ ربّ العزت کی طرف سے دی ہوئی ان تمام نعمتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور احادیث کو جمع فرما کر اس کا ایک بہترین مجموعہ امت کے سامنے پیش فرمایا۔
حضرت امام بخاری نے حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کو جمع فرما کر آنے والی امت کے لیے ایک عجیب و غریب تحفہ پیش کر دیا آج دنیا امام بخاری کے علوم سے محظوظ ہو رہی ہے امام بخاری کی جمع کردہ احادیث و آثار سے مستفید ہو رہی ہے اور قیامت تک ان شاءاللہ مستفید ہوتی رہے گی۔
عظیم المرتبت شخصیات اور عظیم المقام انسانوں کے کارنامے جب لوگ پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو حیران رہتے ہیں یہی حال امام بخاری کے اس عظیم کارنامے الجامع الصحیح یعنی بخاری شریف کا ہے کہ لوگ جب اس کو پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں لیکن ایک خاص بات کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہیے کہ اللہ ربّ العزت نے ان سے جو عظیم الشان کام لیا یہ واقعی اللہ کا فضل و کرم تو ہے ہی لیکن ظاہری دنیا میں وہ کیا اسباب تھے جس کے پیش نظر اللہ نے ان سے یہ عظیم کام لیا صحیح بات یہ ہے کہ ایک کامیاب انسان کی زندگی کے پیچھے اس کے والد اور والدہ کی محنتوں کا بھی بہت بڑا دخل ہوتا ہے خود انسان کے تقوی اور ورع کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے اللہ ربّ العزت کی نافرمانی اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچانا تقویٰ کے اعلی معیار پر ہونا وغیرہ بھی مقبولیت کے پیچھے بڑا دخل ہوتا ہے اس کو ہم اللہ والوں کو مقبولیت کا راز کے عنوان سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔
حضرت امام بخاری کا نام محمد کنیت ابو عبد اللہ لقب امیر المؤمنین فی الحدیث ہے
امام بخاری ۱۳ رشوال ۱۹۴ھ میں جمعہ کے دن بخارا میں پیدا ہوئے اور یکم شوال کی شب میں یعنی شب عید الفطر کے اندر ۲۵۶ھ میں ان کا انتقال ہوا ۶۲ سال کے اندر ۱۲ دن کم ان کی عمر ہوئی ہے ان کے حالات بہت ساری باتیں ہیں آپ کو سن کر بڑا تعجب ہوگا کہ وفات کے وقت وہ کتنی آزمائش میں تھے کہ ان آزمائشوں سے پریشان اور تنگ ہو کر ان کو یہ دعا کرنی پڑی کہ اے اللہ تیری زمین اب میرے لیے تنگ ہو گئی ہے مجھے اٹھا لے۔
احادیثِ نبویہ کی خدمت کوئی معمولی کام نہیں تھا بلکہ یہ وہ عظیم امانت تھی جس کے لیے اللہ ربّ العزت نے ایسے نفوسِ قدسیہ کا انتخاب فرمایا جن کی زندگیاں علم اخلاص اور مجاہدے سے بھری ہوئی تھی۔ حضرت امام بخاری بھی انہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے وقف کر دی۔
آپ نے علمِ حدیث کے حصول کی خاطر ہزاروں میل کے طویل اسفار کیے بے شمار اساتذہ سے فیض حاصل کیا اور ہر روایت کو نہایت باریک بینی سے جانچا۔ روایت کرنے والے راوی کے حافظے دیانت تقویٰ اور ثقاہت تک کی تحقیق فرمائی تاکہ امت تک صرف صحیح اور مستند احادیث پہنچیں۔ یہی احتیاط اور خوفِ خدا صحیح بخاری کی وہ خصوصیت ہے جس نے اسے پوری امت میں بے مثال قبولیت عطا کی۔
امام بخاری نے ہر ہر حدیث کے لیے باقاعدہ غسل کیا دو رکعت نماز ادا کی اور استخارہ کیا جب حدیث شریف کے صحیح ہونے کا کامل اطمینان حاصل ہو گیا تو اس کو اپنی کتاب میں درج کیا کعبہ شریف کے جوار میں جمع کرنے کا اہتمام کیا تمام تراجم ابواب کو حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارکہ اور منبر کے درمیان بیٹھ کر لکھا جس کو ہم ریاض الجنہ کہتے ہیں۔
ظاہری اور فنی اعتبار سے حدیث شریف کی جانچ تحقیق سند اور راویوں کی جانچ و تحقیق کے تمام کام کرنے کے بعد باطنی طور پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا استخارہ کرنا غسل کا اہتمام کرنا حرمین کی مبارک جگہ پر یہ کام کرنا یہ وہ سب برکتیں ہیں جو امام عالی مقام کی کتاب میں شامل ہوئیں ۔
ساتھ ہی اس کتاب کی مقبولیت میں ان کے اخلاص زہد و تقویٰ کا بھی اہم کردار ہے جس کی برکت سے اللہ ربّ العزت نے آج اس کتاب کو ایسی مثالی مقبولیت عطا فرمائی۔
اللہ ربّ العزت ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔
Comments are closed.