دارالسلام ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ، چھتون میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مقابلہ جاتی پروگرام کا انعقاد
دربھنگہ (پریس ریلیز)کیوٹی بلاک کا مشہور و معروف ادارہ دارالسلام ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ چھتون (ضلع دربھنگہ) میں سیرت النبی کے عنوان سے شاندار کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر ادارے میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات نے اپنی گوناگوں صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا.جس کے بعد مہمانوں نے اپنے مشاہدے کی روشنی میں کہا کہ اسلامی نہج پر عصری تعلیم و تربیت کے حوالے سے یہ ادارہ ایک بہترین اور مثالی سنگِ میل ہے۔پروگرام کی صدارت شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ کے سابق صدر پروفیسر رضوان اللہ صاحب نے کی، جبکہ لاس اینجلس یونیورسٹی (امریکہ) میں انگریزی زبان کے پروفیسر ڈاکٹر سرفراز فاروق بطور مہمانِ اعزازی جلوہ افروز ہوئے۔ ڈاکٹر عمر فاروق قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دییے.

مہمانِ اعزازی ڈاکٹر سرفراز فاروق نے گارجین حضرات اور سرپرستوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”اسلامی طرزِ تربیت کا یہ ایک بہترین گہوارہ ہے۔ اگر آپ مسلمان بنا کر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں تو اس ادارے میں ان کا داخلہ کرائیں۔”
انہوں نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے مزید کہا:
”آپ مسلمان ہیں، لہٰذا روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ اسلامی احکامات کو سائنسی انداز میں بھی سمجھنے کی کوشش کریں، تاکہ جدید دور میں سائنسی بنیادوں پر اسلام کی حقانیت کو پیش کیا جا سکے۔”

صدرِ مجلس پروفیسر ایس ایم رضوان اللہ صاحب نے صدارتی تقریر میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
”سیرت النبی پر میں نے متعدد پروگرام دیکھے ہیں، لیکن اس نوعیت کا منفرداور تعمیری پروگرام دیکھنے کو نہیں ملا۔ یہ نشست بے حد دلچسپ اور معلومات کا سمندر تھی۔ مولانا بختیار ثاقب قاسمی صاحب یقیناً قابلِ رشک اور لائقِ تحسین کام انجام دے رہے ہیں۔”
پروگرام کے اختتام پر انسٹیٹیوٹ کے متحرک اور فعال ڈائریکٹر مولانا بختیار ثاقب قاسمی نے تمام حاضری کا پرخلوص شکریہ ادا کیا، معزز مہمانوں میں مولانا خالد سیف اللہ قاسمی استاذ حدیث جامعہ عائشہ نورچک، انجینئر مامون اشرف، ڈینٹل سرجن ڈاکٹر غلام حقانی عرف پیارے صاحب ، مولانا لقمان قاسمی ڈائریکٹر صفہ اکیڈمی موتیہاری، جناب مہتدی ندوی مترجم اردو ڈائڑیکٹوریٹ حکومت بہار شامل تھے ان سبھی کو مختلف اعزازی ایوارڈز سے نوازا گیا۔
یاد رہے کہ یہ مسابقاتی پروگرام متعدد شائقانہ اور دلچسپ فروعات پر مشتمل تھا:

گروپ( A) صحابہ کرام کو پہچانیے کے عنوان پر مشتمل تھا: اس حصے کا بنيادی مقصد اوصاف کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شناخت کرنا تھا۔ "تین اشاروں کے ذریعے صحابہ کو پہچانیے” اسی فرع کا ایک حصہ تھا، جو اپنی نوعیت کا نہایت خوبصورت اور انوکھے انداز پر مشتمل تھا۔ اس میں تین باریک اشارے بیان کیے جاتے اور بچوں کو مشارٌ الیہ صحابی کی شناخت کرنی ہوتی تھی۔ نونہالوں کی تیاری اس قدر مکمل تھی کہ ان کا مطالعہ قابلِ رشک معلوم ہوتا تھا۔
گروپ( B) "چیزوں کو دکھا کر عملی طور پر سنت بتائیں” کے عنوان پر مشتمل تھا: معصوم بچوں کے لیے یہ حصہ بے حد دلچسپ، تربیت آموز اور قابلِ دید تھا۔ مثال کے طور پر مسواک اور برش سامنے رکھ کر بچوں سے دریافت کیا جاتا کہ ان میں سنت کا پہلو کیا ہے۔ اسی طرح دس بارہ اشیاء سامنے رکھ کر ان کی شرعی حیثیت، یعنی سنت اور استحباب کی نشاندہی کروائی گئی۔ اس حصے میں بھی بچوں کی بیداری اور معلومات قابلِ تحسین تھیں۔

گروپ( C) "مقالات غزوات النبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے عنوان سے تھا: اس فرع کے تحت حضور اکرم ﷺ کے غزوات اور ان کی جنگوں کے بنیادی مقاصد، ان سے حاصل شدہ نتائج، اور ہماری سماجی زندگی پر ان کے اثرات و حاصل اسباق کو اجاگر کیا گیا۔ الگ الگ بچوں نے مختلف غزوات کی تفصیلات پیش کیں اور ان کی روشنی میں عصرِ حاضر کے لیے پنہاں نصیحتوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقالہ خوانی کا یہ گوشہ خرد افروزی کے لحاظ سے نہایت اہم تھا۔
گروپ (D) "سیرت النبی کے مختلف موضوعات پر تقاریر” کے عنوان سے تھا: اس حصے میں "حضور ﷺ کا بچوں سے برتاؤ” اور "آپ ﷺ کا اخلاقِ کریمانہ” جیسے گداز اور روح پرور عناوین پر فصاحت سے لبریز تقریریں پیش کی گئیں۔ اس زمرے میں بھی بچوں کا اندازِ بیان اور تیاری دیدنی اور قابلِ داد تھی۔

گروپ( E)” سیرت النبی کے حوالے سے معلوماتی کوئز” کے عنوان سے تھا: اس زمرے میں سرورِ کونین ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف گوشوں سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ اس کے علاوہ ایک تحریری مقابلہ بھی انعقاد پذیر ہوا، جس میں اسکول کے ساتھ ساتھ باہر کے بچوں کو بھی شاملِ مسابقہ کیا گیا۔ اس مرحلے میں صرف دس منٹ کے اندر پچاس معروضی (Objective) سوالات کے جوابات دینے تھے، جو مقابلے کے اعتبار سے سخت اعصاب شکن تھا۔ تقریباً 80 بچوں میں سے 29 بچوں نے سو فیصد کامیابی حاصل کرتے ہوئے پچاس میں سے پچاس نمبرات حاصل کیے! بعد ازاں زبانی سوالات کے کئی اضافی راؤنڈز کے ذریعے اول، دوم اور سوم پوزیشنوں کا تعیّن کیا گیا۔
Comments are closed.