روز محشر جواب دہی کا احساس

(مولانا محمد علی رامپوری کا ایمان افروز واقعہ)

 

محمد نفیس خان ندوی

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

رامپور کی ایک پُرسکون صبح، مدرسے کا سادہ سا صحن، اور صحن میں طلبہ کا ایک وسیع حلقہ۔ درمیان میں ایک معمولی سی چٹائی، اور اس چٹائی پر علوم منقولات و معقولات کے ماہر استاذ مولانا محمد علی رامپوریؒ کی عظیم شخصیت!

 

گفتگو کا موضوع کبھی منطق کا کوئی دقیق مسئلہ، کبھی فلسفے کی کوئی گتھی، کبھی فقہ کی کوئی اصولی بحث، کبھی کسی آیت کی اعجازی تفسیر، اور کبھی رواۃ حدیث کے حالات و سوانح۔

 

طلبہ پوری طرح ہمہ تن گوش ۔ استاد کی زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ کانوں کے راستے دل کے نہاں خانے میں محفوظ!

 

یہ وہ زمانہ تھا جب انگریز حکومت نے بریلی میں ایک نیا کالج قائم کیا تھا۔ کالج کی ترقی اور شہرت کا انحصار اچھے اساتذہ پر تھا۔ چنانچہ جہاں کہیں حکومت کو کوئی قابل اور ماہر استاد نظر آتا اسے بریلی مدعو کیا جاتا۔ انگریز حکام کی فہرست میں مولانا محمد علی رامپوریؒ کا نام بھی شامل تھا۔ کالج کی علمی شہرت کے لیے اکیلے مولانا کا نام ہی کافی تھا۔

 

کچھ ہی دنوں بعد ایک انگریز افسر خود مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا۔

 

رسمی آداب کے بعد اس نے کہا:

"مولانا! آپ کے نالج میں ہوگا کہ برٹش حکومت نے بریلی میں ایک کالج قائم کیا ہے۔ سرکار آپ کی علمی قابلیت سے واقف ہے اور چاہتی ہے کہ آپ وہاں تشریف لائیں اور طلبہ کو تعلیم دیں۔”

 

مولانا نے بڑے اطمینان سے افسر کی طرف دیکھا اور فرمایا:

"یہاں تو مجھے تیس روپے ملتے ہیں۔”

انگریز افسر نے سمجھا کہ شاید معاملہ تنخواہ کا ہے۔ فوراً بولا:

"مولانا! وہاں آپ کو تین سو روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔”

مولانا خاموش رہے۔

 

تین سو روپے! اس زمانے میں یہ کوئی معمولی رقم نہ تھی۔ ایک شخص کی پوری زندگی کا معیار بدل سکتی تھی، مگر مولانا کے چہرے پر نہ حیرت کے آثار تھے، نہ خوشی کی کوئی لہر۔

 

کچھ دیر بعد فرمایا:

"لیکن یہاں جو طلبہ مجھ سے پڑھتے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟ ان کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی۔”

افسر نے فوراً جواب دیا:

"اس کی بھی فکر نہ کیجیے۔ آپ کے تمام طلبہ کو بریلی منتقل کر دیا جائے گا اور ان کے لیے وظائف کا بھی انتظام کر دیا جائے گا۔”

مولانا پھر خاموش ہوگئے۔

 

افسر کو محسوس ہوا کہ شاید اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

لیکن کچھ دیر بعد مولانا نے نہایت سادگی سے فرمایا:

"اور میری بیری کا درخت؟”

"بیری کا درخت؟”

افسر کچھ نہ سمجھا۔ اس نے قدرے حیرت سے پوچھا:

"اس کا کیا مطلب؟”

مولانا مسکرائے اور فرمایا:

"جی ہاں! میں روزانہ اسی درخت کی بیریاں ناشتے میں کھاتا ہوں۔ اگر میں بریلی چلا گیا تو میری وہ بیریاں مجھے کہاں سے ملیں گی؟”

افسر نے سوچا یہ مسئلہ بھی کون سا مشکل ہے! فوراً بولا:

"اس کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ روزانہ آپ کے لیے بیریاں رامپور سے بریلی پہنچا دی جائیں گی۔”

 

اب بظاہر کوئی رکاوٹ باقی نہ تھی۔

تنخواہ تین سو روپے، طلبہ کی تعلیم کا انتظام، وظائف کا بندوبست، یہاں تک کہ ناشتے کی بیریاں بھی رامپور سے بریلی پہنچانے کا وعدہ!

 

افسر نے شاید دل ہی دل میں سوچا کہ اب مولانا کے پاس انکار کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔

مگر مولانا خاموش رہے۔ کچھ دیر سر جھکائے بیٹھے رہے۔ پھر آہستہ سے سر اٹھایا۔

چہرے پر وہی سادگی تھی، مگر آواز میں ایسی گہرائی تھی جس نے افسر کو متوجہ کر دیا۔ فرمایا:

"لیکن ایک مسئلہ ابھی باقی ہے۔”

افسر نے پوچھا:

"وہ کیا؟”

مولانا نے کہا:

"اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ علی! تم ایک جگہ سے دوسری جگہ کیوں گئے تھے……… ؟”

ایک لمحہ کے لیے سکوت چھا گیا۔

پھر مولانا نے اپنی بات مکمل کی:

"تو کیا میں یہ جواب دوں گا کہ اے میرے پروردگار! میں تین سو روپے کی خاطر گیا تھا؟”

افسر خاموش ہوگیا۔

اس کے پاس تنخواہ بڑھانے کا جواب تھا،طلبہ کے لیے وظائف کا جواب تھا، بیریاں پہنچانے کا انتظام بھی تھا؛ مگر اس سوال کا کوئی جواب اس کے پاس نہ تھا۔

 

کچھ دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔

آخرکار انگریز افسر نے نظریں جھکا لیں اور دھیرے سے کہا:

"مولانا! اس سوال کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔”

 

علماء آج بھی بہت ہیں، ماہرین فن کی بھی کمی نہیں، علم و فضل کے چرچے بھی خوب ہیں؛ مگر ذرا دل کو ٹٹول کر بتائیے، کیا وہ اخلاص بھی کہیں باقی ہے، کیا وہ تقویٰ بھی کہیں موجود ہے جو دنیا کی رغبتوں کے مقابل آخرت کی جواب دہی کا احساس پیدا کر دے؟؟

 

یقیناً ایک دن ہم سب کو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے علم، اپنے منصب، اپنے فیصلوں اور اپنی زندگی کے ہر قدم کا جواب دینا ہوگا…!!

Comments are closed.