سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ :منظر اور پس منظر

 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 

(سعودی عرب اور یمن کا پرانا تنازعہ: 1934ء کی جنگ سے موجودہ دور تک)

سعودی عرب 1932ء میں متحدہ مملکت بنا، اس کے متحدہ مملکت بننے کے پیچھے کی کہانی بہت ہی دلخراش ہے کہ کس طرح متحدہ دولت عثمانیہ کو خود اپنوں کی سادگی اور اوروں کی عیاری نے کمزور اور تہ و بالا کر دیا اور انگریزوں سے مل کر اسلامی خلافت کا تختہ الٹ دیا۔ اس وقت علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا:

 

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین مصطفیٰ

خاک و خون میں مل رہا ترکمان سخت کوش

 

یاد رہے سعودی مملکت بننے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمن میں بھی بادشاہت تھی (متوکلہ مملکت یمن، امام یحییٰ کی حکومت)۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ اس وقت بھی چل رہا تھا۔ یمن عسیر، جازان (جیزان) اور نجران جیسے علاقوں پر دعویٰ کرتا تھا، جبکہ سعودی عرب انہیں اپنا حصہ سمجھتا تھا۔

1934 میں یہ تنازعہ کھلی جنگ میں بدل گیا۔ سعودی فوج نے تیزی سے پیش قدمی کی اور ان متنازعہ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے بعد معاہدہ طائف ہوا۔ اس معاہدے کے تحت جازان، عسیر اور نجران سعودی عرب کے صوبے بن گئے۔ یمن نے انہیں عارضی طور پر چھوڑ دیا، مگر بہت سے یمنی ان علاقوں کو اب بھی اپنا تاریخی حق سمجھتے ہیں۔ ان علاقوں میں کبھی کبھار شورش اور تناؤ اب بھی دیکھنے کو ملتا ہے، اور حوثی بیانیے میں بھی ان کا ذکر اکثر آتا ہے۔

اس کے تقریباً تیس سال بعد 1962ء میں یمن میں انقلاب آیا۔ امام محمد البدر کی بادشاہت ختم کر کے جمہوریہ قائم کی گئی۔ مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے ریپبلکن فورسز کی حمایت میں فوج بھیجی، جو عروج پر تقریباً ستر ہزار تک پہنچ گئی۔ سعودی عرب نے بادشاہت پسندوں کی مدد کی۔ یہ جنگ مصر کے لیے “ویتنام” بن گئی۔ دس سے چھبیس ہزار کے قریب مصری فوجی مارے گئے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے مصر 1967ء کی جنگ میں اسرائیل سے بری طرح ہارا۔ 1970ء میں سعودی عرب نے یمن کی جمہوریہ کو تسلیم کر لیا اور جنگ ختم ہو گئی۔

پھر طویل خاموشی کے بعد 2014ء میں حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ 2015ء میں سعودی عرب نے (شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں) یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد بنا کر مداخلت کی۔ یہ جنگ کئی سال چلی۔ 2022ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی، مگر مکمل امن و امان پھر بھی نہیں ہو سکا۔

یوں سعودی-یمن تنازعہ کی جڑیں 1934ء کی سرحدی جنگ سے شروع ہو کر 1960ء کی دہائی کی نظریاتی جنگ سے گزرتی ہوئی آج کے حوثی تنازعے تک پہنچتی ہیں۔

 

سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ

 

اس وقت یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں کی خبریں بار بار سامنے آ رہی ہیں، اور یہ کہ ایک دوسرے پر میزائل سے بھی حملے ہو رہے ہیں اور یہ خطرہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ *حرمین شریفین کی عظمت اور حرمت ہر مسلمان کے دل میں بہت اہم مقام رکھتی ہے*، اس لیے ایسی خبریں سن کر تشویش ہونا اور پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہونا فطری بات ہے۔

اسی صورتِ حال کو سمجھنے اور یہ جاننے کے لیے کہ اصل معاملہ کیا ہے، اس تنازع کا پس منظر کیا ہے اور موجودہ حالات کس طرف جا رہے ہیں، یہ مضمون ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ عام قارئین بھی اس معاملے کی بنیادی حقیقت اور اہم پہلوؤں سے واقف ہو سکیں۔

یاد رہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*سعودی عرب اور یمن کے درمیان تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل زمینی سرحد ہے*۔ سعودی عرب کی طرف سے جازان، عسیر اور نجران کے علاقے یمن سے ملتے ہیں۔ خصوصاً جازان اور نجران کے بعض علاقے یمنی سرحد کے بالکل قریب ہیں۔ اسی وجہ سے یمن میں ہونے والی جنگ سعودی عرب کے لیے براہِ راست سرحدی سلامتی کا مسئلہ بن گئی۔

*1۔ حوثی کون ہیں؟*

حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، شمالی یمن کے علاقے صعدہ سے ابھری۔ 2014ء میں حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد یمن کی سیاسی کشمکش ایک بڑی مسلح جنگ میں تبدیل ہو گئی۔

*2۔ سعودی عرب جنگ میں *کیوں شامل ہوا؟*

2015ء میں حوثیوں نے یمن کے بڑے علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا اور سعودی سرحد کے قریب بھی ان کی طاقت بڑھ گئی۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی علاقوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے واقعات نے سعودی عرب کے لیے سرحدی خطرہ مزید بڑھا دیا۔

اسی دوران یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے بیرونی مدد طلب کی۔ سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت اور اپنی تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل جنوبی سرحد کی حفاظت کے لیے عرب اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر مارچ 2015ء میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔

یعنی سعودی عرب کی جنگ میں شمولیت کے دو بڑے پہلو تھے: یمنی حکومت کی حمایت اور اپنی جنوبی سرحد کی سلامتی۔

*3۔ ایران کا کردار اور حوثیوں کی مدد*

حوثیوں کی فوجی طاقت میں ایران کے کردار کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور دیگر بین الاقوامی تحقیقات میں حوثیوں کے میزائلوں، ڈرونز، پرزہ جات اور فوجی ٹیکنالوجی میں ایرانی ساخت یا ایرانی ٹیکنالوجی سے مماثلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حوثیوں کو فوجی ٹیکنالوجی، پرزہ جات اور تکنیکی معاونت ملنے کی بھی مختلف رپورٹس موجود ہیں۔

ایران حوثیوں کو براہِ راست فوجی مدد دینے کے الزامات کی تردید کرتا ہے، لیکن حوثیوں کے ہتھیاروں اور ایرانی ساخت کے بعض نظاموں کے درمیان پائی جانے والی مماثلت کی وجہ سے ایران کا کردار اس جنگ کا ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔

*4۔ حوثیوں کے ہتھیار کہاں سے آئے؟*

حوثیوں کے تمام ہتھیار صرف ایران سے نہیں آئے۔ انہیں یمن کے سابق فوجی ذخائر سے بھی بڑی مقدار میں اسلحہ ملا۔ اس کے علاؤہ بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والے پرزہ جات، سمندری اسمگلنگ، ایرانی تکنیکی معاونت اور مقامی طور پر ہتھیاروں کی تیاری یا تبدیلی بھی ان کے ذرائع میں شامل ہیں۔

ان کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرونز، اینٹی شپ میزائل اور مختلف اقسام کے راکٹ موجود ہیں۔

*5۔ سعودی عرب پر حملے*

حوثیوں نے مختلف اوقات میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں، خصوصاً جازان، عسیر اور نجران کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب نے جواب میں یمن میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں۔

*یوں یہ جنگ سعودی عرب کے لیے صرف یمن کی داخلی لڑائی نہیں رہی بلکہ اس کی طویل جنوبی سرحد کی حفاظت اور حرمین شریفین کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بنی ہے۔*

(متعدد معلومات اور تحریروں سے ماخوذ و مستفاد)

یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کسی کیساتھ نہیں ہے ،اس کی منافقانہ پالیسی اور کردار عیاں اور بیاں ہے ، وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ عرب ممالک اور خلیج ممالک میں خود و دہشت کا ماحول اور بھرم بنا کر رکھیں اور ان ملکوں کو آپس میں دست و گریباں رکھیں اور اس قدر الجھا دیں کہ سب ایک دوسرے کے دشمن بنے رہیں اور آپس میں متحارب رہیں تاکہ ان کی چودھراہٹ قائم رہے ،اور ان کا ہتھیاروں کا کار و بار رکنے نہ پائے ، یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ حوثیوں کے خلاف سعودی کے ساتھ ہو جاتا ہے اور کبھی سعودی کو تنہا کرنے کے لئے حوثیوں کیساتھ میٹنگ اور ڈیل کرتا ہے تو کبھی پس پردہ سعودی عرب کے خلاف اندر اندر ایران کو تقویت پہنچاتا ہے، کبھی اس کی پیٹھ تھپتپاتا ہے اور کبھی ان کی۔ بہر حال موجودہ صورت حال بہت نازک ہے اور صحیح صورت حال سامنے نہیں آپارہی ہے اور معاملہ بعض جگہ انتہائی گنجلک بھی ہے ۔

ودود ساجد صاحب جو مشہور صحافی ہیں اور جن کی وہاں کی پیش آمدہ حالات پر گہری نظر ہے، انہوں نے ؛

،،اب حوثیوں سے دوستی،،، … کے عنوان پر موجودہ صورت حال کی اچھی تصویر کشی کی ہے ، اس کو ملاحظہ فرمائیں:

” مشرق وسطی میں جاری مختلف تنازعات نے اب ایسی مشکل صورت اختیار کرلی ہے کہ جس پر کوئی ایک موقف اختیار کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے بیشتر ذرائع وہی ہیں جن پر امریکہ‘ اسرائیل اور مغرب کا تسلط ہے۔ ایک طرف جہاں آبنائے ہرمز کے تعلق سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعہ منجمد سا ہے وہیں دوسری طرف یمن کے مسلح باغی (حوثیوں) اور سعودی عرب کے درمیان جاری مسلح کشیدگی ایک نئے اور تشویشناک دور میں داخل ہوگئی ہے۔

یہ تو بہت پہلے سے واضح ہے کہ ایران ہی حوثیوں کی مدد کرتا رہا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت امریکہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔ ان خبروں نے صورتحال کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ اومان کی راجدھانی مسقط میں حوثیوں اور امریکی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اور حوثیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ باب المندب میں امریکہ اور اسرائیل کے بحری جہازوں پر حملے نہیں کریں گے۔ امریکہ ہمیشہ منافقت سے کام لیتا رہا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ اب وہ مشرق وسطی میں پھنس بھی گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو 24 بلین ڈالرکی قیمت کے ایف 35 جنگی جہازوں کی فروخت کو منظوری دیدی ہے لیکن فوری طور پر حوثیوں کے خلاف باب المندب میں سعودی عرب کو جس بھرپور مدد کی ضرورت تھی وہ امریکہ نے نہیں کی۔ باب المندب میں حوثیوں کے ذریعہ سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حملے جاری ہی تھے کہ اب خود اندرون ملک بھی حوثیوں کے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔۔۔۔

میرا ابتدائی اور فوری تجزیہ یہ ہے کہ سفارتی سطح پر ایک طرف جہاں امریکہ اپنے یہاں سرمایہ کاری کی خاطر اس خطہ کے متمول عرب ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ ربط و ضبط قائم رکھنا چاہتا ہے وہیں دوسری طرف وہ مشرق وسطی کے گرداب سے نکلنے کیلئے سیاسی سطح پر خطہ کے مسلح گروہوں سے بھی ربط و ضبط قائم کر رہاہے۔ امریکہ کی اس ساری تگ و دو کا حتمی مقصد نہ صرف اسرائیل کو ہر طرف سے محفوظ کردینا ہے بلکہ اس کا لازمی ہدف عربوں کو اور خاص طور پر سعودی عرب کو اسرائیل سے مراسم کی استواری پر مجبور کر دینا بھی ہے۔ لبنان کی مسلح جماعت حزب اللہ سے امریکہ کے مسلسل رابطوں کی خبریں ایک عرصہ سے آرہی ہیں۔ نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی بھی امریکہ کے اس وقت کے صدر جو بائیڈن کی کوششوں سے عمل میں آئی تھی۔

اپریل 2025 میں جب حوثیوں نے امریکہ اور اسرائیل کے جہازوں پر حملے شروع کئے تو اومان کی ثالثی سے امریکہ اور حوثیوں کے درمیان مئی 2025 میں جنگ بندی عمل میں آگئی تھی۔ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف بمباری روک رہے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہے جبکہ حوثیوں کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔ ادھر غزہ میں سرگرم حماس کی سیاسی ونگ کے ساتھ بھی امریکہ کے رابطوں کی مسلسل خبریں آتی رہی ہیں۔ مارچ 2025 میں ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ دوحہ میں ان کے قاصد’ آدم بوہلر‘ نے حماس کی سیاسی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ 1997 میں امریکہ نے حماس کو دہشت گرد جماعت قرار دیدیا تھا اور ابھی تک اس نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا ہے۔ اس کے باوجود امریکی حکام مسلسل حماس کے رابطے میں ہیں۔

دو باتیں بہت واضح ہیں: اول توامریکہ طاقت کے زور پر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جہاں طاقت کے استعمال کے باجود مفادات کا حصول ممکن نہیں ہوتا وہاں وہ ’دہشت گردوں‘ سے بھی رابطہ کرکے مفادات حاصل کرلیتا ہے۔ حوثی‘حماس اور حزب اللہ ابھی تک امریکہ میں سرکاری طور پر دہشت گرد جماعتیں ہیں۔ مبصرین کے اس تجزیہ میں دم ہےکہ اگر دہشت گرد جماعتیں امریکہ سے معاملات طے کرلیں تو وہ انہیں اقتدار تک حاصل کرادیتا ہے۔ جیسے افغانستان میں ’طالبان‘ اور شام میں صدر احمد الشرع۔ احمد الشرع کے سر پر امریکہ نے 10 ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ یہاں تک کہ 17 دسمبر 2024 تک بھی انعام کا یہ اعلان باقی تھا لیکن 20 دسمبر 2024 کو دمشق میں امریکی سفارت کاروں نے احمد الشرع سے ملاقات کی اور اعلان کردیا کہ اب انعام کا وہ اعلان باقی نہیں ہے۔ یعنی اب امریکہ کیلئے احمد الشرع دہشت گرد نہیں رہے۔

یکم جون 2026 کو لبنان کے اسپیکر نبی بری کے معاون علی حمدان نے بتایا تھا کہ 31 مئی 2026 کو انہوں نے امریکی سفیر کو فون کرکے یقین دہانی کرائی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ ایک جامع جنگ بندی کا معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ 16 اگست 2026 کو دوحہ میں ٹرمپ کے داماد ’جیرڈ کشنر‘ نے حماس کی قیادت سے تفصیلی ملاقات کی۔ بعد میں نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کردی۔ اسی طرح حوثیوں کے نمائندوں سے تو امریکی حکام نے ستمبر 2026 کے وسط میں ہی مسقط میں ملاقات کی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے کم سے کم پانچ مختلف سفارتی اور سیاسی ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں کی بنیاد پر رپورٹ شائع کرکے بتایا ہے کہ حوثیوں کے ایک وفد نے مسقط میں امریکی سفارتخانہ میں سفارتکاروں سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ اس وفد میں مسقط میں مقیم حوثیوں کا سینئر نمائندہ محمد عبدالسلام بھی موجود تھا۔ اس پر امریکہ نے سخت پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ اس سلسلہ میں دیگر متعدد رپورٹوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حوثیوں اور امریکیوں کی اس ملاقات کے بعد سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اور شدت آگئی ہے۔ حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے تازہ بیان جاری کرکے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب پر 450 سے زائد فضائی حملے کئے ہیں۔

ادھر سعودی عرب کے ایک دفاعی ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کی اتحادی فورسز نے مکہ کی طرف بھیجے جانے والے ڈرون کو فضا میں مار گرایا ہے۔ ان خبروں پر پورے عالم اسلام میں تشویش ہے۔ عرب لیگ نے بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ قطر نے بھی سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ سب سے زیادہ اہم اور معنی خیز خبر یہ ہے کہ حوثیوں نے مذکورہ میٹنگ میں امریکی سفارتکاروں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اسرائیل کے بحری جہازوں پر بھی حملے نہیں کریں گے لیکن سعودی عرب کے جہازوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس خبر پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ عملاً یہی ہو بھی رہا ہے۔۔۔۔

یہ پس منظر بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہرچند کہ 2009 کے بعد سے حوثی جماعت کا اصل ہدف سعودی عرب ہے لیکن سات اکتوبر 2023 کو حماس کے ذریعہ اسرائیل میں خوفناک حملہ کے بعد شروع ہونے والی حماس مخالف اسرائیلی جنگ میں حوثیوں نے اسرائیل پر بھی حملے کئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے بھی ایران کی طرح ’امریکہ مردہ باد‘ اسرائیل مردہ باد اور یہودیوں پر خدا کی لعنت‘ جیسے نعرے اختیار کرلئے۔ یہی سبب تھا کہ انہیں دنیا بھر کے ان مسلمانوں کی بھی تائید ملنے لگی جو اہل فلسطین پر ہونے والے مظالم سے رنجیدہ تھے۔ اسرائیل نے بھی 1800 کلو میٹر دور حوثیوں پر بحری اور فضائی راستوں سے حملے کئے۔

امریکہ نے سعودی عرب کو بارہا یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ حوثیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مراسم قائم ہونے ضروری ہیں۔ لیکن سعودی عرب مسلسل اپنا یہ موقف واضح کرتا رہا ہے کہ ریاست ’فلسطین‘ کے قیام اور اہل فلسطین کو مکمل حقوق دئے بغیر اسرائیل سے تعلقات قائم ہونے ممکن نہیں ہیں۔ اس تناظر میں یہ خبر پڑھ کر دیکھئے تو صورتحال کچھ واضح ہوجاتی ہے کہ’’ حوثیوں نے امریکی سفارتکاروں سے ملاقات میں وعدہ کیا ہے کہ وہ نہ امریکہ کے جہازوں پر حملے کریں گے اور نہ اسرائیل کے‘ لیکن سعودی عرب کے جہازوں کو نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

اسی دوران ’روئٹر‘ جیسی قدرے معتبر ایجنسی نے خبر دی کہ سعودی عرب نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف اس کی مدد کرے لیکن ٹرمپ نے انکار کردیا ہے۔ ادھر چین اور روس نے بھی ایران سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کو کنٹرل کرے۔ معلوم نہیں کہ ایران نے اپنے ان دو حلیف ملکوں کی اس اپیل کا کتنا اثر لیا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ ایران نے ابھی تک سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت بھی نہیں کی ہے۔۔۔۔

12ستمبر 2026 کو خود ٹرمپ نے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ حوثیوں نے انہیں فون کرکے کہا ہے کہ آپ یمن جنگ سے دور رہیں۔ امریکہ کے نائب صدر نے بھی 14 ستمبر کو تصدیق کردی کہ امریکہ حوثیوں کے براہ راست رابطہ میں ہے۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اور حوثیوں کے درمیان اس قدر بے تکلفی ہوگئی ہے کہ ایک دوسرے کے براہ راست نہ صرف رابطہ میں ہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کی بات مانتے بھی ہیں۔ ایسے میں یہ یقین کیسے نہ کیا جائے کہ سعودی عرب پر حملوں کیلئے حوثیوں کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ پچھلے ہفتہ ہی حوثیوں نے یمن کے ساحلی خطوں اور تاریخی بحری اڈے ’موخا‘ اور باب المندب پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔

حوثیوں نے جولائی سے اب تک سعودی عرب کے متعدد جہازوں پر حملے کئے ہیں۔ لیکن اس دوران امریکہ اور اسرائیل کے جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی کوئی خبر نہیں ہے۔ خود امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیانات کا سلسلہ بھی موقوف سا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان بھی شکوک پیدا کرتا ہے کہ ’ ایران کے ساتھ جنگ کے تعلق سے جلد ہی ایک بڑا فیصلہ آنے والا ہے‘۔ ایران کا بھی تازہ بیان آیا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے ثالث پاکستان کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حوثیوں نے ایک اور تازہ بیان جاری کرکے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے ایف 15 جہاز کو مارگرایا ہے۔ سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبوع میں بھی انہوں نے ’آرامکو‘ پر حملہ کا اعتراف کیا ہے۔ جس وقت یہ سطور مکمل کی جارہی تھیں سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں ایرپورٹ سے دھواں اٹھنے اور ملک میں حملوں کا الرٹ جاری کرنے کی اطلاعات آرہی تھیں۔

بہرحال صورتحال بہت نازک اور پیچیدہ ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے یہ لمحات بہت زیادہ تشویش ناک ہیں۔ اس کا اعتراف تو خود حوثی کرچکے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی مختلف تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ذرائع مقدس مقامات پر بھی حملوں یا حملوں کی کوششوں کا الزام لگا رہے ہیں۔ ہر چند کہ حوثی اس سے انکار کر رہے ہیں لیکن اگر ایسا ہورہا ہے تو کوئی تو ہے جو ایسا کر رہا ہے۔ میں نے پچھلے دو ہفتوں میں متعدد رپورٹوں کے مطالعہ کے بعد جو بین السطور اخذ کیا ہے اس کے مطابق یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہوگا کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے پس پشت خود امریکہ اور اسرائیل بھی ہوسکتے ہیں۔

اتنا تو واضح ہوہی گیا ہے کہ امریکہ براہ راست حوثیوں کے رابطہ میں ہے اور کیا عجب کہ اس کے توسط سے خود اسرائیل بھی حوثیوں کے رابطہ میں ہو۔ جو بھی ہو بربادی تو عالم اسلام اور مسلمانوں کی ہی ہورہی ہے۔ ایسے میں ایران اگر اپنے دامن کے داغ دھونا چاہتا ہے تو اس کا کردار سب سے اہم ہوجاتا ہے۔ اسے فوری طور پر حوثیوں کی ان سرگرمیوں سے کم سے کم براءت کا اظہار تو کرنا ہی چاہئے۔۔۔۔”

Comments are closed.