پیدائش اور وفات کا رجسٹریشن
عبدالغنی
کسی بھی انسان کی زندگی میں پیدائش اور موت دو ایسے اہم واقعات ہیں جو شناخت، سماجی اور قانونی جہت سے اہمیت کی حامل ہے۔سند پیدائش کسی شخص کے وجود کی پہلی سرکاری شناخت ہوتی ہے، جبکہ موت کا سرٹیفکیٹ کسی شخص کی زندگی کی آخری سرکاری تصدیق ہوتی ہے۔موت حیات کا سرکاری ریکارڈ میں درج ہونا محض سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی رسمی کارروائی نہیں، بلکہ شہری حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف، سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے اور ملک کی آبادی سے متعلق اعداد و شمار کے جائزے کی ایک اہم بنیاد ہے۔
اسی مقصد کے تحت بھارت سرکار نے پورے ملک میں پیدائش اور موت کے رجسٹریشن کا یکساں نظام قائم کرنے کے لیے پیدائش اور موت رجسٹریشن ایکٹ 1969 نافذ کیا تھا۔ یہ قانون ملک کی بیشتر ریاستوں میں یکم اپریل 1970 سے نافذ العمل ہوا۔ بہار میں بھی اسی قانونی نظام کے تحت پیدائش اور موت کا رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ اس نظام رجسٹری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی۔ حال ہی میں جاری سرکاری کتابچہ(گائیڈ لائن) کے مطابق، حکومت نے پیدائش و موت رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2023 بھی نافذ کیا ہے۔ بہار میں پیدائش اور موت رجسٹریشن کو منظم بنانے کے لیے بہار پیدائش اور موت رجسٹریشن (ترمیمی) قواعد و ضوابط 2025 اور بہار پیدائش اور موت رجسٹریشن ( ترمیم ثانی) قواعد و ضوابط 2025 بھی نافذ ہے۔
پیدائش کا سرٹیفکیٹ کسی شخص کی تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش کا سرکاری ثبوت ہوتا ہے۔ یہ بچے کے مستقبل کی تعلیمی، سماجی اور انتظامی ضروریات کے لیے نہایت اہم دستاویز ہے۔ اسکول میں داخلہ، راشن کارڈ میں نام درج کرانے، ڈرائیونگ لائسنس بنوانے، پاسپورٹ حاصل کرنے، ضعیف العمری پنشن، کنیا اتھان یوجنا اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ کارآمد ہوتا ہے۔اسی طرح موت کا سرٹیفکیٹ متوفی کی تاریخ اور مقام وفات کا سرکاری ثبوت ہے۔ جائیداد کی وراثت، بینک کھاتوں سے متعلق دعوے، لائف انشورنس، خاندانی پنشن، حادثاتی معاوضہ اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری سہولیات حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ عدالت میں بھی اسے موت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔اس طرح پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ محض سرکاری کاغذات نہیں، بلکہ فرد اور اس کے خاندان کے حقوق کے تحفظ کا اہم ذریعہ ہیں۔
پیدائش اور موت کا رجسٹریشن ملک کی آبادی سے متعلق مستند اعداد و شمار تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پیدائش اور موت کے اعداد و شمار سے آبادی میں اضافہ کی حقیقی صورت حال، بچوں کی شرح اموات، زچگی کی صحت، مختلف بیماریوں سے ہونے والی اموات اور مختلف علاقوں میں صحت کی سہولیات کی ضرورت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
اگر کسی علاقے میں بچوں کی شرح اموات زیادہ ہو تو حکومت ان اعداد و شمار کی بنیاد پر صحت کی خدمات میں بہتری،ہسپتال کے قیام اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔ اسی طرح اموات کی وجوہات سے متعلق اعداد و شمار وبائی امراض کے مطالعہ اور عوامی صحت کی پالیسی مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔لہذا ہر ایک پیدائش اور موت کا رجسٹریشن صرف متعلقہ خاندان کے لیے ہی نہیں، بلکہ سماج اور حکومت کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے بھی ضروری ہے۔
پیدائش یا موت کا حادثہ پیش آنے کے 21 دن کے دوران اس کا رجسٹریشن کرانا چاہیے۔ سرکاری گائیڈ لائن کے مطابق، مقررہ 21 دن کی مدت کے دوران رجسٹریشن بالکل مفت کیا جاتا ہے۔ بروقت رجسٹریشن کرانے سے اہل خانہ کو غیر ضروری بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑتی ہے اور اضافی فیس کے بوجھ سے بھی بچ سکتے ہیں 21 دن کے بعد رجسٹریشن کرانے کی صورت میں مقررہ تاخیر ی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ گائیڈ لائن میں درج فیس کی تفصیلات کے مطابق، 21 دن کے بعد لیکن 30 دن کے اندر رجسٹریشن کرانے پر 2 روپے، 30 دن کے بعد لیکن ایک سال کے اندر 5 روپے اور ایک سال کے بعد رجسٹریشن کرانے پر 10 روپے تاخیری فیس مقرر ہے۔ ایک سال سے زیادہ تاخیر کی صورت میں مقررہ تصدیق اور مجاز افسر کی اجازت کے بعد متعلقہ کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔
اگر کسی دیہی علاقے میں گھر پر پیدائش یا موت ہو تو متعلقہ گرام پنچایت دفتر میں اس کا رجسٹریشن کرایا جا سکتا ہے۔پیدائش یا موت کے 21 دن کے اندر متعلقہ گرام پنچایت کے پنچایت سکریٹری کی جانب سے پیدائش یا موت کا سرٹیفکیٹ مفت جاری کیا جائے گا۔ 21 سے 30 دن کے درمیان رجسٹریشن کرانے پر مقررہ 2 روپے تاخیری فیس ادا کرنی ہوگی۔30 دن کے بعد لیکن ایک سال کے اندر رجسٹریشن کرانے کے لیے متعلقہ پنچایت سکریٹری، ضلع رجسٹرار، ضلع شماریات (اسٹیٹکس )افسر یا بلاک شماریات افسر کی تحریری اجازت اور مقررہ کارروائی مکمل کرنا ضروری ہے۔ایک سال سے زیادہ تاخیر کی صورت میں مجاز ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ضلع سطح)کے حکم اور مقررہ فیس کی ادائیگی کے بعد رجسٹریشن کی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔نگر نگم، نگر پریشد اور نگر پنچایت کے علاقوں میں پیدائش اور اموات کا رجسٹریشن متعلقہ شہری ادارے کے مقررہ نظام کے مطابق کیا جاتا ہے۔ان دفتروں میں بھی باضابطہ رجسٹریشن کے لئے رجسٹرار تعینات ہوتے ہیں
اگر پیدائش یا موت کسی سرکاری میڈیکل کالج ہسپتال، صدر ہسپتال، سب ڈویژنل ہسپتال، ریفرل ہسپتال، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر یا پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے کے سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ یا انچارج میڈیکل افسر کی جانب سے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق پیدائش یا موت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔نجی ہسپتال اور نرسنگ ہوم میں ہونے والی پیدائش یا موت کے رجسٹریشن کا انتظام بھی متعلقہ رجسٹرار (پیدائش و اموات) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بس، ٹرین، ہوائی جہاز اور آبی جہاز میں پیدائش یا موت ہونے کی صورت میں پہلے پڑاؤ کے مقام کے تحت آنے والی رجسٹریشن یونٹ میں رجسٹرڈ کیا جاسکتا ہے
بہار میں آن لائن رجسٹریشن کے لیے مرکزی حکومت کے سول رجسٹریشن سسٹم (CRS) پورٹل کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو https://dc.crsorgi.gov.in/crs/ پورٹل پر جا کر جنرل پبلک کے ذریعے رجسٹریشن کرنی ہوتی ہے۔ متعلقہ فارم میں ضروری تفصیلات درج کرنے کے ساتھ فموبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی دینا بھی ضروری ہے۔ مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے بعد درخواست کی صورت حال اور سرٹیفکیٹ سے متعلق معلومات ای میل اور موبائل پیغام کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
آف لائن طریقۂ کار کے تحت متعلقہ پیدائش و اموات رجسٹرار کے دفتر سے مقررہ فارم حاصل کرکے اسے مکمل طور پر بھرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ضروری دستاویزات منسلک کرکے متعلقہ دفتر میں جمع کیا جا سکتا ہے۔
بہار حکومت کے محکمہ منصوبہ و ترقیات (ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ اسٹیٹسٹکس) کی ویب سائٹ https://dse.bihar.gov.in/ پر بھی اس سلسلے میں معلومات دستیاب ہیں۔
رجسٹریشن کے دوران نام، تاریخ پیدائش، مقام پیدائش، والدین کے نام، پتہ اور دیگر ضروری تفصیلات احتیاط کے ساتھ درج کرنی چاہئیں۔ کسی بھی قسم کی غلط معلومات دینے سے مستقبل میں قانونی پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے ۔پیدائش یا موت کی تاریخ اور مقام کے سلسلے میں غلط معلومات دینا قابل سزا جرم ہے۔ اسی طرح سرٹیفکیٹ میں درج تاریخ یا مقام کو تبدیل کرکے دوبارہ سرٹیفکیٹ بنوانا بھی قانونا جرم ہے۔سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اس میں درج تفصیلات کی جانچ ضرور کرلینی چاہیے۔ آن لائن یا ای میل کے ذریعے حاصل کیے گئے سرٹیفکیٹ بھی معتبر ہیں۔ سرٹیفکیٹ کی صداقت کی جانچ اس میں موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
مضمون نگار محکمہ کابینہ سکریٹریٹ حکومت بہار میں معاون اردو مترجم ہیں۔
Comments are closed.