صہبائے علم و دانش: بہار کی پر بہار فضا میں ایک یادگار سمینار
مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی
نائب ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
7 نومبر 2026
بہار کی پر بَہار سرزمین اپنے علمی، قلمی، تاریخی اور فکری کردار کے حوالے سے اپنا خاص مقام رکھتی ہے، گوکہ خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس سے نا واقف ہیں، اس لیے اہل بہار پر اس شاندار کردار کی بازیافت اور ان خدمات کی دریافت قرض و فرض ہے۔
حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی فقہ و افتاء، امارت و قضاء اور تصیف و تالیف کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، فقیہ النفس، قاضی القضاة حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کے تربیت یافتہ اور امیر شریعت سادس حضرت مولانا نظام الدین صاحب کے صحبت یافتہ ہیں، امارت شرعیہ میں نظم و انتظام سے ذمہ دارانہ وابستگی رہی ہے۔ انہوں نے اس فرض کی ادائیگی اور قرض کی پابجائی کا ذمہ اپنے سر لیا، اور مختلف علمی سیمناروں کے ذریعہ اس ورثہ کی حفاظت اور اس امانت کی پاسداری کی کامیاب کوشش کی، چنانچہ اس سے قبل “علم حدیث اور علمائے بہار کی خدمات”پر بہت ہی کامیاب سمینار کا انعقاد کیا، مقالات کا مجموعہ 666 صفحات پر طبع ہوچکا ہے۔ اور اب انہوں نے “فقہ اسلامی اور علمائے بہار کی خدمات” پر ایک کامیاب، بامراد اور نتیجہ خیز سمینار 4-5نومبر 2026 کو منعقد کیا، اس میں ستر کے قریب مقالے پیش کیے گئے، سیر چشمی اور وسعت قلبی کے ساتھ ہر دبستان فکر کی خدمات کا جائزہ لیا گیا اور اعتراف بھی کیا گیا، بہار کے اہل تشیع کی فقہی خدمات پر ایک علمی مقالہ بھی شامل سمینار رہا، کتنے ہی گم گشتہ اہل علم کے تذکروں کو زندگی نو عطا کی گئی، مخطوطات کے ذخیروں کی نشاندہی کی گئی، مطبوعات کی اشاریہ سازی کی گئی، یہ محض ایک اکاڈمیک سمینار نہیں تھا، بلکہ بہار کی علمی و فقہی تاریخ کی دستاویز سازی کا کام تھا، علمی تسلسل کے بقا کی کوشش تھی، اس طلائی زنجیر کی کڑیوں کو جوڑے رکھنے کی جدوجہد تھی۔ یہ سمینار اپنی ظاہری و معنوی خوبیوں کےلیے قابل داد بھی تھا اور قابل دید بھی۔
فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی شرکت و صدارت نے سمینار کو وقار و اعتبار عطا کیا، افتتاحی نشست میں نہایت وقیع کلیدی خطبہ پیش کیا، ہر نشست میں وہ شریک رہے اور مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ حضرت مولانا رحمانی نے منتظمین کو چند نئے موضوعات پر سمینار کا مشورہ دیا، انشاء اللہ بہت جلد ان خاکوں میں رنگ بھرا جائے گا۔
اس سمینار میں راقم الحروف کے مقالے کا عنوان تھا: “حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی فقہی فکر اور اجتہادی منہج۔کا مطالعہ و جائزہ”، ہم نے اس ضمن میں قاضی صاحب رحمہ اللہ کے متعدد فتاوی کی روشنی میں ان کے استنباطی اصول اور اجتہادی منہج پر بحث کی۔ اہل علم نے خوب پسند کیا اور حوصلہ افزائی کی۔
اس سمینار کی خاکہ سازی میں ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن پھلواری شریف پٹنہ، بہار،کے علمی رفقاء کا بڑا اہم کردار رہا، انتظامات سے لے کر علمی تیاریوں تک پوری ٹیم دوش بہ دوش کھڑی رہی، بطور خاص مفتی محمد نافع عارفی اور محترم مولانا عادل فریدی قابل ذکر ہیں، اول الذکر اپنے علمی و قلمی ذوق کی وجہ کر اپنی خاص شناخت رکھتے ہیں، ۲۰ کتابوں کے مصنف ہیں، علمائی بہار کی خدمت حدیث میں ان کا 70 صفحات پر مشتمل مقدمہ اپنے آپ میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ہم عصروں میں شاید ہی کوئی اس حوالے سے ان کا ہم پلہ ہو، مفتی عارفی میں جرات گفتار بھی ہے اور بڑوں کا پاس و لحاظ بھی، المعہد العالی الاسلامی کے خوشہ چیں ہیں اور حضرت مولانا رحمانی کے عزیز تر شاگردوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
مولانا عادل فریدی اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے فرد فرید اور ہر دل عزیز ہیں، اللہ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، اردو، انگریزی اور ہندی میں خوب لکھتے ہیں، ترجمہ کرتے ہیں، ان سب کے باوجود پندار خودی کے بجائے سادگی اور ترفع کے بجائے تواضع کے پیکر ہیں، ان دونوں حضرات نے اپنی شبانہ روز کوششوں سے سمینار کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔
اسی ٹیم میں عزیزی مولانا رضاء اللہ قاسمی بھی شامل ہیں، خوش مزاج اور لب و لہجہ میں بہاری انداز و مٹھاس رکھتے ہیں، ساتھ ہی بحث و تحقیق، اور تلاش و جستجو کے خوگر ہیں۔ مولانا فیضان صاحب بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں، دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ ہر مہمان کا استقبال کرتے رہے، اور ہر خدمت کےلیے دست یاب رہے، اسی طرح مولانا نجم الہدی قاسمی اور مولانا جمال الدین قاسمی اپنے حال و قال کے ساتھ سمینار کی ہر سرگرمی میں پیش پیش رہے، مجھے بڑی مسرت ہوئی کہ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کے گرد جوان سال، باصلاحیت اور مخلص و محنتی افراد کا ایک ہالہ ہے، یہ سب مل کر کسی بھی کاز کو کامیاب اور علمی مشن کو بامراد بنانے مین مثبت و تعمیری کردار ادا کرتے ہیں۔
سمینار کا یہ پہلو بھی بڑا دیدہ زیب تھا ، کہ سمینار ہال سے لے کر طعام ہال تک ہر جگہ، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کے فرزندان و عزیزان مہمانوں کی خدمت میں لگے رہے، خندہ پیشانی سے ملتے رہے، ہر ایک کی مدد میں پیش پیش نظر آئے، آپ کے فرزند ڈاکٹر سہیل و دیگر نے ساٹھی میں مولانا انیس صاحب کے قائم کردہ “تعلیم آباد” کی سیر کروائی، ۱۸ سالوں میں یہ کیمپس تعمیر ہوا، ۱۲ اداروں (معہد السلام، لاء، نرسنگ، بی ایڈ، پیرا مڈیکل کالجزوغیرہ) پر مشتمل ہے، سیکنڑوں ہندو مسلم و دلت سماج کے طلبہ زیر تعلیم ہیں، یہ ادارہ جات مولانا کی خاموش محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ بہار کے دینی اداروں میں عوامی جلسوں اور “رت جگے” جلوسوں سے آگے بڑھ کر علمی سیمیناروں کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے، یہاں قابل افراد کی کمی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو علمی کاموں کےلیے استعمال کیا جائے، اس دیار دربار کی دیدہ زیبی میں اضافہ کیا جائے، قلم و قرطاس اور فکر ونظر کے اس قلمرو کے وقار کو بحال کیا جائے۔
Comments are closed.