فکر ندوہ کو عملی زندگی میں نمایاں کرنے کی ضرورت ہے: مولانا سید مشہود احمد قادری ندوی

 

تنظیم ابنائے ندوہ بہار کا انتخابی اجلاس، مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی صدر،مولانا ڈاکٹر نورالسلام جنرل سکریٹری، مولانا ثناءاللہ ندوی خازن منتخب

 

پٹنہ (پریس ریلیز): آج کی مجلس بہت مبارک ہے۔ کسی بھی کام کو انجام دیتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کی بنیاد درست اور مضبوط ہو۔ جس طرح عمارت کی بنیاد رکھتے وقت ہر اینٹ کو سیدھا رکھا جاتا ہے، اسی طرح تنظیم کی تعمیر و ترقی میں بھی کسی قسم کی کوتاہی یا کجی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ باتیںگورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ میں منعقد تنظیم ’’ابنائے ندوہ بہار‘‘ بہار کے انتخابی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی نے کہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو بھلا کر نئے سرے سے تنظیم کو مضبوط بنانے اور آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بہار کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ندوۃ العلماء کے قیام کی تحریک، امارت شرعیہ اور مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی جیسے اہم علمی و دینی اداروں کی تاریخ اس خطے سے وابستہ ہے۔ یہ خطہ ہر دور میں علمی و دینی اعتبار سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تنظیم ابنائے ندوہ بہار کی تعمیر و ترقی کے لیے وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ارکان اتحاد و اتفاق کے ساتھ کام کریں، ساتھ ہی فکر ندوہ کو عملی زندگی میں نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام فضلاء کو فکر ندوہ کا سچا نمائندہ بنائے اور تنظیم کو علم، دعوت، اصلاح اور خدمت خلق کا مؤثر ذریعہ بنائے۔

پٹنہ یونیورسٹی کے صدر شعبۂ عربی پروفیسر سرور عالم ندوی نے کہا کہ قدیم و جدید فضلاء ندوہ کو ایک چھت کے نیچے جمع دیکھ کر دلی مسرت ہورہی ہے۔ اس اجتماع کا مقصد ندوۃ العلماء کے مشن کو عام کرنا ہے اور انہیں امید ہے کہ باہمی تعاون سے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔

مولانا ڈاکٹر نورالسلام ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کی فکر کا امتیاز یہ ہے کہ وہ دینی و شرعی علوم میں رسوخ کے ساتھ جدید و عصری علوم میں صلاحیت و مہارت، زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگی اور علمی و فکری اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ ندوہ کی تحریک کا ایک اہم مقصد باہمی نزاعات کا خاتمہ، اختلافات کو دور کرنا اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ندوۃ العلماء قدیم نافع اور جدید صالح کے حسین امتزاج کا علم بردار رہا ہے۔ اس نے فکر ارجمند اور زبانِ ہوشمند کا جو پیغام دیا ہے، اسے تقریروں اور تحریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے عمل و کردار، باہمی تعلقات اور اجتماعی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کرنا چاہیے۔ فضلاء ندوہ اس کی فکر کے امین اور اس کے پیغام کے ترجمان ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رویے اور اجتماعی فیصلوں سے ندوہ کی اعتدال پسند، اصلاحی اور تعمیری فکر کی عملی تصویر پیش کریں۔ انہوں نے اختلافِ رائے کو اختلافِ دل میں تبدیل نہ ہونے دینے، ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا احترام کرنے اور ذاتی ترجیحات پر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کی۔

مجلسِ استقبالیہ کے صدر مولانا ڈاکٹر سجاد احمد ندوی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہار اور ندوۃ العلماء کا تعلق گہرا اور تاریخی ہے۔ تحریکِ ندوہ کو وسعت دینے کے لیے اس کا ساتواں اجلاس پٹنہ میں منعقد ہوا تھا، جس نے بہار میں فکر ندوہ کے تعارف اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا اجتماع اسی علمی و فکری وراثت سے وابستگی کا اظہار ہے۔ تنظیم کا مقصد محض ایک تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنا نہیں، بلکہ فکرِ ندوہ کو عملی زندگی میں بروئے کار لانا، ندوی فضلاء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور ان کی علمی، فکری و تنظیمی صلاحیتوں کو ملت و سماج کی تعمیر کے لیے استعمال کرنا ہے۔

مولانا نجیب الرحمٰن ململی ندوی نے تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے قیام اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے بنیادی مقاصد میں ریاست کے تمام ندویوں کو متحد کرنا، باہمی تعاون و اشتراک کو فروغ دینا، شخصی، گروہی، مسلکی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر کام کرنا، مادرِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی فکر و تحریک کو عام کرنا اور بہار کے مختلف اضلاع میں تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا شامل ہے۔

اجلاس کا آغاز مولانا قاری محمد شمیم اختر ندوی کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ نظامت مولانا ڈاکٹر نورالسلام ندوی نے کی، مولانا نظرالاسلام ندوی نے ترانۂ ندوہ پیش کیا،جبکہ مولانا ثناء اللہ ندوی ازہری نے اظہار تشکر کیا۔

تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے انتخابی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ کے پرنسپل مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی کو تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا، جبکہ مولانا نجیب الرحمٰن ململی ندوی، مولانا محتشم اللہ ندوی اور مولانا ہمایوں اقبال ندوی نائب صدر منتخب ہوئے۔ مولانا ڈاکٹر نورالسلام ندوی کو جنرل سکریٹری اور مولانا محمد صدر عالم ندوی اور مولانا رضا الحق ندوی کو معاون جنرل سکریٹری کی ذمہ داری سونپی گئی۔اسی طرح پروفیسر سرور عالم ندوی، مولانا کفیل۔الدین ندوی اور مولانا طارق شفیق ندوی کو تنظیم کا سرپرست منتخب کیا گیا۔اجلاس میں بہار کے مختلف اضلاع اور کمشنریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے مولانا ڈاکٹر ذاکر حسین ندوی، مولانا غلام سرور ندوی، مولانا آصف انظار ندوی، مولانا ہمایوں اقبال ندوی، مولانا امتیاز احمد ندوی، مولانا فاتح اقبال ندوی، مولانا محمد قمر عالم ندوی، مولانا عظمت اللہ ندوی، مولانا رضا الحق ندوی، مولانا عطاء اللہ بخاری ندوی، مولانا دستگیر ندوی، حافظ محمد عارف نثار ندوی، مولانا ابو صالح ندوی، مولانا رضوان عاصم ندوی، مولانا مظفر حسین ندوی، مولانا محمد صدر عالم ندوی، مولانا خالد سیف اللہ ندوی اور مولانا طارق سلام ندوی نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر مولانا محمد قمرعالم ندوی کے مضامین کا مجموعہ ’’گلدستۂ قمر‘‘ کا بھی اجرا عمل میں آیا۔

اجلاس میں مولانا ارشاد نسیم ندوی، مولانا رحمت اللہ ندوی، مولانا ابوالکلام ندوی سمیت ریاست بہار کی تمام کمشنریوں اور مختلف اضلاع کے نمائندوں نے شرکت کی۔

Comments are closed.