تحقیق وتالیف میں مصنوعی ذہانت سے استفادہ : حدود، خطرات اور احتیاطی تقاضے

 

🖋 مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

 

عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کی طرح علمی اور تحقیقی میدان میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ قدیم و جدید ماخذ تک رسائی، مواد کی تلخیص، اور پیچیدہ موضوعات کی ابتدائی فہم کے لیے یہ ٹیکنالوجی ایک بے مثال معاون بن کر ابھری ہے۔ تاہم، اس تیزی اور سہولت کے پیچھے ایک سنگین علمی چیلنج بھی پوشیدہ ہے، بالخصوص جب اس کا استعمال علومِ اسلامیہ، فقہ، حدیث اور علمی تحقیق میں کیا جائے۔

مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے طریقہ کار کو سمجھنا اس مسئلے کی تفہیم کے لیے بنیادی قدم ہے۔ یہ ماڈلز درحقیقت کسی بات کے ’’سچ یا جھوٹ ‘‘کو شعوری طور پر نہیں پرکھتے، بلکہ وہ الفاظ، اسالیب اور جملوں کے باہمی امکانی ربط کی بنیاد پر نیا متن تشکیل دیتے ہیں۔ تکنیکی زبان میں اس عمل کے دوران واقع ہونے والی غلطی کو’’ تخیلاتی یا فرضی تخلیق‘‘ کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران جب ایک محقق اے آئی سے کسی مسئلے پر رائے، حوالہ یا اقتباس مانگتا ہے، تو یہی تکنیکی خامی علمی سطح پر بڑی غلطیوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے پُرفریب اور دھوکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اے آئی کے بتائے ہوئے اقوال، عبارات اور حوالہ جات ہمیشہ غلط نہیں ہوتے۔ بہت سے مواقع پر اس کے فراہم کردہ اقتباسات، کتابوں کے نام اور ائمہ کے ارشادات بالکل درست، ہو بہو اور موقع محل کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ جب ایک طالب علم یا محقق بار بار دیکھتا ہے کہ اے آئی نے فلاں مسئلے میں بالکل درست عبارت پیش کی اور کتاب کا حوالہ بھی بالکل ٹھیک نکلا، تو اس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ استفادہ کنندگان کے اندر اے آئی پر اندھا اعتماد کرنے کا مزاج بننے لگتا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی جال ہے جہاں اصل خطرہ جنم لیتا ہے؛ انسان یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ چونکہ پچھلی بہت سی باتیں درست تھیں، اس لیے اگلی باتیں بات بھی لازماً سچ اور صحیح ہی ہوںگی۔حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی ادھوری درستگی کی اوٹ میں بہت سی مرتبہ نسبتیں محض فرضی اور تخمینی ہوتی ہیں۔ اے آئی ایک ہی سانس میں دو درست حوالے دے کر تیسرا حوالہ ایسا گھڑ لیتا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ بہت وثوق اور روانی کے ساتھ یہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ فلاں فقہی رائے امام ابو حنیفہ، امام شافعی، علامہ ابن تیمیہ، یا علامہ شامی رحمہما اللہ کی ہے، حالانکہ حقیقت میں نہ تو وہ ان کا موقف ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی کسی کتاب میں اس کا نشان ملتا ہے۔

اسی سے جڑا دوسرا سنگین مسئلہ جعلی اقتباسات اور فرضی حوالہ جات کی تراش خراش ہے۔ اے آئی جب کسی بات کو مستند بنانے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ عربی یا اردو عبارت کو اس خوبصورتی اور روایتی اسلوب میں ڈھالتا ہے کہ بظاہر وہ کسی مستند کتاب کی اصل عبارت دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ جلد نمبر، صفحہ نمبر، اور باب تک بڑی وضاحت سے درج کر دیے جاتے ہیں (مثلاً: رد المحتار، المغنی، یا الہدایہ)۔ لیکن جب کوئی محقق اصل مآخذ کو کھول کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرے سے وہ عبارت اس کتاب میں موجود ہی نہیں، بلکہ سیاق و سباق سے کٹا ہوا ایک مصنوعی جملہ ہے جسے سسٹم نے از خود جوڑ دیا ہے۔ روانی اور زبان کی صحت اتنی کامل ہوتی ہے کہ بغیر تقابل کیے شک کا گزر بھی نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر ایک مرتبہ راقم الحروف’’ دار‘‘ کی تقسیم کے سلسلہ میں فقہاء کرام نے جو تفصیلات بیان کی ہیں اس کا مطالعہ کررہا ہے ، سونچا کے اے آئی سے اس سلسلہ میں علماء ہند کے اقوال معلوم کروں، اس نے جواب میں فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی تصنیف ’’قاموس الفقہ ‘‘ کے حوالے سے چند اقتباسات دئے۔ حوالہ تقریباً درست تھا، لیکن اس کی جانب سے دی گئی عبارت مکمل فرضی تھی۔اسی طرح مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ علیہ الرحمۃ کی طرف منسوب کرکے ایک فتوی نقل کیا جو مکمل فرضی تھا۔

ایک مرتبہ ایک اہم علمی موضوع پر کی تحقیق کے دروان اسے مزید آزمایا تو اس کی جانب سے موضوع سے بالکل ہم آہنگ علامہ شامی کی کتاب رد المحتار اور علامہ کاسانی علیہ الرحمۃ کی کتاب بدائع الصنائع کی طرف منسوب کرکے ایسی عبارتیں دی گئیں جو انداز تحریر سے واقعی اصل کتاب سے لی گئی عبارتیں دکھ رہی تھیں لیکن حقیقت میں وہ عبارتیں مکمل فرضی تخلیق تھیں۔یہ تلخ تجربہ دسویں مرتبہ متعدد علمی عناوین کے تحت کیا گیا اور ہمیشہ ہی اقوال واقتباسات میں فرضی اور تخلیقی عبارتیں دیکھنے کو ملیں۔

یہ معاملہ اس وقت انتہائی نازک اور خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے جب اس کا تعلق حدیثِ نبوی ﷺ اور روایات سے ہو جائے۔نبی اکرم ﷺ کی طرف کسی متن یا لفظ کی غلط نسبت حرام ہے،لیکن اے آئی بسا اوقات کسی عوامی کہاوت، ضعیف روایت یا من گھڑت جملے کو ’’صحیح بخاری‘‘ یا ’’سنن ابی داؤد‘‘ کا نام دے کر پیش کر دیتا ہے، اور کبھی کسی معتبر حدیث کے متن میں ایسے الفاظ کا اضافہ کر دیتا ہے جو اصل ذخیرۂ حدیث میں کہیں موجود نہیں ہوتے۔

حالیہ دنوں میں ایسی کئی تحریریں نوجوان فضلاء کی طرف سے دیکھنے کو ملیں جن کو انہوں نے کسی مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تحریر کرایا، جن میں فرضی اقوال واقتباس کی واضح موجودگی دکھی، غور کیجئے کہ اگر یہی بے احتیاطی جاری رہی تو دینی تحریروں کی علمی ساکھ اور استناد کا شیرازہ کس طرح بکھر کر رہ جائے گا۔دینی اور علمی روایت کی اصل روح ’’ثقاہت، اسناد اور امانتِ علمی‘‘ پر قائم ہے۔ اسلاف نے ایک ایک لفظ کی حفاظت، راویوں کی جانچ اور نسبتوں کی تصدیق میں اپنی زندگیاں کھپائیں۔ لیکن اگر ہمارے نوجوان محققین اور قلم کار محض رفتار، سہولت اور ظاہری سج دھج کی خاطر مصنوعی ذہانت کے تراشے ہوئے فرضی اقتباسات اور گمنام نسبتوں کو بنا تحقیق اپنی تحریروں میں جگہ دیتے رہے، تو اس کے بھیانک اثرات مرتب ہوں گے:

۱۔ جب قارئین اور سنجیدہ اہل علم کے سامنے وہ جعلی عبارات اور فرضی حوالے آئیں گے جن کا اصل کتب میں وجود ہی نہیں، تو نہ صرف لکھنے والے کی علمی وقعت ختم ہو جائے گی، بلکہ مجموعی طور پر دینی لٹریچر، فتاویٰ اور تحقیقی مقالات پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ لوگ اصل اور مستند حوالوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں گے۔

۲۔ اصل کتب کی ورق گردانی، عبارات کے سیاق و سباق کو سمجھنے اور مسائل کی تہہ تک پہنچنے کا جو فقہی اور علمی ملکہ مدارس و جامعات میں پیدا کیا جاتا ہے، وہ چند کلکس کی محتاجی کی نذر ہو جائے گا۔ گہرے فکری و اجتہادی فہم کی جگہ کھوکھلی اور سطحی معلومات لے لیں گی۔

۳۔ اقوال اور روایات کو بغیر تحقیق کے ائمہ، فقہاء اور خصوصاً ذاتِ رسالت مآب ﷺ کی طرف منسوب کرنا سخت گناہ اور علمی خیانت ہے۔ اے آئی کی بنائی ہوئی چربہ سازی کو دینی اسناد کا درجہ دینا دانستہ یا نادانستہ طور پر دین میں دروغ گوئی کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہوگا۔

آج کے دور کی ضرورت یہ ہے کہ ہمارے نوجوان فضلاء نئی ٹیکنالوجی سے نہ تو ڈر کر دور بھاگیں اور نہ ہی اس کے اتنے دیوانے بن جائیں کہ سب کچھ اسی پر چھوڑ دیں۔ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو سمجھیں اور اس سے فائدہ ضرور اٹھائیں، مگر اپنے اس روایتی علمی طریقے اور احتیاط کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جو ہمارے اسلاف کی پہچان ہے۔اے آئی کو بس ایک مددگار خادم سمجھیں لیکن اسے کبھی بھی اصل کتاب یا مستند عالم کا درجہ نہ دیں۔دینی تحقیق میں کوئی بات ہلکی نہیں ہوتی؛ یہاں کسی امام کی طرف منسوب ایک چھوٹا سا جملہ بھی کسی مسئلے کا رخ بدل سکتا ہے۔ اس لیے کمپیوٹر کے بتائے ہوئے حوالے پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لینا بہت بڑی بھول ہے۔ علمی دیانت کا اصل تقاضا یہی ہے کہ محقق خود اصل کتاب کھولے، عبارت کو اس کے اصل سیاق و سباق میں پڑھے، اور جب تک اپنی آنکھوں سے کتاب میں وہ بات نہ دیکھ لے، اسے ہرگز اپنی تحریر میں نقل نہ کرے۔ وقت بچانے کی جلدی میں اصل کتابوں سے رشتہ توڑ لینا درحقیقت اپنی ہی علمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے،علمی تحقیق کا اصل حسن امانت داری، صداقت اور محنت میں پنہاں ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ وقت بچانے اور راستے دکھانے میں کارآمد ہو سکتی ہے، لیکن تحقیق کی عمارت صرف ٹھوس اور مصدقہ حقائق پر ہی قائم رہ سکتی ہے۔ لہٰذا، کسی بھی نسبت، اقتباس یا حوالے کو بغیر تحقیق کے درست مان لینا نہ صرف علمی معیار کو مجروح کرتا ہے بلکہ تاریخ اور دین کی غلط تعبیر کا سبب بھی بنتا ہے۔

Comments are closed.