اسرائیل میں ریکارڈ ووٹنگ ایگزٹ پول میں معلق پارلیمان کے آثار، عرب جماعتوں کو تاریخی نشستیں

کاشف حسن

لیکچرار جامعہ اسلامیہ شانتاپورم کیرالا

 

اسرائیل کے چھبیسویں پارلیمانی انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پول نے ایک سو بیس نشستوں کے ایوان کو معلق قرار دے دیا ہے۔ مجموعی ایگزٹ پول کے مطابق نیتن یاہو کا بلاک بھی اکثریت کے لیے درکار اکسٹھ نشستوں تک نہیں پہنچ رہا ہے اور گادی آئزنکوٹ کی قیادت والا اپوزیشن اتحاد بھی اس ہندسے سے دور ہے، جبکہ اٹھارہ نشستوں کے ساتھ تاریخی نمائندگی حاصل کرنے والا عرب بلاک نئی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے چھبیسویں پارلیمانی انتخابات کل ستائیس اکتوبر کو ہوئے۔ ایوان کی کل نشستیں ایک سو بیس ہیں اور حکومت بنانے کے لیے اکسٹھ نشستیں چاہییں۔ ووٹنگ کی شرح ستتر اعشاریہ سات فیصد رہی، جو انیس سو ننانوے کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ تقریبا تہتر لاکھ اہل ووٹروں میں سے قریب ستاون لاکھ نے ووٹ ڈالا۔ دو ہزار بائیس میں یہ شرح ستر اعشاریہ تریسٹھ فیصد تھی۔ عرب شہریوں میں ووٹنگ تقریبا اسی فیصد رہی، جبکہ پچھلی بار یہ تریپن فیصد تھی۔

پولنگ بند ہونے کے بعد ٹی وی "چینل 12 "کے جائزے کے مطابق کسی بھی بلاک کو اکثریت نہیں مل رہی ہے

 

مختلف چینلوں کے مطابق نتنیاہو بلاک کو پچاس 50 سیٹیں ملتی دکھ رہی ہیں جو پچھلی پارلیمان کی اڑسٹھ نشستوں سے بہت کم ہیں۔

نتن یاہو کے بلاک میں Likud پارٹی کو چوبیس نشستیں مل رہی ہیں اور یہ ایوان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ Shas کو آٹھ، United Torah Judaism کو چھہ اور Religious Zionism کو چھ نشستیں مل رہی ہیں۔ Otzma Yehudit کے سربراہ Itamar Ben-Gvir ہے جو منسٹر اف نیشنل سیکیورٹی اسرائیل بھی ہے کی پارٹی کو چھ نشستیں ملتی دکھ رہی ہیں

 

اپوزیشن بلاک کی قیادت سابق فوجی سربراہ Gadi Eisenkot کر رہے ہیں اور مختلف چینل کے مطابق ان کی مجموعی نشستیں ترپن 53 مل رہی ہیں ۔ اپوزیشن کے بلاک میں Eisenkot کی جماعت Yashar کو بائیس نشستیں مل رہی ہیں۔ Naftali Bennett اور Yair Lapid کے اتحاد Beyachad کو بارہ، Yair Golan کی The Democrats کو نو اور Avigdor Lieberman کی Yisrael Beiteinu کو نو نشستیں مل رہی ہیں۔

 

عرب بلاک

کنگ میکر کا فیصلہ عرب بلاک کے ہاتھ میں نظر آرہا ہے

عرب بلاک اسرائیل کی عرب آبادی کی نمائندگی کرتا ہے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا پانچواں حصہ ہے۔ اس الیکشن میں عرب بلاک کی چار جماعتیں الگ الگ لیڈر کے ساتھ لڑ رہی ہیں پولنگ کے بعد کے جائزوں کے مطابق پورے عرب بلاک کو مجموعی طور پر سترہ 17 نشستیں مل سکتی ہیں جو اسرائیلی تاریخ میں عرب جماعتوں کی سب سے بڑی نمائندگی ہو سکتی ہے دو ہزار بائیس میں ان کی کل نشستیں دس تھیں۔

عرب جماعتوں میں سب سے بڑا بلاک joint list کے نام سے الیکشن لڑ رہا ہے جس کی قیادت یوسف جبارین کر رہے ہیں۔ وہ حداش پارٹی کے سربراہ ہیں جوائنٹ لسٹ میں تین جماعتیں مزید شامل ہیں۔ حداش اشتراکی نظریات کی جماعت ہے جس میں عرب اور یہودی دونوں شامل ہیں۔ تعل کی قیادت احمد طیبی کے پاس ہے، یہ عرب شہریوں کے مساوی حقوق اور فلسطینی ریاست کی حامی ہے۔ بلد فلسطینی قوم پرست جماعت ہے، جس کے سربراہ سامی ابو شحادہ ہیں لیکن ان کو اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کا اشارہ ملنے کے بعد الیکشن سے سے الگ ہو گئے تھے۔ ایگزٹ پول کے مطابق joint list کو کل گیارہ نشستیں مل سکتی ہیں

 

عرب بلاک کی دوسری بڑی پارٹی رعام کی ہے رعام پارٹی کا نام ہے جس کی قیادت منصور عباس کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جماعت اسرائیلی قومیت کا پس منظر رکھتی ہے اور حکومت میں رہ کر عربوں معاملات حل کرنا چاہتی ہے یہ جماعت دو ہزار اکیس بائیس کی حکومت میں شامل رہی ہے ۔

جائزوں کے مطابق رعام کو سات نشستیں مل رہی ہیں۔اس طرح گیارہ اور سات ملا کر عرب بلاک کی کل اٹھارہ نشستیں بنتی ہیں اگر موجودہ حکومت اور اپوزیشن کو 61 سیٹ نہیں مل سکی تو عرب بلاک کنگ میں کر ہوسکتا ہے

یہ ابتدائی ایگزٹ پول کے نتائج ہیں حتمی نتائج چار نومبر کو آئیں گے

کاشف حسن

لیکچرر: جامعہ اسلامیہ شانتا پورم کیرالا

Comments are closed.