مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے یونی فارم سول کوڈ پر حکومت مہاراشٹر کے سوالوں کے جواب پرمشتمل آن لائن کیوآرکوڈ جاری
کوڈ کی تیاری میں فیڈریشن اف مہاراشٹر مسلم کا تعاون بھی شامل ـ بورڈ کے ذمہ داروں نے کیوآر کوڈ عام کرنےاور کثیرتعداد میں جواب داخل کرنے کی اپیل کی ـ
ــــــــــــــــــــــــــ
ممبئی:28 اکتوبر (پریس ریلیز) یونیفارم سول کوڈ کے سلسلے میں حکومت مہاراشڑ سنجیدہ ہے، کئی دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی یہ قانون بننے جارہا ہے ـ فی الحال حکومت نے ایک کمیٹی بنادی ہے، اس کمیٹی نےایک آن لائن پورٹل جاری کیا ہے، اور عوام سے 37 سوالات کے جواب آن لائن ہی مانگے ہیں ـ
ان سوالوں میں 31 سوال کے جواب معروضی، آبجیکٹو ہیں، جن کے جواب، یس نو اور نوکمینٹ کے ذریعے دینے ہیں ـ بقیہ چھ جواب محدود الفاظ میں تحریری طور پر دینے ہیں ـ کیوں کہ عوام کو پورٹل کھولنے اور صحیح جواب کیا ہوگا اس کی معلومات نہیں ہے ـ اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بورڈ لیگل ٹیم کے مشورے سے صحیح جواب پر مشتمل ایک کیوآر کوڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا، یہ کیوآر کوڈ فیڈریش آف مہاراشٹرمسلم کے تعاون سے جاری ہوا ہے ـ اس کے کھولتے ہی شروع میں ایک مختصر سی ویڈیو کے ذریعئے آسان الفاظ میں بتایا گیا ہے، کوڈ کھولنے بعد آگے کیا کرنا، صحیح جوابات کیا ہیں، اُن کو آن لائن کیسے بھرا جائےگا، جن سوالوں کے جواب میں مختصر تحریر لکھنی ہے، وہ تحریر بھی لکھ دی ہے، اُس کو کاپی کرکے کس طرح حکومت کے پورٹل چسپاں کرنا ہے وہ بھی بتایا گیا ہے ـ

حکومت مہاراشٹر نے دوطبقات سے جواب مانگے ہیں، انفرادی حیثیت کے جواب اور تنظیموں کے جوابات ـ فی الحال بورڈ نے انفرادی جواب کے لئے کیوآر کوڈ جاری کیا ہے، جلد ہی تنظیمی جواب کے لئے ہدائت دی جائے گی ـ اس کیوآرکوڈ کے آخر میں مہاراشٹر حکومت کے پورٹل کا لنک بھی شئر کردیا ہے، تاکہ وہیں پر سوال معلوم ہوجائیں، اور کیو آرکوڈ میں درج جواب دینے میں آسانی رہے ـ
اس کیوآر کوڈ کے اجرا کے لئے آج شام چار بجے ممبئی امن کمیٹی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور فیڈریش آف مہاراشٹر مسلم کے ذمہ داروں کی میٹنگ ہوئی، میٹنگ میں شرکا نے یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت اور اس سلسلے میں حکومت کے ذریعیے پوچھے سوالات کے جواب کے لئے کیوآرکوڈ کے اجرا پر اطمینان کا اظہار کیا، اور لوگوں سے اس میں حصہ لینے، اس کو عام کرنے، مساجدودیگر نمایاں مقام پر اس کو چسپاں کرنے کی اپیل کی ـ
شرکاء نے خصوصا علماء کرام اور ائمہ مساجد سے درخواست کی کہ اپنے جمعہ کے خطبات میں یوسی سی کے خلاف بیداری پیدا کریں، اس کی خرابیاں بتائیں اور کیوآرکوڈ کی مدد سے حکومت کے سوالات کا جواب ضرور دیں ـ عموما لوگ سابقہ تجربات کی روشنی میں یہ کہدیتے ہیں کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ـ اس کے جواب میں کہا گیا کہ بے اس وقت ہمیں اس کا فائدہ نظر نہیں آرہا ہے، مگر ہماری مخالفت ریکارڈ ہوکر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے ـ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، کل کو کوئی دوسری حکومت آئے گی، وہ یقینا ہماری مخالفت دیکھے گی اور انشااللہ ضرور ظلم و جبر کے ذریعئے تھوپے گئے قوانین کی اصلاح کرے گی ـ
میٹنگ میں شریک ہونے والوں میں مولانا محمود احمد خاں دریابادی، مفتی سعیدالرحمن فاروقی، حافظ اقبال چوناوالا، فرید شیخ، مولانا ظہیرعباس رضوی، ڈاکٹرعظیم الدین، عبدالحسیب بھاٹکر، شاکر شیخ وغیرہ شامل تھے ـ
رابطہ:9820135838
Comments are closed.