کتابوں پر پابندی: کلیسائی طرز فکر کا تسلسل

 

 

✒️ محمد نفیس خان ندوی

(31/اکتوبر 2026ء)

 

1559ء میں کلیسائے روم نے Index Librorum Prohibitorum کے نام سے ممنوعہ کتابوں کی ایک فہرست جاری کی، جس میں ایسی تصانیف کو شامل کیا گیا تھا جن کے افکار و نظریات کلیسا کے مذہبی تصورات، سائنسی نظریات اور فلسفیانہ معتقدات سے مختلف تھے یا جنہیں کلیسا اپنے لیے قابل اعتراض سمجھتا تھا۔ کتابوں پر پابندی کا یہ سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا، لیکن تمام تر سختیوں اور قدغنوں کے باوجود فکری و سائنسی انقلاب کا راستہ نہیں روکا جا سکا۔ وقت کے ساتھ کلیسا کا اقبال مٹی میں ملتا گیا اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ پابندیوں سے فکر و تحقیق کا راستہ مسدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ بسا اوقات یہی پابندیاں کسی فکر کی اہمیت اور معنویت کو مزید نمایاں کر دیتی ہیں۔

 

کتابوں پر پابندی کا یہ رجحان آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے، لیکن شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے کہ کسی ملک نے کسی مصنف کی علمی و فکری خدمات کے اعتراف میں اسے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا ہو اور بعد کو اسی کی تصانیف کو ممنوعہ فہرست میں شامل کر دیا ہو۔ اس اعتبار سے سعودی عرب کی مثال غیر معمولی ہے۔

 

سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی کے شعبۂ لائبریری امور کی جانب سے جاری ہونے والی ایک فہرست میں سو عالمی مصنفین کی کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے. یہ فہرست اس سے قبل بھی منظر عام پر آچکی ہے، اس وقت بھی أصحاب فکر و نظر کی جانب سے اس پر سخت ردعمل سامنے آیا تھا، اب ایک بار پھر یہ فہرست موضوع گفتگو ہے، خاص کر اس وجہ سے کہ اس میں وہ عظیم مصنفین شامل ہیں جن کی علمی و فکری خدمات کا اعتراف خود سعودی مملکت کرچکی ہے اور انھیں مختلف تمغوں سے نواز چکی ہے..

 

حیرت و استعجاب کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس فہرست میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا نام بھی شامل ہے جن کے علمی و دعوتی خدمات کے اعتراف میں سعودی حکومت نہ صرف انھیں "شاہ فیصل ایوارڈ” سے نواز چکی ہے بلکہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے قیام کے موقع پر شاہ سعود نے خود حضرت کو خط لکھ کر جامعہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کی دعوت دی تھی، جسے آپ نے قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں آپ کو جامعہ کی مجلس استشاری کا رکن اساسی منتخب کیا گیا۔ جامعہ سے آپ کے علمی روابط، خطابات اور محاضرات کا سلسلہ بھی قائم رہا۔ اس کے علاوہ آپ کو خانۂ کعبہ کے اندر داخلے اور اس کا دروازہ کھولنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی، جو آپ کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تھا۔

 

ایسی عظیم علمی و دینی شخصیت کی تصانیف کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کی اطلاع محض کتابوں پر پابندی کا معاملہ نہیں، بلکہ سعودی عرب کی بدلتی ہوئی مذہبی ترجیحات، علمی آزادی اور حکومتی پالیسیوں میں پیدا ہونے والے تضادات پر سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتی بھی ہے۔

 

حضرت مفکر اسلام محض ایک مصنف نہیں تھے، بلکہ عالم اسلام کے ممتاز مفکر، داعی و مصلح اور بالغ نظر مؤرخ بھی تھے۔ آپ کی فکر کسی ایک ملک یا خطہ تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپ نے پوری امتِ مسلمہ کے فکری، تہذیبی اور اخلاقی مسائل پر قلم اٹھایا۔ آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين” مسلمانوں کے عروج و زوال کا محض تاریخی مطالعہ نہیں، بلکہ انسانی تہذیب میں اسلام کے کردار، مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں اور عصر حاضر کے فکری چیلنجوں کا گہرا تجزیہ بھی ہے۔ آپ کی تحریروں میں امت کے زوال کا درد، اسلامی تہذیب کے احیا کی فکر، مغربی مادہ پرستی کا محاسبہ اور انسانیت کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرانے کا جذبہ نمایاں ہے۔

 

گزشتہ برسوں میں سعودی معاشرے کے مذہبی و ثقافتی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ تفریحی سرگرمیوں، موسیقی، سینما اور ثقافتی تقریبات کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا ہے۔ حکومت ان تبدیلیوں کو جدیدیت، معاشرتی اصلاح اور اقتصادی ترقی کے تناظر میں پیش کرتی ہے، جب کہ بعض دینی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اس عمل میں مذہبی اقدار اور دینی شعور کی اجتماعی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر معاشی ترقی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ دینی فکر کی مؤثر آوازوں کو بھی محدود کیا جانے لگے تو یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک اہم فکری اور تہذیبی سوال بن جاتا ہے۔

 

یہاں یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اس صورتِ حال کے پس منظر میں ایک طرف سعودی حکومت کی مغرب نوازی اور مغربی تہذیبی رجحانات سے بڑھتی ہوئی مرعوبیت کا اثر دیکھا جاسکتا ہے، تو دوسری طرف درباری علماء ، مسلکی عصبیت کے اسیر اور مذہبی اجارہ داری قائم رکھنے کے خواہش مند عناصر کی کارفرمائی بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ خود حضرت مفکرِ اسلام کو اپنی زندگی ہی میں بعض ایسے حلقوں کی معاندانہ تنقید اور پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا جنہیں آپ کی عالمی مقبولیت، علمی وجاہت اور غیر معمولی اثر و رسوخ گوارا نہ تھا۔ آپ کے افکار کو مسلکی عینک سے دیکھنے اور آپ کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں..

 

سعودی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی مفکر کی تصانیف پر پابندی (خواہ تخریبی عناصر کے پروپیگنڈوں کے زیر اثر ہو یا مغربی تہذیب سے مرعوبیت کی بنیاد پر ہو یا ان کی اپنی مذہب بیزاری کے نتیجہ میں ہو) اس کے افکار کی تردید نہیں ہے، بالفرض اگر کسی کتاب کے کسی نظریے یا عبارت پر اعتراض ہے تو اسے علمی دلائل کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ ماضی میں جن اہلِ علم کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہو، ان کی تصانیف کے بارے میں کسی نئے فیصلے کی وجوہات کو واضح کرنا علمی دیانت کا تقاضا بھی ہے اور حسن انتظام کی دلیل بھی!

 

حضرت مفکر اسلام کا مقام نہ کسی سرکاری اعزاز سے قائم ہوا تھا اور نہ کسی ممنوعہ فہرست سے کم ہو سکتا ہے۔ حکومتوں کی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، لیکن حقیقی اہلِ علم کی خدمات تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔

 

کلیسا کے علم مخالف اقدامات کی روشنی میں سمجھنا چاہیے کہ اگر عصر حاضر میں بھی علمی اختلاف کا جواب پابندی اور تحدید سے دیا جائے گا تو یہ اسی فرسودہ طرز فکر کی بازگشت ہوگی جسے تاریخ پہلے ہی ٹھکرا چکی ہے..

 

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ کتابوں کو ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن افکار و نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ بسا اوقات ایسی پابندیاں ان افکار و نظریات کے فروغ کے امکانات کو مزید تقویت دیتی ہیں اور ان کے دائرۂ اثر کو پہلے سے زیادہ وسیع کر دیتی ہیں…!!

Comments are closed.