سچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟

 

محمد برہان الدین قاسمی

(ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ کی قلمی تشکیل)

 

کہتے ہیں "سچ” اور "جھوٹ” جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں ایک ساتھ رہتے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے, لیکن دونوں کی عادتیں اور پسند ناپسند یکسر مختلف تھیں۔

 

ایک دن ’’جھوٹ‘‘ نے ’’سچ‘‘ سے کہا: ’’آؤ، ہم دونوں ایک ساتھ تالاب میں غسل کرتے ہیں۔ تالاب کا پانی بہت صاف اور خوش گوار ہے۔‘‘

 

’’سچ‘‘ کو کچھ شک ہوا۔ اس نے پہلے پانی کو اچھی طرح پرکھا۔ معلوم ہوا کہ پانی واقعی صاف، شفاف اور آرام دہ ہے۔ چنانچہ دونوں نے اپنے کپڑے اتارے، تالاب میں اترے اور غسل کرنے لگے۔

 

اچانک ’’جھوٹ‘‘ پانی سے باہر نکلا، ’’سچ‘‘ کے کپڑے پہنے اور وہاں سے بھاگ نکلا۔

 

’’سچ‘‘ اپنے کپڑے واپس لینے کے لیے تالاب سے باہر نکلا اور چلایا، لیکن تب تک دنیا اسے ننگا دیکھ چکی تھی۔ لوگوں نے نفرت اور غصے سے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔

 

بے چارہ ’’سچ‘‘ شرمندہ ہو کر دوبارہ تالاب میں جا چھپا اور پھر کبھی کبھار صرف اپنی ضرورت کے وقت لوگوں سے بچتے بچاتے باہر نکلتا ہے۔

 

تب سے’’جھوٹ‘‘ آزاد اور "سچ” سے الگ ہو گیا. اب وہ ’’سچ‘‘ کے کپڑے پہن کر دنیا میں گھوم رہا ہے، اور دنیا بھی اس سے بہت خوش ہے۔ کیونکہ دنیا برہنہ ’’سچ‘‘ کا سامنا کرنا نہیں چاہتی، ادھر ’’جھوٹ‘‘ خوب صورت لبادے اور اپنی زبان کی چاشنی سے لوگوں کو نچا رہا ہے۔

 

شریف الطبع ’’سچ‘‘ بھی ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر وہ بغیر کسی پردے کے لوگوں کے سامنے آگیا تو لوگ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟ اسی لیے وہ سب سے اپنا چہرہ چھپا کر اس گہرے تالاب میں ننگا رہنے پر مجبور ہے۔

 

*لیکن سچ کڑوا کیسے ہوا؟*

 

ہوا یوں کہ جب گاؤں والے سچ کے برہنہ پن پر چہ میگوئیاں کر رہے تھے، تو گاؤں کے چودھری کی خوبصورت اور رحم دل بیٹی کو اس پر ترس آ گیا۔ ایک رات وہ چپکے سے تالاب کے کنارے آئی اور سچ سے بولی، "باہر آ جاؤ، میں تمہارے لیے کپڑے لائی ہوں، انہیں پہن لو۔”

 

مگر "سچ” تو سچ ہی ٹھہرا، حد سے زیادہ معصوم اور تھوڑا بے وقوف بھی! اسے گمان ہوا کہ گاؤں کی سب سے حسین لڑکی تنہائی میں اس کی برہنگی سے فائدہ اٹھانے آئی ہے۔ لڑکی نے بار بار اصرار کیا، مگر سچ نے اس کی ایک نہ سنی، بلکہ اسے جھڑک کر واپس بھیج دیا۔

 

اب جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، حسیناؤں کو اپنے حسن پر ناز ہوتا ہے اور اپنی ناقدری پر غصہ بھی۔ سو چودھری کی بیٹی نے واپس جا کر اپنی سہیلیوں میں مشہور کر دیا کہ "سچ بہت کڑوا ہے، اور بے وقوف بھی۔”

 

بس، تب سے بیچارہ سچ ننگا ہونے کے ساتھ ساتھ کڑوا اور بے وقوف بھی کہلانے لگا۔ اب کوئی اسے ننگا کہتا ہے، کوئی کڑوا، اور کوئی بے وقوف کہہ کر طعنہ دیتا ہے۔

 

لوگ اس ’’سچ‘‘ کو دیکھنا اور قبول کرنا نہیں چاہتے جو ان کے لیے ناگوار، بے آرام یا سخت ہو، لیکن اس ’’جھوٹ‘‘ کو بآسانی قبول کر لیتے ہیں جو ’’سچ‘‘ کا نقاب اوڑھ کر ان کے سامنے آتا ہے اور بالآخر انہیں نقصان پہنچا کر ہی جاتا ہے۔

——————–

 

(فرانسیسی مصور ’’ژاں لیون ژیروم‘‘ کی 1896ء کی پینٹنگ ’’Truth Coming Out of Her Well‘‘ سے ماخوذ۔)

Comments are closed.