ریاض میں قاسمی برادران کی ایک یادگار علمی و ادبی نشست
محمد دلشاد قاسمی
ریاض سعودی عرب
لجنہ علمیہ کے زیرِ اہتمام ایک بزمِ علم و ادب کی روداد
گزشتہ شب حضرت مولانا ہارون صاحب قاسمی کے دولت کدے پر لجنہ علمیہ کے زیرِ اہتمام ریاض میں قاسمی برادران کی ایک نہایت خوش گوار، علمی، ادبی اور دعوتی نشست منعقد ہوئی، جس میں احباب نے اپنے اپنے ذوق، فکر اور صلاحیتوں کے اظہار کے ساتھ ایک دوسرے سے استفادے اور باہمی تبادلۂ خیال کا خوب صورت موقع پایا۔ یہ محفل محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی، بلکہ علم و ادب، فکر و نظر، شعر و سخن اور اخوت و محبت کا ایک دل نشیں امتزاج تھی۔
پروگرام کا آغاز حضرت قاری شمشاد صاحب قاسمی کی مسحور کن آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ آیاتِ قرآنیہ کی روح پرور تلاوت نے مجلس کو ایک نورانی فضا عطا کی اور حاضرین کے قلوب کو سرور و انبساط سے معمور کر دیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا ہاشم صاحب قاسمی نے اپنے نہایت شیریں، منفرد اور دل آویز لب و لہجے میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کیا، جس نے محفل کی روحانی کیفیت کو مزید دوبالا کر دیا۔
بعد ازاں پروگرام میں پہلی مرتبہ تشریف لانے والے احباب کو اپنا مختصر تعارف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جس سے باہمی شناسائی کے نئے در وا ہوئے اور مجلس کے دائرۂ تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔
اس کے بعد میزبانِ مجلس حضرت مولانا ہارون صاحب قاسمی نے اپنے مخصوص ظریفانہ اور شگفتہ انداز میں اظہارِ خیال فرمایا۔ ان کی گفتگو کا ہر رنگ جدا اور ہر پہلو دل چسپ تھا۔ کبھی کامیابی کے گر اور زندگی میں آگے بڑھنے کے نسخے بتاتے، کبھی طبی اعتبار سے مفید اور مجرب نسخوں سے حاضرین کو روشناس کراتے، کبھی اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات کی پرتیں کھولتے اور کبھی اشعار و غزلیات کے ذریعے میر و فراز کی یاد تازہ کرتے۔ ان کی گفتگو میں جہاں مزاح کی چاشنی تھی، وہیں تجربے کی گہرائی، مشاہدے کی وسعت اور زندگی کے نشیب و فراز سے حاصل ہونے والی حکمت بھی نمایاں تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سنجیدگی اور ظرافت نے ایک ہی شخصیت میں خوب صورت امتزاج اختیار کر لیا ہے۔
اس کے بعد حضرت قاری خورشید صاحب قاسمی نے حضرت قاری صدیق صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور و معروف نظم:
’’ذکرِ خدا میں ہر دم رہنا، سب کے بس کی بات نہیں‘‘
اپنی شیریں اور مترنم آواز میں پیش کی۔ نظم کے اشعار اور ان کی دل کش ادائیگی نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔
پھر حضرت مولانا جمیل صاحب قاسمی نے ہندوستان کے موجودہ حالات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ملک کی صورتِ حال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا اور اس سنگین صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مجلس میں موجود احباب سے تجاویز طلب کیں۔
اس موقع پر بندۂ ناچیز محمد دلشاد قاسمی نے اپنی گزارشات پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کے انفرادی اور اجتماعی سطح کے بیشتر فتنے حکومتی سرپرستی یا اقتدار کے سہارے پروان چڑھائے جا رہے ہیں۔ ایسے نازک دور میں محض شکوہ و شکایت کافی نہیں، بلکہ ہمیں دو محاذوں پر بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے: ایک طرف اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت اور دینی تشخص کی بقا کے لیے پوری سنجیدگی سے کوشاں رہیں، تو دوسری طرف سیاسی میدان میں بھی اپنی مؤثر موجودگی یقینی بنائیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سیاسی قوت کو منظم و مستحکم کریں، اجتماعی شعور بیدار کریں اور ایک متحد و مؤثر قوت بن کر اپنے حقوق اور ملی تشخص کے تحفظ کی جدوجہد کریں۔
اس کے بعد حضرت مولانا انعام الحق قاسمی صاحب نے نہایت اہم اور قابلِ توجہ بات ارشاد فرمائی کہ موجودہ حالات میں ایمان کی حفاظت کا سب سے مؤثر ذریعہ دعوت و تبلیغ ہے۔ ہمیں اس عظیم فریضے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور حکمت و بصیرت کے ساتھ دعوت کے کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس فکری و دعوتی گفتگو کے بعد محفل نے ایک مرتبہ پھر شعر و سخن کا رخ کیا۔ حضرت قاری شمشاد صاحب قاسمی نے اپنی دھیمی، پرسوز اور دل نشیں آواز میں ایک خوب صورت غزل پیش کی، جس نے سامعین کو اپنے سحر میں لے لیا۔ اس کے بعد مفتی منصور صاحب قاسمی نے یکے بعد دیگرے تین غزلیں بالکل جداگانہ انداز اور منفرد لہجے میں پیش کیں۔ ہر غزل کا اپنا رنگ، اپنی کیفیت اور اپنی تاثیر تھی؛ تاہم حاضرین نے بالخصوص ’’اب تو پلٹ کر آ جاؤ‘‘ کو بے حد پسند کیا اور اسے خصوصی طور پر سراہا۔
بالآخر حضرت مولانا انعام الحق قاسمی صاحب کی دعا پر اس بزمِ علم و ادب کا اختتام ہوا۔ دعا کے ساتھ ہی محفل کی علمی و فکری سرگرمیاں تو اپنے اختتام کو پہنچیں، لیکن اس کی خوش گوار یادیں یقیناً دیر تک دلوں میں تازہ رہیں گی۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پورے پروگرام کی نظامت کی سعادت بندۂ ناچیز محمد دلشاد قاسمی کے حصے میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ احباب کی محبت اور تعاون سے یہ ذمہ داری بحسن و خوبی انجام پائی۔
پروگرام کے اختتام پر ضیافت کا بھی معقول اہتمام تھا۔ حلیم، بریانی اور ساتھ میں گلاب جامن! اہلِ ذوق کے لیے گویا محفل کی ادبی شیرینی کے ساتھ ذائقے کی مٹھاس کا بھی خوب صورت انتظام تھا۔ احباب نے خوب لطف اٹھایا، تناولِ طعام کے بعد ایک دوسرے سے رخصت لی اور اپنی اپنی رہائش گاہوں کی جانب روانہ ہو گئے۔
اس موقع پر دو احباب کا خصوصی تذکرہ نہ کرنا یقیناً ناسپاسی ہوگی۔ حضرت مولانا محفوظ صاحب قاسمی اور حضرت مولانا عبدالباسط صاحب قاسمی نے مجھے الملز پہنچانے اور وہاں سے شارعِ خزان تک آنے میں جس خلوص اور تعاون کا مظاہرہ کیا، وہ میرے لیے لائقِ تشکر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کے اخلاص و محبت کو قبول فرمائے اور انہیں بہترین بدلہ نصیب کرے۔
بلاشبہ پردیس کی مصروف اور قدرے مشینی زندگی میں اس طرح کی علمی و ادبی نشستیں تازہ ہوا کے جھونکے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ محض چند افراد کا یکجا ہو جانا نہیں، بلکہ اپنے علمی، ادبی، فکری اور دینی رشتوں کو تازہ کرنے، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور اجتماعی شعور کو جلا بخشنے کا ایک حسین ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ اس طرح کی بابرکت محفلوں کے انعقاد کے مواقع بار بار نصیب فرمائے، احباب کے اس شیرازے کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور ہمیں باہمی محبت و اخوت کے ساتھ علم و ادب، دعوت و اصلاح اور ملت کی سربلندی کے لیے مل جل کر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Comments are closed.