نعمتوں کے چھن جانے سے پہلے!

 

 

محمد شاہد ناصری حنفی

ادارہ دعوۃ السنہ ویلفیئر ٹرسٹ کاندیولی ممبئی

 

انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جس نعمت کے درمیان زندگی گزارتا ہے، اکثر اسی کی قدر سے بے خبر رہتا ہے۔ صحت میسر ہو تو بیماری کا احساس نہیں، دولت ہو تو محتاجی کا اندیشہ نہیں، عزت و اقتدار حاصل ہو تو زوال کا تصور نہیں، اور سب سے بڑھ کر ایمان و ہدایت کی دولت نصیب ہو تو اس کے چھن جانے کا خوف دل میں نہیں جاگتا۔ حالاں کہ انسان کی پوری زندگی انہی نعمتوں کی امانت داری کا نام ہے؛ یہ اس کی ذاتی ملکیت نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں، اور عطا کرنے والا ہی ان کے باقی رہنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ کی ایک جامع دعا اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

 

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ۔

 

ترجمہ: اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہو جانے، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے، تیری اچانک پکڑ اور تیرے ہر طرح کے غضب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 2739)

 

دعا کا آغاز ہی ایک ایسے اندیشے سے ہوتا ہے جس کی طرف عام طور پر انسان کی توجہ نہیں جاتی: زَوَالِ نِعْمَتِكَ، یعنی اے اللہ! تیری نعمتوں کے چھن جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یہاں نعمت کا مفہوم صرف مال و دولت، جاہ و منصب اور آسائش و سہولت تک محدود نہیں، بلکہ ایمان، اسلام، ہدایت، علم، عمل، اخلاص اور توفیقِ عبادت سے لے کر صحت، سکون، اہل و عیال، عزت و آبرو اور رزق تک ہر وہ عطیہ اس میں شامل ہے جس سے انسان کی دنیا اور آخرت سنورتی ہے۔ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی اس کی تشریح میں واضح کیا ہے کہ اس نعمت میں دین و دنیا دونوں کی نعمتیں شامل ہیں۔

 

ذرا اس پہلو پر غور کیجیے کہ مال و دولت کا نقصان ہو تو انسان بے چین ہو جاتا ہے، صحت چھن جائے تو اسے اپنی بے بسی کا احساس ہوتا ہے، منصب جاتا رہے تو اس کا سکون غارت ہو جاتا ہے؛ لیکن ایمان کی حرارت کم ہونے لگے، عبادت سے دل اچاٹ ہو جائے، گناہ معمول بن جائیں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور پڑنے لگے تو بسا اوقات اسے اپنی سب سے قیمتی متاع کے لٹ جانے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ حالاں کہ یہ ایسا خسارہ ہے جس کا بدل دنیا کی کوئی دولت نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید نے نعمتوں کے دوام کا اصول واضح کرتے ہوئے فرمایا: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم: 7) اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ گویا نعمت کا شکر محض زبان سے اعترافِ احسان نہیں، بلکہ اس عطیے کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا نام بھی ہے۔

 

دوسرا جملہ ہے: وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، یعنی اے اللہ! تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے سے مجھے محفوظ رکھ۔ عافیت کا دائرہ محض جسمانی صحت تک محدود نہیں؛ دل کا اطمینان، ایمان کا استحکام، ذہنی سکون اور دینی سلامتی بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ آدمی بظاہر تندرست ہو، مگر دل اضطراب میں مبتلا ہو؛ مال و اسباب کی فراوانی ہو، مگر سکونِ قلب میسر نہ ہو؛ زبان پر دین کا ذکر ہو، مگر عمل میں اس کی روح باقی نہ رہے، تو ایسی زندگی کو مکمل عافیت کیسے کہا جا سکتا ہے؟ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں عافیت اور یقین کو بندے کی سعادت کے بنیادی اسباب میں شمار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عافیت کی قدر اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب انسان اس کے کسی حصے سے محروم ہو جاتا ہے۔

 

تیسرا جملہ ہے: وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، یعنی اے اللہ! تیری اچانک گرفت سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ بعض آزمائشیں بتدریج آتی ہیں اور انسان کو سنبھلنے اور اصلاح کا موقع مل جاتا ہے، لیکن بعض گرفتیں ایسی ناگہانی ہوتی ہیں کہ مہلت کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آتا۔ انسان اپنے منصوبوں میں مصروف، مستقبل کے خوابوں میں مگن اور اپنی تدبیروں پر مطمئن ہوتا ہے، مگر اسے خبر نہیں ہوتی کہ زندگی کا منظر بدلنے والا ہے۔ قرآن مجید نے اسی غفلت سے متنبہ کیا ہے: کیا بستیوں کے لوگ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا عذاب رات کے وقت یا دن چڑھے ان پر آ جائے، جب وہ کھیل کود میں مشغول ہوں؟ (الاعراف: 97-98)

 

اس میں ایک نہایت اہم تنبیہ پوشیدہ ہے کہ مہلت کو رضائے الٰہی کی سند نہ سمجھا جائے۔ گناہ کے باوجود آسائشوں کا میسر رہنا، نافرمانی کے باوجود دنیاوی کامیابیوں کا حاصل ہونا اور بار بار مہلت ملتے رہنا اس بات کی دلیل نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہے۔ مہلت دراصل اصلاح کا موقع ہے؛ جو اسے غفلت میں گزار دے، وہ اپنے لیے سب سے بڑی محرومی کا سامان کرتا ہے۔

 

دعا کا آخری حصہ ہے: وَجَمِيعِ سَخَطِكَ، یعنی اے اللہ! میں تیرے ہر طرح کے غضب اور ناراضی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ یہاں کسی ایک لغزش یا کسی خاص گناہ سے پناہ نہیں مانگی گئی، بلکہ ہر اس قول، فعل اور طرزِ عمل سے حفاظت طلب کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ انسان کو اپنے ظاہر کے ساتھ باطن کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے؛ کیوں کہ بسا اوقات زبان کے گناہ، دل کے امراض، نیت کی خرابی اور حقوق العباد میں کوتاہی ایسی خاموش لغزشیں ہوتی ہیں جنہیں انسان معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی جواب دہی سے بچنا ممکن نہیں۔

 

اس دعا کا امتیاز یہ ہے کہ یہ محض نعمتوں کے باقی رہنے کی درخواست نہیں، بلکہ ان اسباب سے حفاظت کی التجا بھی ہے جو نعمتوں کے زوال، عافیت کے بدلنے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لیے دعا کے ساتھ اپنا طرزِ عمل بھی درست ہونا چاہیے۔ شکر کے بغیر نعمت کی قدر ادھوری ہے، توبہ کے بغیر گناہ سے نجات کی آرزو بے معنی ہے اور اطاعت کے بغیر رضائے الٰہی کا دعویٰ بے حقیقت ہے۔

 

زندگی کی سب سے بڑی دانائی شاید یہی ہے کہ انسان نعمتوں کے ہوتے ہوئے ان کی قدر کرے، عافیت کے زمانے میں اپنے رب کو یاد رکھے اور مہلت ملنے پر اپنی اصلاح کر لے۔ کیوں کہ محرومی کے بعد نعمت کی قدر کرنے سے بہتر ہے کہ نعمت کے باقی رہتے ہوئے اس کا حق ادا کیا جائے۔ اور بندۂ مومن کی سب سے بڑی سعادت یہ نہیں کہ اسے دنیا کی ہر نعمت حاصل ہو، بلکہ یہ ہے کہ جن نعمتوں سے نوازا گیا ہے، ان کے ساتھ اس کا ایمان، اس کا شکر اور اس کا تعلقِ بندگی بھی سلامت رہے۔

Comments are closed.