فقہ اسلامی میں علماء بہار کی خدمات پر دو روزہ قومی سیمینار بحسن و خوبی اختتام پذیر

 

 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدارت میں ملک بھر کے علماء و محققین کی شرکت، فقہی ورثے کے تحفظ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے دس اہم تجاویز منظور

 

کٹہری، مغربی چمپارن، 5 نومبر 2026ء: ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن، پھلواری شریف، پٹنہ کے زیر اہتمام شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج کے سیمینار ہال میں ’’فقہ اسلامی میں علماء بہار کی خدمات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار جمعرات 5 نومبر کو متعدد علمی و فکری مباحث، تحقیقی مقالات اور اہم تجاویز و سفارشات کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ سیمینار کی صدارت فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے فرمائی، جب کہ مفکر ملت حضرت مولانا محمد انیس الرحمن قاسمی، کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل اور صدر ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن، سیمینار کے سرپرست اور روحِ رواں تھے۔ سیمینار میں ملک کے مختلف حصوں سے پچاس سے زائد مقالہ نگاروں، علماء، مفتیان، محققین اور دانشوروں نے شرکت کی، جب کہ بہار کے مختلف علاقوں سے بھی علماء، اساتذہ اور علمی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

 

یہ سیمینار 4 اور 5 نومبر کو تین علمی نشستوں پر مشتمل تھا۔ پہلی نشست 4 نومبر کو صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے تک، دوسری نشست اسی روز شام چھ بجے سے رات ساڑھے نو بجے تک اور تیسری و آخری نشست 5 نومبر کو صبح ساڑھے نو بجے سے دوپہر ایک بجے تک منعقد ہوئی۔ ان نشستوں میں علماء بہار کی فقہی خدمات کے مختلف تاریخی، علمی، تحقیقی اور عملی پہلوؤں پر مقالات پیش کیے گئے، جن کے ذریعے بہار کے فقہی سرمایے، علمی روایت اور برصغیر کی فقہی تاریخ میں یہاں کے علماء کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔

 

سیمینار کے دوسرے دن بھی متعدد اہم اور وقیع مقالات پیش کیے گئے۔ ان میں بطور خاص حضرت مولانا مفتی ظفیر الدین صاحب، سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند کی علمی و فقہی خدمات پر ان کے صاحب زادے مولانا احمد سجاد اصاحب کا مقالہ خاص اہمیت کا حامل رہا۔ مقالے میں حضرت مفتی صاحب کی علمی شخصیت اور فقہی خدمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔ مقالے کے بعد حضرت مولانا محمد شاہد ناصری حنفی، بانی و صدر ادارہ دعوۃ السنہ ویلفیئر ٹرسٹ، کاندیولی، ممبئی اور مدیر ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی نے مقالے اور اس میں مذکور شخصیت کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مفتی صاحب سے اس حقیر کا بھی اور مولانا مفتی اختر امام عادل صاحب قاسمی کا بھی دیرینہ تعلق رہا ہے۔ مفتی اختر امام عادل صاحب کو حضرت مفتی صاحب ’’پیر جی‘‘ فرمایا کرتے تھے، جب کہ مجھے ’’پیر صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب فرماتے تھے اور کبھی ’’مہتمم صاحب‘‘ بھی فرمایا کرتے تھے، اوربعد نماز عصر چائے سے ہماری ضیافت فرماتے تھے ۔

 

مولانا ناصری نے مولانا احمد سجاد صاحب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مفتی صاحب کے ہزاروں فتاویٰ کو مرتب و مدون کرکے شائع کرنا، ان کے افکار و خیالات، مقالات اور پون صدی پر پھیلی ہوئی علمی و فقہی روایات کو تحریری شکل میں محفوظ کرکے امت کے سامنے پیش کرنا اولاد صالح ہونے کی حیثیت سے آپ کی اہم ذمہ داری ہے۔ یہ وقت کا تقاضا بھی ہے اور ایک اہم علمی ضرورت بھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس کام کا عزم کرکے آگے بڑھیں گے تو حضرت مفتی صاحب کے تمام منتسبین، متعلقین اور شاگرد آپ کے معاون ہوں گے۔ ان شاء اللہ میں بھی اپنی جانب سے اور اپنے ادارے کی طرف سے اس علمی کام میں تعاون کروں گا۔ مولانا ناصری کے ان خیالات کا حاضرین نے خوشی اور مسرت کے ساتھ استقبال کیا۔

 

دوسرے دن پیش کیے گئے مقالات میں مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی کا مقالہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل رہا اور اسے سیمینار کے حاصلِ علمی میں شمار کیا گیا۔

 

سیمینار کے اختتام پر صدرِ سیمینار حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج اور اس سے وابستہ تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ، طالبات اور اساتذہ سے خصوصی خطاب فرمایا۔ انہوں نے فقہ اسلامی کی حقیقت اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار فقہ کے موضوع پر منعقد ہوا ہے، لیکن فقہ محض چند مسائل اور احکام کے جاننے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔

 

انہوں نے انسانی زندگی کے تین طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلا طریقہ عدل ہے، یعنی انسان اپنا حق بھی پورا حاصل کرے اور دوسروں کے حقوق بھی پوری طرح ادا کرے۔ دوسرا طریقہ احسان ہے، جو عدل سے بلند تر مقام رکھتا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے حق میں کچھ کمی کو خوش دلی سے قبول کرلے اور دوسروں کو ان کے حق سے بڑھ کر عطا کرے۔ اس کے برخلاف تیسرا طریقہ ظلم ہے، جس میں انسان اپنا حق بڑھا کر حاصل کرتا ہے اور دوسروں کو ان کے جائز حق سے بھی محروم رکھتا ہے۔ عدل ضروری، احسان پسندیدہ اور ظلم ناجائز ہے۔

 

مولانا رحمانی نے مزید فرمایا کہ فقہ انسان کو عدل و احسان کی تعلیم دیتی اور ظلم سے بچنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی، تدریسی اور عملی زندگی میں عدل و احسان کے ان اصولوں کو اپنائیں۔ علم حاصل کرنے اور علم سکھانے کا عمل محض ایک پیشہ یا رسمی ذمہ داری نہ ہو، بلکہ اس کے پیچھے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی، خیر خواہی اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی موجود ہو۔

 

اس موقع پر مفکر ملت حضرت مولانا محمد انیس الرحمن قاسمی نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے علم کی اہمیت، ضرورت اور اس کی حقیقی قدر و منزلت کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ علم انسان کی شخصیت کی تعمیر، اس کے فکر و کردار کی اصلاح اور معاشرے کی رہنمائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ حصولِ علم کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد بنائیں، اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں اور اپنے علم کو صرف ذاتی ترقی تک محدود رکھنے کے بجائے ملت و سماج کی خدمت کا وسیلہ بنائیں۔

 

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کی اصل کامیابی صرف عمارتوں، سہولتوں اور ڈگریوں سے نہیں، بلکہ ایسے باصلاحیت، باکردار اور صاحبِ مقصد افراد کی تیاری سے ہوتی ہے جو علم کے ساتھ اخلاق، تہذیب، ذمہ داری اور خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں۔

 

خصوصی خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی عمر عابدین نے طلبہ و طالبات کو کتابوں سے گہرا تعلق قائم کرنے، مطالعے کی عادت پیدا کرنے اور غیر ضروری طور پر گیجٹس میں وقت ضائع کرنے سے بچنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے تعلیم میں اختصاص اور مہارت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مطالعہ انسان کی فکر کو وسعت، ذہن کو پختگی اور شخصیت کو علمی وقار عطا کرتا ہے۔

 

انہوں نے طلبہ کو اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کرنے، ترجیحات طے کرنے اور وقت کی قدر پہچاننے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیاب زندگی کے لیے صرف مصروف رہنا کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ انسان کس مقصد کے لیے محنت کر رہا ہے اور اس کی محنت اسے کہاں لے جارہی ہے۔

 

اس موقع پر مولانا مفتی عمر عابدین کی علمی و تحقیقی تصنیف ’’ریاض الازھار فی تراجم اعلام بہار‘‘ کی رونمائی بھی عمل میں آئی۔ کتاب کی اشاعت کو بہار کی علمی و دینی شخصیات کے حالات اور ان کی خدمات کو محفوظ کرنے کی سمت ایک اہم علمی پیش رفت قرار دیا گیا۔

 

دوسری اور تیسری نشست میں مقالہ پیش کرنے والوں میں مولانا اختر امام عادل، مولانا ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی شمسی، مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی، مولانا مفتی عمر عابدین، مولانا محمد نافع عارفی، مولانا احمد سجاد قاسمی، مولانا ڈاکٹر شاہجہاں قاسمی، مولانا صابر مدنی، مولانا آصف انظار صدیقی ندوی، مولانا سید امانت حسین، مولانا ڈاکٹر سرور عالم ندوی، مولانا انس عباد صدیقی، مولانا محمد شافع عارفی، مولانا عامر مظہری، مولانا اسامہ قمر النبی، مولانا خالد ضیاء ندوی، مولانا آصف اقبال، مولانا آفتاب غازی قاسمی، مفتی مہتاب عالم قاسمی، مولانا سلیم الدین قاسمی، مولانا سعید انور مظاہری، مولانا نجم الہدیٰ قاسمی، مولانا رضا اللہ قاسمی، مولانا جمال الدین قاسمی اور مولانا فیضان احمد قاسمی سمیت متعدد اہلِ علم و تحقیق شامل تھے۔ مقالہ نگاروں نے بہار کے فقہاء و مفتیان کی علمی خدمات، فقہی تصانیف، فتاویٰ، تدریسی و تحقیقی روایت اور مختلف ادوار میں فقہ اسلامی کے فروغ میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انجینئر حسین صاحب، مولانا نعمان صاحب اور مولانا محمد شاہد ناصری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 

سیمینار میں علماء بہار کے فقہی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے دس اہم تجاویز منظور کی گئیں، جنہیں ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے سکریٹری مولانا سید محمد عادل فریدی نے پیش کیا۔ شرکاء نے ان تجاویز کو بالاتفاق منظور کیا۔ ان میں علماء بہار کے فقہی سرمایے کی تلاش، تدوین و اشاعت، فقہاء و محدثین کا جامع تذکرہ مرتب کرنے، قدیم فتاویٰ اور مخطوطات کو محفوظ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مستند ڈیجیٹل لائبریری قائم کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔

 

منظور شدہ تجاویز میں درج ذیل امور شامل ہیں:

 

1. فقہ اسلامی میں علماء بہار کی خدمات پر تحقیقی مطالعات کا فروغ: اس موضوع پر منظم اور مستند علمی تحقیقات، قومی سیمیناروں اور علمی مذاکروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

2. فقہی سرمایے کی تلاش، تدوین اور اشاعت: علماء بہار کی مطبوعہ و غیر مطبوعہ تصانیف، مخطوطات، فتاویٰ، رسائل، شروح، حواشی اور علمی مراسلات کو تلاش کرکے ان کی فہرست سازی اور تحقیقی اشاعت کا جامع منصوبہ بنایا جائے۔

3. فقہاء و محدثین بہار کا جامع تذکرہ: بہار کے فقہاء، مفتیان، اصحابِ افتاء، فقہی مصنفین اور محدثین کے حالات، علمی خدمات، اساتذہ، تلامذہ اور تصانیف پر مشتمل جامع تذکرہ اور موضوعاتی اشاریہ مرتب کیا جائے۔

4. فتاویٰ اور فقہی ذخیرے کی حفاظت و ڈیجیٹلائزیشن: مدارس، دارالافتاء، خانقاہوں اور علمی اداروں میں محفوظ فتاویٰ و مخطوطات کو جمع کرکے ان کی موضوعاتی درجہ بندی اور ڈیجیٹل حفاظت کا انتظام کیا جائے اور ایک مستند ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے۔

5. ملک کے علمی و تحقیقی اداروں کے فقہی کاموں کا اشاریہ: جامعات، فقہی اکیڈمیوں اور تحقیقی مراکز میں فقہ اسلامی کے موضوعات پر جاری اور مکمل ہونے والی تحقیقات کا جامع اشاریہ تیار کیا جائے، تاکہ علمی تکرار سے بچا جاسکے اور باہمی استفادے کے مواقع پیدا ہوں۔

6. عصر حاضر کے فقہی مسائل اور جدید قانونی تقاضے: اسلامی مالیات، ڈیجیٹل تجارت، طبی و حیاتیاتی مسائل، اقلیتوں کے شرعی مسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے فقہی مباحث پر خصوصی سیمینار منعقد کیے جائیں۔ فقہ اسلامی کے مباحث اور احکام کو جدید قانونی اصطلاحات سے ہم آہنگ کرکے ملکی و بین الاقوامی عدالتی اور قانونی اداروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

7. فقہی تعلیم و تدریس اور نصاب کی ترقی: مدارس میں فقہ، اصولِ فقہ، قواعدِ فقہیہ اور مقاصدِ شریعت کی تدریس، نصاب اور تدریسی اسالیب کا جائزہ لے کر ان کی اصلاح و ترقی کے لیے تجاویز مرتب کی جائیں اور ممتاز علمی اداروں کا تعاون حاصل کیا جائے۔

8. نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی: علماء بہار کی فقہی و حدیثی خدمات پر ایم فل، پی ایچ ڈی اور دیگر تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، معیاری مقالات شائع کیے جائیں اور ممتاز فقہاء و محدثین کے نام سے علمی اعزازات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

9. تجاویز پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی کی تشکیل: منظور شدہ سفارشات کو عملی جامہ پہنانے، ترجیحات طے کرنے، منصوبہ بندی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک مختصر مدتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

10. اظہارِ تشکر و اعترافِ خدمات: سیمینار کے کامیاب انعقاد پر حضرت مولانا محمد انیس الرحمن قاسمی، ان کے صاحب زادوں، انیس گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے تمام اداروں، ذمہ داران، اساتذہ، کارکنان اور متعلقین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے لیے اظہارِ تشکر کیا گیا۔

 

سیمینار کے اختتام پر معزز مہمانوں کے ذریعے نیکسس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں جدید ورکشاپ اور ایک ہاسٹل و مسافر خانے کا سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا۔ مہمانوں نے یہاں قائم تعلیمی اداروں کا دورہ کیا، ان کے تعلیمی و تربیتی انتظامات کا مشاہدہ کیا اور اداروں کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اپنی نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازا۔

 

سیمینار کی اختتامی قرارداد میں حضرت مولانا محمد انیس الرحمن قاسمی، صدر ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن، پھلواری شریف، پٹنہ اور کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل کی علمی سرپرستی اور اس باوقار قومی سیمینار کے کامیاب انعقاد پر خصوصی طور پر اظہارِ تشکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے صاحب زادوں اور انیس گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے تمام اداروں، بالخصوص ابوالکلام مائنارٹی ٹیچرس کالج، شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج، چمپارن نرسنگ کالج، نیکسس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نیکسس کالج آف مینجمنٹ اینڈ ہائر اسٹڈیز، انجم ووکیشنل اینڈ مینجمنٹ کالج، شمس ووکیشنل کالج، ابوالکلام انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اینڈ مینجمنٹ، چمپارن پیرامیڈیکل کالج، نشا لا کالج، نشا ڈگری کالج، انجم ڈگری کالج، ابوالکلام ڈگری کالج اور معہد السلام کے ذمہ داران، اساتذہ، کارکنان اور متعلقین کی خدمات کو سراہا گیا، جنہوں نے مہمانوں کے استقبال، قیام و طعام، ضیافت اور سیمینار کے دیگر انتظامی امور میں بھرپور تعاون کیا۔

 

سیمینار کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ علماء بہار کی فقہی و علمی خدمات کو محض تاریخی تذکروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں تلاش، تحقیق، تدوین، اشاعت اور جدید علمی ذرائع کے ذریعے نئی نسل اور علمی دنیا تک پہنچایا جائے گا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ اس سیمینار کی منظور شدہ تجاویز بہار کے علمی ورثے کے تحفظ اور فقہ اسلامی کے فروغ کے لیے ایک مستقل تحقیقی تحریک کی بنیاد ثابت ہوں گی۔

Comments are closed.