مولانا مفتی محمد ثمین اشرف قاسمی

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

نامور عالم دین اور بافیض روحانی شخصیت حضرت مولانا مفتی ثمین اشرف قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بن حاجی محمد ابراہیم نقْش بندی بن حاجی جان علی بن قادر بخش کا وصال 3/ اکتوبر 2026ء مطابق 21/ ربیع الآخر 1448ھ روز سنیچر شام چھ بجکر چالیس منٹ پر ان کے وطن ثانی علی گڑھ میں ہو گیا، ان کی صحت کو کرونا کے وقت سے ہی متأثر ہو گئی تھی، مسلسل آکسیجن ہر وقت ان کے ساتھ رہتا تھا، ادھر ایک ماہ سے طبیعت زیادہ بگڑ گئی تھی، علاج جاری رہا اور ملک الموت نے اپنا کام کر لیا، جنازہ دوسرے دن ان کے وطن اصلی مادھوپور سلطان پور، سیتا مڑھی لایا گیا اور 4/ اکتوبر کو نو بجے شب ادارہ دعوۃ الحق مادھوپور سلطان پور کی مسجد اور مدرسہ کے وسیع صحن میں ان کے صاحب زادہ نقیب اشرف نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور مفتی صاحب کی وصیت کے مطابق ان کے والد کے پہلو میں ان کی قبر بنی، پس ماندگان میں اہلیہ، تین لڑکے اور دو لڑکیوں کو چھوڑا، جنازہ میں علماء، صوفیاء، ذمہ داران مدارس اور عام مسلمانوں کا جم غفیر امڈا تھا، مفتی صاحب کے بھتیجا مولا نا لبیب اشرف قاسمی نے آنے والوں کے لیے بہت سہولت فراہم کی تھی اور اچھا انتظام کیا تھا، نماز جنازہ سے قبل اپنے تفصیلی تعزیتی بیان میں احقر (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) نے مفتی ثمین اشرف قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علمی، ملی اور روحانی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ مفتی ثمین اشرف قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اکابر کے منظور نظر تھے، تصوف کے اعتبار سے ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند تھا، وہ علاقے کی مشہور بزرگ شخصیت حضرت مولا نا شمس الہدیٰ صاحب راجوی سے بھی بہت قریب تھے اور بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے، اس موقع پر امارت شرعیہ کا ایک مؤقر وفد حضرت امیر شریعت کے حکم اور ناظم امارت شرعیہ کی ہدایت پر احقر (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) کی معیت میں جنازے اور تدفین میں شریک ہوا اور دونوں کی جانب سے تعزیتی کلمات متعلقین تک پہونچائے، وفد میں سیتا مڑھی ضلع تنظیم کے صدر ڈاکٹر ساجد علی خاں، دیگر کئی ارکان کے ساتھ ادارہ ادب اسلامی ویشالی کے صدر مولانا محمد نظر الہدیٰ قاسمی نائب نقیب امارت شرعیہ اور مدرسہ مدنی بسہیا شیخ شیبو ہر کے استاذ مفتی محمد ظفر الہدیٰ قاسمی بھی شریک تھے، مفتی ثمین اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو امارت شرعیہ اور اکابر امارت سے بڑی عقیدت و محبت تھی، امیر شریعت سابع اور ثامن کا جب بھی متحدہ عرب امارات کا دورہ ہوتا، حضرت مفتی صاحب انہیں بڑی عقیدت ومحبت سے اپنے یہاں مدعو کیا کرتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی ثمین اشرف قاسمی کی ولادت ان کے آبائی گاؤں مادھوپور سلطان پور میں 1959ء میں ہوئی، ان کی نانی ہال سیتا مڑھی کے ایک گاؤں تھروٹ میں تھی، شادی دور طالب علمی میں ہی اپنے چچا جناب عبد الصمد صاحب کی دختر نیک اختر سے ہو گئی تھی، مفتی صاحب نے مکتب کی تعلیم مولانا محمد سلیم صاحب سے اپنے گاؤں میں پائی، عصری تعلیم کے لیے اورائی مڈل اسکول میں داخلہ لیا اور ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندوی کے مدرسہ جامعہ عربیہ جامعہ عربیہ ہتھوڑہ، باندہ (یوپی) کے لیے رخت سفر باندھا، فارسی اور ابتدائی عربی کے درجات کی تعلیم یہیں ہوئی، اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیو بند تشریف لے گئے اور سند فراغت یہیں سے حاصل کی اور افتاء کی تکمیل بھی، فراغت کے بعد حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی کی تحریک پر فتح پور شیخاواتی قاضی ومفتی کی حیثیت سے جانا ہوا، وہاں آپ نے مدرسہ اشرف العلوم کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، بعد میں انہوں نے اس مدرسہ کی تدریسی وہ انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں، ابتدائی دور میں یہ مدرسہ بہاری اساتذہ کا بڑا مرکز تھا، میرے بڑے بھائی ماسٹر محمد ضیاء
الہدیٰ رحمانی (م 2018) برادر نسبتی جناب خورشید عالم عرف
پھول بابو، بوکھرا ضلع سیتامڑھی کے مولانا خلیق الزماں مرحوم
اور مولانا نسیم احمد صاحب بھی ان دنوں وہیں ہوا کرتے تھے، فتح پور شیخاواتی کے بہت لوگ عرب رہتے ہیں،چنانچہ مفتی صاحب کو موقع عمان جانے کا مل گیا، 1981ء سے 2001ء تک انہوں نے وہاں کی فوج میں ملازمت کی، قدر و قامت بہت موزوں تھا، دھیرے دھیرے مقبولیت بڑھتی چلی گئی، عمان کے قیام کے دوران وہاں ملازمت کے ساتھ درس قرآن، درس حدیث اور امامت کے فرائض بھی انجام دینے لگے، ان
دونوں ان کے بڑے بھائی مولانا امین اشرف قاسمی بھی وہیں تھے، دونوں بھائیوں نے مل کر ادارہ دعوۃ الحق کو علمی اعتبار سے ترقی دینے کا منصوبہ بنایا، ان دنوں مدرسہ سفال پوش تھا، میرے رفیق درس مولانا عبد الرزاق قاسمی بانی و سابق ناظم مدرسہ قاسمیہ بینی آباد ضلع مظفرپور اس کے ذمہ دار تھے، میرا بھی آنا جانا امتحان لینے کے لیے لگا رہتا تھا، اس طرح واقعہ یہ ہے کہ میں نے اس مدرسہ کو زمین سے اٹھتے دیکھا ہے، آج عالی شان مسجد اور وسیع عمارتیں ان دونوں بھائیوں کی جہد مسلسل کی بہترین یادگار ہیں، اب یہ مدرسہ ہی نہیں کامیاب اسکول کے طور پر بھی کام کر رہا ہے، مولانا لبیب اشرف ان دنوں اس کے ذمہ دار ہیں۔
عمان کے بعد شیخ سلطان بن خلیفہ الحبتور کی دعوت پر مفتی ثمین اشرف صاحب دبئی کے ایک بڑے حلقے بَر دبئی کے مصلیٰ الحبتور میں امامت کے فرائض انجام دینے لگے، 7 جولائی 2026 تک یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا، یہ مصلیٰ صرف نماز کی جگہ نہیں تھی، بلکہ ذکر کی مجلس، وعظ و تقرير اور درس تفسیر کا بڑا مرکز تھا، ان کی اصلاحی مجلسیں ہر روز عشاء کی نماز کے بعد اور جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد منعقد ہوتی تھیں، جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے، وہ ایک طویل عرصے تک مسجد غریر میں جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد حدیث کا درس بھی
دیتے رہے، ہندوستان بھر میں ان کا ایک وسیع حلقہ عقیدت تھا، جس میں ان کے معتقدین و متوسلین شامل تھے، میرا بھی آنا جانا دبئی لگا رہتا تھا، جب تک وہاں وعظ و تقرير پر پابندی نہیں لگتی تھی، کبھی کبھی ان دونوں جگہوں پر ہماری تقریر اور دعا بھی ہوا کرتی تھی، حضرت مفتی صاحب کا انداز ہی نرالا تھا، اس کی نقل کرنا ہم جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں تھی، جب دبئی کے حکیم اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم محمد بن راشد المکتوم کا میں جائزہ دبئی قرآن میں مہمان ہوا اور دس سے زیادہ محاضرے مختلف آڈیو ریم اور مساجد میں احقر نے دیے تو مفتی صاحب اور سلمان صدیقی مرحوم کو بڑی خوشی ہوئی اور ان حضرات نے بڑی حوصلہ افزائی فرمائی۔
مفتی صاحب علماء اور مشائخ کے بڑے قدر ردان اور مہمان نواز تھے، دبئی اور متحدہ عرب امارات میں کوئی بزرگ اور عالم پہنچتے تو مفتی صاحب کی ضیافت سے ضرور مستفید ہوتے، جمعہ کے دن ان کے دسترخوان پر لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، میں بھی مدعو ہوتا اور ان کے خوان یغما سے بھرپور فائدہ اٹھاتا، مولانا کے یہاں دال فرمائش کر کے بنواتا، ان کی اہلیہ دال ایسا بناتیں کہ سالن اس کے سامنے فیل ہو جاتا، دسترخوان پر فرائی مچھلیاں بھی ہوتیں، یہ معاملہ صرف دعوت پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ امارت شرعیہ کے لیے لوگوں کو متوجہ کرتے، اپنے پاس سے رقمیں دیا کرتے، بعض دفعہ ان کا ہدیہ دینا بھی مجھے یاد ہے۔
طالب علمی کے دور سے ہی مفتی محمود الحسن گنگوہی کی مجلسوں کے حاضر باش ہونے کی وجہ سے ذکر الٰہی اور اطاعت خدا وند ورسول چسکا انہیں لگ گیا تھا، دارالعلوم میں ان کا قیام احاطہ مسجد میں ہی تھا، ان کی نمازِ تکبیرِ اولیٰ سے کبھی فوت نہیں ہوتی تھی، عصر کی نماز عموماً چھتہ مسجد میں پڑھا کرتے تھے، وہ بہت بڑے آدمی تھے، میں بہت چھوٹا، وہ سنیئر تھے اور میں جونیئر، لیکن دور تعلیم ہم دونوں کا ایک ہی تھا، دھیرے دھیرے تصوف کی راہ میں وہ عروج پر پہونچے، حضرت مولانا حکیم اختر صاحب، پیر ذوالفقار نقشبندی اور حضرت مولانا قمر الزماں الٰہ آبادی سے انہیں خلافت حاصل تھی، انہوں نے کتنوں کو مرید کیا اور کتنوں کو خلافت دی، میرے علم میں نہیں۔
مفتی صاحب کو تقریر کے ساتھ اللہ رب العزت نے تحریر و تحقیق کی بھی اچھی صلاحیت بخشی تھی، انہوں نے بہت ساری کتابیں تصنیف وتالیف کیں، ان میں دیدار الٰہی کا شوق، الاحادیث القدسیہ، معارف قدسیہ، نفحات قدسیہ، تجلیات قدسیہ، کیمیاۓ درویشاں، علامات ایمان، عقیدہ ختم نبوت، وصایا انسایکلو پیڈیا خاص طور سے قابل ذکر ہیں، ان کی بعض کتابوں پر میری بھی تحریر ہے، تجلیات قدسیہ پر نظر ثانی کا کام انہوں نے میرے برادر زادہ اور داماد مولانا محمد سراج الہدی ندوی ازہری کے ذمہ کیا تھا، مولانا مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ بڑے عالم اور بافیض بزرگ تھے، اس کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے اور بعض قریبی رشتہ داروں کا نکاح مجھ سے پڑھوایا، میری کتاب نے مسائل کے شرعی احکام کے عربی ایڈیشن "المسائل المستجدة في ضوء الاحکام الشرعیة” کا اجراء بھی اسلامک فقہ اکیڈمی کے ایک پروگرام میں ان کی موجودگی میں انہیں کے ادارہ دعوت الحق میں ہوا تھا۔
مفتی صاحب جس خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، ان میں ان کے کئی برادران حافظ، عالم، ندوی، قاسمی ہیں، ان کے لڑکے بھی صالح اور نیک سیرت ہیں اور وہ سب ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں، مفتی صاحب کا وصال ایک بڑے عالم، صاحب نسبت بزرگ اور بافیض مرشد کی رحلت ہے، ان کی علمی، اصلاحی، تعلیمی اور سماجی خدمات دیر تک یاد رکھی جائیں گی اور دور تک ان کا فیض پہونچتا رہے گا، اللہ رب العزت مولانا کی مغفرت فرماۓ اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے، آمین یارب العالمین۔

Comments are closed.