اپریل فول کی تاریخی و شرعی حیثیت

محمد سجاد قاسمی
اسلام ایک دائمی اور آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لئے اپنے پیروکاروں کو بہترین اور عمدہ اصول و قوانین بتلائے ہیں ۔اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی ،معاشرتی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا اقتصادی ؛غرض کہ زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری کامیابی و کامرانی کا راز پنہاں ہے ۔
آج ہمیں یورپ اور یہود و نصاری کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے دلدادہ ہیں ۔یورپی تہذیب وتمدن اور طرز معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے ۔مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب و تمدن کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہو گئے ہیں ،جن کی اصلیت و ماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعی خلاف ہے؛ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے ،حالانکہ قوموں کا اپنی تہذیب و تمدن کو کھودینا اور دوسروں کے طریقے رہائش کو اختیار کرلینا، ان کے زوال اور خاتمے کا سبب ہواکرتا ہے-مذہب اسلام کا تو اپنے متبعین سے یہ مطالبہ ہے کہ:اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقشے قدم پر مت چلو ،یقینا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے (بیان القرآن)
یہودونصاری کی جو رسم و رواج ہمارے معاشرے میں رائج ہوتی جارہی ہیں، انہی میں سے ایک اپریل فول منانے کی رسم بھی ہے۔ اس رسم کے تحت یکم اپریل کی تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو دھوکا دینا ،مذاق کے نام پر بے وقوف بنانا اور اذیت دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے؛ بلکہ اسے ایک دانشمندی قرار دیا جاتا ہے ۔جو شخص جتنی صفائی اور چابکدستی سے دوسروں کو جتنا بڑا دھوکا دے دے ۔اتنا ہی اس کو دانشمند، ذہین، باشعور، قابل تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے صحیح فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہے ۔یہ رسم اخلاقی شرعی اور تاریخی ہر اعتبار سے خلاف مروت، خلاف تہذیب اور انتہائی شرمناک ہے، نیز عقل و نقل کے بھی خلاف ہے۔
اس رسم بد کی دو حیثیتیں ہیں نمبر1 تاریخی نمبر2 شرعی۔
اپریل فول کی تاریخی حیثیت
اس رسم بد کی ابتدا کیسے ہوئی؟اس بارے میں مفکرین کے بیانات مختلف ہیں۔ ہم یہاں ان میں سے تین اقوال پیش کرتے ہیں ؛تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ عقل و خرد کے دعوے داروں نے اس رسم کو اپنانے میں کیسی بے عقلی اور حماقت کا ثبوت دیا ہے ۔
(1 )بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا ،اس مہینے کو رومی لوگ اپنی بیوی”” وینس "”(Venus)کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے، تو چونکہ سال کا یہ پہلا دن ہوتا تھا، اس لئے خوشی میں اس دن کو تہوار کے طور پر منایا کرتے تھے اور اظہار خوشی کے لیے آپس میں ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے، تو یہ چیز رفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیار کرگئی۔
(2 )انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا میں اس رسم کی ایک اور وجہ بیان کی گئی ہے کہ اکیس مارچ سے موسم میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے، ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ (معاذ اللہ) قدرت ہمارے ساتھ اس طرح مذاق کر کے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے، لہذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بیوقوف بنانا شروع کردیا۔( انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا 1/694 )
(1)ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلوپیڈیا "لاروس” نے بیان کی ہے اور اسی کو صحیح قرار دیا ہے،جس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو گرفتار کیا اور رومیوں کی عدالت میں پیش کیا تو رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسی علیہ سلام کو تمسخر اور استہزاء کا نشانہ بنایا گیا، ان کو پہلے "یہودی سرداروں اور فقیہوں”کی عدالت میں پیش کیا گیا، پھر وہ انہیں "پیلا طس” کی عدالت میں فیصلہ کے لئے لے گئے، پھر پیلاطس نے ان کو” ہیرودیس” کی عدالت میں بھیج دیا اور بلاآخر ہیرودیس نے دوبارہ فیصلے کے لیے ان کو پیلاطس ہی کی عدالت میں بھیج دیا۔ لوقا کی انجیل میں اس واقعہ کو اس طرح نقل کیا گیا ہے:
"اور جو آدمی یسوع کو پکڑے ہوئے تھے ،اس کو ٹھٹھوں میں اڑاتے اور مارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس سے پوچھتے تھے کہ نبوت سے بتا تجھے کس نے مارا اور انھوں نے طعنہ سے اور بھی بہت سی باتیں اس کے خلاف کہیں”- (انجیل، لوقا، باب 22، آیت: 36 56 صفھہ722)
اور انجیل لوقا ہی میں ہیرودیس کا پیلاطس کے پاس واپس بھیجنا ان الفاظ میں منقول ہے :
"پھرہیرودیس نے اپنے سپاہیوں سمیت اسے ذلیل کیا اور ٹھٹھوں میں اڑایا اور چمکدار پوشاک پہنا کر اس کو پیلاطس کے پاس واپس بھیجا (انجیل،لوقا، باب 32 ،آیت :11 صفحہ822)
لاروس کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنےکامقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنا اور انہیں تکلیف پہنچانا تھا ،چونکہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا تھا اس لئے اپریل فول کی رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعے کی یادگار ہے( ذکروفکر صفحہ 76۔ 86 )
اگر یہ بات درست ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ یہ رسم یہودیوں نے جاری کی ہوگی اور اس کا منشاء عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی تسخیر ہوگی ،لیکن یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے کہ جو رسم یہودیوں نے (معاذ اللہ )عیسی علیہ سلام کی ہنسی اڑانے کے لئے جاری کی تھی اس کو عیسائیوں نے کس طرح قبول کرلیا ؛بلکہ خود اس کو رواج دینے میں شریک ہو گئے جب کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ صرف رسول؛ بلکہ ابن اللہ کا درجہ دیتے ہیں۔ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ ان کی دینی بدذوقی کی یا بے ذوقی کی تصویر ہے۔ جس طرح صلیب ،کے ان کے عقیدے کے مطابق اس پر حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی دی گئی ہے، تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کی شکل سے بھی ان کو نفرت ہوتی ،لیکن ان پر خدا کی پھٹکار یہ ہے کہ اس پر انہوں نے اس طرح تقدس کو پروان چڑھایا کہ وہ ان کے نزدیک مقدس شے بن کران کے مقدس مقامات کی زینت بن گئی ۔بس اسی طرح اپریل فول کے سلسلے میں بھی انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمنوں کی نقالی شروع کردی”اللهم احفظنا منه” اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عیسائی اس رسم کی اصلیت سے ہی ناواقف اور نابلد ہو اور انہوں نے بے سوچے سمجھے اس پر عمل شروع کردیا ہو-والله اعلم باصواب
اپریل فول کی شرعی حیثیت
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ تاریخی اعتبار سے یہ رسم بد قطعا اس قابل نہیں ہے کہ اس کو رواج دے کر اپنایا جائے؛چونکہ اس کا رشتہ یا تو کسی توہم پرستی سے جڑا ہوا ہے ،جیسا کہ پہلی صورت میں، یا کسی گستاخانہ نظریہ اور واقعے سے جڑا ہوا ہے ؛جیسا کہ دوسری اور تیسری صورت میں اس کے علاوہ یہ رسم اس لئے بھی قابل ترک ہے کہ یہ مندرجہ زیل کی گناہوں کا مجموعہ ہے:
1 -مشابہت کفار و یہود و نصاریٰ
2- جھوٹ اور ناحق مذاق
3-جھوٹ بولنا
4- دھوکا دینا
5-دوسرے کو اذیت پہنچانا
مندرجہ بالا تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ” اپریل فول” بہت سارے بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے ؛لہذا اب ہم مسلمانوں کو خود فیصلہ کر لینا چاہیے کہ آیا یہ رسم بد اس لائق ہے کہ مسلمان معاشرہ میں اپنا کر اس کو فروغ دیا جائے ؟اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس طرح کی تمام برائیوں سے محفوظ فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
Comments are closed.