امن ،محبت اور یکجہتی ہماری بنیادی ضرورت ہے
ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشعبہ دینیات سنی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ
ہندوستان کی سر زمین کس قدر زرخیز ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم ملک کی قدیم روایت اور اس کی تاریخ وتہذیب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہیکہ ہندوستان کا دامن ہمیشہ یکجہتی،اتحاد بھائی چارگی ،امن وامان ،پیار ومحبت ، صلح و آ شتی ، شانتی، اور خیر سگالی جیسے پھولوں اور پاکیزہ و روشن خیالات سے بھرا رہا ہے۔ امن ،محبت ،یکجہتی اور ہمدردی اس ملک کی قدیم وراثت اور تہذیب کا نمایاں حصہ ہے ۔ اس ملک نے جہاں اپنے دامن میں ہندو یوگیوں کے نظریات اور ہندو دھرم کے فروغ و ارتقاء کا کھلم کھلا موقع دیا ہے تو وہیں اس ملک میں مسلم صوفیوں اور مذہب اسلام کے پروان چڑھنے کی بھی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اسی طرح سر زمین ہندوستان میں وجود وبقا پانے والے ادیان سکھ مت، بدھ مت ، جین مت ،اور ان کے افکار و نظریات کی تبلیغ میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ نہیں آ ئی۔ بلکہ اپنے اپنے دھرم اور افکار ونظریات کا پابند ہونے کے ساتھ ساتھ باہم مل جل کر رہنا ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آ نا ہمارے وطن عزیز کی خوشگوار روایت ہے۔اس سے بھی بڑی خوشی کی بات یہ ہیکہ وطن عزیز میں ایک وقت میں کئی مذاہب کے حاملین و متبعین کے تہوار یا دیگر مذہبی رسوم کی ادائیگی کے مواقع آ جاتے ہیں مگر کبھی بھی کسی بھی نظریہ کے ماننے والوں کے مابین کسی بھی طرح کا تصادم وتنازع نہیں ہوتا ہے بلکہ باہم ایک دوسرے کا تعاون کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں ۔ علاوہ چند مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر کے ،جو ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ ملک کا سماجی اور باہنی رکھ رکھاؤ بکھر جائے اور ملک میں بد امنی ،بے چینی اور بد عنوانی جیسے جرائم کی مکروہ ہوا چلنے لگے ۔ مگر ہندوستان کی امن پسند عوام کسی بھی موقع پر ایسے سر پھرے اور فتنہ پرور عناصر کی زد میں آ نے سے ملک کی سالمیت کو اپنی شرافت اور باہمی اتحاد کے توسل سے بچالیتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس ملک نے کئی اتار و چڑھاؤ دیکھے ہیں آ زادی سے قبل بھی یہاں متعدد نظریات کے حاملین نے حکومت کی ہے ۔ اور آ زادی کے بعد بھی متنوع افکار کے حاملین تخت نشیں ہوئے مگر کوئی بھی ہمارا سماجی اور قومی اتحاد پارہ پارہ نہ کرسکا ۔جب ملک پر انگریزوں کا تسلط تھا تو ان کے اقتدارِ سے ملک کو خالی کرانے کے لیے ہندو اور مسلم دونوں قوموں نے مل کر جد و جہد کی اور بالآخر ہندوستان سے انگریزوں کو بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بلکہ تاریخ تو بتاتی ہے کہ آ زادی کی لڑائی میں مسلمانوں کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر افسوس آ ج ہندوستان میں کچھ عناصر ہمارے وطن کی سالمیت اور اتحاد و شیرازہ کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اب یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ پرستوں کے کسی بھی ناپاک منصوبہ کو کامیابی سے ہم کنار نہ ہونے دیں ۔
سماجی اتحاد کا ایک درخشاں پہلو یہ ہونا چاہئے کہ جب ملک کے آ ئین اور جمہوریت پر خطرہ منڈلانے لگے اور ملک سے سماجی عدل و انصاف کا جنازہ نکالا جانے لگے تو اس ظلم و تعدی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو مذہب کے رنگ سے پوری طرح محفوظ رکھا جائے۔ دنیا کی کوئی بھی سماجی یا قومی تحریک ایسی ایک بھی مثال قائم نہیں کر سکتی کہ جس میں مذہبی رنگ چڑھایا گیا ہو اور پھر وہ فتح و ظفر کے اصولوں سے ہم آ ہنگ ہوئی ہو۔ لہذا شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے ہر ناحیہ سے اٹھنے والی آ واز کو مستحکم بنانے کے لئے لازمی ہے کہ اس تحریک کو مذہبی رنگ میں رنگنے سے پوری طرح بچاناہوگا۔ خوشی کی بات یہ ہیکہ ہندوستان کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے لئے آ ج ملک کا ہر شہری بلا تفریق مذہب وملت حکومت کے اس سیاہ قانون کے خلاف یکجا ہے ۔ مزید خوشی کی بات یہ ہیکہ اب شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں خواتین اور نوجوانوں کی نمایاں کار کردگی نظر آ رہی ہے۔ اس صداقت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی تاریخ کے صفحات میں ایسی مثال درج ہے کہ کوئی بھی دنیا کی اصلاحی اور حق وانصاف کے لئے تحریک اٹھی ہو اور اس کی قیادت و سیادت قوم کے نوجوانوں اور خواتین نے کی ہو اور وہ کامیابی کے زیور سے ہم کنار نہ ہوئی ہو۔
دنیا کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت دنیا میں نام نہاد امن پسندوں کی جو صورت حال ہے وہ انتہائی مشکوک ہے ۔ جو قانون ودستور وہ دنیا کی حفاظت وتحفظ کے لئے بناتے ہیں مگر وہ اپنے اوپر نافذ نہیں کرتے ہیں ۔ بلکہ مرحوم مولانا واضح رشید ندوی کی زبانی کہا جاسکتا ہے۔
’’دنیاکےترقی یافتہ ملکوں کے دستوروں نے مختلف انسانی قوموں کے درمیان امتیاز و تفریق ختم کرنے اور رنگ ونسل اور عقیدہ ومذہب کی بنیاد پر پائے جانے والے اختلاف کو دور کرنے، اور عقیدہ ،فکر اور عمل کی آ زادی دینے کو اپنے پیش نظر رکھا،ان ممالک میں جنہوں نے جمہوریت ،اشتراکی مساوات ،انسانی وحدت اور بنیادی انسانی حقوق کو اپنایا ،ترقی یافتہ ممالک سر فہرست تھے ،لیکن ان تمام قوانین ،اعلانات اور دستوری ضمانتوں کے باوجودِ آ ج انسانیت کو قومیت ، فرقہ واریت ،علاقائیت اور ذاتی اغراض و مفادات کے زبردست سیلاب کا سامنا ہے۔ یہ رجحانات انسانیت کو فنا کرڈالنے کی دھمکی دے رہے ہیں ، زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ماضی میں انسان کو وہ تباہ کن وسائل و ذرائع حاصل نہیں تھے جو آ ج حاصل ہیں۔ ماضی میں یہ رجحانات اپنی محدودیت کی وجہ سے بڑے نقصان کا سبب نہ بن پائے تھے لیکن آ ج یہ رجحانات تباہ کن وسائل و ذرائع کی وجہ سے بڑے نقصان کا سبب بن رہے ہیں ۔‘‘
مذکورہ اقتباس کے تناظر میں یہ بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جن طاقتوں نے دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کے لئے جن قوانین اور جدید رجحانات کا سہارا لیا وہ نوع انسانیت کو امن اور سکون و اطمینان سے باور کرانے کے بجائے انسانیت کو مزید ہلاکت و بربادی اور عدم برداشت کے گہرے غار میں دھکیل رہے ہیں ۔ اب تمام اصحاب فکر و نظر اور بہی خواہان ملک و ملت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنا ہوگا کہ کس طرح سے انسانیت کو ان خطرات و خدشات اور تباہی سے بچانا ہے۔ ہمارےملک میں بھی انسانی شیرازے کو منتشر کرنے اور عدم برداشت و تحمل سے دوچار کرنے کے لئے ملک کا ایک طبقہ مسلسل کوشاں ہے۔ ہندوستان کے آ ئیں اور یہاں کی جمہوری روح کو بری طرح مخدوش و مجروح کیا جارہا ہے۔ اور ایک ایسے قانون کو یہاں کے عوام پر زبردستی تھوپنے کی سعی ہے کہ جو مستقبل قریب میں ہندوستان کی یکجہتی ، امن اور محبت جیسے اصولوں کو نہ صرف قد غن لگائے گا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ یہ قانون ملک کو تقسیم و تفریق کی طرف بڑی آ سانی سے لیجائے گا۔
ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور یہاں کے باہمی اعتماد و اتحاد کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہیکہ ملک میں کوئی ایسا ناخوشگوار قانون جگہ نہ لے پائے جو یہاں کے امن اور شانتی کو زد پہنچانے میں کامیاب ہوسکے۔ اسی کے ساتھ اس بل کی مخالفت میں ان تمام سیکولر جماعتوں کو سختی سے اس کے خلاف تحریک چلانی ہوگی ۔ اس وقت ہندوستانی معاشرہ کی تمام سیاسی ،سماجی اور مذہبی اکائیوں کو مل کر امن و محبت کا دیپ جلانا ہو گا اور اس فکر و نظریہ کو سرے سے کالعدم قرار دینا ہوگا جو ملک کی سالمیت و یکجائیت اور مرکزیت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یہ ملک محبت و امن کا قدیم گہوارہ، احترام و تحمل کا پرانا مرکز و محور ہے۔ اس لئے ان طاقتوں کی بھی سمجھ میں آ نا چائیے جو ملک کی صدیوں پرانی تہذیب کو اپنے جادوئی اور منفی نظریہ کی بھینٹ چڑھا کر ہندوستانی معاشرہ سے سلامتی کو ختم کرنا چاہتی ہیں ۔ ملکوں اور معاشروں کی ترقی کے لئے لازمی ہے کہ ہم تنگ نظری اور محدود مفادات کے حصار سے باہر نکلیں ۔ خوصا اقتدار پر مسلط حکمرانوں کو انتہائی وسعت اور توازن و اعتدال کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ عملی جامہ بھی پہنانا ہوگا۔ اور ہمارے درمیان جو تفریق مذہب ،ذات و نسل اور قوم و برادری کے نام پر قائم ہے اس طرح کے مکروہ امتیازات اور بھید بھاؤ کو پوری طرح کچل نا ہوگا اور انسانیت کی بنیاد پر باہم رشتوں کو مستحکم کرنا ہوگا ۔تبھی جاکر ہمارا ملک اور یہ روئے زمین امن و امان ،ہمدردی اور محبت و یکجہتی کا مرکز و محور بن پائے گی ۔ اور اسی وقت یہ ممکن ہے کہ تمام ادیان و مذاھب کے نمائندے اپنے افکار کی سلامتی کے ساتھ انسانیت کی بھی ممکنہ حدودِ تک غمخواری کر پائیں گے۔
کیونکہ متوازن سوچ اور معتدل رویہ ہی معاشرہ کی بقا و فتحیابی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر صاحب اقتدار افراد کے نظریہ میں مذہب یاذات پات کی لچک آ جائے اور یہ لچک ان عمل سے بھی ظاہر ہونے لگے تو یقیناوہ ملک اور معاشرہ رواداری کی اخلاقیات کو نہ صرف معدوم کررہا ہے بلکہ بہت ممکن ہے کہ ایسا تکثیری سماج اپنی شناخت و امتیاز کھودے۔
Comments are closed.