ہجومی تشدد : اتفاقً ہونے والا حادثہ یا پھر ایک منصوبہ بند سازش؟
از قلم : مرزا عادل بیگ ، پوسد (موبائیل نمبر : 9823870717)
’’اورجب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔‘‘(القرآن)
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں پکڑلیں ۔ "(ابو داؤد)
نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ظلم سہنا اور ظلم کرنا دونوں برابر ہے۔
ظلم کے خلاف جو قوم آواز نہیں اٹھاتی وہ قوم لاشیں اٹھاتی ہیں ۔ (حضرت علی ؓ)
ظلم کے خلاف آواز جتنا دیر سے اٹھاوں گے نقصان اتنا ہی زیادہ اٹھانا پڑیں گا ۔ (حضرت امام حسین ؓ)
آج ماب لینچنگ فرقہ پرست اور زاعفرانی ذہنیت رکھنے والی اقتدار پر قابض حکومت کا ہتھیار بن چکا ہے ، ماب لینچنگ یعنی کسی ایک فرد کو اس کے مذہب کے بنا پر، اس کی شناخت کی بنا پر، اس کے لباس کے بنا پر بھیڑ کی شکل میں حملہ کرنا ، مارنا ، زدکوب کرنا ، یہاں تک کہ اس کی جان چلی جائے ۔ ملک کی حالت کیا ہو رہی ہیں آپ حضرات اچھی طرح جانتے ہے ، کرونا وبائی مرض کی وجہ سے لگے لاک ڈاؤن نے ملک کی معشیت کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔ وہی حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ مہنگائی اور بے روز گاری نے ملک کے تمام ریکارڈ کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ملک کی گری ہوئی جی۔ ڈی ۔ پی دیکھ کر ملک کی خستہ حالی کا انداذہ لگا سکتے ہے ۔ بھوک مری اور بے روز گاری اس ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے کر جارہی ہے ۔ آج کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد2 کروڑ 72 لاکھ کے پار ہو چکی ہے اور 3 لاکھ 11 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہے وہی صحت یاب ہوکر گھر لوٹنے والے افراد کی تعداد 2 کروڑ 44 لاکھ ہو چکی ہے ۔ اب بلیک فنگس اور سفید فنگس جیسی بیماری کا خوف و ہراس بڑھ رہا ہے ۔ آج ہمارا ملک کرونا وبائی مرض کے متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے وہ دن دور نہیں جب ہمارا شمار نمبر ایک والی نشست پر ہو جائے گا ۔ ملک کی باگ ڈور اقتدار پر قابض حکومت (پارٹی )پر ہے مگر یہ خود ایک ایسی تنظیم کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں جو 1925 سے اس ملک کو نا سور کی طرح کاٹ کھارہی ہیں ۔ یہ 1925 سےکام کر رہی پارٹی (تنظیم )جس کا دفتر ناگپور میں ہے ۔ وہی سے سارے ملکی معاملات میں دخل اندازی کرتی ہیں ۔ اس تنظیم کی 95 سالہ کار کردگی کا کا جائزہ لیا جائے تو نفرت ، سازش ، دھوکہ بازیاں ، فریب ، خون خرابہ ، قتل و غارت گیری ، خوف ویراس کا ماحول تیار کرنا، اقلیتی افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا ، بم بلاسٹ کراکر بے گناہ اقلیتی نوجوانوں کو پھنسانا ، لو جہاد کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا، اقلیتی طبقات کے خلاف نفرت کا ماحول تیار کرنا ، ملک میں دنگا و فسادات کرانا ، اوقاف کی زمینوں پر ناجائز قبضات کرنا ، وغیرہ اس خونی دہشت گرد تنظیم کے اہم کام ہے ۔ اس نے کبھی شدھی کرن تحریک چلائی تو کبھی گھر واپسی ، تو کبھی لو جہاد ، تو کبھی ہم دو ہمارے دو ، بیٹی بچاؤ بہو لاؤں ، رام جنم بھومی ، مسلمانوں کا ایک ہی ہی استھان ، پاکستان یا قبرستان ، جیسی تحریکات کو فروغ دینے کا کام کیا ہے ۔ اب اس تنظیم کے ذریعے نیا حربہ لایا گیا ہے جس کو ماب لینچینگ یا ہجومی تشدد کہتے ہے ۔
ماب لینچنگ کا پہلا تجربہ 2 جون 2014 کو مہاراشٹر ریاست کے اہم شہر پونہ میں پیش آیا تھا۔ پونہ شہر کے علاقے بھوسری میں عشاء کی نماز پڑھ کر جارہے نوجوان انجینئر محسن شیخ کو اس تربیت یافتہ تنظیم کے جوانوں نے نشانہ بنایا اور ایک ملک وفادار جس کے کندھوں پر خاندان کی ذمہ داری تھی اسے پتھروں سے مار مار کر شہید کردیا گیا ۔ ہم اور ہماری بھولی بھالی ، امن پرست تنظیموں نے اسے ایک اتفاقً ہونے والا حادثہ سمجھا اور ہم خاموش رہے ۔ پھر اس تجربہ کو ملک کی الگ الگ ریاستوں میں شروع کیا گیا ۔ آج حالات یہ ہیں کہ اس ماب لنچنگ کی زد میں 100 کے قریب افراد (اقلیتی ) کو نشانہ بنا کر بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔
یہ 100 افراد کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو کچھ اہم سوالات ذہین نشین ہوتے ہے کہ:
1) ہجومی تشدد کا نشانہ صرف اور صرف اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے ہی کیوں بن رہے ہے ؟
2) نفرت کا ماحول اس قدر تیار کون کر رہا ہے کہ لوگ ایک اجنبی انسان کے خون کے پیاسے ہو رہے ہے ؟
3) گاؤں والے ، بستی والے ، تمام لوگ ، کبھی بچہ چوری ، گئو تسکری ، کرنی جادو گری ، اور اب کفریہ کلمعات کے نام پر اس قدر مشتعل ہوجاتے ہے ، کون جھوٹی خبریں پھیلا کر ماحول کو اس قدر نفرت آمیز بنارہا ہے ؟
4) واردات انجام دینے تک پولس کیا کرتی ہے ، کہا رہتی ہے ؟
5) ہجومی تشدد پر مرکزی حکومت قانون کیوں نہیں بناتی ؟
6) ہجومی تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے عوام کو کون اکساتا ہے ، یہ انجان بھیڑ متحد کس طرح ہوجاتی ہے ؟
7) فیس بک ، واٹس اپ اور سوشل میڈیاں پر کون نفرت انگیز پوسٹ وائرل کرتا ہے ؟
ماب لینچنگ ، اب اس سماج کا معاشرہ کا حصہ بن چکا ہے ۔ ہر دن مسلمانوں کے ساتھ ایسی وارداتیں انجام دی جاتی ہیں ۔ ملک کہ الگ الگ شہروں میں بے گناہ مسلم نوجوانوں ، مسلم بزرگوں ، بچوں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا جاتا ہے ، کبھی بچہ چوری ، کبھی گائے کی تسکری ، کبھی گوشت ، اور اب کفریہ کلمعات کو بولنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے ، نہ بولنے پر لہو لہان کرتے ہے ، مارتے ہے ، توڑتے ہے ۔ اور ان تمام حرکات کا ویڈیوں وائرل کرتے ہے ۔ پھر اس ملک کی پر امن فضاء کو آلودہ کرتے ہے ۔ پھر سیاسی حضرات اس پر اپنی سیاسی دکان چلاتے ہے ۔ ہجومی تشدد کا شکار محسن شیخ انجنئیر(پونہ) ،اخلاق (دادری)، افرازل (راجستھان )، سیف اللہ (مدھہ پردیش)، حافظ جنید (دہلی)، مولانا قاسمی (مدراس)، مدرسہ کا طالب علم نوید(دہلی)،پہلو خان (راجستھان/ہریانہ)، تبریز انساری(جھارکھنڈ)، علیم الدین (جھارکھنڈ)، قاسم (راجستھان)، صبغت اللہ (جھارکھنڈ)، آفتاب احمد (گڑگاؤں)، اخلاق کرمانی (پانی پت ،ہریانہ )۔ ابھی حال ہی میں آصف (باڈی بلڈر)، فیصل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ماب لینچنگ کے زیادہ تر حادثات جھارکھنڈ ، راجستھان ، اتر پردیش ، ہریانہ ، مدھیہ پردیش اور بہار ریاست میں ہو رہے ہے۔
ماب لینچنگ اتفاقً ہونے والا واقعہ نہیں ہے ، بلکہ اسے سوچ سمجھ کر انجام دیا جار ہا ہے ، آزادی کے بعد سے فرقہ پرست طاقتیں اپنی سیاسی وجود کو برقراررکھنے کے لیے ایسے حربات استعمال کرتی ہے ، کبھی دنگا فسادات ، انکاونٹرس ، بمب بلاسٹ ، بے وجہ نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد ماب لینچنگ پر عمل در آمد زوروں پر شروع ہے ، اس ملک کی سب سے بڑی فرقہ پرست اور دہشت گرد تنظیم کی طرف سے اسے اقلیتی طبقعات کو ختم کرنے کے لیے لایا گیا ہے ، وہی اقلیتی طبقعات کو خوف و ہراس میں مبتلا رکھا جائے ، انھیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، وہی ان کے حقوق پامال کرنا اور ایک اہم شخص کی بلی لے کر اس کے خاندان کو تباہ و برباد کردینا اس گھنونی سازش کا اہم مقصد ہے ، ماب لنچینگ کی واردات ایسی جگہ انجام دی جاتی ہے جہاں اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نہ ہو ۔ ہجومی تشدد سے اگر کوئی بچ جائے تو باقی کا کام پولس بخوبی انجام دیتی ہے ۔ اسے تھانہ لاکر تڑپا تڑپا کر مار ڈالتی ہے ، صحیح وقت پر اسپتال نہیں لے جاتی ہے بلکہ تھانہ میں زخمی حالت میں تڑپتا ہوا چھوڑ دیتی ہے ۔ ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہے۔
ماب لنچینگ کا زیادہ تر شکار مسافر ، دور دراز علاقے میں کام کرنے والے افراد،مویشی کی خرید و فروخت کرنے والے تاجر ، ٹرکوں اور لاریوں میں کام کرنے والے مزدور، ڈرائیور وغیرہ ، جنگلوں میں کٹائی کرنے والے مزدور ، دھاڑی کام کرنے والے اس سازش کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہے ۔ اب تو زیادہ تر مساجد سے تعلق رکھنے والے افراد ، مدارس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات وغیرہ کو آسانی سے اس چال میں پھانساجارہا ہے ۔ جس طرح بر ما سے روہنگیا مسلمانوں کو نفرت کا شکار بنا کر ملک بدر کیا گیا ویسا ہی اس ملک میں کرنے کا ارادہ صاف طور پر نظر آرہا ہے ۔ ابھی اس ملک کے اقلیتی طبقات کی گھیرا بندی کا کام شروع ہو چکا ہے ، اس کے بعد انھیں ملک سے کھدیڑ دیا جائے گا ۔ ان کی نسل کشی کی جائے گی ۔ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا ۔ ماب لنچنگ کوئی اتفاقً ہونے والا حادثہ نہیں بلکہ اسے منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا جارہا ہے ۔ اب اقلیتی طبقات کی ذمہ داری ہے کہ اس گھنونے حربے سے نپٹنے کے لیے وہ کس طرح کی تیاری کرتی ہے ۔ اس منصوبہ بند سازش کے خلاف کس طرح کی آواز اٹھاتی ہے اور راجستھان ، مغربی بنگال کی طرز پر ملکی سطح پر قانون بنانے کے لیے کس طرح دباؤبناتی ہےیا پھر اپنے دفاع کے لیے کو نسے موثر اقدام اٹھاتی ہے یا پھر اتفاقً ہونے والے واقعات سمجھ کر اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں ۔
Comments are closed.