جنگ بندی کے بعدفلسطین پرعالمی ضمیرکی خوابیدگی اور مجرمانہ خاموشی کیوں؟
عبدالرافع رسول
جس طرح ہمسائیگی میں یاکسی قریبی رشتہ دارکے گھرپرکوئی افتاد آپڑے ، کوئی فوت ہوجائے، کوئی مصیبت گھیرلے توہمسائیگان اوررشتہ داران مصیبت کے وقت بڑاجزع وفزع کررہے ہوتے ہیں۔غمزدہ ہمسایہ یامصیبت زدہ رشتہ دارکے ساتھ وہ بھی شریک غم ہوتے ہیں،بے کل ہوجاتے ہیں اورپیچ وتاب کھارہے ہوتے ہیں اوران کی یہ کیفیت کئی دنوں تک جاری وساری رہتی ہے لیکن کچھ وقت گذرنے کے بعد سب اپنے اپنے کام وکاج میں مگن ہوجاتے ہیں اور پھروہ غمزدہ ہمسایہ یامصیبت زدہ رشتہ دارکنبے کو مکمل طورپر بھلایا جاتاہے۔یہاں تک کہ ان کے حال واحوال سے وہ کلی طورپربیگانہ ہوجاتے ہیں۔غم اورمصیبت جانے توغمزدہ ہمسایہ یامصیبت زدہ رشتہ دار! صورتحال مقبوضہ علاقوں او رخطوںکے مظلوم غمزدہ اورمصیبت زدہ مسلمانوں کے ساتھ بعینہ یہی صورتحال درپیش آجاتی ہے ۔فلسطین میں اسرائیل ،کشمیرمیں بھارت ،روہنگیامیں میانمار،امریکہ اورعراق میں امریکہ وغیرہ وغیرہ جب بھی یہاں مسلمانوں کوذبح کیاجاتاہے تواس میں کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام کے مسلمانوںمیںیعنی امہ مسلمہ میں اس پرجزع وفزع کاعالم ہوتاہے ہرکلمہ گوکادل خون کے آنسورورہاہوتاہے لیکن جونہی وقتی طورپردست جفاکیش پیچھے ہٹ جاتاہے تواسی کے ساتھ ہماری غمخواری بھی کافور ہوجاتی ہے اللہ اللہ خیرسلا!یعنی – فراغت ہوئی۔ فرصت ملی۔ اس کے آگے کچھ نہیں۔ اور کچھ نہیں ۔
اس تمہیدسے مقصودیہ بتلاناہے کہ سرزمین انبیاء پریہودی آبادکاری جاری ہے قبلہ اول اورمقدس ارض فلسطین پراسرائیل کاجبری قبضہ برقرار ہے تواسرائیل کی غنڈہ گردی اوردہشت گردی پرعالمی سطح ُپرخاموشی کاصاف مطلب اس کے سواکچھ نہیں کہ اسے یہ مواقعے فراہم کئے جارہے ہیں کہ وہ اگلی دہشت گردی اورنئی جارحیت کے لئے تیار ی پکڑ لے اورمکمل تیاری کرکے دوبارہ اہل فلسطین پرچڑ دوڑے اورغزہ کے بچے کچے گھروں ،عمارتوں پربمباری کر کے انہیں زمین بوس کردے اوراہل غزہ کوخاک اورخون میں تڑپادے۔
اسرائیل نے 1948سے فلسطینیوں پر دہشت گردی کی لیکن کیا مجال کہ امن کا راگ الاپنے والے عالمی چوہدریوں نے اس کی دہشت گردی کورکواکرسرزمین فلسطین پرفلسطینیوں کے حق کوتسلیم کرتے ہوئے انصاف سے کام لیاہو۔ اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور جارحیت10مئی سے 21مئی 2021یعنی 11 دنوں تک لگاتارجاری رہی نہتے فلسطینیوں پر جاری ہے۔سفاک قاتل اسرائیل نے غزہ پربمباری روک لی جس سے دنیامیں ہرصاحب ضمیرغزہ والوں کے ساتھ شریک غم تھالیکن جونہی اسرائیل کی بمباری رک گئی توپوری دنیاسے سامنے آنے والے ردعمل میں بھی ٹھرائو آیامگرکیوں ۔کیااسرائیل نے سرزمین فلسطین سے اپناجبری قبضہ ختم کیااورہماراقبلہ اول اور فلسطینی پنجہ یہود سے آزاد ہوگیاجودنیانے چپ سادھ لی ۔ نہیں ہرگز نہیں ۔
اسرائیلی جبری قبضہ انچ برابربھی ختم نہیں ہوا،اورقضیہ اورتنازع بدستور موجودہے۔آج ہم جوتھوڑاساسکوت دیکھ رہے ہیں کل یہ ڈاکوپھراسی طرح کے ڈاکے ڈال کرفلسطینی مسلمانوں کوتہیہ وتیغ کرے گاجس طرح 1948سے وہ آج تک کرتاچلاآیا ہے ۔جب یہ حقائق ہیں توپھر دنیامیں سکوت مرگ کیوں چھاگیا۔کیوں ضمیربھرسے خوابیدہ ہوگیا،کیوں منہ میں گھنگھنیاں پڑ گئیں۔کیوں ایسے سب خاموش ہوگئے کہ جیسے فلسطین کاتنازع حل کرادیاگیا۔فلسطین کی کیفیت اورصورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کی طرف سے یہودی آبادکاری کے نام پرفلسطینیوں کی جنت نما اراضی یہودیوں کے ہاتھوں بدستور ہڑپ ہورہی ہے،ان کے باغات جو زیتون کے ثمرداردرختوں سے لدے ہوئے ہیں اجاڑے جارہے ہیں ،ان کے گھرمسماراورمسلسل ڈھائے جارہے ہیں اوریہ خونی کھیل جاری ہے ۔
حالیہ 11روزہ بدترین صورتحال کی بنیاد بھی یہی بنی کہ جب 9مئی 2021اتوارکو مشرقی بیت المقدس کے شیخ جراح کے علاقے میں یہودی آبادکارفلسطینیوں کواپنے آبائی گھروں سے بے دخل کررہے تھے اور شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کو زبردستی اپنے گھروں سے بیدخل کر کے یہودی آباد کاروں کے لیے جگہ بنائی جا رہی ہے۔اس بیدخلی سے تقریباً 300 فلسطینی شہری متاثر ہورہے تھے اور اس بیدخلی کاباضابطہ طورپراس کا حکم اسرائیلی سپریم کورٹ نے دیا ہے۔یہودی آباد کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے 2020 کے آغاز سے یہودی ججوںنے 36 فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے انخلا کا حکم دیا ہے، اور ان خاندانوں میں باتن الحوا، سلیوان اور شیخ جارح میں تقریباً 165 افراد شامل ہیں، جن میں سے بیسیوں بچے بھی ہیں۔ بہت سارے لوگوں کو یہاں سے نکال کر بے گھراوربے وطن ہونے کا خطرہ ہے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کا غیرمعمولی خطرہ ان کنبوں کے لیے انسانیت سوز تباہی کا سبب بنے گا اور ساتھ ہی یروشلم میں امن و استحکام کے امکانات پر دور رس سیاسی دباؤ کا سبب بنے گا۔
فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بیدخل کرنے کا عمل اس وقت رُک گیا تھا جب اسی معاملے کو لے کر حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں لڑائی شروع ہوئی۔مگر ان 14 مکانوں کے مکینوں کو ان کے گھروں سے بیدخل کیے جانے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے جنہیں فیز ون کے تحت بے دخل کیاجارہاتھا۔
دیوار پر ایک تصاویر بنی ہے جس میں 1948 سے پہلے کے فلسطین کا نقشہ ہے اور ساتھ ایک نعرہ لکھا ہے کہ ’’شیخ جراح کے مستحکم علاقے میں خوش آمدید‘‘دوسری طرف ان 28 خاندانوں کے نام لکھے ہیں جنھیں اب یہاں سے بیدخل کیے جانے کا خطرہ ہے۔گلی کی دوسری طرف ایک ایسا گھر ہے جس پر دس سال پہلے یہودی آباد کاروں نے قبضہ کیا تھا اور اس پر اسرائیل کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور سٹار اور ڈیوڈ بھی لگا ہے۔ ساتھ میں بہت سے سکیورٹی کیمرے بھی نصب ہیں۔اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ شیخ جراح کا معاملہ صرف ایک زمین کے ٹکڑے کا تنازع ہے اور آباد کاروں کے پاس اسرائیلی قانون کی پشت پناہی ہے۔ 2003 میں ان یہودی اداروں نے اس پراپرٹی کے حقوق ایک امریکی تنظیم ’’ناہلات شمون ‘‘کو فروخت کر دیے تھے۔ یہ تنظیم یہودی آبادکاروں کے فلسطینی علاقے میں گھسنے کے مشن کی حامی ہے۔
یہ 76 سالہ بوڑھا شخص، ا کی اہلیہ اور بچے بھی ان درجنوں فلسطینیوں میں شامل تھے جن کے متعلق ایک اسرائیلی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ ان کے گھر یہودی آباد کاروں کی ملکیت والی اراضی پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ دسمبر2020 میں انھوں نے پریس کوبتایامیں یہاں پیدا ہوا ہوں، میں یہاں بڑا ہوا، یہاں میں سکول گیا، یہاں میں نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی، یہاں میری شادی ہوئی اور میری ساری یادیں اسی گھر میں ہیں۔۔۔ کیا آپ تصور نہیں کرسکتے ہیں کہ میں کبھی یروشلم سے باہر نہیں گیا، کبھی بھی اس گھر سے باہر نہیں رہا۔۔۔ خدا کی قسم اس گھر سے میں صرف قبرستان ہی جاؤں گا۔ان کے اور دیگر افراد کے خلاف شیخ جرح محلوں اور باتن ال ہووا کے علاقوں میں پراپرٹی کے مقدمے درج کیے گئے۔ یہ مقدمات مشرقی یروشلم میں آباد کاروں کی تعداد بڑھانے کے منصوبوں کا ایک مرکزی نقطہ ہیں، جس پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔اکتوبر 2020 میں کردوں کو اپنا گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔2020میں اسرائیلی کورٹ نے جعلی طورپربنائے گئے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل کی دستاویزات کی بنیاد پر آباد کاروں کے متعدد دعوؤں کو برقرار رکھا۔
مشرقی یروشلم میں شیخ جرح علاقے پر اسرائیل نے 1967 میں ہونے والی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کیا تھاکے پڑوس میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر ایسے نعرے لگائے ’’مسلمانواردن واپس جاؤ‘‘‘جس کا فلسطینیوں نے ان نعروں کے ساتھ جواب دیا’’نسل پرستو اور مافیاہماری زمین سے دفع ہوجائو‘‘۔شیخ جرح علاقے کے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان گھروں میں 1950 کی دہائی سے رہ رہے ہیں، جبکہ یہودی آباد کار یہ دعوی کرتے ہیں کہ انھوں نے یہودیوں کی دو انجمنوں سے یہ زمینیں قانونی طور پر خریدی ہیں۔شیخ جرہ محلہ دمشق دروازے کے قریب پرانے یروشلم کی دیواروں کے بالکل باہر واقع ہے۔اس علاقے میں ہوٹلوں، ریستوراں اور قونصل خانے کے علاوہ فلسطینیوں کے بہت سے مکانات اور رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔جھوٹے اورغاصب یہودی آباد کاروں نے عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر محلے کے گھروں پر قبضہ کر لیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہاں رہنے والے یہودی خاندان 1948 کی جنگ کے دوران فرار ہو گئے تھے۔
الغرض ! سرزمین انبیاء پریہودی آبادکاری جاری ہے قبلہ اول اورمقدس ارض فلسطین پراسرائیل کاجبری قبضہ برقرار ہے تواسرائیل کی غنڈہ گردی اوردہشت گردی پرعالمی سطح ُپرخاموشی کاصاف مطلب اس کے سواکچھ نہیں کہ اسے یہ مواقعے فراہم کئے جارہے ہیں کہ وہ اگلی دہشت گردی اورنئی جارحیت کے لئے تیار ی پکڑ لے اورمکمل تیاری کرکے دوبارہ اہل فلسطین پرچڑ دوڑے اورغزہ کے بچے کچے گھروں ،عمارتوں پربمباری کر کے انہیں زمین بوس کردے اوراہل غزہ کوخاک اورخون میں تڑپادے۔
Comments are closed.