آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

شکیل احمد اعظمی
بحرین
روایت ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کون سا شخص بہتر ہے( أي الناس خير ؟ ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: من طال عمره و حسن عمله. اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ بہترین شخص وہ ہے جسے لمبی زندگی ملے تو وہ اپنی درازی عمر کو نیکیاں کمانے ، بڑھانے اور اللہ اور اس کے رسول کی طاعت و فرماں برداری میں لگائے اور دنیا و آخرت دونوں جہان کی فلاح و سعادت حاصل کرے ۔
ندوة العلماء کے مایہ ناز سپوت اور جلیل القدر استاد مولانا نذر الحفیظ ندوی رح کی رحلت پر محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث کی آج سب سے بہترین مثال مولانا مرحوم ہیں۔ مولانا نے ندوہ میں اکتساب علم کیا ، خوش قسمت رہے کہ مفکر اسلام جیسے بزرگ عالم دین کی نظر عنایت پانے اور ان کے فیض تربیت سے مستفید ہونے میں کامیاب رہے، ہمارے آج کے بزرگوں سے بھی بحیثیت طالبعلم، معلم دار العلوم، مربی و اتالیق طلبہ، نگران رواق، معاون و مشیر کار اور منتظم و منصرم ایک لمبی رفاقت رہی ،اس لمبی رفاقت میں مولانا مادر علمی کی بے لوث اور مخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے اور ہمیشہ ہر ایک کی نگاہ میں معتمد و معتبر رہے ، اس دوران کیسے کیسے لوگ نفس کی اکساہٹ اور بہکاوے میں آ گئے اور اپنے ہی گھر کو اپنے ہی چراغ سے جلا دینے کی غیر دانشمندانہ حرکت کر بیٹھے، ملک و بیرون ملک میں پھیلے ہزاروں لاکھوں فرزندان ندوہ کو غم و اندوہ اور قلق و اضطراب میں مبتلا کر دیا، ایسے مضطرب حالات میں جب وہی پتے ہوا دینے لگے جن پر تکیہ تھا جن سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، مولانا نذر الحفیظ رحمہ اللہ کا موقف نہایت جرات و شجاعت، دور اندیشی اور خیر خواہی پر مبنی تھا، وہ پوری صلابت رائے اور موثر اور مضبوط عملی کردار کے ساتھ حضرت ناظم صاحب دامت برکاتہم کی پشت پر کھڑے رہے اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک فتنہ دب نہ گیا ، ندوہ کی سالمیت و تحفظ کے سلسلے میں مولانا کی نگاہیں ہمیشہ بیدار رہتی تھیں۔
مولانا تفوق علمی و نبوغ فکری اور بلند خیالی کے اعتبار سے بھی اس وقت ملت کا نہایت قیمتی اور بے مثال سرمایہ تھے ، تعلقات عامہ کے میدان میں مولانا منفرد خوبیوں کے مالک تھے وہ دور و نزدیک کے تمام ابنائے ندوہ سے رابطہ بنائے ہوئے تھے۔ خاکسار کو بھی مولانا کی دعائیں حاصل تھیں میری کچھ تحریروں اور مواقف کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور فون کر کے یا آڈیو میسج کے ذریعہ مجھ جیسے پستہ قد کا قد بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔
مولانا اپنی جامع صفات اور ہمہ کمالات شخصیت کی وجہ سے ندوی و غیر ندوی تمام حلقوں میں ہر دلعزیز اور محبوب تھے ، بزرگوں ہمعصروں، تلامذہ و طلبہ، ذمہ داران اور ما تحتوں میں یکساں طور پر ان کی عزت اور قدر تھی ۔ آج ایسے وقت میں ہم اس متاع گراں مایہ سے محروم ہو گئے جب مادر علمی اور اس کی مجلس منتظمہ کو اس کی سخت ضرورت تھی۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔
حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب کو پیرانہ سالی میں پیہم یکے بعد دیگرے صدمے سہنے پڑ رہے ہیں،بزم ندوہ سے نادر و نایاب گوہر آبدار اٹھتے جا رہے ہیں، اس کی فضاؤں سے درخشاں آفتاب و ماہتاب غروب ہوتے جا رہے ہیں، بظاہر ان کا خلا پر ہونا ممکن نظر نہیں آتا مگر بفضل ایزدی مادر علمی کی آغوش بڑی مردم ساز و مردم خیز رہی ہے، اس کا آسمان کبھی ستاروں کی کہکشاؤں سے خالی نہیں رہا، ان شاء اللہ نئے چراغ جلیں گے جو اپنے علم و فکر کی روشنی و تابانی مطلع ہند پر بکھیرتے رہیں گے اور ندوے کی بزم جنوں شاد و آباد رہے گی ہمیشہ تا ابد الآباد، یہاں پر نہ مایوسیوں کا گزر ہوگا نہ تاریکیاں ڈیرے جما سکیں گے، نئے واضح رشید اور نذر الحفیظ ابھریں گے، بلکہ اللہ کی رحمت سے بعید نہیں کہ علی میاں اور سید سلیمان بھی نمودار ہوں گے۔ و ليس ذلك على الله ببعيد.
ندوہ میں میرا داخلہ جب دسمبر 1972 یا جنوری 1973 میں عربی ششم میں ہوا تو مولانا نذر الحفیظ صاحب شاید عربی پنجم تک درجات میں پڑھاتے تھے، اس لئے ان سے کلاس میں شرف تلمذ تو نہیں حاصل ہوا لیکن ان سے اور مولانا نور عظیم صاحب رح سے کبھی کبھی گفتگو اور استفادے کا موقع ملتا تھا، دونوں اساتذہ عنفوان شباب پر تھے اور دونوں لازم و ملزوم تھے ، 2017 میں ڈاکٹر اکرم صاحب کی معیت میں لکھنئو کا سفر ہوا اور ندوہ میں ملاقاتوں کا سلسلہ رہا، پہلے روز مغرب بعد استاد گرامی قدر مولانا سعید الرحمان صاحب کی زیر صدارت اور ہمدرس مولانا خالد غازیپوری کی نظامت میں ایک استقبالیہ نشست ہوئی، مجھے خلاف توقع خطاب کی دعوت دی گئی، ڈاکٹر اکرم کی بھی تقریر ہونی تھی لیکن ڈاکٹر صاحب نے وقت کی تنگدامنی کو دیکھتے ہوئے اپنا وقت بھی مجھے دے دیا، چونکہ میرے استاد گرامی مولانا سعید الرحمان صاحب صدارت کر رہے تھے مجھے ان کے سامنے بولنے میں کچھ جھجک سی محسوس ہو رہی تھی کچھ اور اساتذہ بھی تھے طلبہ کی بڑی تعداد تھی، میں نے جو کچھ بھی ٹوٹی پھوٹی گفتگو کی اس پر استاد مکرم کا تبصرہ تھا لا فض فوك، ان کے بعد مولانا نذر الحفیظ صاحب نے تو ایسے بلند و بالا تعریفی کلمات کہے کہ مجھے شرم محسوس ہونے لگی۔ دوبارہ مولانا نے مہمان خانہ میں ملاقات کی اور پھر تعریفوں کے پل باندھ دئے اور فرمایا کہ آئندہ جب بھی آنا ہو تو طلبہ کو ضرور خطاب کریں انہیں اسی قسم کے ٹانک کی ضرورت ہے۔ میرا اور میرے تمام ندوی رفقاء کا تقریبا یہی خیال ہے کہ ہمارے اساتذہ اپنے طلبہ کی ہمت افزائی اور حوصلہ پروری میں بڑے سخی اور فیاض واقع ہوئے ہیں۔ اساتذہ ندوہ کی اس خوبی کا دوسرے اداروں میں فقدان ہے۔
آخر میں میں ندوہ کے تمام تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف سے ابنائے ندوہ کے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ ان سے گزارش کروں گا کہ ملت کے بیش قیمت سرمایہ ندوة العلماء کی نگرانی و نگہبانی صرف مولانا رابع صاحب کی ذمہ داری نہیں ہے، آپ بھی اس ذمہ داری میں برابر کے شریک ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ آپ ہماری توقعات سے بڑھ کر مادر علمی کے معیار و وقار کو بلند کرنے اور اس کی بقا، سالمیت اور استحکام کے لئے جدوجہد کریں گے۔
اللہ تعالٰی مولانا نذر الحفیظ صاحب کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے ان کی خامیوں کمزوریوں سے درگزر فرمائے، اپنی رحمت خاص سے نوازتے جنت الفردوس کا مکین بنائے، حضرت ناظم صاحب حضرت مہتمم صاحب تمام اساتذہ و ملازمین، مولانا کے افراد خاندان اور تمام ندوی برادری کو ان کی رحلت کا غم سہنے کی ہمت و قوت اور صبر و تسلی کا فیضان کرے، ندوة العلماء کے مخلص خادمین کی تعداد میں اضافہ فرمائے آمین۔

Comments are closed.