دور حاضر کا نظام تعلیم

روحا غفور

 

 

کسی بھی معاشرے یا قوم کی تربیت و ترقی کےلئے تعلیم خاص اہمیت رکھتی ہے- تعلیم ہمیں شعور دیتی ہے۔ زندگی جینے کا مقصد دیتی ہے۔ اور ہماری شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے ۔ تعلیم ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ زندگی کے مثبت اور منفی پہلوؤں میں تمیز سکھاتی ہے۔ تعلیم ہماری زندگی کا اہم اور لازمی جزو ہے۔ غرض کہ ہماری تمام تر زندگی کا دارومدار صرف اور صرف تعلیم پر ہے ۔

 

ہمارے *ملک پاکستان* کے *دورِ حاضر* پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم میں بہت تضاد پایا جاتا ہے- جیسا کہ کسی بھی مدرسے میں ہم علم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ تو ہم صرف ڈگری کو ترجیح دیتے ہیں۔ کہ کسی طرح ہمیں ڈگری مل جائے۔ اور ہم اچھی نوکری حاصل کر لیں ۔ ہم نے تعلیم کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ کہ ہم ڈگری حاصل کر کے اونچے عہدے تک پہنچ جائیں۔ اور پیسے کما کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر سکیں۔

*پہلے دور میں* تعلیم حاصل کرنے کا مقصد اپنی شخصیت کے اندر *نکھار* ، *شعور* اور *صحیح غلط* میں تمیز پیدا کرنا ہوتا تھا۔ تا کہ ہم اچھے شہری بن سکیں۔

لیکن *دور حاضر* میں *نظام تعلیم* کا مقصد ہی بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ اب تعلیم کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا اور اچھی نوکری حاصل کرنا ہے ۔یہی وجہ ہے۔ کہ بچوں کی تعلیم کے آغاز سے ہی والدین بچوں پر اپنی خواہشات کا بوجھ ڈال دیتے ہیں ۔ کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا ۔ہمارا بیٹا انجینئرنگ کرے گا۔ جب کہ ہو سکتا ہے کہ بچہ اس صلاحیت سے محروم ہو ۔ لیکن اسی بچے میں اس سے بڑھ کر کوئی دوسری صلاحیت موجود ہو ۔ لیکن والدین کی خواہش کے مطابق اپنے بچوں کو زبردستی اپنی من پسند تعلیم پر لگا دیا جاتا ہے ۔ جس کے بچوں کے دماغی طور پر بہت منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اور ان کی تعلیمی صلاحیت بُری طرح متاثر ہو جاتی ہے ۔اور وہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ عمل بچوں کی نفسیات پر بھی بہت اثر انداز ہوتا ہے۔

پھر ایسے احساس کمتری والے بچے اپنے تعلیمی مطالعے سے ہٹ کر صرف اور صرف اپنے والدین کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنی توجہ کو محدود کر دیتے ہیں۔ اور وسیع مطالعہ سے ہٹ کر اپنی توجہ کو کورس کے مطالعے تک ہی محدود کر دیتے ہیں۔ جس سے ان کا مقصد صرف اور صرف اچھے نمبروں سے پاس ہونا اور ڈگری حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح کی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ جب *اساتذہ* کے رتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ تو وہ اپنی زمہ داری سے دور بھاگتے ہیں۔ وہ *سکول*، *کالج*، *یونیورسٹیوں* میں ہمیں جو تعلیم دیتے ہیں۔ وہ بچوں کے مستقبل کے لیے بہترین معمار نہیں ہیں۔ ان کو دیکھ کر لگتا ہے ۔کہ سفارش پر رکھے گئے ہیں۔ اگر ان سے کوئی لفظ پوچھ لیا جاتا ہے۔ تو آگے سے جواب ملتا ہے ۔بیٹا ہم سرچ کر کے بتائیں گے۔ اگر ہم نے سرچ ہی کرنا ہوتا تو ہم گھر بیٹھ کے تعلیم حاصل کر لیتے۔ ہمیں اداروں کے اخراجات پورے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان اساتذہ کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے۔ لیکن علم نہیں ہوتا ۔جس سے طالبات سیکھ سکیں۔

 

*اون لائن کلاسز* میں بھی تعلیم کے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ طالبات کے انٹر نیٹ کے مسئلے، لوڈ شیڈنگ کے مسائل ، سگنلز کے مسائل جس کی وجہ سے طالبات اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے ۔ ہر طالب علم کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہوتی ۔جس کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اون لائن کلاسز میں طالبات کو جو پڑھایا جاتا ہے۔ وہ کسی ویب سائٹ سے سرچ کر کے سلائڈز بنا لی جاتی ہے۔ وہ ایک مختصر مواد ہوتا ہے ۔ اس سے ہمارے علم اضافہ نہیں ہوتا ۔ ہم صرف اتنا ہی پڑھتے ہیں ۔جتنا ہمیں پڑھایا جاتا ہے۔جب تک ہم اپنے مطالعے کو وسیع نہیں کریں گے۔ ہم تعلیم کا اصل مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔ شارٹ کٹ راستے اپنا کر ہم اپنی ڈگریوں پر چار چاند تو لگا سکتے۔ لیکن زندگی کا مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔

 

دُعا گو ہوں کہ ہمارے ملک پاکستان کے نظام تعلیم میں بہتری آئے ۔ اور ہماری نوجوان نسل بہتر تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کےلئے کچھ کر سکیں۔

Comments are closed.