آخرتم خوف کس بات کادلاتے ہو
عبدالرافع رسول
امریکہ نے2001میں جب افغان طالبان کی قائم کردہ امارت اسلامی افغانستان کے خلاف جنگ کا بگل بجا دیا ہے تواس وقت طالبان کے زیرنگین افغانستان کاغالب حصہ امن کاگہوارہ بن چکاتھااورایک ایسی آئیڈیل اسلامی مملکت قائم ہوچکی تھی کہ جہاںمعاشرتی جرائم پر کنٹرول حاصل کیاجاچکاتھااورسرزمین افغانستان پر لاء اینڈ آرڈر کی مثالی صورت حال تھی، افغانستان خانہ جنگی سے نجات پاچکاتھااورمنشیات کا مکمل خاتمہ ہوچکاتھا۔طالبان نے کسی آئی ایم ایف،کسی یورپی یونین ،کسی ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضوں میں گردن پھنسائے بغیر سربلندہوکر سادگی اور قناعت کے ساتھ اعلیٰ نظام حکومت قائم کیاتھا۔طالبان کے چھ سالہ اعلیٰ نظام حکومت کے بہترین دورمیںاسلامی قوانین کے ذریعے افغان معاشرے کو بدلنے کا محیر العقول کارنامہ سر انجام دیاتھا۔1978 کے بعدطالبان کے چھ سال نکال کرآج تک افغانوں کوامن ،سکھ اورچین نصیب نہیں ہوا۔طالبان اگر پریکٹیکل اسلام کا نام نہ لیتے اورعملی طورپر اسلامی احکام و قوانین کا نفاذ نہ کرتے۔وہ باصفانہ ہوتے ،اسلامی بودوباش کے حامل نہ ہوتے ، امریکہ کے دھن پراپنے سر دھن رہے ہوتے ، کرپٹ ہوتے اورہیروئن اورپوست کاشت کرنے کے دھندے میں گرفتارہوتے تو آج دنیا میں ان کی حکومت ایک پسندیدہ حکومت کے طور پر متعارف ہوتی اور اسے پوری دنیا میں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا۔
مغرب کی نظروں میں 1994میں معرض وجود میں آنے والے تحریک طالبان افغانستان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے صاف طور پر اعلان کیاتھا کہ ان کااقتدار،انکی تگ وتازاورانکی زندگی اوران کی موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے اوروہ جوکرتے ہیںسب کچھ اسلام کے لیے کر رہے ہیں ،لیکون کلمہ اللہ ھی العلیا۔ بس یہ بات تھی کہ مغرب کے نظام، فلسفہ، اور تہذیب نے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ لیا۔مغرب کے فسادیوں کوپتاتھاکہ اگر امارت اسلامی افغانستان کوچلنے کا موقع دیا جائے تو دنیا کے سامنے فی الواقع ایک ایسی ریاست اور معاشرے کا نقشہ عملی طور پر ابھرکرسامنے آئے گا جسے لازما مغربی سودی نظام اوراس کافلسفہ متزلزل ہوجائے گا اور اسکے تہذیب و ثقافت کا اندرون سیاہ تربے نقاب ہوجائے گا۔جس کانتیجہ یہ نکلے گا کہ جن مسلمان ممالک کو مغرب کے نام نہاد جمہوری طرز نظام حکومت اور فلسفہ حیات نے جکڑ رکھاہے وہ زنجیریں توڑکر اسے مستردکردیں گے اورتمام مسلمان ممالک یکے بعد دیگرے اسلامی نظام کی راہ پرگامزن ہونگے۔اس خوف اوراس ڈرکے ہیولے نے مغرب کواپنی سرشت میں چھپی ہوئی درندگی پرابھاراپھرجوکچھ افغانوں اورایک بہت بڑی اسلامی تحریک کے ساتھ ہواتاریخ کاحصہ بن گیا ۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ گذشتہ چالیس برسوں کے دوران افغانستان میںبس طالبان کے چھ سالہ نظام حکومت میں امن کادوردورہ تھا۔جبکہ خطے میں بیداری ابھر رہی تھی اور خطے میںجہادی تحریکات منظم ہو رہی تھیں جس کالازمی نتیجہ کشمیرکی آزادی تھا۔خطے میں ابھرتی ہوئی اس بیداری کواسلام دشمن سمجھ چکے تھے اوراس نے اس شجرکوثمربارہونے سے قبل ہی گرادیا۔لیکن طالبان نے ہمت نہیں ہارے اکیلے غیرمسلم اورمسلم ممالک یعنی پوری دنیا کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح ڈٹ گئے۔ تاریخ لکھے گی کہ طالبان کے خلاس لڑی جانے والی اس جنگ میں مسلم ممالک کے وہ تمام حکمران گروہ اور طبقات مغرب کے ساتھ شریک اور اس کے فطری حلیف ہیں جو مغرب کے پروردہ ہیں اور مغرب کی نمائندگی کرتے ہوئے عالم اسلام کی سیاست و معیشت اور فکر و دانش کو مغرب کے ہاتھوں گروی رکھ کر اپنے اقتدار اور عیاشیوں کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان نے باطل کاانکاراور قربانیوں کی ایک عظیم مثال پیش کرتے ہوئے پوری دنیاکے خمارکواپنے سامنے جھکادیااورآج وہ اپناچھن جانے والاافغانستان پھرسے واپس لے رہے ہیں اورقدم بہ قدم فتوحات حاصل کررہے ہیں ۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ کل کی طرح آج بھی امریکہ سے بھارت تک اسلام دشمن سرجوڑے بیٹھے ہوئے ہیں اورطالبان کی پیش قدمی کواپنے لئے مشترکہ خطرہ سمجھتے ہیں۔لیکن اب کی باروہ خودطالبان کے ساتھ نہیں لڑیں گے کیونکہ اس حماقت کابھرپورخمیازہ وہ بھگت چکے ہیں،اورانکی لاشوں کے چیتھڑے ابھی بھی افغانساتن کے لق ودق پہاڑوں کی کانٹے دارجھاڑیوںمیںپھنسی ہوئی ہیں۔اس باروہ ایک اورجنگ کے ذریعے سے طالبان کوالجھاکران کے مشن کوسبوتاژ کرناچاہتے ہیں وہ افغانوں کی مختلف قومیتوں کوجاہلیت پرابھاررہے ہیںاورانہیںطالبان کے سامنے کھڑاکرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں یہ بھی پتاہے کہ پوری ورلڈ کوساتھ لیکرہم سے نبرد آزما ہونے کی تاب نہ لاسکے توہمارے ان مشرقی ایجنٹوں،وظیفہ خوروں اورافغان قوم کے غداروں کی طالبان کے سامنے کیاحیثیت ہے ۔مگراس کے باوجوداسلام دشمن اپنی سازشوں میں لگے ہوئے ہیں مقصدیہ ہے کہ دونوں سائیڈوں سے مریں توافغان مریں۔ہمارااس میں کیاجاتاہے ۔ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے مشرقی زرخریدلکھاریوں کویہ ٹاسک سونپاکہ وہ طالبان کے خلاف بکواسیات لکھ کر دنیامیں طالبان کے خلاف نفرت کاماحول قائم ہو،اوردنیاسے صدائیں بلندہوں کہ طالبان جابراورظالم ہیں اوروہ افغانوں پراپناخاص ایجنڈامسلط کررہے ہیں۔اسی پس منظرکے ساتھ امریکہ کے یہ مشرقی ایجنٹ ایڑی چوٹی کازورلگاکرطالبان کی فتوحات سے افغانستان میں خانہ جنگی ہورہی ہے اوریوں اس ملک کوسکھ و چین اورامن نصیب نہ ہوسکے گاجوچارعشروں سے جنگ کی بھٹی میں مسلسل جل رہاہے ۔امریکی شراب خانوں میں پل رہی یہ مشرق کی یہ مینڈکیں اسی طے شدہ ٹاسک پوراکرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اپنافسادقائم کرنے کے لئے وہ افغانستان کے حوالے سے جوبات کررہے وہ آدھی ہے پوری بات کرنے کی وہ تاب نہیں لاسکتے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ افغانستان سے روس شکست سے لت پت ہونے کے بعدجب وہاں سے نکل گیاتوافغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیاتھا۔ روس کی واپسی کی طرح مختلف افغان گروپوں میں اقتدار کے لیے کشمکش کا سلسلہ شروع ہوا، اورافغانستان کاامن درہم برہم ہوا،اورآج جبکہ امریکہ افغانستان سے ذلت آمیز شکست خوردہ ہوکے واپس جارہاہے افغانستان کی پھر اسی صورتحال سے دوچارہورہاہے ۔
لیکن پوری بات یہ ہے کہ مجاہدین کے ہاتھوں سوویت یونین کے شکست کھانے اوربکھرجانے کے بعد جب طالبان چھاگئے توانہوں نے افغان گروپوں کے درمیان کشمکش کاخاتمہ ہوگیااورافغانستان ایک پرامن ملک کے طورپرابھرا۔ طالبان نے افغانستان کے ایک بڑے حصے کو خانہ جنگی سے نجات دلا کر اور ایک نظریاتی اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈال کر مثالی امن قائم کیا ۔امریکی گماشتوبند کرو تم یہ بکواس اورلوگ تمہاری بکواس سے کو ئی اثرقبول نہیں کرتے سچ سچ ہے اورآج کی دنیامیں سچ اس طرح نکھرکر سامنے آتاہے جیسے نصف النہار کاخورشیداپنی تابناکی کے ساتھ اپنے وجود اوراپنے خالق کی شان کوواضح اوردوٹوک بناتاہے۔
چنانچہ یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مغرب جو جنگ افغانستان میں ہارچکاہے ۔لیکن ہارتے ہارتے وہ کف افسوس مل رہے ہیں کہ وہ اپنے ناپاک مشن کی تکمیل نہ کرسکے اورشرمناک مشن یہ تھاکہ استعماری قوتوں کے غاصبانہ تسلط کے خلاف منظم ہونے والی جہادی تحریکات کواس بے رحمانہ اوروحشیانہ طریقے کچل دیاجائے کہ دنیا میں کوئی ایسی نظریاتی اسلامی ریاست قائم نہ ہو پائے جو دنیا میں موجود استحصالی نظام کے لیے خطرہ بن سکے۔
Comments are closed.