امارت شرعیہ پٹنہ کی صد سالہ خدمات: زریں ماضی،امید افزا مستقبل
مفتی نعمت اللہ ناظم قاسمی
ریسرچ اسکالر:اَم القری یونیورسٹی،مکہ مکرمہ
abuosamahqasmi@gmai.com
ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ،بہار ،اڈیشاور جھارکھنڈ کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم:امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے اپنے قیام کو سو سال مکمل کرلیا،اہل علم جانتے ہیں کہ امارت کی یہ صد سالہ تاریخ مسلسل جہد اور پیہم جاں فشانی سے عبارت ہے،آج جو امارت کی دیدہ زیب عمارت اور چہل پہل ہمیں نظر آتی ہے صحیح معنوں میں ان کی جڑوں میں امارت کے بانیان کا خلوص ،شب وروز کی تھکا دینے والی محنت اور دعاء نیم شبی کی قوت کار فرما ہے ۔
بانی امارت شرعیہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب رحمہ اللہ نے جہاں اپنی فکری پرواز سے اس کا خاکہ بیش کیا وہیں عملی جدو جہد بھی کی ،زمینی سطح پر گاؤں گاؤں چل کر اس اہم تنظیم کی اہمیت سے علماء وعوام کو روشناس کرایا،عملی میدان میں کی جانے والی یہ کاوش وقتی نہیں رہی، بلکہ امارت کی سوسالہ تاریخ اسی جدو جہد کا نام ہے،رب کریم کا بڑا احسان رہا کہ امارت کو ایسے بیدار مغز ،مخلص اور بے لوث خادم ملتے رہے جنہوں نے فکر ی وعملی طور پرامارت کو تقویت پہونچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
بانیان امارت کی نظروں میں اس تحریک کے جو مقاصد تھے ان میں مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق ،ملی مسائل کے حل کے لئے مضبوط پلیٹ فارم کا قیام،اور امت مسلمہ کو بلاد کفر میں ایمانی شناخت کے ساتھ زندگی گذارنے کا موقع فراہم کرنا تھا، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمہ اللہ کی پوری زندگی اسی جدو جہد میں گذری، وہ جہاں پیش آمدہ مشکل حالات کے مقابلہ کے لئے ہمہ تن تیار رہتے بلکہ سبقت کرکے ان کا حل تلاش کرتے،وہیں ان کی دور رس نگاہ مستقبل کے خطرات کو بھی بھانپ لیتی،اور انکے حل کے لئے کمربستہ ہوجاتے،اور اس راہ میں حائل بڑی سی بڑی رکاوٹوں کو بھی اپنی جدوجہد سے دور کرکے ہی آرام کی سانس لیتے،چنانچہ انہوں نے کانگریس کی بہت سی ان پالیسیوں کے خلاف محاذ قائم کیا جن سے اسلامی قانون یا مسلم سماج کو نقصان پہونچنے کا خطرہ تھا،بالآخر کامیابی نے ان کا قدم چوما ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امارت شرعیہ اپنی صدسالہ تاریخ میں مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کرنے میں بڑی حدتک کامیاب رہی ہے،دارالقضاء کا نظام پورے ہندوستان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر امارت کی ہی دین ہے،لوگوں کو حکم الہی کے مطابق اپنے عائلی مسائل کو حل کرانے کی جو قابل قدر جدو جہد امارت کے تحت شروع کی گئی تھی آج بحمد اللہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ میں خاص طور پر اس کے ثمرات ظاہر ہیں ،اس سلسلہ میں مرکزی دارالقضاء پھلواری شریف پٹنہ کے بعد دارالقضاء مدرسہ رحمانیہ سوپول کی خدمات خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،حضرت مولانا محمد عثمان صاحب رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد اس دارالقضاء کی ذمہ داری حضرت مولاناقاضی محمد قاسم مظفرپوری رحمہ اللہ کے سپرد کی گئی،آپ نے یہاں کے نظام کو مختلف طریقے سے تقویت پہونچائی، اسے قرب وجوار کے اضلاع کے ساتھ ساتھ نیبال کی سرحد تک وسعت دی، چنانچہ دور دراز علاقوں سے لوگ اپنے عائلی مسائل کے حل کے لئے یہاں آنے لگے، ایک محدود اندازہ کے مطابق یہاں صرف مولانا محمد قاسم مظفرپوری رحمہ اللہ نے تقریبادس ہزار مقدمات کے فیصلے اپنے قلم سے کئے ہیں ۔
ملکی سطح پر دارالقضاء کے نظام کو فکری وعملی طور پر مضبوط کرنے والوں میں خاص طور پر حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی رحمہ اللہ ، حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ ، حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمہ اللہ، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ، حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری رحمہ اللہ اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ کے اسماء قابل ذکر ہیں ۔
امارت شرعیہ کا ایک اہم بنیادی مقصد کلمہ واحدہ کی بنیاد پر امت میں اتحاد واتفاق کی فضاء ہموار کرنا ہے،ظاہر ہے جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے،ہم کمزور رہیں گے،اور مضبوطی کے ساتھ اپنی بات جمہوری اداروں میں نہیں رکھ سکتے ہیں ،مولانا سجاد صاحب رحمہ اللہ کے بعد اس مشن کو مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ نے بہت ہی قوت کے ساتھ آگے بڑھایا،اور اس کا فائدہ امت مسلمہ نے بہت سے موقعوں پر محسوس بھی کیا ۔
اب جب کہ ہندوستان کی صورت حال بد سے بدتر ہو رہی ہے،مسلمانوں کو ذہنی وجسمانی اذیت دینے کے لئے روز کچھ نہ کچھ شوشے میڈیا میں لائے جا رہے ہیں ،این آر سی،ماب لنچنگ،یکساں سول کوڈ،لو جہاد،اور اب جبری تبدیلی مذہب کو موضوع بناکر مسلمانوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے،ظاہر ان صورت حال میں اگر ہم ابھی بھی مختلف ٹولیوں میں بٹے رہیں گے اور ہر گروپ اور جماعت اپنے طورپر ان حالات کا مقابلہ کرنا چاہے گی،تو اس سے تو حکومت اور ان منو وادیوں کے کانوں پر جوں تک نہیں ریگیں گی،ہاں اگر متحدہ کوشش کی جائے تو یقینا ہم کامیاب ہوں گے،اس کے لئے امارت شرعیہ کو پہل کرنا ہوگا اور اتحاد امت کے فلک شگاف نعروں کے بجائے عملی طور پر پیش قدمی کرنی ہوگی ۔
امارت شرعیہ کی جدو جہد کا ایک اہم محور تعلیم وتربیت کا میدان ہے،اس سلسلہ میں حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمہ اللہ، حضرت مولانا سید ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ اورحضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب مدظلہ کے زمانے میں قابل قدر کوشش کی گئیں ہیں ،مگر حقیقت یہی ہے کہ اس شعبہ میں امارت کو مزید توجہ کی ضرورت ہے،مسلم آبادی والے علاقوں میں پرائمری اسکول کی سطح سے لے کر بارہویں تک کے اسکول کا نتظام ایک دیرینہ خواب ہے،جسے اگر ارباب امارت چاہیں تو بفضل خداوندی شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے،جو قوم کانفرنسوں ،رات جگے جلسے جلوسوں پر کروڑوں روپئے گنوا سکتی ہے کیا وہ چند لاکھ روپئے سے اپنے علاقہ میں اسکول کے قیام میں تعاون نہیں کرسکتی ہے،ضرورت ہے منصوبہ بندی اور منظم طور پر پروفیشنل انداز میں کام کو انجام دینے کی،اس سلسلہ میں ابتدائی مرحلہ میں جنوبی ہند کے بعض مشہور تعلیمی اداروں سے اشتراک کرکے بھی کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے ۔
اگلا مرحلہ اعلی تعلیمی اداروں کے قیام کے منصوبہ کا ہو ،ٹیکنیکل تعلیمی اداروں کی طرف کئی سالوں سے امارت کی توجہ ہے،ملت کے فرزندوں نے اس سے خوب فائدہ بھی اٹھایا ہے،اب ضرورت ان کو مستحکم کرنے ، مزیدنئے نئے کورس کو شامل کرنے اور ملک کی مختلف کمپنیوں سے ان کے اشتراک ومعاہدہ کا ہے،تاکہ ان اداروں سے کور س کی تکمیل کے بعد ان طلبہ کو اچھی کمپنیوں میں روزگار کے مواقع فراہم ہوسکیں ۔
ان اعلی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلبہ کی ذہنی وفکری تربیت کے مواقع بھی گاہے بگاہے فراہم کرنے ہوں گے تاکہ جب وہ عملی زندگی میں جائیں تو ان کے ذہن وفکر میں اسلامی شعور مستحکم ہوچکا ہو،اور صرف اپنی ذات کے لئے نہیں ،بلکہ ملت اور قوم کے لئے جینے کا ہنر سیکھ چکے ہوں ۔
امارت شرعیہ کا ایک اہم زریں باب سماجی اور سیاسی مسائل میں قیادت کا ہے ،آزادی کے بعد امارت نے باضابطہ سیاست میں شرکت نہیں کی، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہار کی سیاست کے نامور چہروں کو بھی اپنی کشتی ساحل تک پہونچانے کے لئے ماضی قریب تک در امارت کا سہارا لینا پڑتا تھا،اور اس دہلیز پر اپنی حاضری درج کرانا ضروری تصور کرتے تھے،مگر اب شاید ان سفید پوشوں سے اس کی ضرورت کا احساس جانے لگا ہے،ظاہر ہے اس کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں ،مگر اس میں ہماری بے اعتنائی،احساس کمتری کا بھی دخل ہوسکتا ہے،اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ہمیں اس لائق بھی نہیں سمجھنے لگے کہ شاید ہماری بھی مسلم سماج میں پکڑ اور قوت ہے،اس کے لئے جہاں ہ میں امارت کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط و مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ،وہیں ضرورت پڑنے پر ملی مسائل کو حکمت ومصلحت کی رعایت کرتے ہوئے شدت کے ساتھ اٹھانے کی ضرورت ہے،یقینا اس سلسلہ میں کوششیں کی جاتی ہیں مگر ضرورت ان کوششوں کو منصوبہ بند طریقہ پر،متحد ہوکر حکومت کے سامنے پیش کرنے کی ہے، تاکہ ہماری قوت کا اندازہ انہیں ہوسکے ۔
دعاء ہے کہ مسلمانان ہند کے اس قابل فخر وراثت کو مخلص،محنتی اور حوصلہ مند خادم ہمیشہ ملتا رہے،جو امت کی صحیح رہنمائی کرسکے،اور مسلم معاشرہ دینی،معاشی اور سماجی لحاظ سے ترقی کے منازل طئے کرتا جائے ۔
Comments are closed.