سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

ایم تجمل بیگ
دل سے جو پُکارو گے عُمرؓ کو،تو دمِ رزم
یہ نام ہی شمشیر،یہی نام سِپَر ہے
”ہوتا جو کوئی نبی مِرے بعد،تو فاروقؓ”
اُس کا ہے یہ فرمان کہ جو خیرِ بشر ہے
خلافتِ راشدہ کے دوسرے تاجدار، جرأت اور بہادری کے اعتبار سے عرب بھر میں ممتاز، تاریخ اسلام کی آبرو، تاریخ انسانیت میں کامیاب ترین حکمران، دریائے نیل جن کے ایک پیغام سے جاری ہوا اور آج تک بہہ رہا ہے، تاریخِ اسلامی کی اولوالعزم عبقری شخصیت، خسر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، داماد حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ، خلافتِ اسلامیہ کے تاجدارِ ثانی، رسالت کے انتہائی قریبی رفیق، مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عزت و مآب فاتح روم و فارس، حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد جنہوں نے پوری زندگی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غلامی میں گزار دی اور جو آج بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پڑوس میں آرام فرما ہیں یعنی جناب سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد پیدا ہوئے۔آپ کا نام ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہے” آپ رضی اللہ عنہ کا لقب ”فاروق” ہے۔آپ کی کنیت ”ابو حفص”ہے۔آپ رضی اللہ عنہ کا ”نسب” نویں پشت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملتا ہے۔آپ کا رنگ سفید مائل بہ سرخ، رخساروں پر گوشت کم اور قد مبارک دراز تھا۔آپ رضی اللہ عنہ نے نبوت کے چھٹے سال 33 سال کی عمر میں اسلام قبول کرکے اسلام کو بے بہا قوت بخشی۔جن کے آنے سے کفار سہم چکا تھا، خوف و ہراس ان میں سرایت کرچکا تھا، کفار کے غم کی انتہا نہ تھی کفار کے گھروں میں صف ماتم بچھ چکا تھا۔ جب میں ان کا نام جنہوں نے کفار کو بھیگی بلی بنا کر رکھ دیا تھا لکھنے کے لیے قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔آج جب میں جھوٹے وعدے کرتے ہوئے سیاستدان دیکھتا ہوں تو مجھے قرآن پاک میں سورت الاحزاب، سورت النساء، سورت الانفال، سورت المؤمنون، سورت روم کے ساتھ ساتھ بہت سی سورتوں میں ایک شخص کا بولنا قرآن بنا ہوا نظر آتا ہے، اس کا مشورہ دینا قرآن بنا نظر آتا ہے اور جب میں ایسی عظیم شخص کا نام لکھنے کے لیے اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔میں جب رحمت سے محروم رہنے والے بد بختوں کو صحابہ اور اہلبیت میں فرق کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ یاد آتا ہے کہ جب ان کو پتہ چلا کہ کچھ لوگ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جانشینوں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں تو آپ رضی عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں سے فرمایا……!(ترجمہ)”اس ذات پاک کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا، اور روح کو زندگی بخشی، ان دونوں حضرات سے وہی محبت کرے گا جو خود صاحب فضیلت اور ایمان والا ہوگا اور ان دونوں سے بغض اور عداوت صرف وہی رکھے گا جو خود بد بخت اور دین سے نکلنے والا ہوگا ۔ کیونکہ ان دونوں حضرات کی محبت اللہ تعالی کے قرب کا ذریعہ ہے اور ان سے بغض و عداوت رکھنا دین سے محروم ہونے کی نشانی ہے۔(کنز العمال)
جب میں ان دونوں حضرات کا نام لکھنے کے لیے جن کی عظمت کی گواہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی دی اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ ساتھ میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی لکھتا چلا جاتا ہے۔آج بھی جب میں صرف نام کے لحاظ سے ریاست مدینہ یعنی (پاکستان) میں لال مسجد کا گھیراؤ دیکھو تو مجھے چودہ سو سال پہلے کعبے کا طواف کرتی تاریخ کے پنوں میں ایک للکار گونجتی ہوئی اپنے کانوں میں سنائی دیتی ہے، کہنے والا کہتا ہے کہ کوئی ہے جو عمر کا رستہ روک لے، کوئی ہے جو اپنی اولاد یتیم کروانا چاہتا ہو، کوئی ہے جو اپنی بوی کو بیوہ کروانا چاہتا ہو تو آئے میرے مقابلے میں۔بڑھنے والے قدم وہیں ساقط ہوجاتے ہیں، تلواریں نیام میں گھس جاتی ہیں، سر جھک جاتے ہیں، کفار سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، جن کی طاقت نے عرب میں کہرام مچایا ہوا تھا ان کی طاقت کو نیست و نابود کرکے جس نے خاک میں ملا دیا تھا اب جو اس کا نام لکھنے کے لیے میں اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔بابری مسجد کی حالت دیکھ کر میں لکھنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ دنیا میں ایسا بھی حکمران آیا تھا جس نے مسجدوں کی حفاظت کی قبلہ اول جو آج یہودیوں کے قبضے میں ہے اس کو فتح کیا تھا، جب میں مسجدوں کی حفاظت کرنے والے کا نام لکھنے کے لیے کاغذ پر قلم رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔جب میں اس دنیا میں بھوک سے روتیہوئے بچوں کو دیکھتا ہوں، روزی روٹی سے تنگ آکر اپنا جسم فروخت کرتی عورتوں کو دیکھتا ہوں ہوں، سڑکوں پر ہاتھ میں کشکول پکڑے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ حکمران یاد آجاتا ہے جو 22 لاکھ مربع میل کا اکیلا حکمران تھا، جو اپنی رعایا کا خیال رکھنے کیلیے گلیوں میں گشت کیا کرتے تھا، جن کی نظر گشت کے دوران ایک عورت پرپڑتی ہے جس کے گرد بچے بیٹھے رو رہے ہیں اور اس نے ہنڈیا میں کچھ ڈال کر چولہے پر چڑھایا ہوا ہے، رونے کی آواز سن کر جو عورت سے پوچھتے ہیں کہ یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ جن کو جواب ملتا ہے کہ یہ رونا بھوک کی وجہ سے ہے۔پھر ہنڈیا کہ متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس میں کیا ہے؟ خاتون کہتی ہے کہ اس میں پانی ڈال کر میں ان کو وہم ڈال رہی ہوں تاکہ یہ سوجائیں۔جو یہ جواب سن کر وہیں بیتھ کر رونے لگ جاتے ہیں اور پھر دارالصدقہ آتے ہیں وہاں سے کچھ گھی، گندم، چربی، کھجوریں، کپڑے اور دراہم ایک تھیلے میں بھر کر اپنے غلام سے کہتے ہیں کہ اسے میرے اوپر رکھ دو ۔جو غلام کے اصرار کرنے پر کہتا ہے کہ اسے مجھ پر ہی رکھو کیونکہ آخرت میں مجھ سے ہی اس کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی ۔ پھر جو سامان لیکر عورت کے گھر پہنچتے ہیں اور خود چولہے میں پھونکیں مار مار کر کھانا تیار کرتے ہیں اور پھر ایک برتن میں نکال کر بچوں کو کھلاتے ہیں یہاں تک کے بچوں کا پیٹ بھر جاتا ہے۔
جب میں ایسے حکمران کا نام لکھنے کے لیے اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔جب میں ہر ملک میں مختلف انداز میں مجرموں کے لیے بنے ہوئے قید خانے یعنی جیل کو دیکھتا ہوں تو ایک حکمران کا تصور میرے ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے،جب میں اذان دینے والے کو تنخواہ ملتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اس تنخواہ کا آغاز کرنے والا حکمران میری سوچوں میں گردش کرتا ہے، جب میں جگہ جگہ شہر اور شہریوں کی حفاظت کے لیے پولیس دیکھتا ہوں تو مجھے ان کا محکمہ بنانے والا حکمران یاد آتا ہے اور جب میں اس حکمران کا نام لکھنے کے لیے اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔
میں جب سرحدوں پر فوجی چھاؤنیاں دیکھتا ہوں تو ان کو بنانے والا اور اس محکمے کا آغاز کرنے والا یاد آتا ہے، میں جب ناروے میں دودھ پیتے بچوں، بیواؤں، معذوروں اور بے آسراؤں کا وظیفہ مقرر ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے چودہ سو سال پہلے اس کام کا انتخاب کرنے والا یاد آتا ہے،اور جب ایسے حکمران کا نام لکھنے کے لیے میں اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلاجاتا ہے۔میں جب اپنے حکمرانوں کو اپنے کتوں کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل میں کم کھا کر زیادہ ضائع کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے وہ حکمران یاد آتا ہے جس کے دستر خوان پر کبھی دو سالن نہیں آئے تھے، میں جب سو سو کنال میں اپنے حکمرانوں کے گھر دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں کوئی نام گردش کرنے لگتا ہے جو چودہ سو سال پہلے 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہونے کے باوجود درخت کے نیچے اینٹ کو تکیہ بنا کر سویا کرتا تھا۔میں جب اس نام کو لکھنے کے لیے اپنے قلم کو کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔میں جب دیکھتا ہوں کہ دن میں ہی سڑکوں پر سر عام لوٹ مار کر کے لوگوں کو موت کی گھاٹ اتارا جارہا ہے تو مجھے ایک ایسے حکمران کا واقعہ یاد آتا ہے کہ جب مدینے سے بہت فاصلے سے ایک چرواہا بھاگتا ہوا آتا ہے اور کہتا ہے کہ لوگو انسانیت کے محسن کا انتقال ہوگیا ہے۔لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں کہ ”تم مدینہ سے ہزار میل دور جنگل میں رہتے ہو تمہیں اس سانحے کی اطلاع کس نے دی؟؟”سوال سن کر چرواہا بولتا ہے کہ جب تک ہمارے محسن زندہ تھے اس وقت تک میرے جانور بے خوف و خطر چڑتے تھے کوئی بھیڑیا ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا لیکن آج ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا ایک بچہ اٹھا کر لے گیا تو میں نے اس سے اندازہ لگایا کہ عدل و انصاف کرنے والا آج اس دنیا میں نہیں رہا…. عدل کو جس کی وجہ سے عدل فاروقی کہا جانے لگا جب میں اس کا نام لکھنے کے لیے اپنا قلم کاغذ پر رکھتا ہوں تو میرا قلم خود بخود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لکھتا چلا جاتا ہے۔ہمارے سامنے چرچل، ہٹلر اور نپولین وغیرہ کی مثالیں پیش کرنے والے مسلمان دانشور اور اہل قلم کو کاش یہ بھی یاد رہتا کہ اُن کی تاریخ میں ایک عمرؓ بھی گزرا ہے‘ عظیم عمرؓ، سچا عمرؓ، بے مثال عمرؓ، رخشندہ و تابندہ عمرؓ، زندہ و جاوید عمرؓ، ہمارا فخر عمر ؓ، ہمارا مرشد اور ہمارا رہبر عمرؓ!لاکھوں سلام ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام اصحاب کرام و اہل بیت عظام پر کہ جن کے احسانات کا حق ہم کبھی ادا نہیں کر سکتے۔
اے اللہ! ہماری طرف سے اُنہیں بہترین اجر عطاء فرما،اُن کے درجات کو مزید بلند فرمانا اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا نصیب فرما۔ (آمین ثم آمین)

Comments are closed.