دورحاضر میں مسلمانوں کواپناحوصلہ بلند اورصبرواستقامت کی راہ اختیارکرناضرورہ ہے
محمدطفیل ندوی
جنرل سکریٹری ! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی
آج ملت اسلامیہ کیلئے سب سے بڑامسئلہ یہ ہےکہ وہ اپنی حیثیت ،اپنا مقام اوراپنے فرض منصبی کوبھول گئی ہےوہ عرفان ذات کی اس دولت سے محروم ہوگئی ہے جسےاقبال نے ’’خودی ‘‘سے تعبیرکیاتھا اورجس کے بارےمیں حضرت علی ؓ نے فرمایا تھاکہ جس نے اپنےآپ کو پہچان لیا اس نےاپنےرب کو پہچان لیا اسلئےسب سےاہم اورضروری کام یہ ہے کہ ملت کو اس کااصل مقام ومنصب یاددلایاجائے کہ اللہ رب العزت نے اسےزمین میں اپناخلیفہ بناکربھیجا ہے، اس کامقصدتخلیق ہی یہ ہےکہ وہ اللہ کا مثالی بندہ بن کر رہے معروفات کوپھیلائے اورمنکرات کو مٹانےمیں اپنی زندگی صرف کردے وہ مسائل سے کراہتی ہوئی انسانیت کیلئے نجات دہندہ ثابت ہو اورعظمت رفتہ کی بازیابی کےحصول کاجذبہ اس کےرگ وپےمیں پیوست ہوجائے آج ہماری نئی نسل فلمی اداکاروں اورکرکٹرس کوخوب جانتی ہے ان کے ریکارڈبھی رکھتی ہے مگروہ امام غزالی ،علامہ ابن تیمیہ ، بوعلی سینا ،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ،مجددالف ثانی، سلطان صلاح الدین ایوبی ،محمدبن قاسم کےبارےمیں کچھ نہیں جانتی ضرورت ہےکہ ہم نئی نسل کو اپنی تاریخ اوراپنے اسلاف کےکارناموں سےمتعارف کرائیں تاکہ احساس کمتری بھی دورہو اوراسےمعلوم ہو کہ تہذیب وثقافت اورسائنس وٹیکنالوجی ہماری میراث ہے اوراس میدان میں آج بھی ہمیں سب سے آگےپہونچناہےآج ملت کا ہر فرد عالمی صورتحال سےپریشان ہےاورہونابھی چاہیےمگرپریشان ہونا ہمارےمسائل کاحل نہیں ہے بلکہ ہرشخص اپنی اپنی جگہ اپنی ذمہ داریوں کواداکرے خوداپنی ذات ،اپنی فیملی کےبارےمیں فکرکریں عملی پروگرام بنائے اورمن حیث المجموع اپنےمعاشرے کواونچااٹھانےکی کوشش کریں ۔اسلئے آج ضرورت ہےکہ انسانیت کواس کی فلاح گم گشتہ کاپتہ دیاجائے اسے بتایاجائے کہ وہ جس موڑپرحیران وسرگرداں ہےاورجس رخ کی وہ متلاشی ہے وہ اس راستہ پرنہیں ہے جس پروہ جارہی ہےبلکہ انسانیت کی فلاح وکامرانی اسی چودہ سوسال پرانے ابدی پیغام میں مضمرہے جواس دنیائے کفروضلالت کےآبائواجداد ابولہب وابوجہل نے ٹھکرادیاتھا اورجس کوابوبکر صدیق ؓ ،عمرفاروق ؓ اوردیگرسابقین واولین نےحرزجاں بنایا اورپروان چڑھایا تھا۔
اس وقت مسلمانوں کی بڑی تعدادکاکیاحال ہے ؟ غورکیجیےایسامعلوم ہوتاہے کہ ہم صرف دنیاکوبٹورنے ،دنیاسنوارنے دنیاکی زندگی ہی کوہرطرح چمکانے کیلئے پیداہوئےہیں خودفراموشی،خدافراموشی ،نبی کے فرمودات سے بغاوت ،زندگی کے تمام شعبوں میں خداکےاوامرونواہی سے سرکشی ان میں سےکون سی بیماری ہے جس کےہم لاعلاج مریض نہیں بن گئے ہیں؟ہمارےامراء اوراہل ثروت بالخصوص قائدین وحکمرانوں کاکیاحال ہے ؟عیش وعشرت کےکون سے طریقے ہیں جنہیں ہم نے اختیا رنہیں کرلیا ہے،خوشی وغم کے موقع پر ہم کس طرح آپےسے باہرہوجاتےہیں ،فخرومباہات کی کون سی قسم ہےجس کوہم اپنی زندگی میں نہیں آزماتے،اب ہم اگراس کےبعد ’وہن ’‘سے دوچارہوجائیں اوراقوام وامم کےبالمقابل ’’جھاگ‘‘کےدرجےمیں آجائیں توہمیں اپنے اعمال کاجائزہ لینےکی توفیق کیوں نہیں ہوتی؟من جملہ ان بیماریوں سے جوذلت وہزیمت کاذریعہ بنتی ہیں، کسل مندی وغفلت اورخواہشات نفسانی ہےرسول اکرم ﷺ نے اس سےباربار پناہ مانگی ہے اورامت کواس سےبچنےکی تلقین کی ہے قرآن میں خواہشات نفس کایہ نتیجہ بتایاگیاہےکہ اس سے کان اوردل پر مہرلگ جاتی ہے اورآنکھ پر پردے پڑجاتےہیںجس سے راہ ہدایت نہ تونظر آتی ہے اورنہ ہدایت کی بات سننے اورسمجھنےکی توفیق ہوتی ہے،لیکن امت مسلمہ کاسورج بالکلیہ غروب ہوجائے ایسانہیں ہوسکتااسکی تاریخ بتاتی ہےکہ وہ زخم کھاکر پھرمسکرائی ہے، کچل جانےکےبعد پھراٹھ کھڑی ہوئی ہے ،اس کاجھنڈاکبھی ذراساجھکتا ہوانظرآیاتوپھربلندی پرپھہرانےلگا،وہ اگرپیچھے ہٹی ہے تومزید تازہ دم ہوکر آگےبڑھی ہے،وہ خداکے آخری پیغام کی نمائندہ ہے اسلئے اسی کی طرح جاوداں ہے،لہذایہ کہناصحیح نہ ہوگاکہ اسلام کی بیٹری ختم ہوچکی ہے، یااس کے دن لدگئے یہ امت ہرصدمےکےبعد زیادہ طاقتور ہوتی ہے ہرآزمائش کے بعد مزید پراعتمادنظرآتی ہے،ماضی سے سبق لینااسکا شیوہ رہاہے،حالات وواقعات کا نشیب وفراز اس کےدست وبازو کوکمزورتوکرسکتاہے لیکن بالکلیہ توڑنہیں سکتا،اسلام محض معجزات وکرامات کے ذریعے فتح تونہیں پاتا لیکن ان انسانوں کےذریعے فتح پاتارہاہے اورفتح پاتارہےگا ،جن کےکارنامے زندہ معجزہ ہواکرتےہیں جوکتاب اللہ وسنت رسول اللہﷺ کے سانچےمیں ڈھلےہوتےہیں اورجن کا تسلسل کم وبیش رہتی دنیا تک باقی رہےگا،اس میں کوئی شک نہیں کہ کامیابی قیمت چاہتی ہے اگرہم قیمت چکانےکیلئے تیارہیں توکامیابی ضرورملےگی قیمت مختلف شکلوں میں ہوسکتی ہے،ذاتی محنت ومشقت ،خواہشات پرقابو،ذہنی اوردماغی جانفشانی ،جسمانی تکلیفیں،سفرکی صعوبتیں ،لوگوں کے طعنےاوراپنوں کامذا ق ،اساتذہ کی ڈانٹ پھٹکاراورناگہانی مصیبتوں کاپہاڑ،مالی پریشانیاں اوراغیارکی ریشہ دوانیاں ،غرض یہ کہ قربانیاں کسی بھی قسم کی دینی پڑسکتی ہیں تب جاکرجیت کاتمغہ حاصل ہوتاہےدنیاکی چھ ہزارسال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ جس طرح کبھی سورج مغرب سے نہیں نکلا جس طرح جاڑاگرمی اوربرسات کے موسموں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اورنہ زمین سےنکلنےوالے پودے کانظام کبھی بدلا اسی طرح نوع انسانی کی جن عظیم شخصیتوں نے اپنی کامیابی کی تاریخ رقم کی ان کو بھی وہ کامیابی بغیرقیمت کےنہیں مل سکی جس نے جیسی قیمت چکائی ویسی اسےکامیابی ملی،حالات کی سختی کو دیکھنے کا ایک زاویہ بلکہ مومنانہ زاویہ یہ ہےکہ اسے ہم فطرت کا اشارہ سمجھیں، اسےایک تابناک مستقبل کی بشارت تصورکریں، کسی چمپئن شپ کافائنل مقابلہ سے پہلے جس طرح کوچ ٹیم کو سخت ترین مشقتوں سےگذارتاہے اسی طرح اللہ تعالی بھی قوموں کوبڑی ذمہ داریاں دینے سے پہلے سخت حالات سے گذارتاہے لیکن یہ سخت مشقتیں کمزوریوں کو دورکرنےکیلئے ہوتی ہیں خودکواوربہتربنانےاورصلاحیتوں کونکھارنےکیلئے ہوتی ہیں ان مشقتوں کے مقاصدپر اگرٹیم کی نظر ہو اوران مقاصد کووہ بھرپورطورپرحاصل کرےتوپھروہ ورلڈ چمپئن بن کرنکلتی ہےجس دن ہم اپنے مسائل کیلئے خودکوذمہ دار سمجھیں گے اوران کے حل کاپوراچارج خودلیں گے وہ ترقی اورکامیابی کی شاہراہ پرہماراپہلاقدم ہوگا اپنی کسی ناکامی کیلئے دوسروں کوذمہ دار قرارادینےکا رویہ دراصل راہ فرار ہے جوفرد یاقوم اس راہ فرار کی عادی ہوجاتی ہے وہ کبھی کامیابی کاسرانہیں پاسکتی ایک کامیاب فرد اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتاہے بیرونی احوال اس کے کنٹرول میں نہیں ہوتے اسلئے انہیں وہ خداکے سپرد کردیتاہے البتہ اندورنی احوال پر اس کاکنٹرول ہوتاہے وہ ان کی اصلاح کرتاہے زیادہ قوت اورزیادہ دانشمندی کیساتھ پھر کوشش کرتاہے یہاں تک کہ کامیاب ہوجاتاہے۔
آج کادور ایک انتہائی ظالمانہ اورجابرانہ دورہے آمریت اورڈکٹیٹرشپ سماج پرچھارہی ہے چندمٹھی بھرلوگ دنیاوانسانیت کےمالک بن بیٹھیں ہیں ،ظلم وجورکی چکی چل رہی ہے جوجس طرح چاہ رہےہیں اپنے ارادوں کی تکمیل کررہےہیں یہ انسانیت کاتاریک ترین دورہےانسانیت چیخ رہی ہیں، ظلم واستبدادکیخلاف دنیاکےکمزورانسان صف آراہورہےہیں کیوں کہ ہمیں یقین ہےکہ جب رات کی تاریکی اپنی انتہاکوپہونچتی ہےتوصبح کی سپیدی امید بندھ جاتی ہےتو نورکی کرن کاانتظارہوتاہے نورآہستہ آہستہ تاریکی کامقابلہ کرتےہوئے ان پرغلبہ پالیتاہے اوردنیائےانسانیت منورہوجاتی ہے ہمیں کامل یقین ہےکہ آج نہیں توکل انشاءاللہ تڑپتی ہوئی انسانیت سکون حاصل کرےگی اوربدکرداری کےدہکتے ہوئے انگارے سردپڑجائیں گے ،رحمت کےبادل منڈلائیں گے اورتمام باطل نظام ہائے زندگی ناکام ہوںگے،آج کے حالت پرجب ہم غورکرتےہیں توصاف محسوس ہوتاہےکہ آج دنیاکاکوئی گوشہ اورکوناایسانہیں ہے جہاں آمریت اورڈکٹیٹرشپ کی بنیادپر منصب اقتدارپر کوئی قابض نہ ہو ہرجگہ مفادپرستی خودغرضی اورظلم وستم کا دوردورہ ہے چندطاقتیں پوری دنیاکواپنی مٹھی میں بندکررہی ہیں انصاف راست روی غریبوں کے حقوق اورجمہوری قدروں کی پامالی ہورہی ہے ان حالات میں ان تخریب کاروں کامقابلہ کرنےاوراپنی آوازبلندکرنے کیلئے اہل حق آگے بڑھ رہےہیں گوکہ ان کی آواز بظاہرکمزورہے ان کے ذرائع وسائل محدودہیں لیکن وہ عزم وہمت کاپیکر بن کر دنیاکےسامنے آرہےہیں آمریت اورفسطائیت کے ماننےوالوں کو ان سےزبردست خطرہ لاحق ہے وہ اس آوازکودبانے مٹانے اورختم کرنے کیلئے اپنی تمام قوت صرف کررہےہیں لیکن یہ قوتیں اس سیل رواں کوروکنےمیں کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔
اسلام کی فطرت میںقدرت نے لچک دی ہے
یہ اتنا ہی ابھرے گا جتناکہ دبا ؤگے
خلافت کے نظام پریقین رکھنےوالے افرادمنظم ہوکر جدوجہدکررہےہیں تحریکیں چل رہی ہیںظلم کے سنگین پہاڑلرزرہےہیں ان کی بلندچوٹیا ں ٹوٹ رہی ہیںقدامت پرستی اوررجعت پسندی کےنام پرخلافت کے ہم نوائوں کوبدنام کرنےکی کوششیں کی جارہی ہےلیکن حق کے علمبرداراپنے مشن اورمقصدکےحصول کیلئے جدوجہدکررہےہیں وہ صبروضبط منصوبہ بندی اورحکمت کیساتھ اپنے کاموں کوانجام دےرہےہیں وہ وقت اب دورنہیں جب قرآن مقدس کی یہ آواز بلندہوگی ’’حق آیا اورباطل مٹاباطل تومٹنےہی کیلئے ہے ‘‘اب حق پرستوں کایہ فرض ہےکہ وہ مایوس اوربدل نہ ہوں عزم وحوصلےکیساتھ یکجااورمتحدہوں اوردنیائےانسانیت کی حفاظت کیلئے ہرمحاذپرچوکس رہے ان کااتحادواتفاق سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح ہو ایثاروقربانی اورلگن عشق کی حدتک پہنچ جائےانشاءاللہ ہمیں یقین ہےکہ دنیاایک بارپھر نبوت کےطریقے پرخلافت کےنظام کودیکھے گی اورسنہری دور ایک بارپھر لوٹ آئیگا جس کا دنیاحسرت ویاس کیساتھ انتظارکررہی ہے دبے اورکچلے ہوئےلوگ اوپر اٹھیں گے خواتین پرہونیوالے مظالم کاخاتمہ ہوگا عدل وانصاف کادوردورہ ہوگا اوردنیاامن وآشتی کاگہوارہ بن جائےگی ۔بس ہم اہل ایمان اپنی ذمہ داریوں کومحسوس کریں یقین ایمان اورعمل پیہم کواپنی زندگی کالازمی جزبنالیں تویقینی طورپر دنیاکی تاریکی ختم ہوگی اوروہ دورایک بارپھرآجائیگا جب آسمان سے رحمت کی بارش ہوگی اورزمین اپنے اندر کی نعمتوں کو انسان کے حوالے کردےگی ان برسوں میں مسلمانوں کاکرداریہ رہاہے کہ تعصب وتنگ نظر ی کی عینک چاہے کتنی ہی سیاہ کیوں نہ رہی ہو چشم بینا ،خدمت خلق کے اس کردار سےغمازنہیں برت سکتی اس طرح مسلمانوں کی خیرامت اورخیرالناس کی تصویر ان سالوں میں ایک اچھی مثال بن کر ابھری ہےپچھلےچند سالوں میں عالمی سطح پرمسلمانوں کیخلاف دشمنان دین کی یلغار نے نوجوانوں میں اضطراب اورمایوسی کی کیفیت پیداکردی ہے،بوسینیامیں مسلمانوں کی نسل کشی ،مسلمانوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی پرورش اورسازش ،فلسطین میں حماس کی اسلامی حکومت کوناکام ثابت کرنےکیلئے امریکہ واسرائیل کی ملی بھگت ۱۱ستمبر کے حادثہ کے بعد دنیابھرمیں مسلمانوں کوبدنام کرنےکی مہم ،ڈنمارک اورمغرب کے اخبارات میں رسول اللہ ﷺ کےخلاف نفرت انگیز کارٹونوں کی اشاعت اورہمارےملک میں ناکردہ گناہوں کی سزادینےکیلئے باصلاحیت مسلم نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاریاں اورفرضی پولس انکائونٹر میں ان کی مظلومانہ شہادتیں یہ سب نوجوانوں کوپست حوصلہ ،مایوس، مضطرب الفکر بنانے اورانہیں تخریبی کارروائیوں کی طرف دھکیلنےکیلئے کافی ہے یہ ہماری اورہرایک شخص کی ذمہ داری ہے کہ اللہ پر مسلمانوں کے اعتماد کوبحال رکھیں ،صبرواستقامت اورقانونی وسیاسی مزاحمت کی تدابیر کی رہنمائی کریں، اورمایوسی کےدلدل میں انہیں گرنے سےبچائیں کہ مایوسی اورشکست خوردگی قوموں کیلئے مہلک ہے اورامت مسلمہ کوخدا کی رحمت سےدورکرنیوالی ہے ،کیاآپ جانتےنہیں معجزہ کب ہوتاہے نصرت الہی کب ہوتی ہے پرندےمددکیلئے کب آتےہیں ہوائوں کارخ کب بدلتاہے دعائیں آسمان سے ہوکر دربارالہی میں کب لبیک کہتی ہیں مومن کارعب ودبدبہ کب قائم ہوتاہے مچھلیاںکب ساحل پرآکرچھوڑتی ہےبچھڑےہوئے لوگ آپس میں کب ملتےہیں اورملےہوئے لوگ کب بچھڑجاتےہیں فرشتےآسمان سے کب اترتےہیں سلطنتیں کب وجود میں آتی ہیںکیاسچ میں ایساہوتاہے ،جب ہم لاچار،بےیارومددگار ،عاجز وبےبس ہوجاتےہیں،جب ہم اپنے مالک حقیقی کی طرف پلٹ کر آتےہیں،جب ہمارے پاس آدم ؑ کی طرح جنت سے نکالےجانےکادکھ، نوح ؑ کی طرح اپنی قوم واولاد کی فکر،ابراہیم ؑ جیساایمان ،اسماعیل ؑجیسی قربانی ،ایوب ؑ جیساصبر،یونس ؑ کی طرح اپنی غلطی پر ندامت،یوسف ؑ جیسی آزمائش، عیسی ؑ جیسی نرمی، ابوبکرؓ جیسی صداقت،عمرؓ فاروق جیساعدل ،عثمان بن عفان جیسی سخاوت ،علی بن طالب جیسی شجاعت ان سب صفات کےبعدان تمام کوششوں کے بعد معجزہ بھی ہوتےہیں،نصرت الہی بھی ہوتی ہے، پرندے بھی آتےہیں ،ہوائوں کارخ بھی بدلتاہےاوروہ سب ہونےلگتاہے جس کاانسان تصوربھی نہیں کرتا بس ایک ہی شرط ہے ’’تم ہی کامیاب ہوگےاگرتم کامل مومن ہو‘‘آپ خاموش تعمیری کاموں میں اپنے آپ کولگائیں ’’گنبد‘‘کےبجائے ’’بنیاد‘‘سےاپنے کام کاآغاز کریں انقلابی پوسٹر چھاپنےکےبجائےخاموش جدوجہد کواپنا شعاربنائیں ملت کاجھنڈا بلندکرنےکے بجائے فردکی اصلاح پرمحنت کریں سیاسی ہنگامہ چھیڑنے کےبجائے غیرسیاسی میدان میں اپنے کو مشغول کریں توحیرت انگیز طورپر آپ دیکھیں گےاپنے مسلمان بھائیوں کی تکالیف محسوس کرنا اوران کی مدد کرنا خواہ وہ کوہ قاف میں رہنے والےہوں یاافریقہ کے صحرائوں میں ،وہ کشمیر کے برف پوش علاقوں میں رہنےوالے ہوں یابرما کےپہاڑوں میں فی الحقیقت خصائص مسلم میں سے ایک اولین اوراشرف ترین خصوصیت ہے جس کی طرف قرآن نے اپنے جامع ومانع الفاظ میں اشارہ کیاہے ،ایمان کی علامت یہی ہےکہ اللہ کے دین کی سربلندی کی راہ میں جس قدر ابتلائیں اورآزمائشیں آئیں ،عداوتوں کے طوفان اٹھیں ،مخالفتوں کی لہریں موجزن ہوں ،خوف ودہشت کاماحول پیداکیاجائے ،حوصلہ شکن حالات کاسامناہو ،اسی قدران کی ہمتیں بلندہوتی جائیں ،ان کے حوصلے ٹوٹنےنہ پائیں ،اوران مخلوق کاخوف ان پر غالب نہ ہونےپائے ،اس وقت پوری دنیامیں مسلمانوں کےتئیں دہشت گردی کاجوپروپیگنڈہ ہورہاہے یہاں تک کہ قرآن مقدس جیسی عظیم کتاب کوبھی نشانہ تنقید بنایاجارہاہے ،اس کامقصدبھی یہی ہےکہ مسلمان ہمت ہارجائیں ،وہ مغرب کی ریشہ دوانیوں کےسامنے سرنگوں ہوجائیں ،اوراسلام کےبارےمیںاحساس کمتری میں مبتلا ہوکررہ جائیں پس ان حالات میں مسلمانوں کواپناحوصلہ بلند رکھنااورصبرواستقامت کی راہ اختیارکرناضرورہ ہے ۔
Comments are closed.